حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور انسانیت کا مذاق ۔۔۔ تحریر : ملک شاہد حنیف

عصرکی نماز کے بعد جیسے ہی کچی آبادی کی گلیوں سے گزرتا ہوا میں آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک کریانہ کی دُکان پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رُک گیا ۔ ناچاہتے ہوئے بھی زمین نے جیسے میرے قدموں کو پکڑ لیا۔ جب میری آنکھوں نے دُکاندار اور کچی آبادی کے مکینوں کی طرف غور کیا۔ تو جیسے میری روح پر سکتہ طاری ہو گیا اور میرے دِل پر قیامت برپا ہو گئی ۔ میرے لئے یہ منظر قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔ دِل پر ہاتھ رکھ کر چند قدم آگے بڑھا اور غریب عورت جو کہ بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے اور ٹوٹی ہوئی رف چپل پہنے کھڑی تھی اور ایسے لگ رہا تھاکہ جیسے وہ کپاس کی چنائی یا کھیتوں سے جھاڑیاں اُکھاڑ کر لائی ہے، اپنا چولہا جلانے کے لئے اور پھر جیسے ہی اس نے دُکان دار سے کہا: کہ اِس پیالی میں 30 روپے کا گھی ڈال دیں یہ الفاظ سنتے ہی میری روح پر لرزہ طاری ہو گیا اور میری آنکھیں بھر آئیں۔ گھی برتن میں ڈلوانے کے بعد اس کچی آبادی کی مکین عورت نے 1کلو آٹا شاپر میں ڈالنے کو کہا اور ساتھ ہی 10 روپے کا چائے والا ساشہ لیا اور 10 روپے کی چینی ڈالنے پر اصرار کیا۔ پھر اُس عورت نے اپنے دوپٹے کے ایک کونے سے بندھے ہوئے پیسوں کو کھولا اور 10 اور 20 روپے کے پرانے نوٹوں کو اکٹھا کیا اور دُکاندار کو پیسے ادا کئے۔ اس منظر کو دیکھ کر میں ساکت ہو گیا اتنا درد ناک لمحہ میرے لئے کسی بڑے حادثے سے کم نہ تھا۔ ابھی میں نے خود کو سنبھالا ہی نہ تھا کہ ایک بڑھی اماں جان نے بھیڑ میں سے آواز دی کہ پتر 20 روپے دا دودھ پا دے۔بوڑھی اماں جان کے ان الفاظ نے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی ۔ ایک طرف تو کچی آبادی کے مکینوں کا حال عبرت کا منظر پیش کر رہا تھا اور دوسری طرف حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور عیاشیاں انسانیت کا مذاق اُڑا رہی تھیں۔ معاشرے میں ہر روز انسانیت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اور انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے ۔ ہمارے لئے یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ایک وقت کے کھانے پر لاکھوں روپے اِن غریبوں کے ٹیکسوں سے وصول کر کے برباد کرتے ہیں ۔ اگر ہمارے حکمرانوں کے ظہرانے کی دعوتوں کو دیکھا جائے تو شاید دنیاکے ترقی یافتہ ممالک کے حکمران بھی ایسے کھانے اپنے دستر خوان پر نہیں سجاتے ، جتنے ہمارے حکمران سجاتے ہیں اور پھر ایک اہم بات کہ چند لقموں کے بعد پوری دنیا کے تیار شدہ کھانے دعوت کے بعد خراب کر کے پھینک تو ضرور دیئے جاتے ہیں لیکن آج تک یہ بچ جانے والے کھانے کسی بھی غریب کے منہ کا لقمہ نہیں بن پاتے۔ حکمرانوں کے محل اور ان کے گھروں کے کتوں کو دنیاکی اچھی سے اچھی خوراک میسر ہوتی ہے اور ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ حکمران بڑے فخر کے ساتھ TVاور اخبارات میں دکھاتے اور چھپاتے ہیں۔ ایک طرف کچی آبادیوں کے مکینوں کے حالات دیکھ کر دِل خون کے آنسو روتا ہے تو دوسری طر ف حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور انسانیت کے مذاق اُڑانے پر دِل خون کے آنسو روتا ہے۔ 26ستمبر2017 ؁ء کو ایک کرپٹ حکمران کو عدالت میں پیش کیا گیا۔تو اس کرپٹ اور نااہل سیاست دان کے پروٹوکول میں 45گاڑیاں اور اس کے علاوہ سکیورٹی کا عملہ اس کے ساتھ عدالت میں پیش ہوا اور پھر چند منٹوں کی پیشی کے بعد وہ سیاستدان جو کہ نہ صرف نااہل بلکہ اس پر ملک کے سرمایہ کو بیرون ممالک منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بچوں پر بھی بری طرح کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی پریس کانفرنس میں فرمانے لگے کہ عدالت کو کوئی حق حاصل نہیں کو وہ مجھے سزاا دے۔ میرا فیصلہ بیس کروڑ عوام کرے گی اور پھر وہ اسی پروٹوکول کے ساتھ جو شاید کسی بڑے یا ترقی یافتہ ملک کے وزیراعظم یاصدر کو حاصل ہوتا ہے ۔ عوام کے ٹیکس سے حاصل کئے گئے پیسے کو مٹی کی دھول میں اُڑاتا ہوا اپنے گھر چلا گیا۔

(Visited 51 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *