اس سے بہتر گواہی کیا ہو سکتی ہے ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

جب سے الیکشن ہوئے ہیں ہارنے والوں نے ایک طوفان برپا کر رکھا ہے عمران خان کی طرف سے چار حلقے کھولنے پر بھی اعتراض اٹھانے والے جن کو 2013 کے الیکشن پر بات کرنا بھی ناگوار لگتا تھا اور ہر بات کو وہ جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیتے تھے اب پورا الیکشن ہی الٹانے کے درپے ہیں اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس کا زمہ دار بھی آرمی کو ٹھیرایا جا رہا ہے جس کا ہر پولنگ اسٹیشن پر صرف ایک سپاہی اندرتھا ایک باہر اس کے علاوہ وہ کسی قسم کی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے اس بات کی گواہی تو جناب ضیا شاہد بھی دے چکے ہیں کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے پر امن اور شفاف الیکشن تھے یعنی ایوب خان دور سے لے کر اب تک کے جتنے بھی الیکشن ہوئے اور اس بار تو تصادم کا خطرہ بھی بہت زیادہ تھا دشمن قوتیں پوری طرح سر گرم تھیں لیکن ہماری افواج کے عزم و ارادے کے آگے ریت کا ڈھیر ثابت ہوئیں
نائلہ شاہد نامی ایک ٹیچر جنھوں نے ایک پولنگ اسٹیشن پر پولنگ ایجنٹ کے فرائض سر انجام دیئے انہوں اپنے اس تجربے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے گو الیکشن ڈیوٹی ان کا پہلا تجربہ نہیں تھا وہ گذشتہ بیس سال سے یہ ڈیوٹی ادا کرتی آئی ہیں لیکن پہلی بار انہوں نے اس تجربے کو الفاظ کا رنگ دیا ہے شائد اس بار وہ بھی کسی خوف کے اثر سے باہر آ گئی ہیں اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہونگی کہ ہم نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا کوئی بد امنی یا بد نظمی نہیں تھی ایک فوجی باہر گیٹ پر تھا ایک اندر باکسز کے پاس بیٹھا تھا نہ اس کی توجہ ڈیڈھ درجن کے قریب زنانہ پولنگ عملے کی طرف تھی نہ وہ آتی جاتی عورتوں کو گھور رہا تھا ایک خاتون نے اپنی والدہ کو گائڈ کرنے کے لیے پولنگ بوتھ جہاں مہر لگائی جاتی ہے وہاں ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی اس سپاہی کی آنکھوں میں بے چینی کا رنگ ابھرا اس نے نفی میں سر ہلایا اور بڑی تمیز سے کہا آپ ان کو ادھر ہی سمجھا دیں ساتھ نہیں جا سکتیں جس طرح پولیس کو دیکھ کر ایک ڈر کا احساس ہوتا ہے اسی قدر ایک فوجی کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے یہ بات آپ بہت سے لوگوں کے منہ سے سنیں گے اب آتے ہیں ٹیچر کے تجربے کی طرف وہ کہتی ہیں یہ ڈیوٹی کرنا جس قدر بیس سال پہلے تکلیف دہ تھا اتنا ہی تکلیف دہ آج بھی ہے اگر ہمیں چوائس دی جائے تو ہم کبھی یہ ڈیوٹی سر انجام نہ دیں لیکن چونکہ ہم گورنمنٹ کے ملازم ہوتے ہیں یہ ہماری مجبوری ہوتی ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ اپنے فرائض پوری ایمانداری اور دیانت سے نبھائیں ان مشکلات کا ذکر کیئے بغیر جو ان اساتذہ کو اٹھانی پڑتی ہیں وہ لکھتی ہیں ہدایات کے مطابق ہم صبح اپنے پولنگ اسٹیشن پہنچے تاکہ اپنے بوتھ قائم کر کے 8 بجے
صبح پولنگ کا آغاذ کر سکیں انتخابات فوج کی زیر نگرانی کرائے جا رہے تھے ہر اسٹیشن پر موجود (غالباً صوبیدار ) کی زمہ داری تھی کہ وہ بیلٹ باکسز پہ نظر رکھے اگر کوئی غیر معمولی سر گرمی دیکھے تو اس کی نشاندہی کرے ضرورت محسوس کرنے پر وہ اپنے افسران کو فوری رپورٹ کر سکتا تھا
تاہم وہ ہمارے کام میں براہ راست مداخلت بالکل نہیں کر سکتا تھا اس طرح پہلی دفعہ ان انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ہمیں اون کیا اور ہم سے براہ راست رابطہ رکھا کسی بھی غیر معمولی صورت حال پر ہماری آواز فوری سنی گئی ووٹروں کی قطاریں بنوانا اور امن و امان قائم رکھنا پولیس کی زمہ داری تھی نگرانی کے لیے وہاں بھی فوج کے جوان موجود تھے یہ تفصیل اس لیے بیان کرنا پڑی کہ واضح ہو سکے فوج کی نگرانی سے کیا مراد ہے سوشل میڈیا پر کچھ تصویریں گردش کر رہی ہیں جن کے متعلق نہ جانے کیوں ایسے تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ جیسے کہ پولنگ کا سامان فوجیوں نے اپنے قبضے میں لے رکھا تھا اپنی مرضی کا مطلب پہنانا ہو تو اور بات ہے ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے سامان کھلنے سے پہلے بھی نگرانی کے لیے فوج کے جوان ڈیوٹی پر موجود تھے جب ہم نے سامان اسٹیشن پہنچایا تو بھی متعلقہ فوجی عملہ ساری رات حفاظت کے لیے وہاں موجود رہا واضح رہے کہ خواتین عملے کو رات رہنے سے استثنا تھا جبکہ مرد عملے نے رات اپنے سامان کے ساتھ ہی گذارری میں جس پولنگ اسٹیشن پر فرائض سر انجام دے رہی تھی یہ لاہور کا گنجانّ باد علاقہ تھا شروع میں رش بالکل نہیں تھا لیکن بارہ بجے کے بعد ووٹر اس طرح آئے کہ ہمیں پلک جھپکنے کی فرصت نہیں ملی شام چھ بجے تک بہت رش تھا ہمیں اطلاع مل چکی تھی کہ الیکشن کمیشن نے اوقات میں اضافے سے انکار کر دیا ہے پانچ منٹ پہلے بلند آواز میں اعلان کر کے ووتر کو اندر بلا لیا گیا حالانکہ پولنگ چھ بجے بند ہو گئی تھی ووٹر ختم نہ ہوئے تھے
میرے اسٹیشن پر بہت رش تھا آٹھ بجے کے قریب آخری ووٹر نے ووٹ ڈالا کاش ہمارا میڈیا کسی بات کا مثبت رخ بھی دیکھنا اور دکھانا سیکھے
آپ دو گھنٹوں میں ہی شور مچانے لگ گئے کہ نتائج میں تاخیر کی جا رہی ہے تاخیر؟؟؟۔
اللہ کے بندو میرے تین بوتھ تھے میری کیی کولیگ کے چار پانچ اور مرد افسران کے تو چھ بھی تھے تین بوتھ کے چھ بیلٹ باکسز کو امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کے سامنے سیل کرنا اور ان سب کو سیلز کے نمبر نوٹ کروانا صبح جو سیلز لگوائی گئی تھیں ان کے نمبر دوبارہ میچ کروانا اس سارے عمل پر ایجنٹوں کے اظہار اطمنان کے بعد ایک ایک ڈبے کی تمام سیلز توڑنی ،سب کے سامنے ایک ایک کر کے تمام ڈبے خالی کرنا ،برامد ہونے والے بپلٹ پیپر کا ٹوٹل گننا ،ہر امیدوار کے ووٹ الگ کرنا ،گنتی سے خارج کیے جانے والے ووٹوں کے متعلق واضح کرنا کہ کیوں خارج کیے جا رہے ہیں دوبارہ گنتی جو لوگ کرتے ہیں ان کے پاس فیصلے کا اختیار ہوتا ہے اور امیدوار بھی موجود ہوتے ہیں اس کے بعد تحریر کا مرحلہ آتا ہے فارم 45 جس کا اتنا شور مچایا جا رہا ہے اس پر ہم نے مستند نتیجہ درج کر کے اس کی کاپیاں بھی تیار کرنی ہوتی ہیں اس مستند نتیجے پر میرے اور میری سینئر اسسٹنٹ پریزائڈنگ کے دستخط، نشان انگوٹھا اور قومی شناختی کارڈ کا نمبر درج کیا جاتا ہے ظاہر ہے میں اس فارم کو تب ہی فل کرونگی جب ہر طرح سے گنتی اور اس گنتی کے گوشوارے کے متعلق اطمنان کر لونگی اب اس میں جتنا بھی وقت لگے میری زمہ داری یہ ضرور ہے کہ جلد از جلد نتیجہ تیار کروں لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ مستند نتیجہ تیار کروں اس کے لیے مجھے ہر طرح کا اطمنان کرنا تھا آپکو یہ تفصیل پڑھتے بھی وقت لگ رہا ہوگا یہ عمل تین قومی تین صوبائی بیلٹ باکسز کے لیے کیا گیا اب مستند نتیجہ تیار ہو گیا (اتنی آسانی سے بالکل نہیں جتنی آسانی سے یہ جملہ لکھا جارہا ہے )اب اس کو آر ٹی ایس کرنا ہے آپ کا خیال ہے آر ٹی ایس کیا ہے؟کاغذ کی تصویر ہی تو کھینچ کر الیکشن کمیشن کو بھیجنی ہے جی نہیں یہ اتنی سادہ بات ہرگز نہیں تصویریں کھینچیں ان میں سے بہترین کا چناؤ کیا جب ہم تصویر اپلوڈ کرتے ہیں تو وہاں ساری تفصیل پھر سے لکھنی ہوتی ہے یعنی میرے اسٹیشن پر بارہ امیدوار تھے اب چاہے کسی کا صفر ووٹ ہے مجھے نہ صرف فارم 45پر اس کا مکمل اندراج کرنا ہے بلکہ آر ٹی ایس میں بھی ہر امیدوار کے نام کے ساتھ حاصل کردہ ووٹ درج کرنے ہیں اس میں بھی قومی و صوبائی دونوں اندراج مکمل ہوتا ہے تب کہیں جا کر ٹرانسمٹ کا بٹن دبانے کے قابل ہوتے ہیں اس تمام اندراج کے دوران کہیں غلطی ہو جائے تو سارا عمل نئے سرے سے دہرانا پڑتا ہے الیکشن کمیشن نے انتخابات سے پہلے ٹریننگ کا انتظام کیا تھا اس میں کوئی شک نہیں ٹریننگ بہت عمدہ تھی گنتی کے وقت ہر امیدوار کے ایک ہی پولنگ ایجنٹ کو اجازت دی جا سکتی ہے موجود رہنے کی فارم 45کے لیے ظاہر ہے انہیں کام ختم ہونے کا انتظار کرنا تھا اور انہیں یہ انتظار بہت برا لگتا ہے اس وجہ سے اکثر مقامات پر کافی مسائل ہونے پر پریزائڈنگ مجبور ہے اس لیے زیادہ شور مچانے والوں کو سادہ کاغذ پر نتائج دینے کی پیش کش کرا ہے کئی ایجنٹس خود بھی سادہ کاغذ کے نتیجے کو کافی سمجھتے ہیں مجھ پر پریشر بڑھا تو میں نے بھی یہی آفر کی کہ سادہ کاغذ پر لو اور مجھے لکھ کر دو کہ اپنی مرضی سے سادہ کاغذ پر نتیجہ وصول کیا اس پر جو ایجنٹس سادہ کاغذ پر نتیجہ لے گئے وہ کبھی اقرار نہیں کرتے یہ ان کی اپنی چوائس تھی ظاہر ہے بہت آسان ہے پریزائڈنگ کو زمہ وار ٹھیرانا ۔۔۔میں نائلہ شاہد کی تحریر کو بہت اختصار کے ساتھ پیش کر رہی ہوں اور میرا خیال ہے اخبار کو یہ تحریر ضرور چھاپنی چاہییعوام کو تو پتہ ہی نہیں ان کے ووٹ کی کیا اہمیت ہے اس میں قوم کا اربوں روپیہ اور وقت لگتا ہے عملے کو کن کن جانگسل مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے ایسے میں جب دھاندلی اور دوبارہ الیکشن کا شور اٹھتا ہے تو لوگ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گھر جاتے ہیں ان محترمہ کے مطابق اس بار بہت کچھ بہتر تھا سب سے بڑھ کر لوگوں میں شعور آ چکا ہے ہاتھ میں موجود پرچی کی ویلیو سے گھریلو خواتین بھی آگاہ ہو چکی ہیں اس بار ٹرن آؤٹ بھی بہتر تھا اور ہاں نتائج بدلنے کا کسی کو شوق نہیں تھا نہ کسی نے اس سطع کا رابطہ کیا اس لیے دھاندلی کا شور مچانے سے بہتر ہے نتائج قبول کیجیے اور آگے بڑھیے نفرتوں میں گھرے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔۔۔پی ٹی آئی کو جیت مبارک! ۔

(Visited 19 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *