عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ (طنز و مزاح) ۔۔۔ مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر

ایام جوانی میں جب ہم نے یہ شعر پڑھا تو تادیر یہی خیال کرتے رہے کہ اسے دو شاعروں غالب اور آتش نے مل کر لکھا ہے،بعد از عقد، یہ عقدہ کھلا کہ نہیںیہ دو نہیں بلکہ ایک ہی شاعر کی کارروائی ہے۔کیونکہ آتش لگانے کے لئے دو شاعر نہیں بلکہ ایک بیوی ہی کافی ہوتی ہے۔شاعر دو ہی کام کرتے ہیں خوبصورت گل اندام سے واسطہ ہو تو خود کو جلاتے ہیں اور ہم عصر شاعروں کا سامنا ہو تو انہیں جلاتے ہیں۔بقول جالب’’ؔ مجھے اتنا ٹارچر پولیس والوں نے نہیں کیا جتنا کہ شاعروں نے کیا‘‘ان شاعروں کے نام تو منظر عام پہ نہیں آ سکے البتہ جالبؔ کی شاعری سے جلنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ حسد کی بوُ کتنی بد بو دار ہوتی ہے۔ایک بار میرا تحقیق کرنے کو دل چاہا کہ پتہ کیا جائے کہ غالبؔ اور آتشؔ میں سے کون قد آور شاعر ہے لیکن دونوں کی ایک ساتھ تصویر کی عدم دستیابی سے یہ تحقیق پایہ تکمیل نہ ہو سکی۔ویسے غالبؔ کی شخصیت کے حوالے سے جو بھی تحقیق کی جائے حاصل جمع کسمپرسی،افلاس اور لاچارگی ہی نکلتا ہے۔کیونکہ غالبؔ نے ساری زندگی نہ کچھ جمع کیا اور نہ حاصل۔آج کل کسی بھی اچھے شاعر کو اگر غالبؔ سے تشبیہ دی جائے تو وہ فوراً اپنا ظاہری حلیہ دیکھنا شروع کر دیتا ہیے کہ شائد میں بھی غالبؔ کی طرح مفلس و لاچار نظر آتا ہوں۔غالبؔ کے ساتھ اصل میں گھر والوں نے کچھ ایسا ہاتھ کیا کہ اسے کسی حال کا نہ رہنے دیا یعنی نو عمری میں ہی ان کو شادی کی عمر قید سنا دی گئی جس کا تذکرہ وہ ہمیشہ اپنے خطوط میں کرتے رہے۔ یعنی
اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیئے
غالبؔ کو اس بات کا افسوس ہمیشہ رہا کہ نوعمری میں ہی انہیں رشتہ ازدواج میں باندھ دیا گیا اور جب شادی کی عمر کو پہنچے تو شادی میں کوئی مزہ باقی نہ رہا۔اسی لئے انہوں نے اپنی شاعری سے یا تو دوسروں کو مزے دیے ہیں یا ہنستے بستے گھروں کو شاعری کی آتش میں ایسے جلایا کہ
نہ’’ جنوں‘‘ رہا نہ’’ پری‘‘ رہی
غالبؔ نے ساری زندگی مشاعرہ پڑھا ،کرایہ کے مکان میں مقیم رہے اور ایک ہی بیوی پہ قناعت و توکل رکھا،مزے کی بات یہ ہے کہ ساری زندگی نہ گھر کا کرایہ دیا اور نہ بیوی کو طلاق دی۔کہتے ہیں غالبؔ سے باوجود چاہنے کہ نہ بادہ خوری چھوٹی ،نہ بیوی۔خود پسندی غالبؔ کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،اتنا ہم عصر شعرا انہیں پسند نہیں کرتے تھے جتنا وہ اپنے آپ کو خود پسند کرتے تھے۔اپنے آپ کو نواب آف لوہارو خاندان کا چشم و چراغ بتاتے تھے۔صرف بتاتے ہی نہیں تھے عادات و شوق بھی نوابوں جیسے ہی تھے اسی لئے ساری زندگی کوئی کام نہیں کیا،ادھار پہ گزارہ کیا،جس سے لیا اسے واپس نہیں کیا،ہوئی نا ،نوابوں والی خصلت۔
شادی کے بعدمرد کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقی خوشی کیا ہوتی ہے ؟اور عورت کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب اسے سہاگ رات کو ہی پتہ چل جائے کہ اس کا خاوند ایک شاعر ہی نہیں بلکہ صاحبِ دیوان شاعر ہے۔صاحب دیوان سے ایک بات یاد آگئی کہ کسی شاعر کے ہاں ایک چور نے نقب لگائی،عین موقع پہ پکڑا گیا،چور نے بہت منت سماجت کی کہ خدارا مجھے چھوڑ دیں کیونکہ میں آج ہی جیل سے رہا ہو کر آیا ہوں تو شاعر نے چور کو اس شرط پہ رہائی دینے پہ راضی کرلیا کہ اگر وہ میرے شعر سنے گا تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔جب چور دو تین غزل سنا چکا تو اس نے پوچھا کہ بھائی میاں ایسی کتنی اور غزلیں مجھے سننی پڑیں گی تو شاعر میاں نے ایک طاق سے اپنا دیوان اٹھایا ،اسے جھاڑا اور کہا کہ یہ سب،چور آہستہ سے اٹھا ،شاعر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا کہ خدا را مجھے تھانہ چھوڑ آئیں مجھ سے یہ دیوان نہ سناجائے گا۔۔۔۔ایسے ہی ایک شاعر کی بیوی سے کسی نے شادی کے تین چار سال بعد پوچھا کہ سناؤ تمہیں کیا ہوا ہے؟(اشارہ اولاد ہونے کی طرف تھا)بیوی نے جھلاتے ہوئے کہا کہ ’’دو شاعری کے دیوان اور ایک افسانوی مجموعہ‘‘ویسے بھی شادی کے بعد مرد کا عشق ختم ہو جاتا ہے اور خرچے شروع ہو جاتے ہیں۔جبکہ شادی کے بعد عورت کا عشق خرچ کروانے سے ہو جاتا ہے۔
میرے ایک دوست ہمدانی صاحب غالبؔ شناسی اور غالبؔ فہمی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ایک بار ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو فرزندان کی نستعلیق اور مسجع و مقفیٰ گفتگوسن کر بہت خوشی ہوئی،ابھی تحسین آمیز نظروں سے ہمدانی صاحب کو دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ از خود گویا ہوئے کہ’’بس جی غالب ؔ و اقبالؔ کا فیض ہے‘‘۔
سنتے ہی حیرانی ہوئی اور پوچھ بیٹھا کہ جنابِ من میں تو ان بچوں کو آپ کا ’’فیض‘‘سمجھ رہا تھا مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔الٹی گنگا کو سیدھا کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے کہ کسی کی ’’ساری‘‘ کی طرف دھیان مت دو،آپ کے پاس جو آدھی ہے اس پہ گزارہ کرنا سیکھ لو زندگی آسان ہو جائے گی۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *