انتظار حسین کی کہانی ’’بادل‘‘ اور انتخابی جل تھل ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

انتظار حسین اپنے ہی مدھر انداز میں ایک کہانی ’’بادل‘‘ تحریر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ شدید گرمی اور پیاس کا موسم تھا۔ ایک لڑکا آدھی رات کو نیم خوابی کے عالم میں آسمان پر بادلوں کے آنے اور بجلی چمکنے کا منظر دیکھتا ہے لیکن صبح جب وہ بیدار ہوتا ہے تو بادل اور بارش کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ رات بادل کی آمد کے بارے میں وہ اپنی ماں اور دوسرے لوگوں سے پوچھتا ہے تو سب اسے جھٹلاتے ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ رات والے بادلوں کی تلاش میں لڑکا سکول جانے کی بجائے بستی سے بہت دور نکل جاتا ہے مگر بادل نہیں ملتے۔ جب وہ واپس گھر پہنچتا ہے تو ہرطرف بارش کے پانی کی جل تھل دیکھتا ہے۔ کہانی کا اختتام اس احساس کو لئے ہوئے ہے کہ بارش برسنے کا خوبصورت منظر اگر خود اپنی آنکھوں کے سامنے نہ ہوتو درپردہ بارش کی تمام خوبصورتی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ کہانی بادل کے کچھ اقتباسات انتظار حسین کی ہی اپنی تحریر میں پڑھتے ہوئے کالم کے اختتام پر پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ 70 برسوں میں کئی مرتبہ جمہوریت نامی انتخابات کے عمل سے گزرے۔ لوگوں کا جمہوریت کی تلاش میں انتخابات کے پیچھے برس ہا برس کا سفر کرنے کے باوجود بھی ہر نئے انتخابات کے بعد عوام کو پہلے والے انتخابات کی طرح ہی گدلے پانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ انتخابات کا انعقاد تو ہوا لیکن پوشیدہ حقیقتیں انہیں خوشی کی اصل تازگی نہ دے سکیں۔ کہانی بادل کے مطابق ’’وہ بادلوں کی تلاش میں دور تک گیا۔ گلی گلی گھومتا ہوا کچی کوئیا پہنچا۔ وہاں سے کچے راستے پر پڑلیا اور کھیت کھیت چلتا چلا گیا۔ مخالف سمت سے ایک گھسیارا گھاس کی گٹھڑی سرپر رکھے چلا آرہا تھا۔ اسے اس نے روکا اور پوچھا کہ ’’ادھر بادل آئے تھے؟‘‘ ’’بادل؟‘‘ گھسیارے نے اس تعجب سے کہا جیسے اس سے بہت انوکھا سوال کیا گیا ہو۔ ’’ہاں بادل‘‘۔ اب جب گھسیارے کی حیرت میں کوئی کمی نہ آئی تو وہ اس سے مایوس ہوا اور آگے چل کر اس نے کھیت میں ایک ہل چلاتے ہوئے کسان سے یہی سوال کیا ’’ادھر بادل آئے تھے؟‘‘ کسان کی سمجھ میں بھی یہ سوال نہ آیا۔ اس نے سٹپٹا کر کہا ’’بادل؟‘‘ ’’ہاں بادل‘‘۔ اصل میں وہ بادلوں کے متعلق ایسے پوچھ رہا تھا جیسے ڈھونڈنے والا راہ چلتے ہوؤں سے گم ہو جانے والے بچے کے متعلق پوچھتا ہے۔ شاید بادل بھی گمشدہ بچے تھے کہ وہ انہیں ڈھونڈتا پھر رہا تھا اور ہر راہ چلتے سے پوچھ رہا تھا۔ کسی نے اسے تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ سب سے پہلے آج صبح اس نے اماں جی سے یہ سوال کیا تھا ’’اماں جی، بادل کہاں گئے؟‘‘ ’’کون کہاں گئے؟‘‘ اماں جی نے اس سے ایسے پوچھا جیسے اس نے بہت احمقانہ سوال کیا تھا۔ ’’بادل‘‘۔ ’’بادل۔۔۔ ارے تیرا دماغ چل گیا ہے۔ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھو، ناشتہ کر اور سکول جا‘‘۔ اماں جی کے اس انداز بیان نے اس پر ایک ناخوشگوار اثر چھوڑا۔ اس نے بے دلی سے ہاتھ منہ دھویا، ناشتہ کیا اور کتابوں کا بیگ گلے میں ڈال کر سکول کے لئے گھر سے نکلا مگر گھر سے نکلتے ہی اس کے ذہن میں پھر وہی سوال ابھرا، بادل کہاں گئے؟ اور اس کے ساتھ اسے رات کا وہ وقت یاد آیا جب اس نے بادل امنڈتے گرجتے دیکھے تھے۔ جب وہ سونے لگا تھا اس وقت آسمان بادلوں سے خالی اور ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ ہوا بند تھی اور گرمی سے نیند نہیں آرہی تھی۔ اسے مشکل سے نیند آئی۔ پھر جانے کیا وقت تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ جو وقت بھی ہو اس کے لئے وہ آدھی رات تھی۔ دور آسمان پر بادل ایک گرج کے ساتھ امنڈ رہے تھے۔ بیچ بیچ میں بجلی چمکتی اور اس چمک میں وہ بادل بہت کالے کالے نظر آتے۔ اسے لگا کہ بہت زور کی بارش آئے گی مگر اس میں نیند کتنی خراب ہوتی۔ بس اسی اندیشے سے اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ ایسے ہوگیا جیسے اسے خبر ہی نہیں ہے کہ بادل گرج رہے ہیں۔ سوگیا۔ صبح جب اٹھا تو حیران رہ گیا۔ آسمان۔۔۔ آسمان بادلوں سے بالکل خالی تھا اور صحن میں بوندیں پڑنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اسے پہلے تعجب ہوا۔ پھر افسوس ہوا۔ تعجب اس پر کہ بادل اتنے امنڈ گھمنڈ آئے تھے اور برسے نہیں۔ پھر گئے کہاں۔ افسوس اس پر کہ وہ سو کیوں گیا۔ جیسے وہ جاگتا رہتا تو بادل آنکھوں سے اوجھل نہ ہو پاتے اور پھر برس کرہی جاتے۔ وہ بارش ہو جاتی تو موسم کی پہلی بارش ہوتی مگر اس کے سوتے ہوئے بادل گھِر کر آئے اور چلے گئے۔ بارش کی کوئی بوند نہیں پڑی۔ برسات کا موسم خالی گزرا جارہا تھا۔ اس نے چلتے چلتے ایک بار پھر آسمان کا جائزہ لیا۔ دور تک کوئی بادل نہیں تھا۔ خالی آسمان میں سورج عین اس کے سرپر چمک رہا تھا۔ وہ سکول کا راستہ چھوڑ کر کھیتوں میں نکل گیا‘‘۔ انتظار حسین کہانی آگے بڑھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ لڑکا چلتے چلتے ایک گھنے درخت کی چھاؤں تک پہنچا جہاں ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ اس نے اُن سے بادلوں کی ساری داستان کہی۔ بڑے میاں بولے ’’بیٹا! بادلوں کے خالی آنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں ایسے علاقے میں رہ چکا ہوں جہاں دس سال سے بارش نہیں ہوئی تھی‘‘۔ بڑے میاں کے اس جواب پر انتظار حسین نے لڑکے کے ذہن میں ماضی کے بادلوں کا ذکر یوں کیا کہ ’’اس کے تصور میں پچھلی مختلف گھٹائیں امنڈ آئیں۔ وہ گھٹائیں جو گھٹا ٹوپ اندھیرے کے ساتھ اٹھیں جیسے برس کر جل تھل کردیں گی مگر بوند برسائے بغیر گزر گئیں‘‘۔ لڑکا بڑبڑایا ’’مینہ برستا ہی نہیں۔ پتہ نہیں بادل آکے کہاں چلے گئے‘‘۔ کہانی میں مزید لکھا گیا کہ لڑکا بادلوں کی تلاش میں بہت دور گیا مگر مایوس ہوکر واپس لوٹ آیا۔ ’’جب وہ کچی کوئیا کے پاس پہنچا تو اسے لگا کہ ہوا میں ایک ٹھنڈی لکیر سی تیر گئی ہے اور قدموں کے نیچے مٹی کچھ سیلی سیلی ہے۔ بستی میں داخل ہوتے ہوئے اس نے دیکھا کہ رستہ یہاں سے وہاں تک گیلا ہے، درخت کہ اس کے جاتے وقت روز کی طرح دھول میں اٹے کھڑے تھے اب نہائے دھوئے نظر آرہے ہیں اور نالہ کہ پچھلی برسات کے بعد خشک چلا آرہا تھا، رواں ہوگیا ہے۔ خوشی کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔ اب اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے صحن میں جو جامن کا پیڑ کھڑا ہے وہ کتنا تروتازہ ہوا ہے۔ گھر پہنچ کر اس نے فضا کو بارش کے حساب سے بدلا ہوا پایا۔ جامن کے بہت سے پتے نیچے گرے پڑے تھے اور گیلی مٹی میں لت پت تھے۔ باقی درخت نہایا دھویا کھڑا تھا‘‘۔ انتظار حسین آخر میں تحریر کرتے ہیں کہ خود اپنی آنکھوں کے سامنے برسات کا نہ ہونا لڑکے کو کس حد تک دکھی کرجاتا ہے۔ انہوں نے کہانی کا معنی خیز آخری جملہ یوں لکھا کہ ’’لڑکے کو خیال آیا کہ وہ بادلوں کی تلاش میں دھوپ اور دھول میں کتنی دور تک گیا اور بادل اس کے پیچھے آئے اور برس کر چلے بھی گئے۔ اس خیال نے اسے اداس کردیا۔ بارش میں بھیگی ساری فضا اسے بے معنی نظر آنے لگی‘‘۔ پاکستان میں 25 جولائی 2018ء کو لوگوں نے عام انتخابات میں ووٹ ڈالے۔ سوچنا یہ ہے کہ لوگ کہیں یہ محسوس کرنا شروع نہ ہو جائیں کہ انتخابات کی اِس جل تھل کا اصل منظر اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی گزر گیا تھا۔

(Visited 32 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *