تعلیمی کرپشن ۔۔۔ تحریر : چوہدری فیض گجر

حال ہی میں ایچ ای سی نے اعلان کیا تھا کہ پچھلے تقریباً 18 ماہ میں 31 پی ایچ ڈی اور 26 ایم فل پروگرامز بند کر دیئے گئے ہیں۔
آخر اس کی کیا وجہ تھی ؟؟؟۔
ایسی نوبت کیوں پیش آئی کہ ایچ ای سی کو یہ قدم اٹھانا پڑا؟؟؟ ۔
تو اس کی صرف و صرف ایک وجہ سامنے آتی ہے اور وہ ہے “اعلیٰ ڈگریوں کی ہول سیل ترسیل ”
ایسی کیا وجہ ہے کہ طلباء کو جعلی ڈگریاں حاصل کرنے کی ضرورت پڑی؟ اور سب سے بڑی بے شرمی کی بات یہ کہ آخر اعلیٰ تعلیمی اداروں کو یہ ڈگریاں فروخت کرنے کی ضرورت پیش کیوں آئی؟؟؟
ہر سال کثیر تعداد میں طلباء اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں اور ان اداروں کی ڈیمانڈز کے مطابق فیس اور فنڈز دیتے ہیں مگر پھر بھی سال کے آخر میں مختلف بہانوں سے اس کی ڈگری روک لی جاتی ہے اور وہ طالب علم ان اداروں میں چکر لگا لگا کر تھک جاتا ہے۔دیکھا جائے تو ایک طرف تو اس طالب علم کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے چائے پانی کی صورت میں اور سب سے بڑھ کر اس کا ٹائم ضائع ہو جاتا ہے۔اکثر لوگوں کو آپنے دیکھا ہو گا جن کو بولنے کا پتا نہیں ہوتا بات کرنے کی تمیز نہیں ہوتی وہ ایم اے اور ایم ایس سی کے علاوہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے کر اعلیٰ اہدوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کے سیاست دانوں کو دیکھں تو کتنے ہی ایسے کیس سامنے آتے ہیں جو جعلی ڈگری کے ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے سیاست دان بھی ہیں جو اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلواتے ہیں مگر بعد میں پتا چلتا ہے کہ وہ تو ایم اے پاس ہیں۔ میٹرک پاس سیاست دان ایم این اے بن کر حکمرانی کرتا ہے۔ منتخب وزیراعظم کو اگر انٹرنیشنل لیول پر کسی سے بات کرنی پڑے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کو پرچی کی ضرورت پڑتی ہے. یہ حال ہے ہماری تعلیم کا ۔۔۔ !!!۔
اگر کسی جاگیردار کے پاس غریب طبقہ کا پڑھا لکھا فرد جاکے کہے کے سائیں میں نے تعلیم مکمل کر لی ہے کوئی نوکری لگوا دے تو وہ جاگیردار اس فرد کو ایسی جگہ پہنچا دیتا ہے کہ اس کا نامونشان مٹ جاتا ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں کل کو یہ ہمارے برابر نہ آکے بیٹھ جائے۔ ہم جب بھی اس طرح کی بات کرتے ہیں تو قصور طلباء کا نکالتے ہیں کہ وہ پڑھتے نہیں ہیں۔ تو میں یہاں بتانا چاہوں گا کہ نہیں صاحب قصور صرف طلباء کا نہیں ہے کچھ قصور اساتذہ کرام کا بھی ہے۔ اگر اساتذہ کرام ایمانداری سے محنت کروائیں اور جعلی ڈگری کی طرف اور خود طلباء کا پیپر کروا کے غلط راستے کی طرف لے کر نہ جائیں تو طلباء خود محنت کرنے کی طرف آ سکتے ہیں.میں تمام طلباء کی بات نہیں کرتا میں جانتا ہوں پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ جو طلباء محنت نہیں کرتے میں ان سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کے محبت کریں کسی اور کی محنت پر ڈاکہ نہ ڈالیں اپنے والدین کی امیدوں پر پورا اتریں ۔ کیا کبھی غور کیا ہے کہ آپکے والدین آپکی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے ہر طرح کا قدم اٹھاتے ہیں۔

۔”شہر میں جاکے پڑھنے والو بھول گئے ہو۔

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا” ۔

تمام اساتذہ کرام خوب محنت کروائیں اور طلباء محنت سے کام کریں تاکہ بعد میں جعلی ڈگری لینے کی نوبت پیش نہ آئے۔
میری ملاقات فزکس ڈیپارٹمنٹ کے کچھ ایسے طلباء سے ہوئی جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کر رہے تھے جوکہ ہمارے مستقبل کے ہیروز ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں لیبارٹریز کی حالت بہت خراب ہے اور خاص کر سپروائزر اساتذہ کی جو کہ لیبارٹری میں مکمل سامان تک مہیا نہیں کرتے ہیں اگر ان سے سامان ضرورت کی بات کی جائے تو جواب آتا ہے اپنے گھروں سے لے آؤ۔ طلباء حضرات اپنی جیب سے سامان تو لے آتے ہیں مگر ظاہر ہے ہر کام میں رکاوٹیں ہوتی ہیں.ریسرچ کے دوران جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ان سپروائزر اساتذہ کی مدد حاصل کرنے کیلئے جب ان کے پاس جاتے ہیں تو موصوف ٹھنڈے کمروں میں گھومنے والی کرسی پر بیٹھے آرام کرتے نظر آئیں گے ۔ تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے اور اس طرح دن گزر جاتا ہے صبح 8بجے سے لے کر شام 4 بجے تک یہی کام چلتا ہے اور آخرکار بغیر کچھ پڑھے اپنا قیمتی ٹائم ان اساتذہ کی نظر کر کے واپس آنا پڑتا ہے۔
اگر بدقسمتی سے کوئی طالب علم ریسرچ میں کچھ انوکھا دریافت کر لے اور وہ وائس چانسلر کے پاس جانا چاہے تو اس کو صرف اتنا کہہ کہ واپسی راستہ دیکھا دیا جاتا ہے کہ “یہ تو کسی کام کا نہیں”۔
میں آپ سب سے اور اعلیٰ حکام سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا ایسا کرنا درست ہے؟ ایسا کرنے سے ان طلباء پر مثبت اثر پڑے گا یا منفی؟؟؟۔
کہتے ہیں کہ” پڑھی لکھی ماں ایک خاندان کو سنوارنے کا کردار ادا کرتی ہے” ۔
کیا مستقبل میں یہ طلباء اپنے اپنے خاندانوں کو سنوار سکے گے؟۔
کیا یہ کل کو اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دے گے؟ جن کی تربیت شروع سے ہی لاپرواہی سے ہو رہی ہو ۔
ایچ ای سی کے قوانین کے مطابق ایک سپروائزر 5 اسکالرز کی ریسرچ کے دوران رہنمائی کر سکتا ہے مگر ان اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تو ایک ایک سپروائزر کے پاس کثیر تعداد میں طلباء ہوتے ہیں مگر وہ ان کی رہنمائی کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے سال کے آخر میں طلباء کو ڈگری حاصل کرنے کے لیے نقدی خدمات چائے پانی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہیں۔
ہمارے اداروں میں ایک اور بات بھی عام ہے اور وہ ہے جنسی استحصال اگر سپروائزر مرد ہے اور طلباء خواتین ہیں تو آپ آسانی سے اپنی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
سال کے آخر میں مارکیٹ سے نقلی ریسرچ اور تھیسز مختلف ریٹس پر دستیاب ہوتے ہیں. طلباء مجبوری میں بھاری قیمت ادا کر کے ان کو حاصل کرتے ہیں.تاکہ کامیاب ہو سکیں اور وقت اور روپے بچ جائیں۔
ہمارے ملک میں میڈیا نے ہمیشہ ترقیاتی کاموں میں کرپشن سے عوام اور اداروں کو آگاہ کیا۔ ہمارے سیاست دانوں کی کرپشن کے کارنامے تو بتائے مگر تعلیمی اداروں میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں کبھی آگاہ نہیں کیا۔
میں متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کی طرف بھی توجہ دیں اور جو جو مجرم ہیں ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
اس طرح سے طلباء پر مثبت اثر پڑے گا اور بدعنوانی سے دور رہے گے۔ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے. ہمارے ملک کو اچھے ڈاکٹرز، انجنئیرز، ٹیچرز وغیرہ کی ضرورت ہے تاکہ ملک ترقی کر سکے۔ اور یہ صرف صرف اس وقت ممکن ہے جب ہمارے تعلیمی ادارے درست ہوں گے۔

۔”اللہ آپکو آسانیاں پیدا کرنے اور تقسیم کرنے کا شرف بخشے”۔

میں اپنی بات اس شعر پر ختم کرتا ہوں کہ

۔”دل تو چاہتا ہے کہ آگ لگا دو کوہ طور کو

پھر ڈرتا ہوں کہ موسی بے گھر ہو جائے گا”۔


(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *