گوادر کا پراسرار جادو کئی حکمران ہڑپ کر گیا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

گوادر پورٹ کا راز بہت پرانا ہے لیکن ہم اس معمے کو پاکستان بننے کے بعد سے ہی لیتے ہیں۔ جب بھی گوادر کے حوالے سے فیصلے پاکستانی مفاد میں کئے گئے تو فیصلہ کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ یہ سلسلہ نمودار ہوتا ہے جب وزیراعظم فیروز خان نون کی حکومت تھی اور سکندر مرزا صدر تھے۔ پاکستان نے 7ستمبر 1958ء کو گوادر کا علاقہ عمان سے 30لاکھ ڈالر کے عوض خریدا۔ اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی 7اکتوبر 1958ء کو وزیراعظم فیروز خان نون کی حکومت سکندر مرزا نے ختم کر دی۔ بیس دن بعد یعنی 27اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو صدارت سے سبکدوش کرکے جلاوطنی پر مجبور کردیا۔ یوں گوادر کے علاقے کو پاکستان کا حصہ بنانے والے دونوں اہم کردار منظر سے غائب ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے یکم جولائی 1977ء کو گوادر کا علاقہ صوبہ بلوچستان میں شامل کردیا اور اسے نئے قائم ہونے ضلع گوادر کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر بھی بنادیا۔ اُس وقت ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ ٹھیک چار دن بعد جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور انہیں پھانسی کے تختے تک پہنچا کرہی دم لیا۔ یوں گوادر سے جڑا ایک اور اہم کردار ہمیشہ کے لئے دفن ہوگیا۔ حکومت پاکستان نے 1992-93ء میں گوادر کو ایک بڑے ساحلی شہر کے طور پر ڈویلپ کرنے کا حتمی منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا جہاں ڈیپ سی پورٹ بھی موجود ہو جسے پاکستان کی ہائی ویز اور ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا جائے۔ اِس فیصلے کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو گہرے سیاہ بادلوں نے گھیر لیا۔ پہلے انہیں صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کیا۔ جب وہ عدالتی فیصلے کے تحت بحال ہوئے تو اُن سے استعفیٰ لے کر اُن کی حکومت کا حتمی جھٹکا کردیا گیا۔ یوں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے لئے گوادر کی طرف داری کرنے پر ایک اور سربراہِ حکومت کو سزا دی گئی۔ بینظیر بھٹو نے اپنی حکومت کے دوسرے دور میں پاکستان کے لئے آٹھواں پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا جس پر عملدرآمد یکم جولائی 1994ء سے شروع ہوا۔ اس منصوبے میں گوادر ڈیپ سی پورٹ کو ڈویلپ کرنے کے لئے اہداف مقرر کئے گئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہالینڈ کی حکومت سے رابطہ کیا کہ وہ گوادر پراجیکٹ کو فنانس کرے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ بعد میں عمان جس سے تقریباََ 35 برس قبل گوادر کا علاقہ خریدا گیا تھا نے گوادر کو ڈویلپ کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اُس وقت کی اپوزیشن جماعتوں نے کچھ محسوس کرتے ہوئے شور مچا دیا کہ گوادر کو امریکی مفادات کے حوالے کیا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان محتاط ہوئی اور اُس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی بینظیر بھٹو سے حکومت کھینچ لی گئی۔ یوں گوادر کا تنازع ایک اور حکومت کو لے ڈوبا۔ گوادر کے سلسلے کی اگلی اہم تاریخ 16مارچ 2002ء ہے جب گوادر بندرگاہ کی تعمیر کے لئے پاکستان اور چین کے درمیان بیجنگ میں معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ چین نے اپنے مزاج کے مطابق دن رات محنت کرکے حسبِ وعدہ پانچ برس میں گوادر ڈیپ سی پورٹ تیار کردی۔ اب اس کے انتظام اور آپریشن کا مرحلہ آیا تو چین کی بجائے سنگاپور کی کمپنی کواہمیت دی گئی جس کے بارے میں عمومی خیال تھا کہ یہ کمپنی پاکستان کے بجائے مغربی طاقتوں کے مفادات کو سامنے رکھے گی۔ اُس وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے سنگاپور کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا۔ یکم فروری 2007ء کو حکومت پاکستان اور پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی انٹرنیشنل کے درمیان گوادر پورٹ کی چالیس سالہ لیز کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ گویا جنرل پرویز مشرف نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ گوادر کی ٹائم لائن میں 2013ء ایک اور اہم سال ثابت ہوا جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے اپنی وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت گوادر پورٹ چلانے کی انتظامی ذمہ داری سنگاپور کی کمپنی سے واپس لے کر چینی کمپنی اوورسیز پورٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کو منتقل کی۔ اب دیکھا جاسکتا ہے کہ اُس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ نواز شریف نے تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی توجہ چین اور گوادر پر مرکوز کردی۔ انہوں نے زرداری حکومت کے دوران سی پیک کے کاغذی معاہدے کو عملی شکل دینی شروع کی۔ سی پیک کے منصوبے میں گوادر جسم میں روح کی طرح تھا۔ نواز شریف کی گوادر سے محبت کا انجام نواز شریف کو نفرت کا مقام بنا دینے پر ہوا۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت بھی گوادر کی بات کرتی ہے۔ یہ آنے والا وقت بتا دے گا کہ پی ٹی آئی کی گوادر میں دلچسپی کس حد تک پاکستان کے مفاد میں ہے۔ گوادر کے حوالے سے ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ 1951ء میں پاکستان کے پانچ روپے کے نوٹ پر پاکستان کے ایک غیرترقی یافتہ ساحلی علاقے کی تصویر دکھائی گئی تھی جس کے پانیوں میں سامان سے بھری بڑی کاروباری کشتی بھی نظر آتی تھی۔ اُس وقت تک گوادر کا علاقہ عمان کی سلطنت کا حصہ تھا لیکن کہا جاسکتا ہے کہ پانچ روپے کے نوٹ پر ساحلی علاقے اور کاروباری کشتی کی یہ تصویر گوادر کے علاقے کی مستقبل میں پاکستان کے لئے اہمیت کو اجاگر کرتی تھی۔ اس کا ثبوت 8جولائی 2008ء کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران سامنے آیا جب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پانچ روپے کا نیا نوٹ جاری کیا تو اُس نوٹ پر جدید گوادر پورٹ کی باقاعدہ تصویر شائع کی گئی لیکن مخصوص انٹرنیشنل لابی کو یہ بھی برداشت نہ ہوا اور انہوں نے اپنی خونخوار نگاہیں پانچ روپے کے نوٹ پر بھی ڈالنی شروع کر دیں۔ شاید اسی لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے 26اگست 2010ء کو پانچ روپے کے نوٹ اور پانچ روپے کے سکے کے اجراء کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ وفاقی کابینہ سے پانچ روپے کے نوٹ یا پانچ روپے کے سکے دونوں میں سے ایک کو بند کرنے کی منظوری لی جانی ہے۔ اس معاملے میں ضروری اور غور طلب بات یہ ہے کہ جدید گوادر پورٹ کی تصویر صرف پانچ روپے کے نوٹ پر ہی موجود تھی اور آخرکار وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ یعنی سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پانچ روپے کا نوٹ یکم جنوری 2013ء سے منسوخ کردیا۔ گوادر کے علاقے کو عمان سے خرید کر پاکستان میں شامل کرنے سے لے کر گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تیاری اور آپریشن تک کی گزشتہ دہائیوں میں کئی مختلف خبریں آتی جاتی رہیں لیکن گوادر کے حوالے سے مندرجہ بالا ڈیٹا کو ایک ترتیب اور خاص نقطہ نظر سے پہلی مرتبہ اس کالم میں پیش کیا جارہا ہے۔ مندرجہ بالا واقعات کی ترتیب محض ایک اتفاق ہے یا پاکستان کے خلاف سازش؟ اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن مذکورہ ڈیٹا ایک حقیقت ہے جس کی گواہی تمام دستاویزی ریکارڈ دیتے ہیں۔ شمالی بحر اوقیانوس کے مغربی حصے میں ایک طلسماتی ایریا ’’برمودہ ٹرائی اینگل‘‘ واقع ہے۔ روایت ہے کہ کوئی بھی ہوائی جہاز یا بحری جہاز اس سمندری ایریا کو پار کرنے کی کوشش کرے تو وہ غائب ہو جاتا ہے۔ نہ جانے گوادر سے کیا راز وابستہ ہیں کہ کوئی بھی پاکستانی سربراہِ حکومت گوادر کو پاکستان کے لئے ڈویلپ کرنے کی کوشش کرے تو وہ بھی غائب ہو جاتا ہے۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *