بھاری بستہ، کمزور بچےّ ، مہنگی کتابیں، فریادی والدین ۔۔۔ تحریر : عبدالجبار خان دریشک

صبح سویرے اجلے یونیفارم پہنے روشن چہروں والے پیارے پیارے پھولوں کی ماند بچے جب سکول جارہے ہوتے ہیں تو ان مصوموں پھولوں کے کندھوں پر لدے بھاری بستے دیکھ کر بڑا ترس آتا ہے ایک تو یہ مصوم جسمانی طور پر کمزور اور اتنا بھاری بستہ دن بھر سکول میں پڑھنا دوپہر کو تپتی دھوپ میں اپنے آدھے وزن کے برابر بستہ کندھوں پر رکھ کر پیدل آنا ، بچارے ایسے نڈھال اور تھکان چور ہوتے ہیں کہ ان کو نہ کھیلنے کا ہوش رہتا ہے نہ ہی پڑھنے کا ، ہمارا ملک ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں کی نشونماء ٹھیک سے نہیں ہو پاتی ہے دوسری ستم ظریفی یہ ہے کہ جتنی مقدار میں خوراک ملتی ہے چاہیے وہ کم ہی سہی ، لیکن وہ بھی خالص نہیں ہوتی ، اسی وجہ سے اکثر بچوں کے قد نہیں بڑھ پاتے ہیں اور وہ بچے جسمانی طور پر کمزور رہے جاتے ہیں ، پھر ان کے اوپر تعلیمی کا ذہنی بوجھ اپنی جگہ ساتھ بھاری بستہ ان کو اور کمزور کر کے مریض بنا دیتا ہے
ماہرین کاکہنا ہے کہ بچے کے وزن سے بستے کا وزن اس کے کل وزن کے دسواں حصیّ کے برابر ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں یہ وزن ڈبل ہوتا ہے ، گزشتہ کچھ دن قبل ایک ٹی وی شو میں بچوں کی صحت کے متعلق ایک ڈاکٹر بتا رہے تھے کہ اس بھاری بستے کی وجہ سے بچوں میں کمر درد اور کندھوں کے درد کی بیماری عام پائی جاتی ہے اور خوراک کی کمی بھاری بستے، ان بچوں کے قد میں آضافے کو روک دیتے ہیں ، دنیا میں ترقی یافتہ ممالک تعلیم کے شعبہ میں ترقی کر کے بچوں پر کتابوں کا بوجھ کم کر رہے ہیں ، لیکن ہمارے ہاں بچوں کا بستہ غبارے کی طرح پھولتا جارہا ہے، نئی ایجادت نے انسانی زندگی کو آسان سے آسان بنا دیا ، جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تھا تو وہ ایک پورے کمرے پر مشتمل تھا اس میدان میں ریسرچ شروع ہوئی اور ٹیکنالوجی نے ان ایجادات کی شکل ہی تبدیل کر دی وہی کمپیوٹر جو کمرے جتنا بڑا تھا اس ٹیکنالوجی کے جادو سے ڈسک ٹاپ میں تبدیل ہوا ، پھر لیپ ٹاپ اس بعد سمارٹ فون بنا، تاکہ انسان کو کمپیوٹر کے وزن اٹھانے کی تکلیف نہ ہو پر اس جدید دور میں نہ بدلہ تو وہ ہے ہمارا نظام تعلیم ، جسے میں آئے روز نت نئے تجربات جاری ہیں ، ہم اپنی مذہبی ، سماجی اور ثقافتی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا نظام تعلیم بنانے میں تاحال ناکام ہیں ۔
بھاری بستے کا یہ عالم ہے کہ ایک دن گرمی سے نڈھال بچہ دوکان کے چھپر کے نیچے لکڑی کے پنچ پر تھکا ہارا بیٹھا تھا، جب میں نے بچے کو اور اس کے سکول کے بستے کو دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی اتنا چھوٹا بچہ اور یہ بھاری بستہ، میں نے اس بچے کا بستہ اٹھا کر اور اسی کریانہ کی دوکان میں رکھے ترازو پر اس کا وزن کیا مجھے شدید حیرانی ہوئی دوسری کلاس کے بچے کا سکول کا بستہ سات کلو گرام کے لگ بھگ وزنی تھا، جو بچہ بچی گھر سے پیدل چل کر جائے اور ایسے ہی واپسی آئے وہ اس وزن کی تھکان کے بعد کسی کام کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کو ٹیوشن ہوم ورک مسجد میں سپارہ سب کے لئے جانا ہے۔ جسمانی و ذہنی تھکاوٹ کے بعد ڈھیر سارا ہوم ورک درجن بھر کتابیں اس کے پاس تو اپنی ذہنی و جسمانی نشونماء کے لئے کھیل کا وقت ہی نہیں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اب ای بکس کا دور شروع ہو چکا ہے ، اٹلی میں قیام پذیر میرے دوست محترم فرمان علی نے بتایا کہ وہ اپنی جاب کے سلسلے میں مختلف ممالک جاتے رہتے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں ایسا کچھ نہیں وہاں بچوں سے سارا کام سکول میں ہی مکمل کروا دیا جاتا ہے۔ اکثر ممالک میں بچے کتابیں اور بستہ سکول میں ہی رکھ کر آتے ہیں یا تو ان کے پاس ای بکس ہوتی ہیں وہ ای بک سے گھر پر پڑھ لیتے ہیں ، یاپھر سکول کی طرف سے اتنی محنت کروائی جاتی ہے کہ ٹیوشن کا تو تصور ہی نہیں کرسکتے۔ ہمارے ہاں سمجھانے کی بجائے رٹہ لگوانے پر زور دیا جاتا ہے۔
اس وقت ملک میں تعلیم کا نظام ایک نہیں کئی رائج ہیں ایک انداز کے مطابق 20 طرح کے سلیبس پرائمری سے مڈل تک کے بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں، آپ اس سے اندازہ لگائیں ملک میں جب سرکاری اداروں کے متبادل ادارے پرئیوایٹ سیکٹر میں لائے گئے ہیں تو اس پرائیویٹ سرمایہ کاری کی وجہ سے سرکاری اداروں کا بیڑا غرق ہوا ہے ، پی آئی اے کی جگہ پرائیویٹ کمپنیوں کو لائسنس جاری ہوئے تو قومی ائیر لائین تباہ ، پرائیویٹ بنک آئے سرکاری نیلام ہوئے ، سٹیل کارخانے بنے تو کراچی سٹیل مل تباہ ، پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام آیا تو ریلوے تباہ ، پرائیویٹ ہسپتال بنے تو سرکاری تباہ حالی کا شکار ہوئے ، ٹھیک اسی طرح شعبہ تعلیم میں بھی ایسا ہوا پرائیویٹ سکولز کالج میڈیکل کالج یونیورسٹز جب سے بنی ہیں تو سرکاری تعلیم ادارے بھی برباد ہو کر ریے گئے ہیں ، گورنمنٹ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر بچہ کو سرکاری سکولز میں تعلیم دلوائی جائے ملک میں 50 فیصد سے زیادہ بچے پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم ہیں اب ان کو حکومت بند کرتی ہے تو جتنے ادارے عمارتیں ، اور اساتذہ گورنمنٹ کے پاس ہیں اتنی ہء تعداد میں مزید عمارتیں بنانی ہوں گی اور اتنے ہی نئے اساتذہ بھرتی کرنے ہوں۔ لیکن مجبوری یہ ہے کہ ہمارا تعلیم کا شعبہ امداد اور قرض پر چل رہا ہے اس لیے تب تک ان پرائیویٹ اداروں کی ملک میں ضرورت رہے گی، جبکہ ہمارے پاس اتنے وسائل ہی موجود نہیں ہیں۔
کچھ دن قبل محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد اور سیکرٹری سکول، عدالتی معاونین بلال منٹو، انور سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے تھے ، اس موقع پر سیکرٹری سکول ڈاکٹراللہ بخش نیعدالت کو تعلیمی سہولیات سے آگاہ کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ تعلیم سے ہی قوموں کو بام عروج پر پہنچتی ہیں، نجی شعبے کے کردار سے آگاہ ہیں، اس کی حوصلہ شکنی نہیں کریں گے، غربت کو ذہین طالبعلموں کے راستے کی رکاوٹ نہیں رہنے دیں گے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے کہ وہ سکول جائے ، ایک کتاب، ایک بستہ اور ایک یونیفارم میرا اگلا خواب ہے۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے فیس پانچ بجائے آٹھ فیصد بڑھانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پرائیویٹ اسکول 30دن میں پنجاب حکومت کو 2015 ء سے 2018 ء تک کئے جانے والے فیسوں میں اضافے کا جواز پیش کریں اور ناکامی کی صورت میں فیسیں والدین کو واپس کی جائیں۔ ہائی کورٹ کے فل بینچ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرے اور 90دن میں مساوی پالیسی ترتیب دی جائے جس کے تحت حکومت فیس بڑھانے کیلئے تعلیمی اداروں کے منافع کا جائزہ لے۔ فاضل عدالت نے واضح کیا کہ پرائیویٹ سکول والدین کو کسی خاص دکان سے کتابیں اور یونیفارم خریدنے کا پابند نہیں کر سکتے۔ اسکول ٹیوشن فیس، داخلہ فیس اور سیکورٹی کے علاوہ والدین سے دیگر کوئی چارجز وصول نہیں کریں گے۔
ملک میں یکساں تعلیمی نظام کے رائج ہونے میں روکاوٹ وہ گٹھ جوڑ ہے جو نجی اداروں اور پبلیشرز کا ہے، یہ لوگ کبھی بھی نہیں چائیں گے کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم کے تحت کتابیں ایک جیسی ہوں جبکہ بھاری بستے میں تعلیم کا مقصد نہیں بلکہ ان کا منافع اور کمشن کا مقصد شامل ہے ، جو بچارے والدین کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے ، ملک میں بڑے بڑے سکول سسٹم ، گروپس آف سکولز ، چین سسٹم سکولز ، کے پیچے چھپے چہرے بڑے بڑے بزنس مین ، سیاست دان ، میڈیا مالکان ، ہیں جن کے پاس پاور بھی ہے اور پیسہ بھی ، ان کو پورے ملک میں سکولز ، برانچز کھولنے میں کوئی انتظامی دشوری نہیں ہوتی ، ان کے سکولز کا پبلیشرز کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں کہ ان کے سسٹم کے تحت چلنے والے سکولز کے ملک میں دو سو ، تین سو ، اور اس سے بھی زیادہ برانچز مشتمل نیٹ ورک ہے ، پبلشرز سے معاہدہ ہونے کے بعد تمام برانچز میں ایک ہی سلیبس کا کورس اسی پبلیشر کا لگوا دیا جاتا ہے آپ انداز کریں ایک پبلیشرز سے سو سکولز کی کتابیں ، کاپیاں ، یونفارم ، خرید جائے تو ان کا کمشن کی مد میں کتنا مال بنتا ہو گا ، آگے وہی کمشن کا بوحھ والدین پر مزید بڑھا جاتا ہے جب آگے چل کر مقامی برانچ کے مالک اس میں حصے دار بنتے ہے ، والدین ایک تو بھاری فیسیں دیں ، اور کتابیں کاپیاں ان کی مرضی سے ان کے مخصوص دوکاندار سے خرید کریں ، اب بھاری بستوں کے پیچے کیا راز ہے آپ ایک ون کلاس کے بچے کی کتابوں کی گنتی تو کریں ، حیرانی اس بات کی ہوتی ہے ایک چھوٹا سا قاعدہ تین سے پانچ سو کا ہے، اور پورا کورس تین سے چار ہزار تک کا ، اگر خدانخواستہ کتاب گم ہو جائے تو یہ شاہکار اکیلا ملنا ایسے ہے جیسے چاند کی سواری تلاش کرنا ، دوکاندار کا کہنا ہوتا ہے ہمارے پاس کورس کا مکمل سیٹ ہوتا ہے ایسے ہمارا کورس ضائع ہو جاتا ہے۔ ان کے کورس اور کتابیں اتنی مہنگی ہیں جبکہ دوسری طرف ایک بچارے دانشور کی لکھی گئی کتاب ان کے قاعدے کی قیمت میں فروخت ہوتی ہے ، جو ساری زندگی مختلف کتب کی ورق گردانی کرتا ہے اور اپنے علمی تجربات کی بنیاد پر کتاب لکھتا ہے لیکن اسے وہ قیمت نہیں ملتی جو ایک پہلی کلاس کا قاعدہ پرنٹ کرنے والے پبلیشر کو ملتی ہے۔
پہلے دور میں ایک بچہ اپنے بڑے بہن بھائیوں کی پرانی کتابیں استعمال کر لیتا تھا لیکن پبلشرز نے یہ رواج بھی ختم کروا دیا ہے اب ہر کتاب میں مشق کے لیے خالی جگہ ، چھوٹے سوالات اسی کتاب پر حل ہوتے ہیں ، مزید کثر سکول ٹیچر پوری کر دیتی ہے ہائی لائٹر سے نشانات لگوا کر کتاب کو دوسروں کے قابل ہی نہیں چھوڑا جاتا ، ہم پوری دنیا سے انگریزوں کے استعمال شدہ اشیاء گاڑیاں ، کمپیوٹر استعمال کر لیتے ہیں، ہم ان انگریزوں کے پرانے کپڑے جوتے کوٹ لنڈے سے خرید کر استعمال کر سکتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے تو ایک دوسرے کے سکول کا کورس، ہم اگر صرف پورے ملک میں یکساں کورس کر دیں پرنٹ شدہ کاپیوں پر پابندی عائد کر دیں جس پر سکولز کے نام اور اشتہار درج ہوتے ہیں ، اس سے مارکیٹ میں اجارہ داری ختم ہو گی کورس جب ہر دوکان پر ملے گا تو مارکیٹ میں مقابلے کی وجہ سے سستا بھی ہوگا ، جس سے والدین کی آدھی پریشانی ختم ہو جائے گی ان کے سال بھر کے تعلیمی آخرجات میں آدھی بچت ہو جائے گی۔ حکومت والدین کو ناجائز تعلیمی اخرجات سے اور بچوں کو بھاری بستوں سے نجات دلائے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم یکساں کورس اور یکساں تعلیمی نظام پر سفارشات ضرور تیار کرے ، اس حوالے سے نئی قانون سازی کی جائے ، بھاری بستہ اور مہنگی کتابوں کی وجہ سے والدین پریشان ہیں اور وہ فریادی بن کر اپیل کر رہے ہیں کہ حکومت اس پر ضرور غور فکر فرمائے ۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *