عمران خان کے دونوں ہاتھوں پر پڑے دو بوجھ ۔۔۔ تحریر: سید سردار احمد پیرزادہ

اکستان کی سِول حکومتوں کے ایک ہاتھ میں سِول ملٹری تعلقات جبکہ دوسرے ہاتھ میں خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کے دہکتے انگارے ہوتے ہیں۔ اِن دونوں میں بیلنس ہی سِول حکومت کو قائم رہنے کا بیلنس فراہم کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو سِول حکومت کو قائم رکھنے کا یہ بیلنس ایک تصوراتی نظریہ ہے کیونکہ 70برس کی تاریخ میں کوئی سِول حکومت بھی اس حوالے سے اپنا بیلنس برقرار نہیں رکھ سکی اور سِول حکومت دونوں میں سے کسی ایک وجہ کی بنیاد پر آخرکار دھڑام سے گر گئی۔ دوسری طرف پاکستان کی فوجی حکومتوں کے دونوں ہاتھوں میں خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کے شعلے ہوتے ہیں اور سِول سیاست کو پاؤں تلے رعب سے دبائے رکھنے کا زعم ہوتا ہے۔ فوجی حکومتیں خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کے شعلوں کو خوشامدی ایندھن فراہم کرکے اپنے آپ کو بچائے رکھنے کی کوشش کرتی ہیں جس کا مقصد اُن کے ادھورے خوابوں کی کبھی نہ ہونے والی تکمیل ہوتی ہے لیکن فوجی حکومتوں کی خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کے محاذ پر دیر تک بیلنس رکھنے کی خواہش بھی تصوراتی ہوتی ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق فوجی حکومتوں کو خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کی آگ ہی کچھ دیر بعد جلانے لگتی ہے اور وہی فوجی حکومتیں اپنی مدد کے لئے سِول سیاست دانوں کو پکارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ سِول سیاست دان فوجی حکومتوں کی یہی مدد کرتے ہیں کہ انہیں حکومت کی طوالت میں بیلنس دینے کی بجائے کمزور کرکے اقتدار کے گیٹ سے باہر پھینکنے کی خندق کھودتے ہیں۔ اس کام میں سِول سیاست دانوں کو خارجہ محاذ کی غیبی مدد بھی شامل ہو جاتی ہے۔ گویا پاکستان کی کوئی بھی حکومت ہو اُس پر خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کا بھاری بوجھ بہت بھاری گزرتا ہے۔ حال ہی میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی کی تازہ بہ تازہ حکومت کو بھی انہی تلواروں کے سائے میں آگے چلنا تھا لیکن اُن پر خارجہ تعلقات کا بھاری وقت سر منڈاتے ہی آگیا۔ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت کے سفارتی معاملات پر دفتر خارجہ کے حکام پریشان ہیں۔ دفتر خارجہ اب تک اس بات سے لاعلم ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی کال سننے کا فیصلہ کس نے کیا اور یہ کال کیوں سنی گئی؟ وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی دفتر خارجہ نے مخالفت کی تھی اور تجویز کیا تھا کہ وزیراعظم سے امریکی صدر یا کم از کم نائب صدر کا رابطہ ہونا چاہئے۔ امریکی وزیر خارجہ کی کال اُن کے ہم منصب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو لینے کی تجویز دی گئی مگر ایسا نہیں ہوا۔ وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان گفتگو کے بعد دہشت گردوں کے معاملے پر تنازع ترجمان دفتر خارجہ کی جوابی ٹوئٹ پر ختم ہو گیا تھا مگر وزیر خارجہ نے اس معاملے پر بات نہ کرنے کے مشورے کے باوجود پریس کانفرنس کردی۔ جواب در جواب سے امریکی وزیرخارجہ کا دورہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کیرالہ سیلاب زدگان کے لئے بھارت کو امداد کی پیشکش بھی دفتر خارجہ سے مشاورت کے بغیر کی جبکہ بھارت پہلے ہی اس حوالے سے سرکاری طور پر کئی بڑے ممالک کی امداد نہ لینے کا اعلان کرچکا تھا۔ نئے وزیرخارجہ نے بھی عہدہ سنبھالتے ہی بھارتی وزیراعظم کے مبارک باد کے خط کی غلط تشریح کی اور وزارت خارجہ کو اُن کے پہلے ہی بیان کی وضاحت دینا پڑگئی‘‘۔ مندرجہ بالا رپورٹ سے قطع نظر پاکستان کے خارجہ تعلقات کو دو خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جس کی قیادت امریکہ کے پاس ہے۔ اس میں یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا، سعودی عرب اور خلیجی ممالک شامل ہیں جبکہ دوسرے خانے کو اینٹی امیرکن قرار دیا جاسکتا ہے جس کی قیادت کسی ایک ملک کے پاس تو نہیں ہے لیکن امریکہ کی مخالفت میں سب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ اِن میں چین، روس اور ایران وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کو اِن دونوں گروہوں کی آپس کی ضد کا سامنا رہا ہے لیکن اب پاکستان ان دونوں گروہوں کے مفادات سے براہِ راست زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب بھی پاکستان نے اِن دونوں گروہوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ توازن پیدا کرنے کی خواہش کرنے والے بڑے علم بردار لیڈروں لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کو عبرت کے نشان بنا دیا گیا۔ تاہم غور کیا جائے تو اب پاکستان چین اور روس سے ویسے فاصلہ پیدا نہیں کرسکے گا جیسے امریکی خواہش پر پہلے کرتا آیا ہے۔ اس کی وجہ دفاعی پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں چین کا سی پیک پراجیکٹ اور روس کے ساتھ بڑھتے فوجی تعلقات ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا ایجنڈہ مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم کو بیرونِ ممالک سے واپس لانا ہے۔ اس ایجنڈے کی تکمیل کا سوفیصد انحصار امریکہ اور اس کے حلیفوں کے ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت کے بہتر تعلقات پر ہے کیونکہ مبینہ طور پر لوٹی ہوئی رقم یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک کے بینکوں میں موجود ہے۔ اس کے لئے پاکستان کو اُن ممالک کو راضی کرکے قانونی معاہدے کرنا پڑیں گے اور کسی حد تک آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالی اداروں کی مدد بھی لینا پڑے گی۔ زمینی حقائق کے مطابق اگر اس سلسلے میں پاکستان امریکہ کو راضی کرنے کی کوشش کرے گا تو امریکہ اپنے مطالبات کی لسٹ پاکستان کے سامنے رکھ دے گا۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت اِن مطالبات کو پورا کرنے سے انکار یا پس و پیش کرے گی تو اسے مبینہ لوٹی ہوئی رقم کو واپس لانے میں ناکامی ہوگی۔ اِس ناکامی کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو عوامی دباؤ کے ناقابل برداشت دھچکے کا سامنا ہوگا اور اگر تحریک انصاف کی حکومت مبینہ لوٹی ہوئی رقم کو واپس لانے کے لئے اوپر بتائے گئے چند واقعات کی طرح ہوم ورک کے بغیر جذباتی انداز میں قدم بڑھائے گی تو امریکی ٹریپ میں آسکتی ہے جس کا براہِ راست نتیجہ چین اور روس کی ناراضگی ہوگی۔ پاکستان اِس وقت روس اور خاص طور پر چین سے ناراضگی کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ہمارے اہم سیکورٹی معاملات پر پڑے گا جو ہمارے سیکورٹی اداروں کو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ جہاں تک نئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا تعلق ہے تو وہ اپنے سابقہ وزارت خارجہ کے دور میں بھی امریکی لابی کے قریب رہے۔ ریمنڈ ڈیوس کیس کے وقت وزارت خارجہ سے ان کا استعفیٰ اصولوں پر تھا یا سیاست پر، اس پر یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہوسکتا ہے مستقبل کا کوئی محقق اس پر اپنی تحقیق سامنے لائے۔ایک خبر کے مطابق امریکہ نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو کی ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ اگر یہ درست ہے توخارجہ تعلقات میں امریکہ نے پاکستانی وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے موقف کو جس طرح غلط ثابت کیا ہے اُس سے تحریک انصاف کی حکومت کے ماتھے پر پسینہ آنا فطری بات ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ چند دنوں بعد امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ خارجہ اور امریکی ملٹری چیف کا بھارت جاتے ہوئے پاکستان میں سٹاپ اوور عمران خان کے لیے ایک امتحانی گھڑی ہوگی جس کے نتائج بعد میں سامنے آئیں گے۔ لہٰذا عمران خان کے لئے سب سے پرخطر راستہ خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کا ہوگا جس کے اثرات ان کی حکومت کے بیلنس کو کسی وقت بھی خراب کرسکتے ہیں اور دیر ہو جانے کے بعد ان خرابیوں کا پتہ انہیں سِول ملٹری ریلیشنز کے موڈ سے چلے گا۔

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *