ہائے یہ چھوٹے بچارے !! ۔۔۔ تحریر : عارف اے نجمی

آپ آفس میں کام کرتے ہوں یا کہیں محنت مزدوری ،جب کام کرتے کرتے تھک جائیں تو فوراً چائے اور کھانے کی طلب ہوتی ہے، بریک ہوتے ہی صاحب حیثیت لوگ توبڑے ہوٹلوں اور ریستورنٹوں کا جب کہ ہمارے جیسامزدور طبقہ چھوٹے موٹے چائے کے کھوکھوں اور ہوٹلوں کارخ کرتاہے ،ان چھوٹے ہوٹلوں اور چائے کے کھوکھوں میں داخل ہوتے ہی چھوٹے (جن کو ہم ویٹر ،ٹیبل مین اور چھوٹے بھی کہتے ہیں) جن کی عمریں بمشکل دس بارہ سال یا اس سے کم بھی ہوتی ہے فوراًآپ کے آگے پیچھے پھرنا شروع کردیتے ہیں سر ادھر بیٹھیں،ٹیبل اور کرسیاں سیدھی اورصاف کرتے ہوئے ساتھ ساتھ پوچھتے رہتے ہیں کہ سر کیا کھائیں گے فرا فر پورا منیو آپ کو بتا دیتے ہیں جب آپ نفی میں سر ہلاتے ہیں تودوبارہ پوچھتے ہیں کہ سر کیاچائے پئیں گے یاکولڈ ڈرنک لیں گے،کھانے یا چائے کا آڈرر ملتے ہی مشین کی طرح کام شروع کردیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے کھانا چائے آپ کے سامنے رکھ کر بڑے آدب کے ساتھ پوچھتے ہیں سر کوئی اور حکم ،جب آپ کھانا کھا یا چائے پی رہے ہوتے ہیں تو یہ بچارے چھوٹے آپکو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں جب آپ کھانا یا چائے ختم لیتے ہیں تو فوراً ٹیبل کی صفائی سترائی کر کے بل آپ کے سامنے لا رکھتے ہیں اور بل سے جو پیسے بچتے ہیں ان کو ٹپ کے طور پر ملنے پرخوش ہوتے ہیں۔مجھے اکثران چھوٹے ہوٹلوں اور ریستورنٹوں میں جا کے کھانا کھانے اور چائے پینے کا اتفاق ہوتا ہے ،ان چھوٹوں کو ان چھوٹی عمروں میں محنت مزدوری کر تے دیکھ کر دلی دکھ ہوتاہے کیونکہ ان چھوٹوں کی تو ابھی کھیل کود کی عمر اور پڑھائی کے دن ہوتے ہیں اس کی وجہ سے یہ چھوٹے اپنے بچپن کی امنگوں اور باعزت و پر وقار طرز زندگی سے محروم ہوجاتے ہیں اور ان کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ،ہر روز یہ چھوٹے بچے اپنے ساتھیوں اور غلط قسم کے لوگوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور بے راہوری کاشکار ہوتے ہیں، ان چھوٹوں کے ساتھ اکثر لوگ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں کہ کھانا ٹھنڈا تھا چائے میں چینی زیادہ تھی ،کھانا لیٹ کیوں آیا وغیرہ وغیرہ۔۔رہی کسر ہوٹل مالکان نکال دیتے ہیں جو بڑتن ٹوٹنے اور صیح صفائی نہ کرنے پر ان چھوٹوں پر تشدد اور گالی گلوچ کرتے ہیں،اتفاق سے ایک دفعہ میں ایک ہوٹل پر کھانا کھا رہا تھا تو ایسے میں ایک چھوٹا جسکی عمر تقریباً تیرا چودہ سال تھی اس سے صفائی کے دوران دوگلاس اور ایک پلیٹ ٹوٹ گئی برتن ٹوٹنے کی آواز سن کر ہوٹل مالک نے آکر اس پر تشدد اورگالی
گلوچ کرنا شروع کردیااور ساتھ کہتا جا رہا تھا کہ یہ نقصان تمہارا باپ پورا کرے گا،میں تمہاری تنخواہ سے پیسے کاٹوں گا،پہلے تومیں خاموش دیکھتا رہاپھر میرے سے نہ رہاگیااورمیں درمیان میں بول پڑا کہ بھائی جان خداکا خوف کرو کیونکہ اس معصوم کو مار رہے ہوتمہارے بچوّ ں جیسا ہے اورسارادن تمہارے کام کے لئے مرتاہے، اگراس سے دو برتن ٹوٹ گئے ہیں توپھر کیا ہوا،مجھ سے پیسے لے لو جو تمہارا نقصان ہوا ہے،اتنی بات کہنے پر ہوٹل مالک تھوڑا ٹھنڈا پڑ گیا اور میرے سامنے والی سیٹ پر آکے بیٹھ گیااور کہنے لگا اس کا یہ روز کا کام ہے روز ایسے ہی کرتا ہے،اس کا دھیان کام کی طرف نہیں ہوتایہ بڑاغیر ذمہ دار ہے اس کا باپ نہیں ہے گھر میں سب سے بڑا ہے ،نقصان کرنے کی وجہ سے کتنی بار اسے کام سے نکالا ہے لیکن اس کی ماں منت سماجت کر کے پھر یہاں چھوڑ جاتی ہے، میں روز اس کو مارتا ہوں مگر اس کی ہڈی بڑی ڈھیٹ ہے مار اس پر اثر نہیں کرتی ،پتہ نہیں وہ اور کیا کیا کہتا رہا مجھ پر سکتہ جاری ہوگیا میری نظروں کے سامنے میرے دونوں بیٹے فیصل حماد نجمی اور دانیال نجمی تھے جنکی عمریں آٹھ سال اور پانچ سال ہیں جو ابھی پڑھ رہے ہیں اورمیری کل کائنات ہیں روز مجھ سے طرح طرح کی فرمائش اورڈیمانڈ کرتے ہیں جن کو میں ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ان کی فرمائش پوری کرنے کیلئے اپنے بوڑھے جسم کوتھکنے نہیں دیتابلکہ ایکسٹرا کام کر کے ان کی فرمائش پوری کرتا ہوں جب ان کی فرمائش پوری ہوجاتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں ان کی خوشی کودیکھ کر میری تما م تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے او ردلی راحت ملتی ہے،ان جیسے چھوٹے بچے جن کا والد نہیں ہوتا اگر ہوتا بھی ہے تو وہ بیمار اور بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ کوئی کام کاج نہیں کر سکتا تو مجبوراً ان بچوں کو کام کرنے پر لگا دیا جاتا ہے تاکہ گھر کی دال روٹی چل سکے،جگہ جگہ آپ کو معصوم بچیّ کام کرتے نظر آئیں گے ،جن کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے کبھی ہم نے ان کی کہانی سننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ہم نے کبھی ان سے پوچھا کہ بیٹا آپ یہ کام کیوں کر رہے ہیں اس کے پیچھے کیا مجبوری ہے ،آپ سکول کیوں نہیں جاتے ،آپ کے گھر کے حالات کیسے ہیں ،ہم سب اپنی موج مستی میں مست ہیں ہمیں کسی کی کیا پروا،ایسے میں حکومت کو بھی میں ذمہ دار ٹھہرتاہوں کہ وہ چائلڈ لیبر پر کوئی نوٹس نہیں لے رہی حالانکہ آئین پاکستان اور قوانین محنت میں اٹھارہ سال سے کم عمربچوں کی ملازمت پر پابندی ہے ،مگرستم ظریفی یہ کہ ہر فیلڈ میں آپ کو چھوٹی عمر کے بچے معمولی تنخواہ کے عوض کام کرتے نظر آئیں گے اس معاملے میں کوئی روک تھام نہیں ، حکومت وقت کو چائیے کہ جو بچے مجبوری کے تحت محنت و مزدوری کر رہے محکمہ بیت المال سے ان کے خاندان کی معاونت کی جائے اور ماہانہ کی بنیاد پر ان کوفنڈ دئیے جائیں تاکہ ان کے گھر کے حالات بہتر ہو سکیں اور یہ چھوٹے بھی ہمارے بچوں کی پڑھ لکھ کر ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *