حضرت سیدعلی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔ تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل

گنج بخشِ فیض عالم مظہرِ نورِ خدا       ناقِصاں را پیرِ کامِل کاملاں را رہنما

خالق کائنات اللہ رب العالمین نے اشرف المخلوقات بنی نوع انسان کی رشدوہدایت اورمقصدتخلیق انسان سے آگاہی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علہیم السلام کومبعوث فرمایا۔جنہوں نے اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی سر انجام دیا۔انسان کوظلمتوں سے نکال کران کے قلوب میں علم ومعرفت کے چراغ روشن کردیئے۔اورپھرقصرِنبوت کی تکمیل کی خاطرخاتم الانبیاء ،امام الانبیاء،فخرالانبیاء ،نبی آخرالزمان،جناب سیدناحضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کومبعوث فرمایا۔چونکہ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم خاتم النبین ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاء کرام بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیہ نے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔پاکستان کوپوری دنیامیں اسلام کاقلعۂ کہاجاتاہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس کی وجہ اس سرزمین پربزرگان ملت اولیاء کرام کی تشریف آوری ہے جنہوں نے شبانہ روزدین کی تبلیغ کرکے پاکستان کوقلعہ اسلام بنادیااسی وجہ سے یہاں کے لوگ بزرگانِ دین اولیاء کرام کی تعلیمات اوران کے نقش قدم پرعمل پیراہیں مسلمانان پاکستان کے دلوں میں اسلام پرمرمٹنے کاشوق شہادت اورجذبہ جہادزیادہ پایاجاتاہے ۔پنجاب کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ سرزمین بزرگان دین اولیاء کرام کامرکزرہی ہے یہاں لوگ مغربی طرزِ تعلیم کے بجائے اولیاء کرام کی تعلیمات پرعمل پیراہیںْ ۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی ظاہری زندگی کے بعداسلام کی تبلیغ وترویج کابیڑاامت مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم،علماء اوراولیاء کرام نے اٹھایا۔خلفاء راشدین سے لیکرموجودہ دورتک اسلام کی خدمات میں صلحاء امت کاکردارنمایاں ہے۔ان پاکیزہ نفوس نے دینِ اسلام کے فروغ کی خاطرلازوال قربانیاں پیش کیں دین مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوبلندیوں تک پہنچایابلکہ ہردورکے محدثین ،مبلغین ،اتقیاء،اولیاء ومشائخ عظام نے کفرکے خلاف سینہ سپرہوکربقائے اسلام کی جنگ لڑی تاریخی قربانیاں دیکردین مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے علم کوبلندفرمایا۔الحمدللہ !آج بھی اسلام کی خوشبودنیامیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہودوہنوددیگرطاغوتی قوتیں اسلام کی مقبولیت دیکھ کر بوکھلاہٹ کاشکارہیں ۔اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ان کی ناپا ک سازشوں کوخاک میں ملانے کے لئے بزرگان دین یہ جنگ لڑرہے ہیں ۔آج جس عظیم ہستی کامیں تذکرہ کرنے جارہاہوں ۔اسے عالمِ اسلام میں ’’داتاگنج بخش‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے ۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کااسمِ گرامی علی،کنیت ابوالحسن ،والدکانام عثمان ابن علی یابوعلی وطنی نسبت جلابی ثم ہجویری ہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کامعروف لقب’’داتاگنج بخش‘‘ہے ۔آپ حسنی سیدہیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کاسلسلۂ نسب آٹھ واسطوں سے سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک جاملتاہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت تقریباً400ہجری میں افغانستان کے شہرغزنی کے مضافات میں ایک بستی الجلاب میں ہوئی ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد حضرت ابوالفضل محمدبن ختلی رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔ ان کاسلسلہ طریقت نوواسطوں سے یوں سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتاہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کاسلسلہ طریقت حضرت ابوالفضل محمدبن حسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت شیخ ابوالحسن حصری رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ ابوبکرشبلی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ جنیدبغدادی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ داؤدطائی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ،امیرالمومنین سیدناعلی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ طریقت میں اپنے آپ کوسلسلہ جنیدیہ کامتبع قراردیتے ہیں ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے معروف اساتذہ وشیوخ سے تعلیم وتربیت حاصل کی ۔اساتذہ کرام میں ابوالعباس اشقانی رحمتہ اللہ علیہ اورابوالقاسم القشیری رحمتہ اللہ علیہ مشائخ صحبت شیخ ابوالقاسم گورگانی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ ابواحمدالمظفربن احمدبن حمدان رحمتہ اللہ علیہ،حضرت شیخ ابوالعباس احمدبن قصاب رحمتہ اللہ علیہ ، شیخ ابوجعفرمحمدبن المصباح الصیدلانی رحمتہ اللہ علیہ کے نامی گرامیِ سرفہرست ہیں ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زندگی کابیشترحصہ تلاش حق کی غرض سے سیاحت میں گزارا۔اکابر اولیاء کرام کی زیارت کی اوران سے فیض حاصل کیا۔مثلاًعراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس، ماورالنہر، ترکستان اورحجازکاسفرکیاصرف خراسان میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تین سومشائخ سے ملاقات کی ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سخت مجاہدے اورریاضتیں بھی کیں ۔اسی طرح آپ رحمتہ اللہ علیہ اکابرین علم وعرفان کی صحبت سے علم اورروحانیت کے اس درجہ کمال کوپہنچے کہ اپنے زمانے کے امام اورآنے والے ادوارکے لئے مخدوم بن گئے ۔علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کومخدوم امم کہاہے ۔
سیّد ہجویر مخدوم اُمم        مرقدِ اُو پیراسنجررا حرم
آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پیرومرشدحضرت شیخ ابوالفضل محمدبن حسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پردعوت وارشادکی خاطر431ہجری میں غزنی سے لاہورتشریف لائے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ جب لاہورآئے توبظاہرآپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مصلیٰ اوروضوکے لئے لوٹاہوگالیکن علم وعمل ،شریعت وطریقت ،حقیقت ومعرفت کے گراں قدرخزینے کچھ اس کثرت سے بانٹے کہ ’’گنج بخش فیض عالم‘‘کالازوال لقب پایا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی علمی ،فکری اوردینی خدمات کی وجہ سے اقبالؒ نے آپ کوان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاہے ۔
پاسبان عزت ام الکتاب       ازنگاہش خانہ باطل خراب
خاک پنجاب ازدم اُوزندہ گشت      صبح ماازمہراُوتابندہ گشت
یعنی آپ قرآن مجیدکی عزت کے محافظ ہیں اورآپ کی نگاہ ولایت سے باطل کاگھرویران ہوگیا۔آپ کے دم قدم سے سرزمین پنجاب میں اسلام زندہ ہوگیا۔آپ کے آفتاب ولایت سے ہماری صبح روشن ہوگئی ۔آپؒ تصوف کے مدونین فن اوراماموں میں سے ہیں ۔اس لئے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ جاری نہیں فرمایا۔حضرت عبداللہ المعروف شیخ ہندی رحمتہ اللہ علیہ اورآپ رحمتہ اللہ علیہ کے اصحاب حضرت ابوسعیدہجویری رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت حمادسرخسی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلفاء تھے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزاراقدس سے اکتساب فیض حاصل کرنیوالی ہستیوں میں سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ،حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ اورحضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام شامل ہیں ۔سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضورداتاگنج بخش صاحب مزارشریف پرحاضرہوئے اورچلہ کاٹا۔فراغت کے بعدداتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کافیض عام دیکھاتودل سے پکاراٹھے۔
گنج بخشِ فیض عالم مظہرِ نورِ خدا       ناقِصاں را پیرِ کامِل کاملاں را رہنما
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے متعددکتابیں لکھیں ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آخری تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ کے مطالعہ سے ان کی نودیگرتصانیف،دیوان،کتاب فناوبقا،اسرارالخرق والأونات، الرعایت حقوق اللہ تعالیٰ،کتاب البیان لاہل العیان، نحوالقلوب،منہاج الدین ،ایمان اورشرح کلام کے نام شامل ہیں ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی جلالت شان اورعالمانہ تمکنت کی مظہرآپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف کردہ دستیاب کتاب’’کشف المحجوب‘‘ہے ۔جسے فارسی زبان میں اسلامی دنیائے تصوف کی پہلی کتاب ہونے کااعزازحاصل ہے ۔یہ کتاب اپنے اندرجامعیت لئے ہوئے ہے اس میں تصوف کے مسائل بھی ہیں اورمتکلمین کے دلائل بھی ۔منطقیوں اورفلسفیوں کی موشگافیاں بھی اورباطل نظریات کی تردیدبھی مسائل شریعت وطریقت کاخزینہ بھی اورحقیقت ومعرفت کاایک بیش بہاگنجینہ بھی ۔اس گنجینہ رشدوہدایت کے بارے میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کاارشادہے کہ ’’اگرکسی کاپیرنہ ہوتووہ اس کتاب کامطالعہ کرے تواسے پیرمل جائے گا‘‘۔اس گنجینہ رشدوہدایت کانام ہی موضوعات کی وضاحت کرتاہے ۔اس ضمن میں آپ رحمتہ اللہ علیہ خودتحریرفرماتے ہیں۔’’چونکہ یہ کتاب سیدھی راہ بتانے اورعارفانہ کلمات کی تشریح وتوضیح اوربشریت کے حجاب رفع کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے لہذااسے کسی اورنام سے موسوم کرنامناسب نہیں‘‘ یہ کتاب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ارادت مندابوسعیدکی التجاء پرلکھی ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں’’اے ابوسعیدمیں نے تیری گزارش کے مطابق تالیف کرنے کی تیاری شروع کردی اوراس کتاب سے تیری مرادکے پوراکرنے کاپختہ ارادہ کرلیا‘‘۔یہ کتاب محض واقعات یاحکایات کامجموعہ نہیں ہے بلکہ 248آیات قرآنیہ ،172احادیث کریمہ ،77عربی اورفاسی اشعارکے ساتھ ساتھ حضرات خلفائے راشدین ،ائمہ اہل بیت،جلیل القدرصحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین،ائمہ متاخرین،متعددامصاروبلادکے مشائخ کے حسین تذکروں کے ساتھ ایمان،علم،فقروغنا،صوفی،رسم وخصلت،خرقہ پوشی،صفوت،ملامت، رضا،حال ومقام،سکروصحو،ایثار،نفس ،ہوا،کرامت،معجزہ،فضیلت ،فناء وبقاء،غیبت وحضور،جمع وتفریق،روح ،معرفت ،توحید،طہارت ،توبہ،نماز، محبت،عشق،زکوٰۃ ،جودوسخا،جوع، حج،صحبت ،متعددآداب واخلاقیات ،شادی ،حال ،وقت،مقام،تمکین،محاضرہ مکاشفہ ،قبض وبسط،انس وہیبت ،قہرولطیف،نفی واثبات،مسامرہ ومحادثہ،شریعت وحقیت ،سماع جیسے اہم موضوعات کااحاطہ کرتی ہوئی لازوال تصنیف ہے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ خودتحریرفرماتے ہیں ’’اس کتاب سے میرامقصدیہ ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہواسے دوسری کتابوں کی حاجت نہ رہے ۔یہ کتاب طالب حقیقت کے لئے کافی ہے ‘‘۔عبدالماجددریاآبادی لکھتے ہیں ’’اس کتاب کی حیثیت محض ایک مجموعہ روایات وحکایات نہیں بلکہ ایک مستندمحققانہ تصنیف ہے ‘‘۔یہ کتاب اس دورکے معاشرتی وسماجی احوال پربھی ایک دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دوران سیاحت عراق،شام،بغداد،فارس،قہستان، آذربائیجان، طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس،ماورالنہر،ترکستان ،حجازودیگرعلاقوں سے جومعلومات حاصل کیں ان کوبھی اپنی اس تحقیقی تصنیف کی زینت بنایاہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ پاک وہندکے اکثرشہروں میں بھی تشریف لے گئے اوراس زمانے کی تہذیب وتمدن اوررسم ورواج پربھی کتاب میں روشنی ڈالی ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ ہندوستان کے حوالہ سے لکھتے ہیں ۔’’مشہورہے کہ ہندوستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جوجنگل میں جاکرگاتے ہیں اورسُریلی آوازنکالتے ہیں ہرن جب ان کے غنااورلحن کوسنتے ہیں تووہ ان کی طرف آجاتے ہیں اور(شکاری)ان کے گردگھوم کرگاتے رہتے ہیں ۔حتیٰ کہ ہرن گانے کی لذت سے مست ہوکرآنکھیں بندکرکے سوجاتے ہیں اوروہ انہیں پکڑلیتے ہیں‘‘دوسری جگہ اپنامشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میں نے ہندوستان میں دیکھاکہ زہرقاتل میں ایک کیڑاپیداہوتاہے اس کی زندگی اس زہرسے ہے ‘‘۔ترکستان کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’میں نے ترکستان میں ایک شہردیکھاجوسرحداسلامی پرہے ۔وہاں ایک پہاڑآتش فشاں تھاجوآگ کے شعلے دے رہاتھااوراس کے پتھروں سے نوشادرجوش مارکرابل رہاتھااوراس آگ میں چوہے تھے جب انہیں اس آگ سے باہرلایاجائے تووہ مرجاتے تھے‘‘۔
بلوچوں کے بارے میں ایک مشاہدہ اس طرح تحریرفرماتے ہیں۔’’اوراس قسم کے مشاہدے مجھے بلوچوں میں بھی ہوئے کہ وہ گدھے اوراونٹ لے کرچلتے……‘‘۔تذکرہ نگاروں کی غالب اکثریت نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کاسن وفات465ہجری سے اتفاق کیاہے ۔حضرت سیدعلی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے زندگی کے آخری ایام لاہورہی میں گزارے اورچندروزکی علالت کے بعدخانقاہ میں اپنے حجرے میں وفات پائی ۔آپؒ کی نمازہ جنازہ آپؒ کے خلیفہ حضرت شیخ ہندی رحمتہ اللہ علیہ نے پڑھائی اورآپ رحمتہ اللہ علیہ کویہیں دفن کیاگیاجہاں آج بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کامزارمرجع خلائق ہے ۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کاسالانہ عرس مبارک 18,19,20صفرالمظفر کوآپ رحمتہ اللہ علیہ کے آستانہ مبارک پرمنعقدہوتاہے ۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں332قابل ذکرمزارات میں سے لاہورمیں 49کراچی میں25اورملتان میں20خانقاہیں ہیں ۔ان سے اربوں روپے سالانہ آمدن ہوتی ہے۔اوران مزارات کی کل آمدن کاتقریباًنصف صرف داتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزاراقدس سے محکمہ اوقاف کوموصول ہوتاہے ۔مگربدانتظامی کایہ عالم ہے کہ آج بھی اگرکوئی زائراپنے جوتے جمع کرواکرحاضری دے تواُس سے فقط حفاظت پاپوش کے 10سے20روپے تک وصول کرلیے جاتے ہیں جبکہ رسمی بورڈبھی آویزاں ہیں کہ ایک روپے سے زیادہ ہرگزادانہ کریں ۔منہ زورٹھیکیدارں کومحکمہ آج تک لگام نہیں دے سکاجس سے زائرین شدیدکرب میں مبتلاہیں۔حکومت وقت پرلازم ہے کہ جس طرح پتنگ بازی پرپابندی لگاکرعوام کے جان ومال کاتحفظ کیاگیاہے ۔اس طرح میلے کی آڑمیں تمام مزارات اولیاء پرایسی خرافات پرپابندی عائدکی جائے تاکہ زائرین ومتوسلین کوحقیقی روحانی آسودگی حاصل ہو۔محکمہ کوچاہیے کہ اولیاء اللہ کے حالات زندگی اوران کی تصانیف کوفی سبیل اللہ عوام الناس تک پہنچایاجائے ۔مخیرحضرات خودبخودمحکمہ سے تعاون کریں گے ۔
داتاعلی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے منتخب ارشادات
۔* نفس ایک باغی کتاہے ۔کتے کاچمڑاجب تک دباغت اوررنگ نہ کیاجائے ،پاک نہیں ہوتا۔
۔* نفس کی مخالفت سب عبادتوں کااصل اورسب مجاہدوں کاکمال ہے ۔
۔* علم سے بے پروائی اختیارکرنامحض کفرہے۔
۔* بھیدکوکھول اورنمازکونہ بھول۔
۔*  فقیرکوچاہیے کہ بادشاہوں کی ملاقات کوسانپ اوراژدھے کی ملاقات کے برابرسمجھے خصوصاًجب ملاقات اپنے نفس کے لئے ہو۔
۔* مبتدی کوچاہیے کہ وہ راگ اورسماع سے پرہیزکرے کیونکہ یہ راستہ اس کے لئے بہت مشکل ہے۔
۔* دین وشریعت کے پابندلوگوں کوخواہ وہ ناداروغریب کیوں نہ ہوں ،بہ چشم حقارت نہ دیکھ کیونکہ اس سے خداکی حقارت لازم آتی ہے ۔
۔* پیغمبرکی بزرگی اوررتبہ کی بلندی صرف معجزہ ہی سے نہیں بلکہ عصمت کی صفائی سے ہے ۔
۔* عارف عالم بھی ہوتاہے مگرضروری نہیں کہ عالم بھی عارف ہو۔
۔* بندہ کے لئے سب چیزوں سے زیادہ مشکل خداکی پہچان ہے۔
۔*بوڑھوں کوچاہیے کہ وہ جوانوں کاپاس خاطرکریں کیونکہ ان کے گناہ بہت کم ہیں اورجوانوں کوچاہیے کہ بوڑھوں کااحترام کریں کیونکہ وہ ان سے زیادہ عابداورزیادہ تجربہ کارہیں ۔
۔* محرموں کوچاہیے کہ وہ ناشائستہ اوامرسے اپنے حواس کوبچائیں اورجوچیزیں شرعاًناجائزہیں ان سے اجتناب کرے ۔
۔* فقرکی معرفت (تعلیم اورپہچان)کے لئے سیردنیاسے بہترکوئی ذریعہ نہیں۔
۔* دنیاکے ساتھی (ہاتھ،پاؤں،آنکھیں)جوبظاہردوست نظرآتے ہیں دراصل تیرے دشمن ہیں ۔
۔* دس چیزیں دس چیزوں کوکھاجاتی ہیں۔توبہ گناہ کو،جھوٹ رزق کو،غیبت نیک اعمال کو،غم عمرکو،صدقہ بلاؤں کو،غصہ عقل کو،پشیمانی سخاوت کویعنی دے کربعدمیں پچھتانا،تکبرعلم کو،نیکی بدی کو،عدل ظلم کو
۔* اولیاء خداکے رحم اورغضب کااظہارکاذریعہ اوراحادیث نبوی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی تجدیدکاباعث ہیں ۔ان سے پوری طرح فیض یاب ہو۔
۔* مال کی محبت کوعذاب سمجھ کرفاقہ کشوں(اورمستحقوں)پرلٹاتے رہواوریہ سب کچھ اس دن سے پہلے کرجبکہ قبرمیں تجھے کیڑے کھاجائیں ۔
الٰہی !علی ہجویری کوپہلے حمدوشکرکی توفیق عطافرمااورپھرفقرکی دولت عطافرما۔پہلے اسے کدورت سے پاک کر،پھراسرارروحانی ومعنوی اس پرواضح کردے اللہ ر ب العزت میری اس کاوش کوبارگاہِ لم یزل میں قبول فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *