دونوں جہانوں کی کامیابی ۔۔۔ تحر یر: عبدالجبار خان دریشک

یہ بات طے ہے کہ اس کائنات کی وجہ تخلیق صرف اور صرف محبوب رب کائنات رحمتہ اللعالمین ، خاتم الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کا ظہور بابرکت تھا۔ بعض روایت ہیں اللہ پاک نے سب سے پہلے بلا واسطہ طور پر اپنے حبیب ﷺکا نور پیدا فرمایا اور اس نور کو خلق عالم کا واسطہ قرار دیا۔ یہ بھی مروی ہے کہ رب ذوالجلال نے عالم اروح میں سرکار دوعالم رحمتہ اللعالمینﷺ کی روح انور کو اعزاز نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام کی روح نے جسم سے تعلق نہ پکڑا تھا۔ بعدازں اسی عالم میں رب کائنات نے دیگر انبیائے کرام کی روحوں سے نبوت محمدی ﷺ کا عہد لیا۔( بحوالہ کتاب تاریخ الانبیاء) ۔
آپ ﷺ دونوں جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے آپ ﷺ کی ولات باسعادت سے پہلے دنیا جہالت کے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ کے نور سے پوری دنیا میں روشنی پھیل گئی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات رہتی دنیا تک اور تاقیامت پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ ہم دنیا اور آخرت کی فلاح چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی بتائے طریقے پر گزارنی ہوگی۔ جس کا آپ ﷺ عملی طور نمونہ پیش کیا۔ آج کے دور میں ہم پریشانی کا شکار ہیں۔ ناکامی سے دو چار ہیں معاشرتی بدامنی نے انسانیت سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ آج کے دور میں پوری دنیا کے مسلمان دن بدن مسائل فرقہ پرستی دہشت گردی کا کیوں شکار ہو رہیں؟ کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے۔ ہم اپنی زندگی کے معمولات کو اپنے سامنے رکھیں اور اپنی ذات کا احتساب کریں تو کیا ہم آج کے دور میں آپ ﷺکی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ اور یہ سب آپ ﷺ تعلیمات اور ہدایت سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں ۔
آپ ﷺ نے ہمیں بھائی چارے اور اخوات کا درس دیا لیکن یہ کیا آج ہم بھائی بھائی نہیں رہے فرقے اور جماعتوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہماری آنے والی نسلوں کو سازش کے تحت آپ ﷺ کی تعلیمات سے دور کرنے کی کو شش کی جاری ہے ۔ آج کے دور میں ہم اپنے تعلیمی نصاب کو اٹھا کر دیکھیں لیں تو پہلی جماعت سے لے کر میٹرک تک کتنے اسباق سیرت النبی ﷺ کے حو الے سے کورس میں شامل کیے گئے ہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے جو شامل ہیں ان کو دن بدن کم کیا جارہا ہے۔ آنے والی نسلوں کو دین اسلام سے دور کرنے کی یہ یہود و نصار کی عیاری ہے۔ ہمارے بچے جب آپ ﷺکی ذات اقدس اور سیرت نبی ﷺکے بارے میں نہیں پڑھیں گے تو وہ دین اسلام سے دور ہوں گے۔ پھر ہمارے اندر نہ اتفاقی بھی ہوگی دہشت گردی بھی ہوئی اور ہماری فرقوں جماعتوں میں تقسیم بھی ہوگی۔ ہمیں اپنی زندگی کو بہتر خوشحال اور پرامن بنانا ہے تو آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ ﷺ نے کامیاب زندگی گزارنے کے آسان اور قیمتی نسخے ہمیں بتائے بلکہ خود عملی طور پر پیش کر کے دیکھا جن پر عمل کر کے ہم دنیا و آخرت کی کامیاب پا سکتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا. اے لوگوں مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔
۔1۔ بولو تو سچ
۔2 ۔وعدہ کرو تو اسے پورہ کرو ۔
۔3۔ تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو ۔
۔ 4۔ خود کو بدکاری سے محفوظ رکھو ۔
۔ 5۔غیر محرموں سے اپنی نگاہ کی حفاظت کرو ۔
۔ 6 ۔ اپنے ہاتھ سے کسی کو ایذاد نہ پہنچاؤ۔
حضرت بلال بن حارثؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی اپنے منہ سے کوئی کلمہ خیر نکال دتیا ہے اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس نے کوئی اچھا کام کیا ہے لیکن وہ ایک کلمہ خیر میدان حشر میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامرؓ نے حضور پاک ﷺ سے دریافت فرمایا۔ یا رسول اللہ ﷺ مجھے یہ تو بتلائیے کہ نجات کا راستہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی زبان کو قابوں میں رکھو ، اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ کے خوف سے رویا کرو۔

ایک مرتبہ ایک بدو آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اس بدو نے آپ ﷺسے کچھ سوالات کیے جن کے نبی کریم ﷺ کے جوابات کچھ یوں دئیے ۔ اس سوال تھا ۔
۔ 1۔ میں امیر (غنی) بننا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا قناعت اختیار کرو،امیر ہو جاؤ گے ۔
۔ 2۔ میں سب سے بڑا عالم بننا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا تقوی اختیار کرو عالم بن جاؤ گے۔
۔ 3۔ عزت والا بننا چاھتا ہوں؟ ۔
آپ ﷺ نے فرمایا مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو باعزت بن جاؤ گے۔
۔ 4۔اچھا آدمی بننا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایالوگوں کو نفع پہنچاؤ ۔
۔ 5۔عادل بننا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو۔
۔ 6۔ طاقتور بننا چاھتا ہوں؟ ۔
آپ ﷺ نے فرمایا اللہ پر توکل بھروسہ کرو۔
۔ 7۔اللہ کے دربار میں خاص درجہ حاصل کرنا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔
۔ 8۔ رزق کی کْشادگی چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ باوضو رھو۔
۔ 9۔ دعاؤں کی قبولیت چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا حرام نہ کھاؤ۔
۔ 10۔ ایمان کی تکمیل چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا اخلاق اچھے کر لو۔
۔ 11۔ قیامت کے روز اللہ سے گْناہوں سے پاک ہو کر ملنا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایاجنابت کے بعد فوراً غْسل کیا کرو۔
۔ 12۔گْناہوں میں کمی چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایاکثرت سے استغفار کرو۔
۔13۔قیامت کے روز نور میں اْٹھنا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایاظلم کرنا چھوڑ دو۔
۔14۔ میں چاھتا ہوں کے اللہ مجھ پر رحم کرے؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں پر رحم کرو۔
۔ 15۔میں چاھتا ہوں کے اللہ میری پردہ پوشی کرے؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کی پردہ پوشی کرو۔
۔ 16۔ رْسوائی سے بچنا چاھتا ہوں ؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا زنا سے بچو۔
۔ 17۔ میں چاھتا ہوں کہ اللہ اور اْس کے رسول صلی اللہ علیہِ وسلم کا محبوب بن جاؤں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایاجو اللہ اور اْس کے رسول کو محبوب ہو اْسے اپنا محبوب بنا لو۔
۔ 18 اللہ کا فرمانبردار بننا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا فرائض کا اہتمام کرو۔
۔19۔احسان کرنے والا بننا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی اس طرح بندگی کرو جیسے تْم اسے دیکھ رہے ھو۔یا جیسے وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔
۔ 20۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وسلم کیا چیز گْناہوں سے معافی دلائے گی؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا آنسو، عاجزی اور بیماری۔
۔ 21۔ کیا چیز دوزح کی آگ کو ٹھنڈا کریگی؟ ۔
آپ ﷺ نے فرمایا دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرو۔
۔22۔ اللہ کے غصہّ کو کیا چیز ٹھنڈا کریگی؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی۔
۔ 23۔ سب سے بڑی برائی کیا ہے؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا برے اخلاق اور بخل۔
۔ 24 ۔سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا اچھے اخلاق، تواضع اور صبر۔
۔ 25۔ اللہ کے غصہّ سے بچنا چاھتا ہوں؟۔
آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر غصہّ کرنا چھوڑ دو۔

یقین جانے ہم ان باتوں پر عمل کر دنیا وآخرت کی کامیابی پا سکتے ہیں۔ یہ ساری باتیں روز مرہ زندگی سے تعلق رکھتی ہیں ان پر عمل کرنے کے لیے کسی سائنس کے فارموے کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں۔آپ ﷺ کی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی درس دیں۔ ایسے ہی معاشرہ خوبصورت اور پرامن بن سکتا ہے۔ اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *