ہندوستانی پانامہ

محترمہ کلثوم نواز کی طبعی وفات ہوئی، سوشل میڈیا سے لیکر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا تک سب نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق منفی اور مثبت حصہ ڈالا۔ جو ایک سال سے مسلسل یہی تکرار کئے جا رہے تھے کہ کوئی بیماری نہیں بلکہ بہانہ و ڈرامہ ہے۔ ان میں سے بعض کو شرمندگی اٹھانا پڑی جبکہ کچھ اپنی تربیت کے مطابق ڈھیٹ واقع ہوئے اور رحلت کے بعد بھی اپنے اندر کے شیطان کی مکمل گرفت میں رہتے ہوئے دشنام طرازی کرتے رہے۔ مرحومہ کے لیے مغفرت اور بیماری پر سیاسی دکانیں چمکانے والوں کے لیے اللہ رب العالمین سے ہدایت کی دعا ہے۔
اس سارے قضیے میں اصل کردار ”باؤ جی” کی سیاسی جانشین اور اس نہج پر پہچانے والوں میں سے ایک محترمہ ”مریم بی بی” کا نظر آیا۔ جنہوں نے اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ گئے۔ کبھی لندن تو کیا پاکستان میں بھی میری کوئی جائیداد نہیں کا معصومانہ انداز اپنایا تو کبھی پانامہ JIT میں جعلی دستاویزات جمع کروانے کی استادی دکھائی۔کبھی مظلومیت کا رونا رویا۔ اور کبھی وطن کے محافظ اداروں کے خلاف زہر بھرے پھن سے ڈسنے کی کوشش کی۔
حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات میں بیمار والدہ کی غیر موجودگی میں انتخابی مہم چلانے سے لیکر، اڈیالہ جیل کی ہوا کھانے تک اپنی مالی اور سیاسی کرپشن کو بچانے کے لیے والدہ کی بیماری کا چورن دن رات بیچا۔ سیاسی جلسوں حتی کہ ٹی وی چینلز پر ن لیگ کے paid اشتہارات چلے جن میں بیماری کے نام پر ووٹ مانگے اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی گھٹیا کوششیں کیں جو نابالغ بھی سمجھ سکتے تھے۔
”پانامہ” اسکینڈل میں نام آنے کے بعد ملکی سیاست پر تین دہائیوں سے مسلط یہ خاندان، ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنانے، کرپشن، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات کی زد میں آیا۔
اللہ تعالی کی لاٹھی یقینا بے آواز ہے۔ کشمیری عوام گزشتہ ستر سال سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، برہان وانی نے اس تحریک کو ایک نیا روپ دیا۔اور اپنی جان کی قربانی دے کر ہمشیہ کے لیے امر ہو گیا۔ برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی۔ کٹھ پتلی حکومت اور ہندوستانی فوج نے جدوجہد آزادی کی اس پرزور تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا۔ حریت قیادت کو قید و بند سے دوچار کیا گیا، پر امن احتجاج میں شریک افراد پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں پیلٹ گن کے وحشیانہ استعمال نے ہزاروں افراد، مرد و زن اور معصوم بچوں کی بینائی چھین لی۔ اور آج کے دن تک روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کی ظالمانہ طریقوں سے نسل کشی جاری ہے. صف شکن مجاہدوں کے شانہ بشانہ پوری کشمیری عوام ہاتھوں میں پتھر اٹھا? بزدل اور بے رحم ہندو فوج سے معرکہ آراء ہیں۔ کشمیری طلباء و طالبات بھی آزادی کی اس بے مثال تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شہداء کے جنازوں پر کرفیو کے باوجود ہزاروں لاکھوں افراد بشمول خواتین پورے جوش و جذبے سے شامل ہوتے ہیں۔
ماؤں بہنوں کی چیخ و پکار، سبز ہلالی پرچم میں لپٹے شہداء کے لاشے، کشمیر کے درودیوار پر بکھرا مقدس خون اور ”ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے” ”ہم کیا چاہتے، آزادی” ” تیرا میرا کیا ارمان کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے ہر زندہ ضمیر کو جھنجوڑ رہے تھے۔ اس سب عمل کے باوجود بجائے اس کے کہ عالمی فورم استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کو روکا جاتا، مسلم و غیر مسلم ممالک میں سفارتکاری بڑھا کر لابنگ کی جاتی اور ہندوستانی چہرے سے نقاب اتارا جاتا، افسوس ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے پشتبان اور وطن عزیز میں مضبوط و بلند آواز پروفیسر حافظ محمد سعید حفظہ اللہ کو نظر بند کردیا، دعوت دین کی سب سے بڑی تنظیم، جماعت الدعوۃ اور منظم ترین فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ جبکہ پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث ”راء” کے ایجنٹ ”کلبھوشن یادیو” کا نام لینا بھی گوارا نہ کیا گیا۔
ہندوستان میں الیکشن قریب آتے ہی ایک بار پھر ”BJP” اور مودی سرکار پاکستان فوبیا کا شکار نظر آتی ہے، نومنتخب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی مذاکرات کی دعوت دے کر گیند ہندوستانی کورٹ میں پھینکی تو انتہا پسند تنظیموں اور متعصب ہندوستانی میڈیا نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا اور ہندوستانی حکومت مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر گئی۔ شدت پسند تنظیم ”RSS” سے تربیت یافتہ ”مودی” سرکار روز اول سے ہی ”ہندوتوا” کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ہندو انتہا پسند حکومتی آشیرباد کے ساتھ کبھی ”لَوّجہاد” تو کبھی ”گاؤ رکشا” کے نام پر مسلمانوں کا قتل سمیت دیگر تمام اقلیتوں پر کھلے عام مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ہندوستانی زیر تسلط پنجاب میں علیحدگی کی ”خالصتان” تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ سکھ رہنما 2020ء میں ریفرنڈم کروانے کا پروگرام ترتیب دے چکے ہیں۔ مودی کا ”وکاس” کا نعرہ پوری طرح پِٹ چکا ہے، فرانس سے ”رافیل” طیاروں کی خریداری کے مبینہ کرپشن اسکینڈل نے ہندوستانی سیاست میں ”پاکستانی پانامہ” والی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اب ہندوستانی عوام میرا ”PM” چور ہے کی صدائیں لگا رہے ہیں، جگہ جگہ علیحدگی کی تحریکیں اور کشمیر آؤٹ آف کنٹرول۔۔۔۔۔۔۔
اس صورتحال میں روایتی ہتھکنڈا استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان دشمنی اور جنگ و جدل کی دھمکیاں لگائی جا رہی ہیں۔ ہندوستان میں الیکشن کے قریب یہ چورن خوب بِکتا ہے جو آزمودہ فارمولا بھی ہے۔
”بپن راوت” کی ہرزہ سرائی پاکستانی قوم کو متحد کرنے کے ضرور کام آئی، سیاسی فرقوں میں بٹے ہوئے شدید مخالف افراد کو یہ کہتے تک سُنا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے میں بیک وقت ”ن” لیگ کا شیر، پی پی کا جیالا اور انصاف کا ٹائیگر ہوں۔
الحمد للہ، ایٹمی طاقت پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کندن بن جانے والی پاک افواج کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، بزدل دشمن کسی بھی گھناؤنی حرکت سے پہلے ہزار بار سوچے گا، ہمیں اپنی صفوں میں اسی اتحاد و اتفاق کو مستقل قائم رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا واسطہ مکار ترین دشمن سے ہے۔ جس کی بغل میں چُھری موجود ہے اور وہ موقع کی تلاش میں بھی ہے۔

(Visited 16 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *