پھول جھاڑو اور فیصل آباد ائیر پورٹ ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ؔ ۔ دوحہ قطر

ایک سال بعد بیرونِ ملک سے پاکستان جانے کی خوشی میں سب اچھا اچھا سا لگتا ہے۔دوحہ ائیر پورٹ داخل ہونے کے بعد فلائٹ میں ابھی وقت تھا تو سوچا کہ چلو ذرا مٹر گشت کر لیتے ہیں سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل راہداری پر ایسے ہی گھومنا شروع کر دیا ،مجال ہے کہ کچرے کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر آیا ہو۔یہی وجہ ہے کہ 2016 میں تکمیل ہونے کے بعد اب یہ ائیر پورٹ دنیا کے پانچ خوبصورت ترین ائیرپورٹ میں شمار ہوتا ہے،اس کا عملی ثبوت اس وقت میرے سامنے آیا جب میں نے ایک فلپائنی سویپر کو زمین پر پڑے ایک ریپر کو چھوڑ کے آگے جاتے ہوئے دیکھا ،ابھی وہ چند قدم ہی گئی ہو گی کہ اس کی فورمین اس کے پیچھے آئی اسے واپس بلایا اور کچرا اٹھانے کو کہا۔اب ایک بار پھر سے پوری راہداری صاف ستھری اور چمکیلی چمکیلی سی دکھائی دینے لگی۔میری پرواز چونکہ فیصل آباد کی تھی اور اتفاق سے کوئی چھ ماہ قبل ہی یہ ائیر پورٹ بھی پایہ تکمیل کو پہنچا ہے تو ذہن میں ایسی ہی صفائی اور ستھرائی جو دوحہ میں نظر آئی موجود تھی۔یعنی دل خوش ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا یونہی جہاز سے باہر آیا سامنے ایک نئی بس مسافروں کو لے جانے کے لئے کھڑی تھی ،اس سے قبل ہمیشہ ہی جہاز سے اتر کر سامان لینے والے ایریا تک پیدل بلکہ بھاگ کر جانا پڑتا تھا،دل بہت خوش ہوا کہ چلو ایک سہولت تو نظر آئی۔لگج بیلٹ اگرچہ نئی تھی تاہم لگتا تھا کہ بس ایک سال بعد ہی اس کی بھی بس ہی ہو جائے گی۔مختصرا یونہی ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو راہداری میں پھولوں کی پتیوں کو جابجا بکھرے دیکھا جو عمرہ زائرین کے استقبال کے لئے شاہد ویلکم کہنے والوں نے نچھاور کی ہونگی۔فلائٹ قبل از وقت آنے کی وجہ سے عثمان مجھے لینے کے لئے بر وقت نہ آ سکا تو میں سائیڈ پر لگی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔کوئی آدھا گھنٹہ گزرنے کے باوجود بھی پھولوں کی پتیوں کو صاف کرنے نہ کوئی فور مین آیا اور نہ ہی کوئی سویپر۔ایسے میں مجھے واش روم جانے کا اتفاق ہوا ،واش روم کم اور طلسم کدہ زیادہ دکھائی دے رہا تھا،واش بیسن ٹوٹے اور گند آلود،ٹوٹیاں زمین پر سجدہ ریز،فرش گویا ٹائلز کا نہیں بلکہ کسی گرد آلود اور غبار زدہ مکان کا حصہ ہو۔بغیر ضرورت پوری کئے واپس اسی کرسی پر آن بیٹھا۔ایسے میں کیا دیکھتا ہوں کہ دو خاکروب پھولوں کی پتیوں کو صاف کر رہے تھے،مگر یہ کیا دونوں نے بانس کے ساتھ ایک ایک پھول جھاڑوں باندھ رکھا تھا جو کسی لحاظ سے بھی صفائی کے قابل نہیں تھا۔جو پتیاں لوگوں کے پاؤں تلے دب کر زمین کا ہی حصہ بن گئی تھیں انہیں پھول جاڑو سے کیسے اکھاڑا جا سکتا تھا۔دونوں خاکروب نے چند ہی لمحوں بعد ادھر اُدھر دیکھا ،کام چھوڑا اور ایک ستون کے پاس جا کر سگریٹ نکالی اور لمبے لمبے کش لگانے لگے،جیسے انہیں معلوم ہو کہ کچھ نہیں ہوگا۔ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ اپنے پھول جھاڑو سے اس نظام کو اٹھا کر ائیر پورٹ سے باہر پھینکتے ہیں۔بالکل ایسا ہی ہے اگر انہیں کسی سسٹم،نظام یا قانون کا ڈر یا خوف ہو تو پھول جھاڑو کیا اپنے ہاتھوں سے بھی اس گند کو صاف کرنے کے لئے تیار ہوتے یا پھر ملک کو اپنا گھر سمجھتے تو بھی اس کچرے کو انگلیوں کی پوروں سے صاف کر رہے ہوتے۔بس نعرہ ہی رہ گیا ہے کہ دھرتی ہوگی ماں کے جیسی،بھلا ماں کو ایسا گندہ مندہ چھوڑا جاتا ہے؟۔

(Visited 52 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *