ہنوذ جامعہ دور است ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ان خاتون سے ہم نے پوچھا کہ ہم اپنے نگران سے ملنے جامعہ کے کس دفتر میں جائیں تو انھوں نے کہا کہ پائو کیمپس جانا ہو گا۔ پوچھا کہ یہ کہاں ہے تو کہا گیا کہ ٹیکسی والوں کو بتائیں یہ آپ کو لے جائیں گے۔ ہم نے سوچا کہ اب تو تین بج رہے اب کل ہی جائیں گے نگران کے پاس۔تو ان کی سیکرٹری کو ای میل بھیج دی کہ ہمارے لئے کل کی ملاقات کا انتظام کر دیجیے آج ہمیں جامعہ نہیں مل پائی۔
ہماری وہاں موجودگی میں ایک پاکستانی آیا۔ نام اس کا عثمان تھا اور اسی جامعہ سے بیچلرز کی تھی اور اب ماسٹرز میں داخلے کا خواہش مند تھا۔ ہم نے اس سے بات چیت کی۔ تاہم ہمارا کام زیادہ تھا وہ ہم سے ہاتھ ملا کر چلا گیا۔اس کے جانے کے پانچ سات منٹ بعد ہم بھی فارغ ہو گئے۔ اب ہم باہر نکلے اور ہماری منزل وہ اولین دفتر تھا جہاں سے ہم چلے تھے اور ہماری خواہش تھی کہ اپنے کاغذات آج ہی وہاں جمع کروا دیں۔ باہر آ کے پھر ٹیکسی کی تلاش شروع ہوئی اور شاید ان کو بھی ہمیں آزمانا تھا کہ سب غائب ہو گئے ٹیکسی والے اور جو کوئی گزرتا وہ خالی نہ ہوتا۔ ہم نے سیدھا رستہ جو آتے وقت دیکھا تھا پکڑا اور لگے چلنے۔چند قدم چلنے کے بعد پیچھے دیکھتے کہ ہے کوئی ٹیکسی والا جو ہم سے پیسے لے کہ بینک والوں نے ابھی ہم سے تمام رقم نہیں نکلوائی۔ٹیکسی والوں کا استغنا بھی قابل دید تھا۔ کوئی بھی ہمیں ذرا بھی لفٹ کروانے کو تیار نہ تھا اور چلتے چلتے ہم تھک چکے تھے۔
بالآخر ہماری من کی مراد پوری ہوئی اور ایک ٹیکسی والا ہمیں دیکھ کے رک گیا۔ ہم نے اس کو منزل بتائی تو اس نے پہلے سے آتے وقت والے سے بھی زیادہ کرایہ مانگا۔ ہم نے کہا کہ بھائی پہلے اتنے دے کے آئے ہیں اور اب تو ہم پہلے ہی اتنا پیدل چل چکے تو اس کا دل پسیجا اور اس نے پہلے والے کرایے پر ہی حامی بھی لی۔ ہم مزید بحث کی طاقت نہیں رکھتے تھے سو چپ کر کے بیٹھ گئے۔اہم یہ تھا کہ ہم اسی دن اپنی دستاویزات مطلوبہ دفتر میں جمع کروا سکتے تھے۔
ہم دفتر پہنچے اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔ ابھی بیٹھے ہوئے چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ عثمان بھی وہیں داخل ہوا۔ ہم نے کہا کہ بھائی ہمارے ساتھ ہی آتے تو کہنے لگا کہ میں سمجھا کہ ابھی آپ کا وہاں زیادہ ٹائم لگنا اور میں تو پیدل آیا ہوں۔ ہم نے سوچا کہ کاش ہم اس کے ساتھ آتے تو سینکڑوں پاکستانی روپے بچا لیتے۔ اپنی باری آنے پر ہم نے اپنا پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات جمع کروائے۔ انھوں نے ہمیں ایک کاغذ دیا کہ یہ پولیس والوں کو دکھا دینا۔ہم نے کہا کہ یہاں تو بیت پولیس والے ہیں کس کس کو دکھائیں۔ کہنے لگے کہ اگر کوئی پاسپورٹ کا پوچھے تو دکھا دینا ورنہ کوئی ضروری نہیں۔ ہم نے کہا کہ پاسپورٹ واپس کب کرو گے۔۔کہنے لگے چار پانچ روز بعد۔-
اسی دوران عثمان بھی فارغٖ ہو گیا اور ہم باہر نکلے۔ ہم نے اس سے کھانے کا پوچھا تو وہ ہمیں ایک ہندوستانی ہوٹل میں لے گیااور جوس پلایا کہ کھانے کا تو ٹائم تھا نہیں۔ پھر ہم نے تائو کیمپس کا پوچھا تو کہنے لگا کہ یہاں سے روٹ چلتا ہے اور اس کے اوقات بتا دیئے۔ ہمیں سکون ملا کہ ایک تو پیسے بچیں گے اور دوسرے سفر بھی پر سکون ہو گا۔ پھر ہم واپس اپنے رہائش آ گئے۔
ہندوستانی ہوٹل چونکہ دور تھا تو ہمیں پھر ملائشین چھپر ہوٹل کی زیارت کرنی تھی۔ اب کی بار ہم نے اپنی رہائش کے قریب ہی ایک اور ہوٹل کو رونق بخشی۔ ہم گئے تو ہوٹل خالی تاہم عملے کی ایک لڑکی موجود تھی۔ اس نے ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہم نے پوچھا کہ کھانے میں کیا ہے؟ وہ پھر مسکرا دی۔ ہم نے کہا انگریزی سمجھتی ہو۔ اس نے لفظ انگریزی سے جملے کا مفہوم سمجھا اور کہا کہ نہیں۔ پھر اس نے ایک اور لڑکے کو بلایا۔ہم نے سوچا کہ ضرور یہ لڑکا جانتا ہو گا انگریزی سو ہم نے سوال دہرایا۔ وہ بھی مسکرادیا اور کسی اور کو اواز دی۔ اب ساتھ ہی موجود کار سروس والے بھی آ گئے اور لگے ہماری گفتگو کو اسرار و رموز کی گتھیاں الجھانے۔ ظاہر ہے ہماری زبان اتنی عامیانہ نہیں کہ ہر کسی کو سمجھ آ جائے۔ بالآخر ان میں سے ایک صاحبِ علم یہ جان کیا کہ ہمارا مدعا کیا ہے۔۔ اس نے ان کو بتایا کہ یہ کچھ کھانا چاہتا ہے۔ اب اس نے ہم سے پوچھا کہ کیا کھانا ہے؟ ہم نے کہا کہ کیا مل سکتا ہے۔ اس نے ان سے پوچھ کے کچھ چیزوں کے نام گنوائےجن اک کہ سر پیر ہی ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم نے پوچھا کہ چاول مل جائیں گے۔ اس پر جواب اثبات میں ایا۔ ہم نے اسے غنیمت جانتے ہوئے اس سے شکم سیری کی۔ کھانے کے دوران ہمیں نے بار ہا دیکھا کہ وہ لڑکی اپنے حواری کے ساتھ ہمیں دیکھ دیکھ کر مسکراتے رہے۔ جب چاولوں کی ایک پلیٹ ہمارے لئے کافی نہ ہوئی تو ہم نے اس لڑکی کو بلایا تو وہ بل لے آئی۔ ہم نے اشارے سے سمجھایا کہ مزید چاول لائو بل نہیں۔ اس دوران بارش ہو گئی وہاں۔ تو وہ صاحب علم جنھوں نے ہماری مدد کی تھی ہمارے پاس آ بیٹھے اور ہمارے متعلق پوچھنے لگے۔ہم نے بتایا کہ ہم پاکستان کے نامی گرامی کالم نویس ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ ہمیں جانتا ہے۔ آپ کی انتہائی خوش قسمتی ہے کہ آپ کی ہم سے ملاقات ہو گئی۔ سچ ہے کہ سفر وسیلہ طفر ہوتا ہے۔پاکستان میں کس نے ہماری اس بات کو تسلیم کرنا تھا ۔ اس نے اس سے پہلے کبھی کالم نویس یقینًا نہیں دیکھا ہو گا۔ ۔ وہ شخص حد درجہ متاثر ہوا اور اس نے ہمارے کھانے کے پیسے بھی دیئے اور کہا کہ کانگر میں کوئی کام ہو تو مجھے بتایئے گا اور اس نے اپنا موبائل نمبر بھی دیا۔ ہم نے کہا کہ آپ جیسے فرشتہ صفت لوگوں کی وجہ سے ہی ملائشیا کا نام ہے۔ تاہم اس کے بعد ہم نے ان صاحب سے رابطہ نہیں کیا کہ کہیں ہماراپول کھل ہی نہ جائے۔

 

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *