غیرت مند…..تحریر:ثمینہ طاہر بٹ

زید نے کمال کر دیا۔ اپنی غیرت کا وہ ثبوت دیا ہے کہ دنیا عش عش کر اٹھی ہے۔ واہ بھئی، مرد ہو تو زید جیسا اور غیرت ہو تو زید کی غیرت جیسی۔ کیا بات ہے۔‘‘ عاطر نے کمرے می داخل ہوتے ہی دھماکہ خیز انداز میں اعلان کرتے ہوئے اپنے ’’ نادر ‘‘ خیالات کا اظہار کیا تو وہاں موجود تمام نفوس بھی اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے زور شور سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے۔اور کیوں نہ کرتے، وہ سب بھی تو آخر ’’ مرد ‘‘ ہی تھے ناں، ان کی غیرت بھی زید سے کہاں مختلف تھی۔
* * *
بسمہ ایک سلجھی ہوئی حسین لڑکی تھی۔ زندگی کو برتنے کا شعور اسے زندگی کی تلخیوں نے سکھایا تھا۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی والدین کے سائے سے محروم ہونے کے بعد دادی کی پر شفقت آغوش میں پناہ گزین ہو گئی تھی۔ دادی نے بیٹے اور بہو کے حصے کی محبت اور شفقت بھی معصوم پوتی پر لٹا دی، اور اس شفقت کے ساتھ ساتھ بیٹے کے حصے کی جائیداد کی مالک بھی کم عمر بسمہ کو بنا دیا۔ اور یہ دولت جائیداد تو بڑے بڑوں کی اوقات بدل دیا کرتی ہے۔ بسمہ غریب کس کھیت کی مولی تھی۔
دادی کی زندگی تک تو راوی چین ہی چین لکھتا رہا مگر جیسے ہی دادی کی آنکھیں بند ہوئیں انکی وصیت بھی کھل گئی، اور جیسے ہی باقی بیٹوں اور بہوؤں کو اس حقیقت کا علم ہوا کہ اماں جاتے جاتے جائیداد کا ایک بڑا حصہ بسمہ کے نام کر گئیں ہیں، سب کے تاثرات ایکدم تبدیل ہو گئے۔ وہی چچا اور پھوپھیاں جو دادی کے اسقدر التفات پر ہمیشہ اس سے نالاں اور بدگمان رہیں تھیں، وہ اب اس پر سے واری صدقے جاتی نہیں تھک رہی تھیں۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے بچوں کے مُنہ سے نوالے چھین چھین کر بسمہ کے مُنہ میں ڈال دیتے۔ سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور بسمہ کو ہاتھوں پر ڈالنے کے لیئے اس کی ہمدردی میں مرے جا رہے تھے۔ اور بسمہ، وہ سب سمجھ رہی تھی۔ وہ ٹین ایج کی لڑکی ذہنی بالیدگی میں شاید ان سب سے بڑی اور سن رسیدہ تھی اسی لیئے وہ ان سب کے تاثرات کو بغورجانچ رہی تھی۔
’’ بسمہ۔!! اپنا سامان پیک کر لو بیٹا۔ ہمیں کل واپس جانا ہے۔ فائقہ اور حارث کی بہت چھٹیاں ہو گئیں، ان کی پڑھائی کا بہت حرج ہو رہا ہے بیٹا اور تمہارے چچا کے آفس سے بھی بار بار فون آ رہے ہیں، اسی لیئے ہم نے سوچا ہے کہ کل واپس چلا جائے۔‘‘ چچی نے اسے قریب بیٹھتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا تو وہ انہیں دیکھنے لگی۔
’’ بسمہ۔ہمارے ساتھ جائے گی۔ میں سب سے بڑی ہوں اور اس لیئے میرا حق اس پر سب سے زیادہ ہے۔میری بھتیجی میرے پاس رہے گی۔ چچیوں کی ملازمہ بن کر انکی خدمتیں نہیں کرے گی۔ سمجھی تم۔‘‘ پھپھو کو جانے کیسے سن گن مل گئی تھی کہ وہ بھی میدان میں کود پڑیں۔ اور پھر دادی کا کمرہ میدان جنگ بن گیا۔ ان میں سے کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ سب ہی اس کوشش میں مصروف تھی کہ اس’’ یتیم و یسیر بچی ‘‘ سے اپنی بے پایاں محبت کا بھرپور طریقے سے اظہار کر یں تاکہ وہ خود انکے حق میں فیصلہ دے دے۔ بسمہ بھی سب سمجھ رہی تھی، اسی لیئے اس نے وہی کیا جو وہ لوگ چاہتے تھے۔
’’ پھپھو، چاچو ۔!! میں آپ سب می محبتوں کی قرضدار ہوں۔ آپ سب مجھ سے جتنی محبت کرتے ہیں ، یقین کریں میں بھی آپ سب کو اتنا ہی چاہتی ہوں اور میں کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ میری وجہ سے آپ سب آپس میں جھگڑیں ۔ اسی لیئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ہاسٹل میں شفٹ ہو جاؤں۔ آپ سب کی طرف بھی آتی رہوں گی، مگر چھٹیوں میں۔‘‘ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور پھر تب تک باہر نہیں آئی جب تک اسے یقین نہیں ہو گیا کہ وہ سب لوگ واپس جا چکے ہیں۔ اور پھر یہیں سے اسکی زندگی کا نیا موڑ شروع ہوا۔ وہ خوش تھی، بہت خوش یہ جانے بغیر کہ یہ خوشی دائمی تھی یا عارضی۔
* * *
زید بسمہ کی بڑی پھپھو کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ اپنے حال میں مگن، من موجی سا نوجوان جیسے اپنے دوستوں کی یاری دنیا کی ہر چیز پر بھاری دکھائی دیتی تھی۔ عاطر، فخر اور تابش اسکے بچپن کے دوست تھے ۔سب شادی شدہ تھے۔ صرف زید ہی بچا تھا مگر اسکے گھر والوں نے اسے بھی بسمہ کے ساتھ ایک خوبصورت رشتے میں باندھ دیا۔ بسمہ کی خوبصورتی اور اسکا اعتماد اسکی شخصیت میں ایک عجیب سی لشش پیدا کرتا تھا۔جو دیکھنے والوں کو مسخر کر لیا کرتا۔ اور ان مسخر ہونے والوں میں فخر بھی شامل تھا۔ گو کہ اسکی بیوی ہانیہ بھی کسی سے کم نہ تھی، مگر جو بات اسے بسمہ میں نظر آئی وہ ہانیہ میں نہ تھی۔
اور پھر یوں ہوا کہ فخر نے آنے بہانے بسمہ سے نزدیکیاں بڑھانی شروع کر دیں۔ وہ سادہ فطرت کی صاف دل لڑکی اس کی چالاکیاں سمجھ نہ پائی اور ٹریپ ہوتی چلی گئی۔ یہاں زید بھی اپنے یار کی یاری میں اس قدر اندھا ہو چکا تھا کہ اسکے بدلے تیور بھی نہ بھانپ سکا۔ ہانیہ البتہ چوکنی ہو چکی تھی، مگر لاشعوری طور پر وہ بھی بسمہ کو قصوروار سمجھ رہی تھی کیونکہ جب سے بسمہ انکی زندگی میں آئی تھی، فخر کا روئیہ اسکے ساتھ بہت تبدیل ہوتا جارہا تھا۔ اور پھر فخر نے ایک چال چلی اور بسمہ اس میں پھنستی چلی گئی۔ اس نے دھوکے سے اسے اپنے گھر بلایا۔ بہانہ ہانیہ کی بیماری کا بنایا اور ایسی افراتفری پھیلائی کہ بسمہ کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی اسکے ساتھ چلی گئی۔ لیکن اسکے خالی فلیٹ کو دیکھ کر اسکے قدموں تلے سے زمین ہی نکل گئی مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔فخر جیسا گھاگ شکاری اپنے چنگل میں پھنسی معصوم چڑیا جیسی لڑکی کو کیسے بچ نکلنے دے سکتا تھا، سو اس نے بھی بسمہ کے فرار کی ساری راہیں مسدود کردیں۔
* * *
’’ زید بھائی۔!! مجھے آپ سے اس رویئے کی امید نہیں تھی۔ آپ کی اپنی بہن کے ساتھ اگر آپکی بیوی نے یہ سب کیا ہوتا تو کیا آپ اسے معاف کر دیتے۔؟ پوچھتے نہیں اس سے کہ کیوں اس نے آپکی بہن کا گھر برباد کیا۔؟ کیوں اسکے شوہر کو اپنی ادائیں دکھا کر اسقدر دیوانہ کر دیا کہ پھر نہ وہ دنیا کا رہا اور نہ ہی دین کا۔؟ بتائیں زید بھائی، میں آپ سے ایک بہن بن کر پوچھ رہی ہوں۔ مجھے بھائی، بلکہ بڑا بھائی بنکر جواب دیں۔؟ ‘‘ ہانیہ پھپھو اور زید کے سامنے بسمہ کا ہینڈ بیگ اور ٹوٹی چوڑیاں پھینکتے ہوئے بری طرح روئی تھی۔ یہ چیزیں اسے اپنے گھر سے ملیں تھیں جو بسمہ حواس باختگی کے عالم میں وہیں چھوڑ آئی تھی اور اس وقت سے اپنے کمرے میں ادھ مری حالت میں پڑی اپنی قسمت کو رو رہی تھی۔ہانیہ کی زبانی ان لوگوں نے جانے کیا سنا اور کیا سمجھا کہ زید اپنا ٹیمپر ہی لوز کر بیٹھا۔ وہ دندناتا ہوا کمرے میں گیا اورنیم بیہوش بسمہ کا گلا پکڑ لیا۔
’’ جان سے مار دونگا تمہیں۔ بدذات، گھٹیا عورت۔ اپنی گھٹیا چالیں چل چل کر مجھ سے میرے دوست کو چھیننا چاہتی تھیں ناں تم۔؟ میں تمہیں زندہ ہی نہیں چھوڑوں گا۔ ویسے بھی تم جیسی ہاسٹلوں میں رہنے والی آزاد خیال، گھٹیا کرادر کی عورت کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘ تکلیف کی شدت سے بسمہ کی آنکھیں حلقوں سے باہر ابل آئیں تھیں۔ اسکی سانسیں جانے کب کی جسم کا پنجرہ چھوڑ کر پرواز کر چکی تھیں، مگر زید ابھی تک ہذیان بکتا اسکا گلا دبائے جا رہا تھا۔ پھپھو نے آ کر مشکل سے بسمہ کا بے جان وجود اسکے پنجے سے چھڑوایا۔
’’ انسپکٹر صاحب۔!! مجھے گرفتار کر لیں۔ میں نے غیرت کے نام پر اپنی بدکردار بیوی کو قتل کر دیا ہے۔ اسکا بے غیرت عاشق بھاگ گیا۔ اگر وہ میرے ہاتھ لگ جاتا تو میں اسے بھی زمین میں گاڑ کر ہی دم لیتا۔ مگر وہ ناہنجار بھاگ گیا۔ بچ نکلا کمبخت۔ مگر میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ اسے چھوڑوں گا نہیں۔ ایک نہ ایک دن اسے بھی جہنم واصل کر کے ہی دم لونگا۔‘‘ بسمہ کی لاش ابھی گھر میں ہی پڑی تھی کہ زید کا بھائی اور باپ اسے تھانے لے گیئے۔ تھانیدار بھائی کا گہرا دوست تھا۔ اسے جب سارے حالات کا علم ہوا تو اس نے اپنی دوست کے بھائی کو بچانے کے لیئے ایک فول پروف کہانی ترتیب دی۔زید نے انسپیکٹر کے رٹائے گیئے بیان کو ریکارڈ کروایا اور ’’ غیرت ‘‘ کے نام پر قتل کا اعلان کرتے ہوئے اپنی مردانگی کا علم بلند کر دیا۔
’’ واہ بھی، مردانگی ہو تو زید جیسی۔ کیسے اپنی غیرت کا بدلہ لیا ہے اس نے۔ میں تو کہتا ہوں کہ مرد ہو تو زید جیسا بہادر اور غیرت مند ۔ واہ بھئی واہ۔‘‘ عاطر اور اسکے دوست زید کی تعریف میں ربط السان تھے، کیوں نہ ہوتے۔ آخر وہ بھی تو مرد ہی تھے ناں، اور ایک عورت پر اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیئے زید نے جو بھی کیا، جیسا بھی کیا۔ ان سبکو اس پر فخر تھا۔کیونکہ اس مردوں کے معاشرے میں ’’ غیرت‘‘ تو صرف مردوں کی ہی ہوتی ہے ناں۔ عورت کا بھلا غیرت سے کیا کام۔؟
اور جب تک مردوں کی یہ سوچ قائم رہے گی، بسمہ جیسی معصوم اور سچی عورتیں اسی طرح غیرت کے نام پر قتل ہوتی رہیں گی۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *