مذہب میرا اور میرے خدا کا ذاتی معاملہ ہے، معروف کالم نگاراور صحافی عماد ظفر سے گفتگو

سنجیدہ اور مدلل کالم نگاروں میں محترم عماد ظفر ایک نمایاں نام ہیں، آپ کی تحریروں میں بے باکی اور کڑوی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے، آپ کو تھری ڈی کالم نگار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، آپ تصویر کا تیسرا اور چوتھا رخ دیکھنے کے بعد اپنی رائے قائم کرتے ہیں- طویل عرصے سے قلم سے وابستہ ہیں، کالم نگار ہیں، ریسرچر ہیں ، متعدد ٹی وی سکرپٹس لکھ چکے ہیں، ریڈیو کے لیے برسوں ٹاک شو کرتے رہے، حالات حاضرہ پر گہری نظر اورٹھوس موقف رکھتے ہیں، “دنیا پاکستان” کے لیے مستقل کالم تحریر کرتے ہیں، آئیے عماد ظفر سے بات کرتے ہیں۔  (ادارہ ‘دنیا پاکستان’)۔

سوال: کبھی آپ پکے لبرل لگتے ہیں اور کبھی مذہبی ۔ ۔ ۔ اصل کہانی کیا ہے؟۔
جواب: ایک لکھاری یا دانشور نہ تو لبرل ہوتا ہے اور نہ مذہبی. آپ کسی بھی قسم کی پوزیشن یا نظریہ اختیار کر لیں تو پھر آپ ایکٹوسٹ کہلاتے ہیں لکھاری یا دانشور نہیں. کسی بھی موضوع پر تحریر کرتے ہوئے آپ کو صرف اور صرف ایک صحافی تجزیہ نگار یا کالم نگار ہونا چائیے. میری کاوش یہی ہوتی ہے کہ لکھتے وقت کسی بھی قسم کا ایکٹوزم یا تعصب میری تحریر اور سوچ کے درمیان حائل نہ ہو. مذہب میرے نزدیک میرا اورمیرے خدا کا ذاتی معاملہ ہے اور صرف مذہب کی بنیاد پر مجھے کسی بھی دوسرے انسان پر نہ تو کوئی فوقیت حاصل ہے اور نہ ہی مذہبی رسومات ادا کرنے سے مجھے پارسائی کے تقوے کا سرٹیفیکیٹ ملنا چائیے.اس لیئے اکثر میری کوشش ہوتی ہے کہ مذہب کو یا اس کے حوالوں کو صرف اور صرف تحاریر کو بیچنے کیلئے یا قارئین میں مقبولیت بڑھانے کے بجائے دلیل منطق اور سائنسی توجیہات کی بنیاد پر مسائل کا اعادہ کیا جائے . باقی ہر عام انسان کی مانند میں بھی اپنی مزہبی اور سماجی روایات سے جڑا ہوا شخص ہوں. لیکن تحاریر میں اگر میرے ذاتی مذہنی عقائد کی جھلک آنی شروع ہو جائے تو میرے نزدیک وہ کالم.نگاری یا تجزیہ نگاری نہیں بلکہ دینی تبلیغ بن کاری ہے اور دین کی ترویج کیلئے مناسب اور مختلف پلیٹ فارمز موجود ہیں.
سوال: ہمارے ہاں جمہوریت کے حق میں لکھنے والوں کو درباری کیوں تصور کیا جانے لگا ہے؟۔
جواب : ہم دراصل جمہوریت اس نظام کو سمجھتے ہیں جس میں ہماری پسندیدہ جماعت یا سیاسی رہنما حکومت کے معاملات چلائیں. اور اکثر و بیشتربحیثیت معاشرہ ہم لوگوں کی چہرے تبدیل کرنے کی عادت اور مہنگا شوق ہمیں کسی بھی موجودہ حکمران یا جماعت سے نفرت کروا دیتی ہے.جب انسان نفرت اور تعصب کی پٹی یا چشمہ لگا لے تو پھر اسے ہر وہ شخص جو اس سے اختلاف کرتا ہے یا تو بلاؤں معلوم ہوتا ہے یا اس کے مخالفین کا حامی.میرے خیال میں جمہوریت کے تسلسل کے ساتھ ساتھ چند دہائیوں میں معاشرے میں فکری بلوغت بھی آ جائے گی اور پھر عوام کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے گی کہ اصل درباری اور قصیدہ خواں کون ہیں۔

سوال: ایک کالم نگار کس حد تک غیر جانبدار رہ سکتا ہے؟۔۔
جواب: ایک کالم نگار کا کام غیر جانبداری سے نقطہ نظر یا مسئلے کو عوام الناس تک پہنچانے کا ہوتا ہے. ایک اچھا کالم نویس ہمیشہ لکھتے وقت اپنے ذاتی عقائد خواہ وہ سیاسی ہوں یا مزہبی ان سے ماورا ہو کر تحریر کرنے پائے تو وہ اپنے کام سے انصاف کرنے پاتا ہے.وگرنہ تعصبات یاایجنڈوں کے تابع ہو کر لکھنا یا تحریر کرنا تو صرف کاغذ سیاہ کرنے کے مترادف ہے.
سوال: آزادی اظہار کی کوئی حد ہونی چاہیے ؟۔۔
جواب: وہ آزادی ہی کیا جو کسی حد کی پابند ہو. آزادی کا مطلب ہی بنا خوف و خطر یا بنا کسی قدغن کے بات یا حقائق کو آگے پہنچانا ہوتا ہے. آج کے دور جدید میں ویسے بھی آزادی اظہار کو کسی بھی روایت یا قدغن کے پہرے لگا کر قید کرنا ناممکن ہے.البتہ ہمارے جیسے معاشروں میں آزادی اظہار کے مفہوم کو سمجمے کی اشد ضرورت ہے.کسی کی تضحیک کرنے اور آزادی اظہار رائے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے .اور اس بنیادی فرق کو سمجھنا مصنف دانشور صحافی سمیت دیگر تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔۔

سوال : آپ کے کالم اتنے تلخ کیوں ہوتے ہیں؟ بعض قارئین کا ماننا ہے کہ آپ سوئی نہیں سوا چبھو دیتے ہیں۔۔
جواب: قارئین کی محبت ہے. ایک کالم نویس کا کام دراصل یہی ہے کہ اس کے لکھے گئے الفاظ سے پڑھنے والے کو چبھن ہو اور جسے پڑھنے کے بعد قارئین الفاظ کی ترشی کا ذائقہ حلق سے اترتا ہوا محسوس کریں. آپ معاشرے کی مختلف مسائل، سماجی جبر یا دوغلے رویوں کے بارے میں تحریر کرتے اگر اس درد کو محسوس کر کے اپنے لہو کی سیاہی الفاظ میں شامل کر کے لکھیں تو تحریر کڑوی اور تلخ ہی نظر آئے گی. البتہ مقصد اگر کالمز یا تحاریر کے زریعے پبلک ریلیشنگ کا ہو یا دقیق الفاظ کا اظہار کر کے دانشور کہلوانے کا شوق ہو تو پھر بات اور ہوتی ہے.
سوال: لاکھوں لوگ آپ کو پڑھتے ہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں لوگ دلیل پسند کرتے ہیں یا گالی؟۔۔
جواب: جون ایلیا مرحوم نے کہا تھا کہ انسان کے باہمی رویوں پر آج بھی حیوان کا راج ہی چلتا ہے. مجھے لگتا ہے دلیل و منطق کو صرف اس وقت تک پسند کیا جاتا ہے جب تک وہ آپ کے ذاتی عقائد نظریات یا افکار سے متصادم نہ ہوں.جونہی باتذاتی عقائد یا نظریات کی آتی تو دلیل کے بجائے گالی کا استعمال زیادہ دیکھنے میں نظر آتا ہے.

سوال : کالموں کے علاوہ آپ نے کس صنف میں طبع آزمائی کی؟۔۔
جواب: پڑھنے اور لکھنے کا شوق بچپن دے ہی ورثے میں ملا. والد صاحب خود ریڈیو پاکستان سے منسلک تھے بعد ازاں وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہو گئے. تو ایام نو عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا. گو افسانے بہت پڑھے لیکن لکھنے میں ہمیشہ کالمز اور تجزیوں کے اسلوب کو ہی بہتر جانا. ریڈیو پروگرامز اور ٹی وی پر بھی کچھ پروگرامز کے سکرپٹ لکھے.کچھ ڈاکیومینٹیز کے سکرپٹ بھی لکھے. دس برس ریڈیو سے ٹاک شوز حالات حاضرہ اور علم و ادب پر مبنی پروگرامزکیئے. اور چند پروگرامز ٹی وی سے بھی کیئے ان تمام پروگرامز کے سکرپٹ سے لیکر ریسرچ میری اپنی کاوش ہوا کرتی تھی. میں آج بھی خود کو ایک بہتر مکرر ،تجزیہ نگار اور بولنے والے کے طور پر زیادہ پراثر اور بہتر گردانتا ہوں.

سوال: پہلے آپ کلین شیو تھے ، اب باریش ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ موسمی تبدیلی ہے یا اندرونی؟۔۔۔۔
جواب: انسان زندگی کے ہر لمحے تجربات و مشاہدات سے مستفید ہوتا ہوا تبدیلی کا سفر طے کرتا رہتا ہے. شاید ارض و سما کے پوشیدہ رازوں کو پا لینے اور اپنی ذات کو جاننے کا سفر انسان کو مختلف کیفیات سے دوچار کرتا رہتا ہے اور اس کا اثر انسان کے اندرونی و بیرونی شخصیت پر بھی پڑتا ہے. غالبا کلین شیو سے باریشی تک کا سفر بھی اسی اسرا و رموز کی کہانی ہے. اور چونکہ انسان کا یہ سفر اس کی آخری گھڑی تک جاری رہتا ہے اس لیئے حتمی طور پر یہ کہنا کہ یہ کیفیت مستقل ہے یا عارضی ہرگز بھی ممکن نہیں ہو سکتا.
سوال: آپ کی نظر میں 2018 کا الیکشن کیا رنگ لائے گا؟۔۔۔۔
جواب:2018 کا الیکشن موجودہ صورتحال کو ند نظر رکھتے ہوئے سٹیٹس کو میں کوئی خاص تبدیلی لاتا دکھائی نہیں دیتا. اگلے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاق پنجاب بلوچستان میں ایک بار پھر مسلم لیگ نون حکومت بنائے گی.جبکہ سندھی میں پیپلزـپارٹی کامیاب ہو جائے گی. خیبر پختونخواہ میں اگلی حکومت مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ کے اتحاد پر مبنی دکھائی دیتی ہے .
سوال : کیا ریاست کا مذہبی بیانیہ ہونا چاہیے؟ اگر ہونا چاہیے تو کیا؟۔۔۔۔
جواب: ریاست نے بیانیہ مذہبی بنانے کی کوشش میں دہائیاں ضائع کر دیں ہیں لیکن نہ تو معاشرے کو ایک معتدل مذہبی سانچے میں ڈھالا جا سکا اور نہ ہی اس کو کسی بھی ایک مذہبی مکتبہ فکر کے تابع کیا جا سکا. میرے خیال میں ریاست کا بیانیہ معاشرے میں بسنے والے تمام افراد کیلئے ماں کے جیسا ہونا چائیے چونکہ معاشرے میں بسنے والی اقلیتوں کے عقائد اپنے اپنے مذاہب کے تابع ہوتے ہیں اس لیئے ریاست کا بیانیہ تمام مذاہب کی یک جہتی اور احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک انسانیت دوست بیانیہ ہونا چائیے.۔۔۔۔

بشکریہ دُنیا پاکستان ویب ۔۔

 

(Visited 44 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *