ہم بہت روئے بادشاہ جب یاد آیا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

لکھاری قلم اور کتاب کے ذریعے لوگوں کو وقت کے راز سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عوام کی ذہانت کا نصیب ہوتا ہے کہ وہ اِن کھلے رازوں سے کتنا سمجھ پاتے ہیں۔ اختر سعید مدان چونکا دینے والے قلم کار ہیں۔ اُن کے ایک افسانے ’’پہلا جرم‘‘ کو جگہ کی مناسبت سے بہت تلخیص کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسانے کے مطابق ’’سلطنت اروما ایک خوش قسمت اور خوش باش سلطنت تھی جہاں سونے چاندی کی ریل پیل، خوشیاں ہی خوشیاں اور امن ہی امن تھا۔ وہاں کے شہری جرم کے لفظ سے بھی ناواقف تھے۔ اُن کے لئے ہردن عید کا دن اور ہر رات شب برات ہوتی۔ ایک دفعہ سلطنت اروما کا بادشاہ مرگیا۔ حسب دستور مرکزی پھاٹک سے صبح سب سے پہلے داخل ہونے والے کو بادشاہ بنایا جانا تھا لیکن پورا دن اور پوری رات گزرنے کے باوجود شہر میں کوئی بھی داخل نہ ہوا جسے بدشگونی سمجھا گیا۔ سب مشورے کے لئے ایک فقیر سیانے کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔ سیانے نے کہا اِس عبوری دور کے لئے اکیس آدمیوں کی مجلس تشکیل دے دو۔ اِس کی صدارت کوئی جہاندیدہ آدمی کرے۔ ہررکن کے انتخاب کے لئے گیارہ شہریوں کی رضامندی ضروری ہو۔ ایک بزرگ بولا وہ اکیس آدمی کون ہوں؟ اُن کا صدر کون ہو؟ سیانے نے جواب دیا اکیس آدمی تم میں سب سے زیادہ سمجھدار، صاحبِ علم، طاقتور اور دور اندیش ہونے چاہئیں۔ وہ اکیس آدمی خود ہی اپنا صدر منتخب کرلیں گے۔ لوگوں کے لئے یہ نئی باتیں تھیں۔ مجمعے میں ایک سرگوشی ہوئی۔ پھر دوسرا اور تیسرا بولا۔ مجمعے کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ اونچی ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ایک شخص چلایا، یہاں کھڑے ہوکر باتیں کرنے سے کیا حاصل، چلو پنڈال میں چلتے ہیں، وہیں اکیس آدمیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ پنڈال میں ساری رات صلاح و مشورہ ہوتا رہا۔ شفق نمودار ہونے سے قبل اروما کے عوام نے اکیس آدمی چن لئے تھے۔ اِن میں سب سے بڑا عالم فاضل، سب سے بڑا ریاضی دان، سب سے زیادہ طاقتور، دولت مند، جاگیردار، خوبصورت، اونچا بولنے والا، دراز قد، موٹا، غرض ہرقسم کے آزمودۂ روزگار لوگ شامل تھے۔ ان اکیس آدمیوں نے صبح سویرے اجلاس بلایا اور اُسی بزرگ کو عبوری صدر بنالیا۔ پہلے دن بزرگ کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پہلا مسئلہ یہ زیربحث آیا کہ مرحوم بادشاہ کو کون دفن کرے؟ لمبی چوڑی بحث ہوئی۔ عبوری صدر کا کہنا تھا کہ اُسے عبوری دور کے لئے بادشاہ کے اختیارات حاصل ہیں لہٰذا یہ حق اُسی کو حاصل ہے جبکہ عالم فاضل کا موقف تھا چونکہ وہ بہت ساری چیزوں کا علم رکھتا ہے لہٰذا یہ فریضہ اُسی کو زیب دیتا ہے۔ دوسری طرف سب سے زیادہ طاقتور بضد تھا کہ یہ کام اُسے سرانجام دینا چاہئے۔ بہرحال اس نازک مسئلے پر کئی دن تک بحث ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ بادشاہ کی لاش سے تعفن اٹھنے لگا۔ بالآخر طے پایا کہ عبوری صدر اور عالم فاضل کے درمیان ووٹ ڈالے جائیں۔ ووٹنگ ہوئی جس میں عبوری صدر کو بارہ ووٹ ملے جبکہ عالم فاضل نے نو ووٹ حاصل کئے۔ چنانچہ بادشاہ کی فوتگی کے گیارہ دن بعد اُسے دفن کردیا گیا۔ اسی دوران ایک صبح دارالحکومت کے مرکزی پھاٹک سے ایک خواجہ سرا شہر میں داخل ہوگیا۔ مرحوم بادشاہ کو دفن کرنے کے اگلے روز نئے مسئلے پر بحث ہونے لگی۔ اکثر ممبران کا خیال تھا کہ خواجہ سرا کو بادشاہ نہیں بنانا چاہئے مگر عالم فاضل کا کہنا تھا کہ یہ حکمران کونسل عارضی ہے اور صدر بھی عبوری ہے لہٰذا ریاست کے پرانے دستور کے مطابق خواجہ سرا کو ہی بادشاہ بنا دینا چاہئے۔ البتہ اگر معزز اراکین سمجھتے ہیں کہ خواجہ سرا سے غلطیاں سرزد ہونے کا خدشہ ہے تو یہی مجلسِ مشاورت برقرار رکھی جائے اور اِن اکیس ارکان کو ووٹ کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ اس طرح مملکت کے فیصلے احسن طور پر ہو سکیں گے۔ ایک دن کی مسلسل بحث کے بعد عالم فاضل نے اپنی دلیلوں سے سبھی کو ہمنوا بنالیا۔ نئے فیصلے کے مطابق بزرگ کو برطرف کرکے خواجہ سرا کو اروما کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ تخت پوشی کے جشن کے بعد ساتویں دن حکمران کونسل کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہرممبر کے لئے اُس کے شایانِ شان ایک محل ہونا چاہیے۔ اس فیصلے پر رائے شماری کی قطعاً ضرورت پیش نہیں آئی۔ مملکت کا یہ واحد قانون تھا جو متفقہ طور پر فوری منظور ہوا۔ اکیس محلوں کے لئے بہترین جگہ منتخب کی گئی۔ محلوں کی تعمیر دوسال میں مکمل ہوئی اور اُن پر اتنا سرمایہ خرچ ہوا کہ حکومت کا خزانہ خالی ہوگیا۔ یہاں تک کہ حکومت کے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے بھی رقم نہ بچی۔ نئی مشکل کے حل کے لئے اُن اکیس ارکان کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں حساب کتاب کے ماہر نے یہ حل نکالا کہ اروما کے عوام پر تھوڑا سا ٹیکس عائد کردینا چاہئے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق یہ ٹیکس ایک پیسہ فی خاندان لگانے کی تجویز تھی لیکن جب ٹیکس وصول کرنے والوں کی تنخواہوں میں اٹھنے والے اخراجات کا حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ حکومت کو اِس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ٹیکس کی رقم دگنی کردی گئی۔ اس اجلاس کے دوران ہی عالم فاضل صاحب نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی خاندان ٹیکس ادا کرنے سے انکاری ہوتو کیا کرنا چاہئے؟ ممبران اکرام نے اُس کے لئے قید کی سزا تجویز کی۔ اب نیا مسئلہ یہ درپیش ہوگیا تھا کہ اُسے قید کہاں رکھا جائے؟ کیونکہ اس سے قبل کسی کو قید کی سزا ریاست میں نہ ہوئی تھی۔ اس طرح دارالحکومت میں ایک جیل کی تعمیر کی ضرورت محسوس کی گئی۔ حکومت کا خزانہ تو پہلے ہی خالی تھا۔ اس لئے ممبران اکرام نے اپنے بہترین دماغوں کو کام میں لاتے ہوئے جیل بنانے کے لئے ٹیکس کی رقم تین گنا کردی۔ ٹیکس وصول کرنے والے عملے کی بھرتی کے لئے اکیس رکنی کمیٹی نے فی کس سوسو آدمی اپنی مرضی اور پسند کا بھرتی کیا اور انہیں سلطنت کے مختلف علاقے سونپ دےئے۔ دارالحکومت کے مضافات میں ایک کسان رہتا تھا۔ کسان کے پاس کل تین ایکڑ زمین تھی۔ اس کا کچا مکان بھی کھیتوں میں ہی تھا۔ بدقسمتی سے اِس سال کسان کی فصل پر بیماری حملہ آور ہوئی جس کی وجہ سے اُسے اپنے کھانے کے لئے بھی غلہ حاصل نہ ہوا۔ کسان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ سبھی بچے ابھی نابالغ تھے۔ اُس کی مالی حالت بہت پتلی تھی۔ ایک صبح حکومت کے اہلکار اُس سے ٹیکس وصول کرنے گئے۔ کسان نے اُن سے معذرت کی اور کہا تین پیسے اچھی خاصی رقم ہے۔ میرے پاس اِس سال کچھ بھی نہیں۔ ٹیکس وصول کرنے والوں نے کہا ہمیں نئے بادشاہ اور حکومت میں شامل اکیس اراکین کی طرف سے سخت احکامات ہیں، حکومت کا خزانہ خالی ہے، ہم یہ ٹیکس معاف نہیں کرسکتے، اگر ٹیکس ادا نہیں کرو گے تو تمہیں بیوی بچوں سمیت جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ کسان اپنی مالی حالت سے پہلے ہی خاصا پریشان تھا۔ اوپر سے کارندوں کی سختی نے اُس کی پریشانی دوچند کردی۔ حکومت کے کارندے کسان کو ایک دن کی مہلت دے کر چلے گئے۔ اُس رات اروما کے غریب کسان نے ایک امیر زمیندار کے گھر چوری کی اور صبح حکومت کا ٹیکس ادا کردیا۔ اروما میں وہ پہلا جرم تھا۔ پہلا جرم جوکہ حکومت میں اراکین کی شمولیت کے بعد سرزد ہوا۔ حکومت میں اِن ارکان کی شمولیت کے بعد اروما میں پہلی جیل بنی، پہلی بار عوام پر ٹیکس لگا، ایک ذہین آدمی نے پہلا تالا بنایا۔ اس واقعے کو آج صدیاں گزر چکی ہیں۔ آج کل اروما میں ہر ضلع اور ہر تحصیل میں جیلیں ہیں۔ ہر شہر اور ہر قصبے میں دن رات لوگ تالے بناتے ہیں۔ وہاں کے عوام پر لاتعداد بے حساب ٹیکس ہیں۔ دن رات بے شمار جرائم ہوتے ہیں کیونکہ آج کل اروما میں مکمل اور کھلی جمہوریت ہے۔ ہر شخص حکومت سازی میں شامل ہے اور سبھی کو ووٹ کا حق حاصل ہے‘‘۔ ناصر کاظمی کی مشہور غزل کے آخری مصرعے میں ایک لفظ کی تبدیلی کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ ’’ہم بہت روئے بادشاہ جب یاد آیا‘‘۔

(Visited 35 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *