جمہوریت ایک طنز میں (طنز و مزاح) ۔۔۔ تحریر : مُراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

عرصہ دراز سے ایک تعلیمی ادارے میں سیاسیات کا مضمون پڑھاتے ہوئے جمہوریت کی خوبیوں اور خامیوں پر تبصرہ کرنا پڑتا ہے۔خوبیوں کا تو پتہ نہیں مگر جو خامیاں ایک کلاس میں جمہوی نظام کی دیکھنے میں آئیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کا حال بھی کچھ میری کلاس اور طالب علموں جیسا ہی ہو گا۔مثلاً کلاس میں داخل ہوا ،بچوں کو مخاطب کیا اور پوچھا کہ بچوں آج ہم جمہوریت کی خوبیوں پر تبصرہ کریں گے۔کلاس کے آخر سے ایک منہنی سی آواز بلند ہوئی کہ سر آج ہم لیکچر نہیں لیں گے اور یہ میری نہیں ہم سب کی رائے ہے۔اور اکثریت کی رائے کا احترام کرنا ہی جمہوریت کا حسن اورجمہوری اداروں کا فرض ہے۔ایک کلاس میں مارشل لاء کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا چاہا تو سب سے نالائق طالب علم نے گریبان کا بٹن کھولتے ہوئے،دوست کو آنکھ دباتے ہوئے مجھ سے کچھ اس انداز سے مخاطب ہوا کہ’’سر فرد واحد کس طرح پوری کلاس کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا ہے۔اس لئے آج ہم فری کلاس کا مطالبہ کرتے ہوئے گراؤنڈ میں جا کر کھیلنا چاہتے ہیں۔سر پکڑ کے بیٹھنا بنتا تھا کہ یہ کیا جمہوریت اور مار شل لاء ہے کہ جنہیں ہم نہ اپنی زندگی اور نہ ہی ملک میں اس کا اطلاق کر سکتے ہیں۔اس لئے ایک مزکر دوست سے دو سوال پوچھے تو جواب مختلط پایا۔ایک بلبل کا کیسے پتہ چلے کہ مذکر ہے کہ مونث،دوست موصوف ارتجالاً گویا ہوئے کہ بلبل کا مذکر و مونث ہونا آپ دو طرح سے چیک کر سکتے ہیں۔آسان فہم الفاظ میں گاتا ہے تو مذکر اور اگر گاتی ہو تو مونث۔اور دوسری پہچان اگر ’’جگہ مخصوص‘‘بہت سرخ ہو اور دم اٹھائے رکھے تو مونث وگرنہ مذکر خیال کیا جائے۔میرا دوسرا سوال یہ تھا کہ بچھو کو آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ نر ہے یا مادہ،تو ایسے ہی بلا تردد اور نان سٹاپ فرمانے لگے کہ اس کی ’’پوچھل‘‘ کو ہاتھ لگا کے چیک کرلو اگر تو ڈنگ کے اثر سے ہلکی سی ’’سی‘‘ ہو تو شوہر نامدار کی طرح مذکر وگرنہ ’’مونث‘‘ کا تو کام ہی ’’سی سی‘‘ کروانا ہوتا ہے۔ابھی اسی مخمصہ میں ہی تھا کہ ایک اور سوال نے سر اٹھانا شروع کر دیا اور سوچا کہ اس کا جواب بھی دوست موصوف سے ہی لے لیا جائے تو علمی افاقہ ہو سکتا ہے۔کہ آپ ملک کے لئے جمہوری نظام کو بہتر پاتے ہیں یا آمرانہ نظام کے حق میں ہیں۔اب سرکار ذرا گہری اور فلسفیانہ سوچ میں غوطہ زن ہوئے ،ذرا توقف فرمایا اور بولے کہ جناب جواب تو بہت سادہ اور آسان فہم ہے کہ بس بلبل کی جگہ آپ عوام کو رکھ لیں تو جواب سمجھنے اور جاننے میں آسانی رہے گی۔عرض کیا جان من سوال گندم اور جواب جو والی بات نہ کریں ،کہاں پرندے اور گزندے اور کہاں کارہائے ریا ست و سیاست،کیا یہ بعدالمشرقین نہیں ہے؟نہیں جناب آپ میری بات کو سمجھ نہیں پائے۔عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر تو عوام کی پوچھل سرخ ہو تو سمجھ لو جمہوریت آہنی دستانے پہنے اوچھے ہتھکنڈے آزما رہی ہے اور حکومتی پوچھل زہر سے لبریز ہو تو ملک پر آمریت کا راج ہے۔اب کی بار بات ذرا پلے پڑی کہ موصوف کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں؟یعنی دونوں صورتوں میں عوام کی پوچھل کو ہی’’ سرخ و لال‘‘ ہونا ہے،خواہ ملک میں مارشل لاء ہو یا جمہوریت۔عوام کی تشریف کو ہی سرخ کرنا مقدر ٹھہرنا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے پنجاب پولیس بے جرم ملزم کو مار مار کے ایسی’’ تشریف‘‘ سرخ کرتی ہے کہ نرم و گداز بستر بھی خارِ مغیلاں ہی محسوس ہوتا ہے کہ جس پہ ذرا تشریف رکھی تو سائیکل پنکچر کی طرح ٹیوب سے ہوا کی ایک لمبی ’’شو‘‘ نکلی اور سائیکل چلنے سے معزرت۔۔۔۔جمہوریت،جمہور کو راس آئے نہ آئے ’’شریف زادے‘‘ خوب پھلتے پھولتے ہیں بلکہ پھول پھول کر فٹ بال سے مشابہہ ہو جاتے ہیں،ویسے شریف زادوں کی بھی عجیب سائیکی ہے ملک میں ہوں تو شریف ذادے اور ملک سے باہر ہوں تو ’’حرام زادے‘‘یعنی ہر گناہ میں ملوث۔از راہ کرم پرسنل نہ لیا جائے مراد ملک میں شریف باہر جا کر بدمعاش ہوتے ہیں۔اور ہر گناہ میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
اگر پاکستان کی تاریخ کو نچوڑا جائے تو ملک میں دو طرح کی جمہوریت نے ہر آن جمہور کا خون نچوڑا ہے۔فوجی مارکہ اور عوامی مارکہ۔فوجی مارکہ، فوج کے زیرِ اثر ایسی سہمی دکھائی دیتی ہے جیسے رضیہ غنڈوں کے نرغے میں آ کر سہمی سہمی پائی جاتی ہے۔فوجی مارکہ جمہوریت مونث ہوتی ہے اور برائے نام حرکت میں ہوتی ہے۔اس لئے کہ فوج اس دور میں جمہوریت کی ہر ہر حرکت پہ نظر رکھے ہوتے ہیں اور اس کی حرکت کو گندی حرکت ہی خیال کر لیا جاتا ہے۔عوامی جمہوریت میں عوام سہمے ہوئے رہتے ہیں،فوجی جمہوریت میں فوج کا عمل دخل اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کہ عوامی میں عوام کا۔فوجی مارکہ میں ’’فوجی‘‘ جمہوریت کا دلہا ہوتا ہے جبکہ عوامی مارکہ میں عوام کا خادم۔فوجی مارکہ میں عوام اور فوج کو تولا جاتا ہے جبکہ عوامی مارکہ میں دونوں کو گنا جاتا ہے۔ستر سالوں میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جمہوریت ہی وہ واحد سسٹم ہے جس میں ہر چیز کو تول کر لیا جاتا ہے خواہ وہ رشوت کے نوٹ ہی کیوں نہ ہوں؟اگر نہیں تولا جاتا تو وہ سیا ستدانوں کے گناہ ہیں جو کسی ترازو کے پلڑے میں نہیں تولے جا سکتے،اسی لئے توجمہوریت ان سیاستدانوں کی محبوب و مرغوب لونڈی ہے جب چاہیں لوٹ لیا جب ضرورت ہو کھا لیا کون پوچھنے والا ہے کہ یہ واحد سسٹم ہے جس میں چور ہی چوکیدار ہوتا ہے۔تو جناب سانپ کو سانپ لڑے تو زہر کس کو چڑھے؟جمہوریت واحد طرز حکومت ہے جس میں حکمران واحد ہوتا ہے اور لوٹنے والی ایک فوج ظفر موج اپنی اپنی موج مستیوں میں لگی ہوتی ہیں جبکہ فوجی مارکہ میں حکمران کے ساتھ پوری فوج ہوتی ہے کیونکہ فوجی جمہوریت فوج کے بغیر نہیں آ سکتی۔فوجی مارکہ من مانی ضرور کرتی ہے تاہم موج مستی سے کچھ پرہیز ہی کرتی ہے اسی لئے تو جب آ جاتی ہے پھر گیارہ سال سے قبل جانا ان کا جانا بنتا نہیں۔گیارہ سال کے بار بار اقتدار افواج سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہماری فوج کا کوئی نہ کوئی تعلق بابا گیارھویں شریف والے کے ساتھ ضرور ہوگا،اسی لئے تو جب فوج آ جاتی ہے گیارہویں کے سالانہ بڑے ختم سے پہلے جانے کا نام ہی نہیں لیتی،بس یا تو سیاسی آسمان کو چھوتی ہے یا پھر سیدھا ایک دھماکے سے آسمان کی طرف جاتی ہے۔جمہوریت میں از خود کوئی برائی نہیں مگر جمہوریت میں برائی کو چھپانا اب مشکل ہو گیا ہے۔اور برائی کا عالم یہ ہو گیا ہے کہ جمہوری حکومتوں میں ’’لچا سب توں اچا‘‘ نہ صرف نظر آتا ہے بلکہ ہم نے اسے من و عن تسلیم بھی کر لیا ہے۔اسی لئے تو کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں سچے بندے کا کوئی کام نہیں ہے۔جبکہ مارشل لاء میں نہ صرف برائی چھپ کے کی جاتی ہے بلکہ برائی کرنے والے بھی منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔جمہوریت میں ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں ،دور حاضر میں تو گیارہ گنا ہو کر اور گیارہ گنا وصول کر بھی گناہ چھپانے کی ذرا برابر بھی کاوش نہیں کی جاتی بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق شریفانہ طریقے سے بدمعاشانہ انداز سے کہ رہے ہوتے ہیں’’مجھے کیوں نکالا،مجھے کیوں نکالا‘‘جمہوریت کا حسن اس بات میں ظاہر کیا جاتا ہے اس میں آزادی تحریر و تقریر و دیگر آزادیاں ہوتی ہیں جیسے آزادی نسواں،آزادی دھوم دھڑکا،اور تو اور فلم کی مشہور اداکارہ میرا کو ایک پروگرام میں گاتے دیکھ کر جمہوریت زندہ باد کا نعرہ لگانے کو دل چاہا کہ اس سے بڑی اور آزادی کیا ہو سکتی ہے کی میرا کھلے عام ٹی وی پر گا سکے۔البتہ مارشل لاء یا جمہوری مارکہ میں آزادی پابند سلاسل اور
ناسازیٗ طبیعت کا بہانہ کرتے دکھائی دیتی ہے۔اسی لئے فوجی مارکہ میں ’’کمشن‘‘ کی کوئی بات نہیں کرتا بس مشن کی بات کرتے ہیں ،جمہوری مارکہ میں تو کمشن لینے کے لئے بھی کمشن دینا پڑتا ہے،بقول شاعر
کہ رشوت دے کے پھنس گیا جو
۔دے کے رشوت چھوٹ جا۔
سیاستدانوں اور آئین کی آنکھ مچولی کا اگر ہم جائزہ لیں تو نتیجہ میں ہمیشہ مارشل لاء ہی بر آمد ہوا ہے۔ہر مارشل لاء کے بعد اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے تو آئین میں ترامیم سے سیاستدانوں نے جمہوریت کے چہرے کو مسخ کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔جمہوری روح پر یہ پیوند کاریاں اتنی لگیں کہ اب پیاز کے چھلکے کی طرح اوپر سے اتار کر جمہوریت کو دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔اب تو جمہوریت عام آدمی کے لئے ’’لارا‘‘ متوسط کے لئے ’’وعدہ‘‘ ا ور خاص کے لئے فائدہ ہی فائدہ‘‘ ہے۔خواہ وہ عوامی مارکہ ہو یا فوجی مارکہ۔اس لئے کہ یہی سب سیاستدان ہی ہیں جو عوامی اور فوجی دونوں فریم میں فٹ آ جاتے ہیں۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *