عرب اور ارب ۔ (طنز و مزاح) ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

عرب آجکل تین چیزوں کا بہت احترام کرنے لگے ہیں،زیتون،خاتون اور قانون کیونکہ ان تینوں چیزوں کی اہمیت کو عربوں نے جان لیا ہے۔اسی لئے یہ لوگ اب زیتون کا احترام اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں،رہ گیا سوال خاتون کا تو عرب خاتون کو عینین کی تسکین سمجھتے ہوئے دل و دماغ کی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مشہور ہے کہ عرب کھجور،اونٹ اور حرہ(خاتون) کے لئے کچھ بھی قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔عرب میں نماز کے علاوہ سب سے بڑے اجتماعات بھی وہیں ہوتے ہیں جہاں اونٹ اور خواتین جمع ہوں۔بلکہ خاتون اور کھجور کو دیکھتے ہی ان کی رال ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے۔خوشبو عورت کی کمزوری جبکہ عورت عربوں کی کمزوری سمجھی جاتی ہے،خواتین عطر اور پرفیوم لگاتی نہیں بلکہ انڈیلتی ہیں۔کچھ خواتین مردوں کو مسحور کرنے کے لئے خوشبو لگاتی ہیں جبکہ کچھ دوسروں کو بے ہوش کرنے کے لئے۔عرب میں یہ بات مشہور ہے کہ خواتین گھر سے باہرماسوا خوشبو لگانے کے کچھ نہیں کرتیں اور مرد گھر وں میں کوئی کام نہیں کرتے حاالانکہ مردوں کے گھروں میں کام کرنے کی وجہ سے ہی ان کے آنگن میں دس دس بچے کھیل رہے ہوتے ہیں۔عرب فیملی پلاننگ کی بجائے دوسری شادی پہ یقین رکھتے ہیں۔بلکہ ان کا یقین کامل چار شادیاں ہیں۔عربوں نے فیملی پلاننگ کا حل یہ نکالا ہے کہ ایک بیوی سے وہ چار سے زائد بچے نہیں لیتے اگر پانچواں بچہ لینے کی خواہش ہو تو شادی ایک اور کر لیتے ہیں۔اور پھر چار بیویوں سے بیس پچیس بچےّ فیملی پلاننگ کا منہ توڑ جواب سمجھتے ہیں۔میرے ایک عربی دوست کی تین شادیوں میں سے کل پندرہ بچے ہیں ،جب اس سے میں نے کہا کہ یار بچیّ تو دو ہی اچھے ہوتے ہیں تو معاًبولا کہ ان میں سے اِن شاء اللہ دو ہی اچھے نکلیں گے،باقی اونٹ چُرانے یا چَرانے کے کام آئیں گے۔
عرب دلہنیں شادی پہ سفید لباس زیب تن کرتی ہیں اس خیال سے کہ ان کی زندگی کا روشن دن شروع ہونے والا ہے حالانکہ نئی زندگی اور شادی کی شروعات دن کو نہیں’’ رات‘‘ کو ہوتی ہے۔عہدِ حاضر میں تیل اور گیس کی فراوانی سے اکثر عرب اب ارب پتی بن گئے ہیں۔عربوں کو ارب پتی بنانے میں کفالت سسٹم کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا کہ تیل اور گیس کا۔کفالت سسٹم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اجیر کے شب و روز visa status سے منسلک ہوتے ہیں۔عرب دنیا میں مشہور روایت ہے کہ افریقہ کے جنگلوں سے ایک شیر کو لا کر چڑیا گھر میں رکھا گیا۔ملازمین روزانہ شیر کے سامنے ہری ہری گھاس لا کر ڈال دیتے،چند روز گزرنے کے بعد ایک دن شیر احتجاجاً دھاڑا کہ میں ایک شیر ہوں اور شیر گھاس نہیں، گوشت کھاتا ہے،اس لئے مجھے گھاس نہیں گوشت دیا جائے ۔ملازمیں نے اس پر جواب دیا کہ اے جنگل کے بادشاہ یہ بات ہم بھی جانتے ہیں کہ آپ شیر ہی ہو مگر آپ جس ویزہ پر یہاں لائے گئے ہیں وہ شیر کا نہیں بکری کا ہے اس لئے ہم آپ کو گھاس دینے پر مجبور ہیں ،اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو گوشت دیا جائے تو تو فوراً نقل کفالہ کروا لیجئے وگرنہ اپنے آپ کو گھاس کھانے کی عادت ڈال لیجئے۔سنا ہے آجکل وہ شیر بھی گھاس ہی کھا رہا ہے۔عربوں کی نقل میں اب بہت سے پاکستانی بھی ارب پتی بنتے جارہے ہیں مگر ان دونوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ عرب شادی سے قبل بھی ارب پتی ہی ہوتے ہیں جبکہ پاکستانی اسے ’’زنانی کی قسمت‘‘ کہہ کر جواب گول مول کر جاتے ہیں۔عرب شادیوں پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں کہ’’ مال‘‘ اچھا ہو تو قیمت نہیں دیکھی جاتی،جبکہ ہمارے ہاں وہی ’’مال ‘‘ دیکھا جاتا ہے جو شادی کے بعد’’ مالو مال‘‘ کر دے۔عرب چونکہ پہلے ہی سے ارب پتی ہوتے ہیں اس لئے پتنیوں کا کوئی مقام نہیں ہوتا اور ہمارے ہاں تو چاچے کی بیٹی ہوتی ہے اور اگر اوپر سے ماں کی طرف سے ’’چڈو اور تھلے لگا‘‘ جیسے القابات سے بھی نواز جا رہا ہو تو سمجھ لیجئے کزن کے ساتھ ساتھ بیوی اچھی بینک بیلنس کی مالک بھی ہے۔ خاوند ارب پتی ہو تو شادی کے بعد بیوی اس کا ایسا حال کر دیتی ہے کہ ارب پتی سے سیدھا چائے کی پتی بیچنے والا بیو پاری بنا دیتی ہے۔جیسے کہ ہمارے ہاں ایک روایت مشہور ہے کہ دو خواتین عرصہ دراز کے بعد ملیں تو حسب عادت حال احوال کے بعد من پسند موضوع خاوند کی چغلیاں شروع کر دیں ،ایک پوچھتی ہے کہ سنا ،تیرا خاوند کیا آج بھی تیرے ارد گرد چکر لگا تا ہے،نہیں، اب مجھے بچوں کے چکروں میں ڈال رکھا ہے۔۔۔ دوسری خاتون۔۔۔اور سنا تیرا خاوند کیا کرتا ہے۔
۔’’میں نے تو اپنے خاوند کو کروڑ پتی بنا دیا ہے‘‘۔
اچھا تو وہ پہلے کیا تھا
۔’’ارب پتی‘‘۔
بحثیت مسلمان ہم عربوں کے احترام و تقدس کو معتبر خیال کرتے ہیں ،اب جبکہ عربوں نے اربوں کے تقدس کو معتبر سمجھ لیا ہے تو ہمیں بھی ان کی تقلید میں اربوں کو اعلیٰ ترجیحاتی معیار پر رکھ کر اس کے تقدس کو پامال نہیں کرنا بلکہ احترام کرتے ہوئے جتنے بھی ارب اکھٹے ہو سکیں ان میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں چھوڑنا۔ کیونکہ جیسے حالات ملک کے چل رہے ہیں ایسے حالات میں عرب اور ارب دونوں کی ملک کو ضرورت ہے۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *