گدھا، خر اور کھوتا ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

اپنے دوستوں،ناصر ناکا گاوا (جاپان) اور مہر راحیل رؤف(فرانس)سے اپنے مضمون کی تیاری کے سلسلے میں رابطہ کر کے پوچھا کہ گدھے کو جاپانی اور فرنچ میں کیا کہتے ہیں تو دونوں احباب کی طرف سے ذو معنی قہقہے کے ساتھ جواب بھی ذو معنین ملا “کہ جناب مراد صاحب آپ کا کیا خیال ہے کہ گدھوں جیسی نعمت سے صرف پاکستان ہی مالا مال ہے۔نہیں جناب جاپان اور فرانس میں بھی(اصلاً و نسلاًوخصلتاً)گدھے دستیاب ہیں” اصلاً یقیناًجانور گدھے اور نسلاً و خصلتاً ،جو میں سمجھ پایا کہ انسانی عادات کا گدھوں سے ملتے جلتے ہونا۔خیر گدھے کو جاپانی میں “ROBA” فرنچ میں”Ane” (آنے)،فارسی میں” خر” عربی میں “حمًار” اور ہندی،اردو میں “گدھا” جبکہ پنجابی میں “کھوتا” کہتے ہیں۔لفظ کھوتے اور خر کا استعمال سب سے زیادہ شائد پنجابی اور فارسی میں ہی ملتا ہے۔کہ شائد ان دو علاقوں میں گدھے بکثرت(عادتاً،نسلاً)پائے جاتے ہوں۔
ہار احباب کچھ بھی کہیں جی،جو وقعت و اہمیت گدھے کی میرے ملک میں ہے کرہ ارض کا ہر خطہ اس سے محروم ہی ہوگا۔کہ اس نسل میں جتنا اضافہ میرے ملک میں ہو (ہر دو خوبیوں سے)شائد کوئی اور ملک اس کا متحمل بھی ہو ماسوا امریکہ کے۔کہ وہاں ایک سیاسی پارٹی ڈیمو کریٹ کا انتخابی نشان ہی گدھا ہے۔گویا امریکیوں کے گدھے پن کو قانونی و سیاسی حیثیت حاصل ہے۔اب پتہ نہیں پارٹی کو گدھے پسند ہیں یا پھر پارٹی میں سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جالب نے میرے ملک کی عوام کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی کہ
یہ جو دس کروڑ ہیں جہل کا نچوڑ ہیں
؂جالب ؔ اگر زندہ ہوتے تو ایک بار پھر حیرت سے مر ہی جاتے کہ “جہل” اب سیاستدانوں کے ہاتھوں مکمل خرِ بے دُم بن کر بائیس کروڑ کے عدد کو چھو رہے ہیں۔جو سڑکوں،ویرانوں،صحراؤں،جنگلوں ،سکول وکالج سے لے کر پارلیمنٹ تک پھیلے ہوئے ہیں۔انسان کو گدھے پن کا احساس بچپناور لڑکپن تک نہیں ہوتا ایک دم جب عمر شباب کو چھوتا ہے تو اسے عادتاً اپنے گدھے ہونے کا احساس سا ہونے لگتا ہے۔وگرنہ پچپن میں تو ہر بچے کو اپنے یوسف ہونے کا ہی بتایا جاتا ہے۔ویسے بھی اب یہ بات تو اب ضرب المثل کی سی صورت اختیار کر گئی ہے کہ”سکھ دا بچہ تے کھوتے دا بچہ” چھوٹی عمر میں خوبصورت ہی ہوتے ہیں،بیڑہ غرق جوانی میں ہوتا ہے۔لیکن قطر آ کر ایک اور بات کا انکشاف ہوا کہ نہیں پٹھان بچہ بھی لڑکپن تک خوبصورت ہی ہوتا ہے۔ان کا بیڑہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ایک پٹھان دوست کے بقول”یہ تو ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی بھی ذی فہم و باشعور پر بھی اگر طاری ہو جائے تو وہ بھی پٹھان بن جاتا ہے۔خیر بعد از لڑکپن سکھ دا بچہ،سکھ،پٹھان کا بچہ عادتاً،پٹھان جبکہ کھوتے کا بچہ بڑے ہو کر بھی کھوتا ہی رہتا ہے۔
ایک پنجابی اکھان “کھوتے گھوڑے دا اکو ای مُل ” کی آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ جو قیمت عربی النسل یا ترکی گھوڑھے کی ہے وہ چوک کمہاراں کے کھوتے کی کہا ں ہو سکتی ہے۔جیسے نسلی گھوڑھے پالنا اور رکھنا عرب ممالک باعث عزو شرف خیال کیا جاتا ہے ایسے ہی امریکہ میں ” امریکی گدھے ” پالنا honour خیال کرتے ہیں۔کیونکہ امریکہ میں گدھے کو عقل مند جانور خیال کیا جاتاہے۔اسی بنا پہ سیاسی پارٹی ڈیموکریٹ کا سیاسی نشان بھی گدھا ہے شائد۔تو پھر یہ اکھان ایسا ہونا چاہئے کہ”امریکی گدھے اور عربی النسل گھوڑے دا اکہ ای مُل”
ایسے ہی ایک اور ضرب المثل مشہور ہے اور جس کا استعمال ہم روز مرہ کی گفتگو میں ہم سب چاہتے نہ چاہتے اکثر و بیشتر کرتے ہیں کہ
” جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے ”
عرصہ دراز میری سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی کہ سونے والا کیسے کھوتا ہو سکتا ہے۔جو صاحب سو ہی چکے ہیں اسے اس بات سے کیا کہ کوئی اسے کھوتا کہے یا گھوڑا کہہ کر پکارے یا گدھے کا لقب دے۔عقل شباب اور عمرِ پیری میں جا کر کہیں یہ عقدہ کھلا کہ یہ کھوتا گدھے والا نہیں بلکہ”کھونے” والا ہے۔اب ضرب المثل کی صحت پہ کچھ تسلی ہوئی وگرنہ”سوتے اور کھوتے” کو ہی حقیقت سمجھ لیا جائے تو پھر تو ہماری پوری قوم اسی “کھوتے” کے زمرے میں ہی آئے گی۔یقینِ واثق کے لئے پارلیمنٹ کے کسی بھی اجلاس کی کارروائی نیٹ پر آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔آپ کو خود ہی میری اس بات کا یقینِ کامل آ جائے گا کہ ہاں ہمارے بہت سے ممبرانِ پارلیمنٹ اس” سوتے اور کھوتے” کے ضمن میں آتے ہیں۔میرے اپنے حلقہ کا MNA اسی”قبیلِ سوتے کھوتے” سے تعلق رکھتا ہے۔اسے اکثر پارلیمنٹ کے کیمرے سے خوابِ خرگوش کے مزے لیتے پایا گیا۔
اردو ادب میں اس جانور کو بطورصنف مذکر(گدھا)ہی اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔صیغہ مونث(گدھی)کا ذکر خال خال ہی ملتا ہے۔جیسے مشہور اکھان ہیں کہ۔”جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی” ۔۔۔۔۔۔۔” گدھی بھی جوانی میں بھلی لگتی ہے” اب دونوں اکھانوں میں صیغہ مذکر (گدھے)کا ذکر نہیں ہے،کہیں ایسا تو نہیں کہ مذکر (حضرات)ہی ” خرِ دُم ” و”خرِنامُشخًص” ہوتے ہیں۔ویسے بھی ہماری صنفِ نازک گدھے نہیں گدھے کی کھال کا پرس پسند کرتی ہے جیسے اپنے بندے نہیں بندوں کا پرس۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ مرد حضرات گدھے نہیں گدھے کا گوشت پسند فرماتے ہیں۔ویسے آج کل تو گدھے کا گوشت لاہوریوں کی مرغوب غذا ہے۔لیکن گدھے اس بات پہ سراپا احتجاج ہیں کہ گدھا کھایا ہے تو تشہیر بھی گدھے کی ہی کرو۔کھوتے کیوں بنتے ہو۔کھوتا کھایا ہے تو ڈکار مارتے ہوئے ،شیخی بکھارتے ہوئے یہ کیوں کہتے پھرتے ہو کہ” باشاہو اج تے لوَے بکرے دا سواد ای آ گیا اے” اس پر گدھے نہ صرف سراپا احتجاج ہیں بلکہ بدست بد دعا مع دو لیتیوں کیاس بات کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کئے ہوئے ہیں کہ۔” جیسے گدھے کو گل قند ہضم نہیں ہوتی اسی طرح لاہوریوں کو ہمارا گوشت بھی ہضم نہ ہو” اس میں گدھوں کا اتنا قصور نہیں جتنا کہ لاہوریوں کا اپنا کہ وہ تو ہیں ہی گدھے،تم کیوں گدھے بنتے ہو۔۔۔۔۔یا پھر۔۔۔۔”گدھی بھی جوانی میں بھلی لگتی ہے” ۔۔۔۔۔۔اس اکھان کو پڑھ کر تو ایسے لگا کہ پھر میاں مجنوں بھی گورِ خر اور خرِ بے دُم ہی تھا کہ جس نے کالی کلوٹی لیلیٰ سے عشق فرمایا یقیناًلیلیٰ پر بھی اس وقت نئی نئی جوانی ہو گی۔کہ حضرتِ مجنوں سے یہ گدھا پن ہو گیا وگرنہ آنکھوں دیکھ مکھی کون کھاتا ہے۔موجودہ ملازمت سے قبل میں چونکہ پاکستان میں محکمہ میں ملازمت کرتا تھا ،ایک دن دورانِ انسپکشن ہم دوستوں نے دیکھا کہ بہت ہی منظم انداز میں چند گدھے ایک قطار میں جا رہے تھے ۔ایک گدھا سب سے اول اور کچھ فاصلے سے ڈسپلن سے پیچھے پیچھے باقی گدھے سیدھی لائن میں جنگل کی طرف رواں دواں تھے کہ میرا ڈرائیور کہتا ہے دیکھیں سر ،گدھوں میں کتنا نظم و ضبط ہے کہ ایک گدھے کو لیڈر مان کر باقی سب منظم قطار میں جا رہے ہیں ،کاش ایسا نظم و ضبط ہم انسانوں میں بھی آ جائے۔تو میرے منہ سے از راہ تفنن بے اختیار یہ بات نکلی کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ” لیڈر گدھا نا ہو بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا کہ جب ہماری گاڑی اس قافلہ کے پاس پہنچی تو ہم سب کی بے اختیار ہنسی نکل گئی کہ لیڈر گدھا نہیں بلکہ گدھی تھی اور باقی سب گدھے کسی چکر میں انسانوں کو چکر دے رہے تھے۔
میرے دوست مظفر حسین کی ہمیشہ ہی نرالی منطق ہوتی ہے۔ایک بار پوچھا کہ مظفر صاحب یہ
“گدھے اور کھوتے میں کیا فرق ہے”۔
ارتجالاًفرمانے لگے کہ very simple ” پڑھے لکھے کو گدھا اور ان پڑھ کو کھوتا سمجھا جاتا ہے” اسی لئے ہمارے ملک میں گدھے کم اور کھوتے زیادہ ہیں۔عندالطلب دلیل پر جوابِدعویٰ دلیل خالی از دلچسپی نہیں کہ کالج سے لے کر پارلیمنٹ تک میرے جوابِ دعویٰ کی دلیل کے شاہد ہیں۔کہ صرف 342 جمع 104 بائیس کروڑ پر راج کر رہے ہیں۔گویا “خرِ عام” (عوام) پر ” خرِ خاص” (حکومت) صرف عوام کے گدھے پن کی وجہ سے راج کرتے ہیں۔جس دن بھی کھوتوں کو سمجھ آ گئی اور انہوں نے کھوتا بننے سے انکار کر دیا اور انسان ہونے کے دعویدار ٹھہرے یا کم از کم گدھوں کی فہرست میں ہی آ گئے تو سمجھ لیں کہ میرا ملک پھر سے سونے کی چڑیا بن جائے گا اور چڑیا بھی خالص سونے کی نجم سیٹھی والی نہیں۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *