نایاب علی .انٹرویو فہمیدہ غوری

 
پاکستان میں ایسے گوہر نایاب ہے جو پوشیدہ ہیں ان میں سے ہی ایک نایاب کو ہم اپ کے سامنے لاے ہیں .یے ٹیچر ہیں .اور لکھاری بھی .اسلام علیکم نایاب .اپ کا تعارف
میرا نام نایاب علی ھے میں 18دسمبر کو اس پاک خطه زمین پر تشریف لائ میرا تعلق پنجاب کے بھت پیارے شھر مدینه اولیاء(ملتان) سے ھے بلاشبه یه شھر اس میں مدفون اولیاء اکرام کی وجه سے بھت مقدس ھے . میں اس شھر کی مستقل رھائشی نھی ھوں چونکه میرے بابا کا تعلق پاک آرمی سے ھے تو اس وجه سے ھم شھر سے شھر گھومتے رھتے ھیں .میرا مستقل شھر فیصل آباد ھے .مجھے اپنے وطن عزیز کے تمام شھر بھت پیارے لگتے ھیں مگر ملتان مجھے سب سے ذیاده عزیز ھے جس وجه سے مجھے اس شھر سے بھت انسیت ھے
میں ماسٹرز کی طالبه ھوں . میٹرک فیصل آباد سے کیا اور ایف ایس سی ملتان کالج سے کی اسکے بعد ھم کوئٹه چلے گۓ تو بی ایس سی پنجاب یونیورسٹی کوئٹه کیمپس سے کی
سٹڈیز کے ساتھ ساتھ میں جاب بھی کرتی ھوں .پھلے APS سکول میں جاب کی اور اب برٹش سکول سسٹم میں ٹیچنگ کے فرائض سر انجام دے رھی ھوں
فارغ اوقات میں میرا مشغله کتابیں پڑھنا ھی
میں کوئ لکھاری تو نھیں ھوں مگر اپنے شوق کے لیے شاعری یا افسانے وغیره لکھتی ھوں. رائٹر کا منصب بھت اعلی ھے اور اسکے بھت سے فرائض ھوتے ھیں جو که مجھے لگتا که میں پورے نھی کر سکتی اور دوسری وجه وقت کی قلت بھی ھے
ادب سے دوری زوال پذیر معاشرے کی ایک وجه بھی ھے  ھمیں ایسے ادب کو فروغ دینا چاھیے جس سے ھمارے معاشرے کی مکمل ذھنی نشوونما ھو.موھوده دور کی تمام ضروریات کومد نظر رکھ کر ھمیں ادب کی تشکیل کرنی ھوگی
دور حاضر میں بھت سے لکھاری صرف شوق اور خواھش کی وجه سے لکھ رھے ھیں عروج ادب کے دور میں لوگ اچھا معاشره تشکیل دینے کے لیے لکھتے تھے
کوئ بھی شعبه ھو اسکے کچھ نا کچھ فرائض ھوتے ھیں جو ھمیں مکمل ذمه داری سے پورے کرنے ھوتے ھیں. جب ھم ھر کام کو اپنافرض سمجھ کر کریں گے تو خامی کا سوال ھی پیدا نھی ھوتا.اسکی ایک وجه جو میں سمجھتی ھوں وه مذھب سے دوری ھے
معیاری ادب اپنی پھچان آپ ھوتا ھے اس میں بھت خاص ھوتا ھے جو ھمیں اپنی طرف کھینچتا ھے
ادبی شخصیات میں سے عمیره احمد سے بھت متاثر ھوں
ادب کے ساتھ ساتھ میں شعبه تدریس سے وابسته ھوں
ایک اچھا ادب وه ھے جو اپکی اخلاقیات کو اجاگر کرے
میرے خیال میں تخلیق غوروفکر اور مشاھدے کا نام ھے
آجکل ھماره ملک بھت سنگین حالات سے گزر رھا ھے . ھم جس ڈگر پر کھڑے ھیں وھاں ھمیں ھر لڑائ جھگڑا اور غصه بھلا کر متحد ھو کر دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر آگے بڑھنا ھے . اگر ھم مل کر ایک سیسه پلائ دیوار بن جائیں تو دشمن ھمارا کچھ نھی کر سکتا .ھمیں حالات کی سنگینی کو سمجھنا ھو گا ورنه بقول اقبالنا سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ھندوستان والو
تمھاری داستاں تک نا ھوگی داستانوں میں

ھماری سوچ اور ھمارے عمل مل کر معاشره بناتے ھیں اور یه ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تو اس میں مکمل اسلامی معاشرے کا قیام ھو .ھر غیر اخلاقی برائیوں کو ختم کرنا چاھیے
جی ملک میں انقلاب نا گزیر ھے
میں ملکی سیاست میں بھت ذیاده دلچسپی نھی لیتی اور ویسے بھی اب سیاست ایک سازش اور کاروبار بن گیا ھے
جو قومیں اپنی شناخت چھوڑ دیتی ھے وه نیست و نابود ھو جاتی ھیں تو ھمیں اپنی زبان اردو کو فروغ دینا چاھیے یھی ھماری پھچان ھے اسکے لیے ھمیں اپنے قلم کے ساتھ مخلص ھونا پڑے گا تاکه اس قلم کا صحیح حق ادا کر سکیں
کمپیوٹر کے آنے سے ادب پر کوئ منفی نقصان مرتب نھی ھوۓ لوگ الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اب بھی ادب سے وابسته ھیں
مجھے علامه اقبال بھت پسند ھے اور انکے علاوه وصی شاه اور احمد فراز پسند ھیں اور ادیبوں میں سے مجھے عمیره احمد پسند ھے
اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئ ورثه نھی ھوتا. لوگوں سے اس طرح حسن سلوک سے ملو که وه آپکے بعد بھی آپکو یاد رکھیں. اپنی اچھی یادوں کا ورثه چھوڑ جاؤ

جیو تو ایسے که ھر شخص احترام کرے
مرو تو ایسے که دشمن بھی سلام کرے

(Visited 125 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *