حافظ محمد سعید کی گرفتاری اور کشمیر کی تحریک آزادی ۔۔۔ تحریر : انور عباس انور

نائن الیون کے واقعہ نے دنیا کی واحد سپر طاقت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ، قطہ نظر اس بات کے کہ یہ واقعہ مسلم ممالک کی سرکوبی کے لیے امریکہ کی اپنی کارستانی تھا یا واقعی اس میں اسامہ بن لادن کے پیروکار ملوث تھے ، مجھے تو ایسا نہیں لگتا کہ یہ اتنا بڑا کارنامہ بن لادن کے نہتے مقلد افراد نے سرانجام دیا ہو، امریکی جیسے عراق کے خلاف ان ایکشن ہونے کے لیے جھوٹی رپورٹس کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرتے رہے ، اور انہیں گمراہ کرکے عراق پر بارود کی بارش کردی اور صدام حسین کو ہٹانے کے ساتھ عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی حتی کہ بعد میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر کواس حقیقت کا اعتراف کرکے کہ ’’عراق کے معاملے میں جھوٹ بولا گیا‘‘ ’’ دنیا کی سپر پاور ‘‘ کے مکروہ چہرے سے نقاب الٹا کر اسے بے نقاب کرناپڑا، حالانکہ ٹونی بلئیر کو اقوام متحدہ کے نمائندے کے طور پر بہت بھاری تنخواہ مل رہی تھی،اس کے باوجود اسے سچ اگلنا پرا کیونکہ سچائی کو زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا۔
نائن الیون کے فوری بعد امریکہ نے لشکر طیبہ کو دہشت گردی کی فہرست میں شمار کرلیا اور اس پر پابند ی لگادی، اور پھر امریکیوں کے تیور دیکھتے ہوئے یا ان کے ارادوں کو بھانپ کر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر لشکر طیبہ کو بین کیا گیا تو اس کے سربراہ پروفیسر محمد سعید نے ساتھیوں کی باہمی مشاورت سے ’’لشکر طیبہ ‘‘ کو ’’ جماعتہ الدعوۃ‘‘ کا نیا نام دینے کا اعلان کیا اور اس کا مرکز بھی مریدکے سے کہیں اور منتقل ہوگیا۔ مدینہ یونی ورسٹی میں پڑھانے والے پروفیسر حافظ محمد سعید کی تنظیم کو سعودی عرب کے اس کے ہم مسلک ‘‘ حکمرانوں نے بھی غیرقانونی قرار دینے کا اعلان کرکے پاکستان کے عوام کو حیرانی کے سمندرکردیا،سعودی عرب جسے پاکستانی عوام اپنا برادر ملک کہتے ہوئے نہیں تھکتے، نے حافظ محمد سعید اور اسکی تنظیم پر پابندی لگا کر بھارتی حکمرانوں اور امریکی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی جس سے برحال پاکستانیوں کے جذبات و احساسات مجروح ہوئے اور ان کے اعتماد کو کبھی نہ فراموش کردینے والی ٹھیس پہنچائی گئی۔
لشکر طیبہ جس کا نیا نام جماعۃ الدعوۃ ہے کو جنوبی افریقہ کی ایک بڑ ی منظم مسلح جماعت قرار دیا گیا ہے،کی بنیاد رکھنے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی زیرسرپرستی 1987 میں افغانستان میں بنیاد رکھی گئی، اور اسے سرمایہ بھی اسامہ بن لادن فراہم کرتے تھے،( بمطابق میڈیا رپورٹس) پچھلے سال 22 جنوری کو پاکستان میں اس کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان بھی نواز حکومت کی دفتر خارجہ کی ترجمان نے باقاعدہ پریس بریفنگ میں کیا۔ قبل ازیں امریکہ کی جانب سے حافظ سعید یا ان کے برادر نسبتی حافظ عبدالرحمن مکی کے متعلق اطلاعات دینے یا ان تک رسائی دینے ،ان کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے ایک کروڑ امریکی ڈالر انعام رکھا گیا، لیکن پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود امریکی انہیں گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے ،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شائد انہیں کوئی ڈاکٹر شکیل آفریدی دستیاب نہ ہو سکا ہے۔جنرل پرویز مشرف کے بعد نواز شریف واحد حکمران ہیں جس نے حافظ سعید اور ان کی جماعت کے خلاف کسی قسم کا ایکشن لیا ہے ، سابق جنرل پرویز مشرف دور میں بھی حافظ سعید سمیت دیگر جماعتوں اور ان کے منسلک شخصیات کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات ہوتے رہے ہیں، لیکن بوجہ ان مطالبات کو قابل توجہ نہ گردانا جاتا رہا ہے،بلکہ ان کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کے برعکس یہ مطالبات کرنے والوں سے ان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے مشکل ترین سولات کھڑے کیے جاتے رہے۔
حافظ محمد سعید نے لشکر طیبہ اور بعد ازاں اس کے نئے فیز جماعۃ الدعوۃ کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کو بھارت کے خونخوار پنجوں سے آزاد کروانے کے لیے استعمال کیا۔ پاکستان مخالفین کا کہنا ہے کہ حافظ سعید اور اس کے تنظیمی افراد نے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ قائم کیے اور ہزاروں کی تعاد میں نوجوانوں کو اپنی جماعت میں بھرتی کیا اور انہیں کشمیر میں جاری تحریک میں اپنا کردار اداکرنے کے لیے بھیجا،پاکستان اور دیگر افراد ایسی خبروں کی تصدیق نہیں کرتے،البتہ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حافظ سعید کے خطابات، اور کشمیر کے مجاہدین کی اخلاقی امداد نے کشمیر میں چلنے والی کشمیریوں کی تحریک کو ایک نئی جلا بخشی ہے،آج بھی اگر حکومت پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا اعلان کرے تو لاکھوں نوجوان جن کے دل اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے لیے دھڑکتے ہیں ،کشمیر کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہیں۔کشمیری کی موجودہ تحریک آزادی کو حافظ سعید کی تقریروں نے بام عروج پر پہنچایا ہے۔
ٹرمپ کے امریکہ کے صدر کا منصب سنبھالتے ہی یکایک ہماری حکومت نے حافظ سعید اور ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے گھروں کو سب جیل قرار دیکر انہیں گھروں پر ہی نظر بند کرنے کے احکامات کا اجراء کرنا مناسب خیال کیا گیا،بعض حلقے حافظ سعید کی گرفتاری اور گھر پر نظربندی کو امریکی دباؤ کی کارستانی قرار دیتے ہیں،ان حلقوں کی بات میں وزن بھی ہے کیونکہ اگر ہماری حکومت کے پاس حافظ سعیدیا ان کے ہمراہیوں اور ان کی جماعت کے کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود نہیں ہیں تو پھر انہیں حراست میں کیوں لیا گیا ہے ؟ کیا ہمارے حکمران کسی بے گناہ کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے سے لاعلم ہیں؟ دنیا کے کہنے سے کسی کو موت کے گھاٹ تو نہیں اتارا جا سکتا؟
حافظ محمد سعید اور اس کے چند پیروکاروں کو پابند سلال کرکے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو ختم یادبایا نہیں جا سکتا،اور ایسے خواب دیکھنے والے اپنے ارمان دل ہی میں لے کر خود دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ظلم ،جبرو تشدد سے آزادی کی تحریکو ں کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہاں کچھ وقت کے لیے تحریکیں سست روی کا شکار ضرور ہو جایا کرتی ہیں لیکن پھر جیسے پریشر ککر پھٹتے ہیں ایسے ہی دوبارہ ابھرتی ہیں اور فرعون صفت ظالم ،جابر حکمرانوں کو تہس نہس کردیتی ہیں، کشمیر کی تحریک آزادی سے راہنمائی لیکر آج خود ہندوستان کے اندر کئی تحریکیں جنم لے چکی ہیں،جنہیں ختم کرنا ہندوستانی حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی،عالمی ضمیر کب تک مردہ رہے گا،آخرکار کشمیری عوام کے بہنے والے لہو کی حرارت اسے زندہ کرکے رہے گی، اور کشمیر جنت نظیر ہندو ستان سے آزاد ہوکر رہے گا،کیونکہ اللہ رب العزت کا یہی وعدہ ہے، جنت کافروں کے لیے نہیں ہے۔وہ وقت دور نہیں کہ مسلمانوں کو ایسی قیادت نصیب ہوگی جو امریکہ سمیت اس جیسی کسی ریاست کے تابع فرمان نہیں ہوگی ،اس کی جبیں صرف اور صرف اللہ سبحان تعالی کے حضور ہی جھکے گی، وہ وقت بھی جلد آنیوالا ہے جب امریکہ جیسی فرعون ریاستیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی اور دنیا میں کمزور سمجھے جانے والی قومیں حکمرانی کریں گی اور دنیا ان کے پیچھے پیچھے چلے گی، پھر نہ تو کوئی ایران کو دہمکا سکے گا اور نہ ہی پاکستان میں ایسی قیادت اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہوگی جو ایک فون کال پر ڈھیر ہوجائے اور نہ ٹرمپ کی مرضی و منشاء کے سامنے سرنگوں ہوگی، اس کی زیر قیادت کشمیر آزادی سے ہمکنار ہوگا، یہ مناظر ہم بھی دیکھیں گے اور تم بھی دیکھوں گے۔

(Visited 50 times, 1 visits today)

3 Responses to حافظ محمد سعید کی گرفتاری اور کشمیر کی تحریک آزادی ۔۔۔ تحریر : انور عباس انور

  1. Greetings! Very helpful advice in this particular article!
    It is the little changes that make the largest changes. Many thanks
    for sharing!

  2. heel spurs says:

    pretty fabulous pictures.

  3. That is very fascinating, You’re a very professional blogger.
    I have joined your feed and stay up for in search of more of your magnificent post.

    Also, I have shared your website in my social networks

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *