فلسفہ قربانی ۔۔۔ خصوصی تحریر : ایم شفیق شاہد ملک ۔ کمالیہ

فلسفہ قربانی سنت ابراہیمی ؑ پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔
یہ مکتب کی کرامت تھی یا فیضان نظر اْن کا
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آداب فرزندی
اللہ رب العزت نیت تقویٰ ارادہ خلوص پسند فرماتے ہیں۔ قرآن مجید والفرقان حمید کی سورۃالکوثر میں حکم ربانی ہے کہ فصل ربک وانحر۔ پس نماز پڑھو اور قربانی کر۔ اس عظیم حکم الہی کو پورا کرنے کے لئے ہم مسلمانان عالم 10 ذالحجہ کو عید الاضحی کے پر مسرت یوم عظیم کے طور پر مناتے ہیں۔ نبی رحمت حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم ؑ کی سنت عظیم ہے اسلامی تاریخ عظیم کا یہ مقدس ترین عظیم واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو خواب آیا کہ انکو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کرنے کا حکم عظیم دیا جا رہا ہے۔ پیغمبروں کے خواب بھی احکامات الہی شمار کئے جاتے ہیں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے انتہائی فرمانبردار فر زند ارجمند حضرت اسماعیل ؑ کو اپنے پاس بلایا اور اپنے عظیم پیغمبرانہ خواب مقدسہ سے بخوبی آگاہ فرمایا۔ حضرت اسماعیل ؑ نے جواب میں فرمایامیرے پیارے ابا جان جلدی کیجئے کہیں حکم خدا کی تعمیل میں دیر نہ ہو جائے۔ حضرت ابراہیم ؑ اللہ بارک تعالی کی خوشنودی کے لئے اپنے جان سے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کے لئے اللہ کی راہ لے گئے۔ حضرت اسماعیل ؑ نے فرمایا اے میرے پیارے ابا جان اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں شفقت پدری میں اس عظیم عمل میں رخنہ نہ پڑ جائے۔ اور تیز چھری زرا جلدی جلدی چلانا تا کہ ہم اللہ کی رضا حاصل کر لیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے پیارے لخت جگر حضرت اسماعیل ؑ کو اوندھے منہ لٹا کر جب حکم الہی پر عمل کرنا چاہا تو چھری کند ہو گئی اور حکم الہی سے آواز آئی اے میرے ابراہم ؑ (خلیل اللہ) ہم نے تمہاری یہ عظیم قربانی قبول کرلی۔ مینڈھا قربان کر دو پیغمبر ؑ کے پیغمبر ؑ بیٹے کی عظیم آزمائش الہیٰ میں سرخروئی کو اللہ بارک تعالی نے رہتی دنیا تک کے لئے پسندیدگی کی عظیم سند الہی جاری کرکے رکھ دی۔ جسکی نسبت سے ہم عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ ہمارے جد امجد جلیل القدر عظیم پیغمبر تھے آپ ؑ اللہ بارک تعالیٰ جل جلالہ کی ہر آزمائش پر پورا اور ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خلیل اللہ کہہ کر پکارا ان کی آزمائشوں کی فہرست طویل ہے اللہ بارک تعالیٰ نے انکی استقامت کو پسندیدگی کی سند عظیم عطا کر کے رکھ دی۔ آپ کے والد (بت فروش) تھے مگر انکے آداب میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ا ور انکے سخت اور تلخ رویہ پر انکے حکم پر کھر تک چھوڑ دیا مگر توحید الہیٰ پر سختی سے کاربند رہے۔ عزیز و اقارب کی بد مزاجی پر صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اماں حاجرہ کو صفا مروہ میں اللہ کے حکم پر اکیلے چھوڑنا۔ پھر آگ میں پھینکے جاے پر پائے استقلال میں لغزش تک نہ آئی۔ بادشاہ کے دربار میں اعلائے کلمۃ الحق بلند کرتے رہے پھر خواب میں اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے نکل پڑنا۔ اللہ بارک وتعالیٰ کو انکی یہ سب قربانیاں اور آزمائیشوں میں استقامت اور تقویٰ اس قدر پسند آیا کہ اللہ رب العزت نے دین ابراہیمی کا تسلسلہ اور انکی دعائے عظیم کے باعث دین اسلام کو مقبول و محبوب فرمایا۔ فریضہ حج کے اہم ترین ارکان ، قربانی، خانہ کعبہ کی تعمیر، صفا مروہ، مقام ابراہیم ، درود ابراہیمی یہ سب اللہ کی رضا اور مقبولیت عظیم کے عظیم ثبوت ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ جب اللہ رب العزت کے حکم عظیم سے خانہ کعبہ تعمیرکر چکے تو انہوں نے پیغمبرانہ اخلاص سے عظیم دعائے مقبول کے لئے دونوں ہاتھ اٹھا دئیے۔ اور باری تعالیٰ میں عرض کی ۔
ربنا وابعث فیھم رسولاََ منھم یتلو علیہم آیتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ۔ 
اے اللہ مجھ میں سے ایک رسول مبعوث فرما جس پر تیری آیات نازل ہوں جس پر کتاب اترے اور وہ حکمت و دانائی کی تعلیم دے۔ اللہ تعالی نے اپنے فضل خاص سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول فرمائیں اور انکو فضلیت خاص سے نوازا ۔حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم سنت قربانی کا فلسفہ عظیم اللہ بارک تعالیٰ کی ہر آزمائش پر پورا اترنے کے لئے کامل استقامت کا نام ہے کہ پائے استقامت میں لغزش تک نہ آنے پائے ۔ عید قربان کا پیغام ہے اور یہی پیغام عظیم ہے کہ ہم عید الاضحی کی عظیم خوشیوں اور پر مسرت لمحات میں عید الاضحیٰ کی مبارک ساعتوں میں غریبوں ، یتیموں ، ناداروں، مفلسوں، حقداروں کو اپنے دستر خوان اور طعام میں لازم شامل کریں ۔ یہی آج کا پیغام عظیم ہے۔
اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبرواللہ الحمد 

(Visited 10 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *