گم شدہ جنت ۔۔۔ تحریر : عالیہ ذوالقرنین ۔ لاہور

دعا کافی دیر سے ماتھے پر سلوٹیں ڈالے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی ۔ پریشانی اور تفکر چہرے سے عیاں تھا ۔ کھڑی رات کے دو بج کر دس منٹ بجا رہی تھی ۔ اضطرابی کیفیت میں کبھی ادھر سے ادھر ٹہلتی اور کبھی تھک کر بیٹھ جاتی ۔ پسکوت میں اندھیرے کی سرگوشی ماحول کو مزید بوجھل بنا رہی تھی – دور کہیں آوارہ کتے کے بھونکنے تو کبھی کسی موٹر سائیکل کی آواز فضا میں چھائے سکوت کو چیرتی خامشی کے پردے کو چاک کر دیتی – چوکیدار کی سیٹی نے ساکت فضا میں ارتعاش پیدا کیا تو دعا نے سوچوں سے نکلتے ہوئے ایک ٹھنڈی سانس خارج کی اور اپنے بوجھل اعصاب کو سکون دینے کی کوشش کرنے لگی – اطمینان اس کے چہرے پر پھیل گیا، فیصلہ دشوار سہی مگر ہو چکا تھا ۔ وہ ڈرائنگ روم کی لائٹ بند کر کے اپنے کمرے میں آئی، اپنی بیٹی حریم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور آنکھیں بند کر لیں – ذہنی سکون کے باعث نیند کی دیوی جلد ہی اس پر مہربان ہو چکی تھی ۔

*****

۔”۔ اری کم بخت! اب اٹھ بھی جا، ماں نے یہی سیکھا کر بھیجا ہے؟ ۔“۔ فرحانہ بیگم نے دروازہ گویا دھڑدھڑا کر توڑنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے کہا –
۔”۔ جی امی… وہ اصل میں فرخ کو صبح جلدی آفس بھیج کر آنکھ لگ گئی – ۔”۔ دعا نے ڈرتے ڈرتے بات پوری کی – یہ اس کی شادی کی پانچویں صبح تھی –
۔”۔ بی بی! اسے اب گھر سمجھو سرائے نہیں خبردار جو آئندہ فرخ کے جانے کے بعد چارپائی توڑی! ۔”۔ فرحانہ بیگم تنبیہ کر کے جا چکی تھیں۔
اور پھر اس دن کے بعد زندگی دعا کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی – گزرے وقت نے حریم کی شکل میں ایک پھول اس کی جھولی میں ڈالا تو ستم کا شکار ہونے والے وہ دو ہو گئے۔

حریم کے ناز اٹھاتی دعا فرحانہ بیگم کو ایک آنکھ نہ بھاتی – جب کبھی وہ اسے کچھ کھلانے بیٹھتی فوراً کسی کونے سے ان کی آواز سنائی دیتی۔

۔”۔ آج کل کی ماؤں کے پاس تو اچھا شغل ہے بچہ گود میں لیا اور سارے کاموں سے فارغ… ہونہہ! ارے بی اٹھ جاؤ اب یا اسے کھلا کھلا کر آج ہی بڑا کرنا ہے ۔“۔ اور ناچار اسے حریم کو نظر انداز کرنا پڑتا ۔
اس دن تو حد ہی ہو گئی – حریم جانے کہاں سے چوٹ لگوا کر آئی وہ اس کے سر پر پٹی باندھ رہی تھی کہ فرحانہ بیگم نے اس کے ہاتھ سے پٹی لے کر پھینکی اور چیخنے لگی
۔”۔ ہم نے بھی بچے پالے ہیں مگر ایسے چونچلے نہیں کئے جیسے اب دیکھ رہی ہوں ۔“۔ یہ دعا کے صبر کی انتہا تھی اس نے اپنا اور حریم کا ضروری سامان رکھا اور اپنے میکے چلی آئی ۔

فرخ کے لیے تو گویا کل کائنات اس کی ماں تھی اس لیے اسے بیوی اور بیٹی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا – وقت گزرتا رہا – کبھی کبھار کسی جاننے والے سے فرخ اور اس کی ماں کے بارے میں اطلاع مل جاتی جو اب مستقل بیمار رہنے لگی تھی ۔ ہر وقت کے غصے نے کام دکھایا اور ایک دن نتیجہ فالج کی شکل میں نکلا – نشتر چلانے والی زبان رک چکی تھی اور اب وہ ہر آنے جانے والے کو صرف آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہتی ۔

مستقل بے آرامی اور ماں کی بیماری نے فرخ کی صحت ہی نہیں آفس کو بھی بری طرح متاثر کیا اور آج وہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر کئی سال بعد دعا کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا ۔

دروازہ حریم نے کھولا، بابا جانی کہہ کر اس سے لپٹ گئی اور گرم جوشی سے دعا کو آوازیں دینے لگی :۔
۔”۔ امی… امی دیکھیں تو کون آیا ہے!۔“۔

۔”۔ * کون آیا ہے جو تم اتنا خوش ہو رہی ہو؟ ۔“۔ دعا کمرے میں آتے ہوئے بولی اور فرخ کو دیکھ کر گویا ساکت رہ گئی ۔
۔”۔ کیسے آنا ہوا؟ ۔”۔ وہ جلد ہی خود پر قابو پاتے ہوئے ناراض لہجے میں گویا ہوئی۔

۔”۔ میرے پاس تمہارے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں مگر تمہارا مجرم حاضر ہے-۔“۔

۔”۔ اماں کیسی ہیں؟ ۔“۔ دعا نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے آہستگی سے پوچھا۔

 ۔”۔ اماں ٹھیک نہیں ساری زندگی جو بویا ہے وہ اب کاٹنے کا وقت آ گیا – میں ماں کے قدموں تلے جنت ڈھونڈنے کی کوشش میں اپنے ہی گھر کو جہنم بنا گیا میں بھول ہی گیا تھا کہ جنت تو تمام تر حقوق کی ادائیگی کا صلہ ہے اور میں تو….. تمہارے امتحان میں بری طرح ناکام تھا، میں تمہیں لینے آیا ہوں – ۔“۔ پشیمانی فرخ کے الفاظ سے ہی نہیں چہرے سے بھی واضح تھی۔

۔”۔ میں نے زندگی کے تپتے راستوں پر سالوں کی مسافت ننگے پاؤں طے کی ہے میں اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی؟ ۔“۔ دعا بغیر کسی لگی لپٹی کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی اور فرخ آس و نراش کی کیفیت میں واپس پلٹ آیا ۔

******

۔”۔ امی! آپ سامان کیوں رکھ رہی ہیں؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟  ۔“۔ حریم نے دعا کو بیگ میں کپڑے رکھتا دیکھ کر سوال کیا -۔”۔ ہم اپنے گھر جا رہے ہیں.. آپ کے بابا جانی کے گھر ۔“۔ دعا نے شفقت بھرے انداز میں اسے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا۔

۔”۔ مگر امی دادی جان تو ہم پر بہت غصہ کرتی ہیں اور ان کی وجہ سے تو ہم نے وہ گھر چھوڑا تھا اب وہاں کیوں جا رہی ہیں بابا جانی آپ کو لینے آئے ہیں تو انہیں یہاں ہی رکھ لیں نا – ۔“۔ حریم کے ننھے سے حافظے میں سب محفوظ تھا ۔

۔”۔ ہاں بیٹا! تم ٹھیک کہتی ہو مگر بات صرف یہ ہے کہ وہ بابا کی جنت ہیں اور اگر ہم انہیں معاف نہیں کریں گے تو انہیں جنت کیسے ملے گی؟ سو میں نے انہیں اللہ کے لیے معاف کیا تاکہ ہم سب جنت میں اکٹھے رہیں۔“۔

اسے اس کی اچھی تربیت کرنی تھی کیونکہ وہ حریم کی جنت تھی اور حریم کو بھی کل کسی کی جنت بننا تھا۔ دعا نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور فرخ کو فون کرنے چل پڑی ۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

One Response to گم شدہ جنت ۔۔۔ تحریر : عالیہ ذوالقرنین ۔ لاہور

  1. دیا خان says:

    ماشااللہ بہت عمدہ
    معاشرے کے اخلاقی اقدار کے دونوں رخ عمدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *