غزل ۔۔۔ شاعر : زاہد توقیرؔ ۔ کمالیہ

کیا غضب ہے عجب منافق ہیں
اور کہتے ہیں کب منافق ہیں؟۔

کیا یہاں ایک بھی نہیں مومن؟۔
کیا یہاں سب کے سب منافق ہیں؟۔

بے ادب مسندوں پر قابض ہیں
چْپ ہیں سب با ادب منافق ہیں

جن کو مطلب ہے تجھ سے سچے ہیں
ہم مگر بے طلب منافق ہیں

ان کو زاہدؔ میں کیا کہوں جن کے
طور منفی ہیں ڈھب منافق ہیں

(Visited 280 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *