عرفان تاج دفاعی اتاشی سے ایک ملاقات ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ؔ ۔ دوحہ قطر

کسی ملک میں بھی قائم کردہ سفارت خانہ میں کام کرنے والے ملازمین بشمول سفیر،سیکرٹری،اتاشی،و دیگر عملہ کے فرائض منصبی میں یہ باتیں شامل ہوتی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا،سفارت خانہ اپنے ملک کا نمائندہ ہوتا ہے اس لئے ہوم گورنمنٹ کے پیغامات میزبان ملک تک پہنچانا،تجارت،معاشیات،سائنس اور کلچر کے فروغ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا۔اور اس ملک میں موجود تارکین کے مسائل کا مناسب اور ہر ممکن حل تلاش کرنے میں ممد و معاون ہو کر انہیں بہتر سے بہتر سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنانا،ورک پرمٹ،پاسپورٹ اور دیگر سرکاری ڈاکومنٹس کے سلسلہ میں اپنے شہریوں کی مدد کرنا بھی سفارتخا نہ کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔اگر سفارت خانہ قطر کی بات کی جائے تو مجھے گزشتہ دو سال میں جب بھی کبھی سفارت خانہ کسی کام کی غرض سے یا کمیونٹی کے کسی پروگرام میں شمولیت کے سلسلہ میں جانے کا اتفاق ہوا،ایک شخصیت کو میں نے پیش پیش ضرور دیکھا ہے جن کی زندگی کا مقصد پاکستان اور پاکستانی عوام ہیں۔یہ میرے بہت ہی پیارے دوست عرفان تاج ہیں جو بطور دفاعی اتاشی اپنے فرائض حقیقی کو صحیح معنوں میں سر انجام دے رہے ہیں۔
اسم با مسمیٰ ہیں کہ اپنے منصب کا تاج سر پہ چمکائے علم و شعور اور آگہی کا نور ہر سو اور ہر محفل میں بکھیر رہے ہوتے ہیں،مذہب سے سیاست اور سرحد سے سمندر وہ کون سا ایسا موضوع ہے جو ان کی دسترس سے باہر ہو ۔ہر موضوع کی جزئیات تک دلیل کے ساتھ ایسے گفتگو فرماتے ہیں کہ انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔جیسا کہ میں نے جب یہ پوچھا کہ کیا ہم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل فراہم کرنے میں کامیاب و کامرانی کی طرف جا رہے ہیں کہ نہیں تو جناب نے بچوّں کی پیدائش کے عمل ،ماں کا کردار،باپ کی ذمہ داریاں،بچے کی تربیت میں استاد اور ادارے کا کردار،سن بلوغت میں بچیّ کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مسائل کا فی زمانہ کیا حل تجویز کیا جاسکتا ہے اور پھر بچے کی کیرئیر کونسل تک تمام مراحل کو بتدریج ایسے بیان کیا کہ مجھے تھوڑی دیر کے لئے شک سا ہونے لگا کہ جناب کموڈور ہیں یا کسی تربیتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر۔سرحدوں اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی بات چل نکلی تو پاکستان کے اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات کی موجودہ صورت حال،مسائل اور رکاوٹیں،سمت اور اہداف،شمالی علاقہ جات میں موجود ایجنسیوں کے مسائل اور ان کو کس طرح سے اعتماد میں لیا جاسکتا ہے،جدید اسلحہ کی اہمیت اور کس ملک کے پاس کس قسم کا اور کن ممالک کا مینو فیکچر کیا ہوا اسلحہ موجود ہے ان کی گفتگو کے موضوع تھے۔ترکی کی سیر کی بات چلی تو موصوف نے سلطنت عثمانیہ سے لے کر طیب اردگان تک تمام بادشاہوں،ترکی میں موجود جزائر،نظام تعلیم ،انفرا سٹکچر،انقلابات،اصلاحات،جنگ و امن کے زمانے اور ترکی کے پارک و بازارپر سیر حاصل گفتگو فرما دی۔ایک بار تو سوچ میں پڑ گیا کہ الہی یہ کیا بندہ ہے بلکہ چلتا پھرتا ایک ورلڈ انسائیکلو پیڈیا ہے کہ بس ایک کمانڈ دینے کی ضرورت ہے اور پھر گوگل کی طرح سب معلومات آپ کی دسترس میں ہوگی۔عرفان تاج کی کثیر پہلو شخصیت کی دو خوبیاں جن سے میں بہت متاثر ہوا کہ ایک تو صدا بہار ہنستا مسکراتا چہرہ،کہ میری ان سے جب بھی ملاقات ہوئی انہیں میں نے ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ہی ملتے دیکھا ہے اور ان کی شخصیت کا دوسرا اہم وصف کہ ہر منفی بات سے بھی مثبت جواب تلاش کرنے کا ان کو فن آتا ہے۔اس لئے کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر انسان کے اندر اللہ نے منفی اور مثبت دونوں کمال رکھے ہیں تو پھر ہمیں اس خوبی کا استعمال بکمال کثرت کرنا چاہئے جن سے انسان اور انسانیت کا بھلا ہو اور وہ ہے مثبت سوچ،ہم اگر چاہیں تو ہم اپنے ارد گرد مثبت سوچ کے جال سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جس سے بہت سی وہ پریشانیاں جن کا سرے سے وجود ہیں نہیں ہوتا ان کو کم کر کے انسانوں کی سوچ میں تبدیلی اور عمروں میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں،کیا مثبت رویہ ہے؟۔عرفان تاج سے ملاقات کے بعد میرا اس نتیجہ پہ پہنچنا فطری عمل تھا کہ ہمیں اپنے حصہّ کے مثبت رویہ سے معاشرہ کو بدلنے کا عزم کر لینا چاہئے۔ اسی میں ہی معاشرہ کی اور ملک کی بہتری ہے۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *