ہم نے ‘لنکاوی’ ڈھا دیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ابھی ہم سعودی عرب میں ہی تھے کہ اپنے ایک رفیق کار سے ہم نے ملایشیا میں داخلے کا ذکر کیا اور بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کا کچھ حصہ ہمیں ملائشیا میں گزارنا ہے۔ ہمارا وہ ساتھی اردن سے ہے مگر اس کی ماسٹرز ڈگری بھی ملایشیا سے ہی ہے۔ اس سے ہم نے وہاں کے رہن سہن، تعلیم، اخراجات اور دیگر معاملات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ باتوں باتوں میں ہم نے پوچھا کہ ملائشیا میں سیاحت کے لئے بہترین مقامات کون سے ہیں۔اس نے کہا کہ لنکاوی اور پینانگ۔ لنکاوی اپنے نظارات کی بدولت اور پینانگ اپنے آثارِ قدیمہ کے باعث۔ پھر کہا کہ یہ سمجھو کہ جس نے یہ نہیں دیکھے اس نے ملائشیا ہی نہیں دیکھا۔ہم نے کہا کہ پھر تو یہ مقامات کچھ بھی نہیں۔ ہمارے ہاں جب تک کوئی لاہور نہ دیکھے تب تک اسے پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نہیں ملتا۔کچھ عرصہ پہلے تک تو کراچی کے متعلق بھی مشہور گیا تھا کہ جس نے کراچی نہیں دیکھا وہ مرا نہیں۔ بہرحال ہم نے دونوں نام اپنے حافظے میں محفوط کر لئے۔
اب ہم نے فیس بھی جمع کروادی، اپنے نگران سے بھی مل لئے اور روانگی میں بھی کچھ دن باقی تو سوچا کہ کیوں نہ ملائشیا گردی کی جائے۔طبیعت ابھی بھی پوری طرح نہیں سنبھلی تھی مگر محض بستردرازی بھی کچھ حل نہ تھا۔ نیٹ پر معلومات حاصل کیں تو علم ہوا کہ کانگر سے لنکاوی قریب ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر ہے اور پینانگ تین گھنٹے کی۔ لنکاوی یوں بھی سمندر کے بیچوں بیچ جزیرہ ہے۔ہم اب کسی ایک مقام پر جا سکتے تھے۔ ہم سوچنے لگے کہ کہاں کا قصد کیا جائے؟ جزیرے دیکھنے کا شوق بھی اورقدیم عمارات کے ہم عاشق بھی۔ہمارا دل لنکاوی جانے کو تھا مگر پھر بھی ٹاس کرنے کا ارادہ کیا۔ خیال یہ تھا کہ اگر ہمارے حسب منشا نتیجہ آیا تو لنکاوی جائیں گے اور اگر اس کے برعکس ہوا تو بھی لنکاوی ہی جائیں گے۔
تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
اگلے روز ناشتے کے بعد ہم نے ٹیکسی پکڑی اور جا پہنچے بندرگاہ۔ بندرگاہ سے ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے۔ فیری کو آپ کشتی سمجھئے کہ جس میں تین سو سے چار سو افراد بآسانی سما جاتے ہیں۔ ہم نے ٹکٹ لیا تو معلوم ہوا کہ چند منٹ قبل ہی ایک فیری روانہ ہوئی ہے۔ اگلی اب سوا گھنٹے بعد۔جانی تھی۔ ہم بیٹھ گئے اور لگے انتظار کرنے۔ رش واقعی کافی تھا۔ قریب پون گھنٹے بعد ہمیں بلایا گیا۔ ہم عرشے سے ہو کر اندر پہنچے۔ فیری کافی بڑی تھی اور کشادہ بھی۔ عرشے پر ایک مضبوط ہک کے ساتھ لنگراندازتھی۔ سیٹیں کوئی چار سو تھیں اور مختلف قومیتوں کے لوگ اس میں سوار ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد فیری پانی میں تھی۔ پانی سبز تھا۔ رستے میں چھوٹے چھوٹے کافی جزیرے تھے اور سب کا امتیازی وصف سبزہ تھا۔ دور سے تو ایسے محسوس ہوتا کہ دو پودوں کے درمیان کوئی انسان شاید ہی سما سکے۔ اس کے علاوہ ہر جزیرے پر موبائل کمپنیوں کے کھمبے اس بات کے غماز تھے کہ اس زمین کا کوئی چپہ ایسا نہیں کہ جہاں سائنس اب نہ پہنچ سکتی ہو۔
ڈیڑھ گھنٹے بعد لنکاوی نظر آنے لگا۔ عقاب کا مجسمہ اس کی نشانی ہے۔ کچھ ہی دیر میں ہم فیری سے اتر کر عرشے سے ہوتے ہوئے باہر نکلے۔باہر لوگوں کی ریل پیل تھی۔ سڑک پر ٹیکسیوں کی قطار اور ہر ایک کی خواہش کہ وہ مسافروں کو لوٹے۔ ہم سے بھی پوچھا تو ہم نے انکار کیا۔ ہمیں جزیرے سے متعلق معلومات کا دفتر نظر آیا تو ہم وہاں گئے۔ انھون نے ہمیں ایک کتابچہ ( کتا بچہ نہیں ) دیا جو کہ کھول کے ہم دیکھنے لگے کہ کہاں سے سفر کا آغاز کریں۔ کتابچہ کھولا تو دیکھا کہ یہ تو بہت بڑا جزیرہ ہے اور اس کی سیاحت کم از کم چار پانچ روز کی متقاضی ہے۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ پھرطائرانہ نظارا کر لیا جائے اور اگلی بار مزید کچھ مقامات سے مستفید ہوا جائے۔ ہم کے کچھ مقامات منتحب کیے۔ ان میں ایک ،پینگوئن کا نظارا’ تھا اور دوسرا ‘سوئی ہوئی حاملہ پہاڑی کی جھیل ‘تھی۔ اس پہاڑی کی شکل ایسی ہے کہ جیسے کوئی حاملہ خاتون سو رہی ہو اور اس کا ہمیں ہمارےرفیق نے ہی بتایا تھا جس نے یہاں جانے کا مشورہ دیا تھا۔
ہم ایک ٹیکسی والے کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا لو گے ان کا۔ اس نے جو پیسے بتائے وہ ہمارے پاس تھے ہی نہیں کیونکہ ہم اپنی رقم سے جامعہ والوں کی مالی معاونت کر چکے تھے۔ ہم نے کہا کہ کتنا دور ہے یہ مقام تو کہنے لگا کہ ایک گھنٹے کی مسافت پرہے اور یہاں جانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ بارہ سے پہلے آتے کیونکہ شام کو وہاں سے گاڑیاں نہیں ملتی اور مجھے وہاں روکنے کا آپ کو الگ معاوضہ دینا ہو گاہم نے دل میں سوچا کہ ہمارے پاس وہاں جانے کا کرایہ نہیں اور اس کو بھی دیں معاوضہ ۔ دوسرا مقام یعنی کہ پینگوئن کا علاقہ بھی قریب پون گھنٹا دور ہے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں تو شام کو واپس جانا ہے تو کہاں لے جا سکتے ہو۔ اس نے ایک مقام پر لے جانے کو کہا۔ کرایہ چونکہ مناسب تھا تو ہم بیٹھ لئے۔ وہ ہمیں ایک اور ساحل پر لے گیا۔ وہاں وہ کشتی کے ذریعے قریبی چھوٹے جزائر کی سیر کرواتے تھے۔ ہم نے کرایہ پوچھا تو کشتی بک کروانا بہت مہنگا تھا اور ہم تو تھے بھی تنہا۔ ہم نے کہا کہ ہم نے کشتی کو کیابک کروانا ہمیں کسی کے ساتھ بٹھا دوچند رنگٹ لے کر مگر وہ نہ مانے۔ ہم نے ڈرائیور سے کہا کہ اور کچھ ہے دیکھنے لائق تو وہ بولا کہ چیئر لفٹ بھی ہے۔ ہم نے کہا کہ اس کے بھی درشن کروا دو۔
وہاں پہنچ کر ہم نے ٹکٹ لیا جو کہ مناسب تھا۔ پھر ہمیں برقی سیڑھیوں کے ذریعے ایک کمرے میں پہنچایا گیا۔ یہ سماعت گاہ تھا۔ ہمیں کرسیوں پر بٹھا کر اندھیرا کر دیا گیا۔ پھر سامنے سے ایک گاڑی نمودار ہوئی اس اندھیرے میں۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہم اس گاڑی پر بیٹھے اور وہ ہمیں لے کے ایک خطرناک رستے پر گامزن ہو گئی۔ راستہ کچھ ایسا تھا کہ جیسا کہ سرکس میں موٹر سائیکل پر کرتب دکھانے والوں کا ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا کہ
گاڑی کا گرنا ٹھہر گیا ہے صبح گری کہ شام گری
ہم بے اختیار ہو کے اپنی کرسی کے ہتھے پکڑ لیتے۔کوئی آدھ گھنٹے بعد یہ سب کارروائی ختم ہوئی۔ کمرے میں روشنی ہوئی تو ہماری جان میں جان آئی کہ ہم ابھی تک کرسی پر ہی ہیں۔ایسی چیئر لفٹ پر بیٹھنے سے تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔ اس کے بعد ہمیں چیئر لفٹ پر بٹھا کے اوپر دور پہاڑی پر جا پہنچایا گیا۔ یہ ایک دلکش منظر تھا۔پیئر لفٹ بادلوں میں گھری تھی۔سامنے سےسبز پہاڑی کہ جو پیئر لفٹ کی بلکہ ہماری منزل تھی۔ نیچے درخت ہی درخت اور سبزہ ہی سبزہ جب کہ اطراف میں نیلگوں سمندر۔ایک ایسا منظر جو کہ دماغ کے کینوس پر ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔ کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ واپسی پر سمندر میں ڈوبتا سورج ہماری راہ تک رہا تھا۔یہ بھی ایک خوش کن منظر تھا۔ ایک یادگار دن اپنے دلکش انجام کو پہنچا تھا۔ ان کے کہیں اچھے اور دلکش قدرتی مناظر یا کم از کم ان کے مقابل کے ہمارے اپنے ملک میں ہیں مگر وہ ہماری کوتاہ بینی، ملک میں امن و امان کی صورت حال اور ناکافی وسائل کا تاوان ادا کر رہے ہیں۔

(Visited 28 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *