عمران خان بشریٰ بی بی کی نظر سے ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے ندیم ملک کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کی تقدیر بدل دے۔عمران خان سیاستدان نہیں ہیں بلکہ ایک لیڈر ہیں۔کیونکہ ایک عظیم لیڈر لالچ اور ذاتی مفادات کے حصول سے آزاد ہوتا ہے اور عمران خان ایک ایسا لیڈر ہے جن کی ذات لالچ سے بہت دور ہے ان کی زندگی لالچ سے مبرا ہے اسی لئے ان کی زندگی بہت سادہ اور آسان ہے۔ویسے بھی جس بندے کی زندگی میں لالچ نہیں ہوتا وہ ہر قسم کے ڈر سے آزاد ہو جاتا ہے۔بشریٰ بی بی کی یہ باتیں سن کر مجھے حضرت علی ؑ کا قول یاد آگیا کہ اگر سو بھیڑوں کی امامت ایک شیر کر رہا ہو تو بھیڑیں بھی شیر ہو جاتی ہیں اور اگر سو شیر وں کی امامت ایک بھیڑ کر رہی ہو تو شیر بھی بھیڑ ہی بن جاتے ہیں۔بشری ٰ بی بی کا بھی خیال یہی ہے کہ جیسی عمران خان کی نیت ،محنت ،لگن اور غریب عوام کی خدمت کا جذبہ ہے ان سے لگتا ہے کہ اللہ ان کے ہا تھوں سے کوئی ایسا معجزہ ضرور رونما فرمائے گا کہ جس سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔اس کے علاوہ خاتون اول نے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح سے کیا کہ عمران خان روزانہ رات کو گھر پہنچنے کے بعد سب سے پہلا جو کام کرتے ہیں وہ اللہ کی عبادت ،نوافل کی ادائیگی اور شکرکی ادائیگی کے ساتھ ساتھ یہ دعا ہوتی ہے کہ اے اللہ مجھے ہمت اور طاقت عطا فرمانا کہ میں اپنی عوام کی خدمت کر سکوں۔کیونکہ بشریٰ بی بی کا خیال ہے کہ ہم ہیں کیا؟ہم بنے کس لئے ہیں؟ رب نے ہمیں محمد سرکار ﷺ کے لئے بنایا ہے۔ان سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہونی چاہئے۔جب ان سے پردے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں تو حیران ہوتی ہوں کہ لوگ پردے پہ تنقید کیوں کرتے ہیں یہ اسلامی اور شرعی حکم ہے۔اور میرا پردہ کرنا میرا ذاتی مسئلہ ہے اور میرے اور اللہ کے درمیان ہے۔عجب زمانہ ہے کہ کم لباس والا ماڈرن اور پردے والے کو پینڈو اور جاہل کہا جاتا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ لوگ آپ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں تو آپ کو برا نہیں لگتا کیا؟تو انہوں نے کہا کہ ضرور لگتا ہے کیونکہ ہمارے اینکر بات کرتے ہوئے لفظوں کا بہتر استعمال نہیں کرتے کیونکہ جب زبان کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ی سونے کی کان ہے یا کوئلہ کی کان۔کیونکہ زبان آپ کو عرش معلی پہ بھی لے جاتی ہے اور خاک میں بھی ملا دیتی ہے۔سب سے پیاری بات جو مجھے لگی وہ یہ تھی کہ اللہ کا دوسرا نام عشق ہے جس دل میں عشق اور جنون نہیں وہ دینِ محمدﷺکا سپاہی کیسے ہو سکتا ہے۔عبادت بندے کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے اور دل میں سکون پیدا کرتی ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ مجھ پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے مجھے سکون جیسی نعمت سے نوازا۔سکون رب کی ذات کا بہت بڑا تحفہ ہے۔اور یہ سب تب ملتا ہے جب آپ دین محمدﷺ کو سمجھ لیں۔اگر خاتون اول کی حب الواطنی کا اندازہ لگا نا ہو تو ان سے کیا گیا ایک سوال ہی کافی ہے کہ کیا پی ٹی آئی میں بھی ایسے لوگ ہیں جو عمران کے لئے مسئلہ کا باعث بن سکتے ہیں۔تو انہوں نے ملکی محبت سے سرشار جواب میں کہا کہ جب میں اولڈ ہا ؤس اور سرکاری یتیم خانہ سے ہو کر آئی تو مجھے ان کی حالت زار پہ بڑا دکھ ہوا تو میں نے اپنے اللہ سے دعا کی کہ اے باری تعالیٰ تجھے تیرے محبوب حضرت محمد ﷺ کی قسم جس کسی نے بھی اس ملک کو لوٹا اس کا تعلق پی ٹی آئی سے ہو ،نواز لیگ،پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم سے ان کو مت چھوڑنا۔یہ ہے وہ بات جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انصاف بلا امتیاز ہو تو ملک ترقی کرتے ہیں اگر وہ چاہتی تو اپنی پارٹی کا دفاع کر سکتی تھیں مگر انہوں نے سب سے پہلے جس پارٹی کا نام لیا وہ ان کی اپنی پارٹی تھی۔ان کی حب الوطنی کا اندازہ اور کیا لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے سب اینکرز سے بھی اپیل کی کہ آپ اگر کوئی مسئلہ دیکھتے ہیں یا آپ کے علم میں ہو تو آپ ہمیں ضرور بتائیں بلکہ آپ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں کیونکہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو بچانا ہے اور اس کی ترقی کے لئے کام کرنا ہے۔گویا ایک لحاظ سے انہوں نے خان اور اپنے آپ کو عوام کی عدالت میں پیش کر دیا اور ایسا ہی خیال ان کا خان صاحب کے بارے میں بھی ہے کہ خان صاحب چونکہ سادہ،لالچ سے پاک اور سچے انسان ہیں تو میری دعا ہے کہ اللہ ان کو ان کے مقصد میں کامیاب کرے۔اس لئے کہ اللہ نے انہیں سب کچھ عطا کیا ہے اب وہ صرف لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔میں نے خان صاحب کو بتا یا کہ رب کا عشق کیا ہوتا ہے ؟اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انسان کی خدمت میں کتنا سکون ہے۔اسی لئے میری نظر میں خان صاحب سیاستدان نہیں ایک لیڈر ہیں۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *