۔’’گاڑی جا چکی ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

’گاڑی جا چکی ‘‘ بظاہر سادہ اور آسان جملہ ہے لیکن اپنے اندر تجسس لیے ہوا ہے ۔اس میں جو درد ،کرب ،آہیں ،سسکیاں ،آنسو ،تڑپ ،زخم ہیں وہ اس کو پڑھے بغیر آشکار نہیں ہوتے ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘صرف ایک جملہ ہی نہیں بلکہ پوری کائنات ہے ۔ فائق احمدنے کہیں کُھل کر ،کہیں اشاروکنار میں اپنے تجربات ،احساسات کو الفاظ کی صورت میں صفحہ قرطاس پر بکھیر کر ایک کائنات سجا دی ہے ۔جس کا نام فائق احمد نے ’’گاڑی جا چکی ‘‘رکھا ہے ۔
میں لکھاری کم اور قاری زیادہ ہوں ۔کتابی کیڑا تو مشہور ہوں سو ہوں لیکن میرے اندر آگ جلتی ہے ،مطالعہ کی آگ ۔یہ آگ مجھے تڑپاتی ہے جب تک اس آگ کو بجھانے کے لئے کچھ مطالعہ نہ کرلوں ،نیند کی پری لوریاں نہیں دیتی۔یوں میں بے ترتیب سا رہتا ہوں ،سو کتاب مجھ پر احسان کرتی ہے ،مجھے مکمل کر دیتی ہے اور میں پُرسکون رہتا ہوں اورپُر سکون سوتا ہوں۔
’’گاڑی جا چکی ‘‘،فائق احمد کا شکر گزار ہوں کہ میری سکونت میں اضافہ کیا ہے ۔میں اُن کا مقروض ہوں ،’’گاڑی جا چکی ‘‘بظاہر پتلی ،کمزوری سے جسامت رکھتی ہے ۔ایسے جیسے بستر مرگ پر پڑے مریض کی ہوتی ہے ۔جو ایک عرصہ سے زندگی اور موت کی کشتمکش میں ہوتا ہے جس کے جسم پر گوشت برائے نام اور ہڈیاں چیخ چیخ کر اپنی طرف متوجہ کر رہی ہوتی ہیں ۔
کہتے ہیں چھوٹی چیز ہی ہمیشہ بڑی ہوتی ہے ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘پتلی سی ضرور ہے لیکن اس کے افسانے بڑوں بڑوں کو مات دیتے نظر آتے ہے ۔سرورق ایک اسٹیشن کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ خاموش پٹری پُرسکون سو رہی ہے اور بینچ پر ایک نوجوان حسرت ویاس کا لباس پہنے گاڑی کے چلے جانے کا غم لیے افسردہ سا بیٹھا ہے ۔دُور سے ایک شخص اُس کا حوصلہ بڑھانے کو آ رہا ہے ۔بیک فلاپ پہ فائق احمد بیٹھے حسین یادوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکرارہے ہیں ۔یہ مسکراہٹیں سدا سلامت رہیں ۔تصویر کے ساتھ ہی مشرف عالم ذوقی (انڈیا)لکھتے ہیں ،میں پورے ہوش و حواس میں یہ اعلان کر سکتا ہوں کہ پاکستانی فکشن میں ایک اچھے افسانہ نگارکا اضافہ ہوا ہے ۔اِسی طرح ظہیر سلیمی کہتے ہیں آج کا فائق احمد ،کل کا بھی فائق احمد ہے ۔
’’گاڑی جاچکی‘‘ کا انتساب فائق احمد اپنی بیگم غزالہ انجم ،بیٹی سیرت فاطمہ اور دوست فاروق احمد کاوش کے نام کرتا ہے ۔اور یہ کتاب اگست 2016میں شائع ہوئی ہے ۔128صفحات پر مشتمل یہ صرف کتاب ہی نہیں ایک خزانہ بھی ہے ۔معاشرے کی ناانصافیوں کا ،جراتیوں کا ،امتحانوں کا ،جستجو کا ،اُمیدوں کا ،بہاروں کا ،جذبوں کا ۔اس خزانے کی قیمت صرف 300روپے ہے۔اتنی معمولی قیمت پر یہ انمول خزانہ ہر ادب دوست کو خرید لینا چاہیے۔
’’گاڑی جا چکی‘‘ ،آرٹ ویثرن پبلشرز اینڈ پرنٹرز نے شائع کی ہے ۔اس کا کاغذ چمکیلا ہے اور لفظوں کی چمک اسے اور بھی حسین بنارہی ہے ۔اظہار خیال فہرست میں چار نام ہیں لیکن رائے چھ لوگوں کی ہے ۔جس میں ڈاکٹر غافر شہزاد کہتے ہیں
فائق احمد افسانہ نگاری میں اپنے ہم عصروں کو بہت جلد پیچھے چھوڑجائے گا۔
ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ ،کہتی ہیں کہ فائق احمد چند لمحوں کے لئے قاری کی انگلی پکڑ کر اسے اپنی دُنیا میں لے جاتا ہے اورقاری اس کی ہر کہانی میں اس کی اپنی بسائی ہوئی الگ دُنیا میں خود کو محسوس کرتا ہے ۔
جمیل احمد عدیل لکھتے ہیں یہ نو خاستہ مسافر اگر آزاد روہی کے عمل میں اسیر رہا تو افسانے کا آرٹ اس پر مزید مہربان ہو گا۔
احسن سلیم مدیر اجراء کراچی سے لکھتے ہیں فائق احمد کے افسانے قاری کو خوش گوار حیرت میں ڈالتے ہیں ۔
پیش لفظ میں خود فائق احمد کیا خوب کہہ رہے ہیں ۔کہا کچھ بھی نہیں اور سب کہہ بھی گئے کے مصدق کہتے ہیں میں اپنی ماں کی کوکھ سے کہانی لے کر آیا ۔وہ لطیف لمحس جو دو انسانوں کی قربت داری سے وجود میں آیا ۔میری کہانی بُنتا گیا گویا میری بُنتا کا پہلا عنصر ہی محبت ہے ۔اسی لیے کہانی میرے خمیر کا حصہّ ٹھہری۔کہانی لکھوں تو سکون میں ،نہ لکھوں تو عذاب میں رہتا ہوں۔فائق احمد واحد لکھاری ہیں جو کہانی نہ لکھے تو عذاب میں رہتا ہے ورنہ اکثریت عذاب جھیل کر کہانی لکھتے ہیں ۔
’’گاڑی جا چکی ‘‘اٹھارہ افسانوں پر مشتمل ہے ۔یوں تو ہر افسانہ فنی ،ادبی ،تکینکی لوازمات لیے ہوئے ہے لیکن ’’سرحد پر‘‘جس کی بہت سے رائے دینے والوں نے تعریف کی ہے ،تکینکی لحاظ سے کچھ خامی سی لگتی ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں،جب شانو کے شوہر کو معلوم بھی ہے کہ بارڈر کے دونوں طرف گولیاں چل رہی ہیں وہ شانو اور معصوم بچے کو لے کر سرحد کیوں پار کرنا چاہتا ہے ۔کچھ لمحے انتظار کیوں نہیں کیا۔پہلے بھی تو وہ سرحد پار غیر قانونی طریقے سے آجا رہا تھا ۔خواہ مخواہ اپنی اور اپنی بیوی کی زندگی گنوادی۔ کشیدگی ختم ہوئی تو دونوں حکومتیں کہہ رہی ہیں ’’یہ بچہ ہمارا ہے ‘‘اختتام اچھا ہے ۔
اسی طرح ’’رشتہ‘‘کی بات کی جائے تو اِس نے رولا دیا ۔نجو کا کردار اعلیٰ ہے اور ایک لمحہ کے لیے سوچیں کہ نجو جو بھائی بھائی کہتی نہیں تھکتی،اس کی سیج سجاتی ہے ،ساری رسموں میں بہن کا کردار ادا کرتی ہے ۔پھر اس بھائی کی بیوی بن کر اس کے آنگن میں جاتی ہے ،تو نجو کے کیا جذبات ہوں گے ۔اس افسانے نے رولا دیا ۔میں کتنی دیر آنسوؤ ں کا عذاب جھیلتا رہا ۔فائق احمد کیوں درددِل رکھنے والوں کو رولاتے ہو۔کیا تمھارا خدا اِس کی اجازت دیتا ہے ۔؟اسی طرح نیامت بی بی ،پارسائی ،دشت گماں ،گاڑی جا چکی ،بہترین افسانے ہیں ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘میں آپ کو ہر رنگ ملے گا ،محبت کی باتیں ،درد کی چاشنی ،اُمیدوں کے خواب،سہانے سپنے اور بہت کچھ۔میں فائق احمد کو ’’گاڑی جا چکی ‘‘کی اشاعت پر مبارک باد دیتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں یہ مسافر تھکے گا نہیں اور نئی نئی بُنت بُنتا جائے گا۔اِن شاء اللہ!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

One Response to ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

  1. It’s in fact very complicated in this active life to listen news on TV, thus I
    only use world wide web for that reason, and get the hottest news.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *