عشق آتش …..ثمینہ طاہر بٹ

’’ انزلہ۔!! پھر کیا سوچا تم نے۔؟ ابھی بھی تمہارے دل میں اسکی کوئی جگہ ہے، یا پھر اس کی اس ’’مہربانی ‘‘ کے بعد تمہاری عقل کچھ ٹھکانے آئی ہے۔؟ ‘‘ وہ اپنے خیالوں میں گم نڈھال سی لیٹی تھی کہ اس کی پھپھو نے اسکا بازو ہلاتے ہوئے اسے خیالی دنیا سے باہر نکال پٹخا تھا۔
’’ پتا نہیں پھپھو۔!! میری سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آرہا۔میں نے اپنی ساری زندگی زعیم کے نام کر دی تھی۔ اپنی ساری محبتوں کا مرکز صرف اسے ہی بنایا تھا، مگر شاید میرے جذبے ہی ناخالص تھے کہ اس ستمگر پر کوئی اثر ہی ہوا۔‘‘ اس کے دل کا درد آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے بہہ نکالا تو پھپھو کو جیسے آگ ہی لگ گئی۔ وہ سخت غصے میں جو زعیم اور اسکے گھر والوں کو بولنا شروع ہوئیں، تو پھر رکنے کا نام ہی نہیں لیا۔ انزلہ آنکھیں موندے، آنسو بہاتی انکی بڑبڑاہٹیں سنے جا رہی تھی کہ شاید اب یہی اسکی قسمت تھی۔
*. * *
انزلہ نے ابھی سولہویں سِن میں قدم رکھا ہی تھا کہ اسے خاندانی رسم ورواج پر قربان کر دیا گیا۔ اس کے بڑے بھائی حسام کی شادی انکی پھپھوزاد حمرہ سے ہو چکی تھی۔ حسام اور حمرہ کے دو بچے تھے۔ دادی کی ان بچوں میں جان تھی اور یہ بات حمرہ بھی اچھی طرح جانتی تھی اور اسکے گھر والے بھی۔ انزلہ کی پھپھو ایک شاطر اور لالچی قسم کی عورت تھیں۔ انہوں نے بہت ہوشیاری سے حسام کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا۔ وہ ویسے بھی سادہ مزاج اور بے ضرر قسم کا انسان تھا اس لیئے اسے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ پھپھو اور حمرہ نے اس کے ارد گرد کیسا جال بن رکھا ہے۔ حمرہ کا بڑا بھائی زعیم انتہائی لاپرواہ اور نکما انسان تھا۔ باپ دادا کی چھوڑی بیشمار جائیداد تھی جس کے لاکھوں کی صورت میں آنے والے کرائے اسکے اخلاقی بگاڑ کا اور زیادہ سبب بنے تھے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں چاروں شرعی عیب بھی پیدا ہوتے چلے گیئے اور اسپر اس کا مزاج جو ہمیشہ سوا نیزے پر سوار رہتا۔ ان سب عوامل نے مل کراسکی ماں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھیں ان کے بیٹے کی یہ خراب شہرت دور دور تک پھیل چکی ہے اورایسے میں اسے خاندان میں تو کوئی رشتہ ملنے سے رہا، اور اگر وہ یعنی کہ زعیم خود کسی راہ چلتی کو لا کر انکے سر پر بٹھا دے تو ان کا کیا بنے گا؟ اسی سوچ نے انکی راتوں کی نیند ہی اڑا دی۔
* * *
’’ باقر۔!! انزلہ کو چپ چاپ میری بیٹی بنا دو۔ میں اپنی جھولی پھیلا رہی ہوں۔ میری خالی جھولی میں انزلہ کی بھیک ڈال دو بھائی۔ تمہیں خدا کا واسطہ، مجھے خالی ہاتھ مت لوٹانا۔‘‘ پھپھو نے بہت سوچ بچار کے بھائی ، بھابھی کے سامنے جھولی پھیلا دی۔ بھابھی تو جانے کیوں بیحد خوش ہو گئیں ، مگر بھائی کے تو جیسے پیروں سے لگی اور سر پر جا بجھی۔
’’ آپا۔!! یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔؟ میری انزلہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے۔ صرف سولہ سال کی اور تمہارا بیٹا اس سے دوگنی عمر کا۔ تم خود سوچو آپا انزلہ اور زعیم کا کیا جوڑ بنتا ہے بھلا۔؟ کہاں میری حافظ قران، صوم و صلواۃ کی پابند معصوم بیٹی اور کہاں تمہارا نکما اور آوارہ مزاج بیٹا۔ نہیں آپا نہیں۔ مجھے یہ رشتہ بالکل بھی منظور نہیں۔‘‘ باقر صاحب نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بہن کو ٹکا سا جواب دے دیا ۔ مگر یہ جواب انکے ساتھ ساتھ انکی پوری فیملی کو بہت مہنگا پڑا۔ حمرہ نے جو ماں اور بھائی کی یہ انسلٹ دیکھی تو انکی حمائت میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ حسام تو ویسے ہی نوکری کے سلسلے میں بیرونِ ملک جا چکا تھا، سو اسے خوب کھل کھیلنے کا موقع ملا اور وہ ساس سسر سے لڑ جھگڑ بچوں کے آگے لگائے اپنی ماں کے ساتھ ہی چلی گئی۔
’’ دیکھو باقر۔!! تم بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ کیوں بیٹی کی خاطر بیٹے کا گھر برباد کرنے پر تلے ہو۔ اور پھر ہمارے خاندان میں یہ کونسا پہلی بار ہونے جا رہا ہے۔ یہ وٹہ سٹہ تو ہماری خاندانی ریت ہے۔ تم اس کے خلاف جانے کی ضد کیوں کر رہے ہو باقر۔؟ مان جاؤ اور خوشی خوشی انزلہ اور زعیم کی بات پکی کر دو۔‘‘ باقر صاحب نے تو اپنی طرف سے بات سنبھال لی تھی، مگر یہ بات اب اتنی جلدی سنبھلنے والی نہ تھی۔ سو بڑھتے بڑھتے اتنی پڑھی کہ خاندانی پنچائت بٹھانی پڑی اور پھر ہمیشہ کی طرح خاندانی روایات جیت گئیں اور بیٹی کا نصیب ہار گیا۔
* * *
انزلہ نے اپنی پوری زندگی بہت سادگی اور پاکیزگی سے گذاری تھی۔ سوائے باپ اور بھائی کے اس نے کبھی کسی تیسرے مرد کو قریب سے دیکھا ہی نہ تھا۔ اب جو اس کی زندگی میں زعیم آیا اور وہ بھی شوہر کی صورت تو وہ، اس کی دیوانی ہی ہو گئی۔زعیم نے بہت جلد اسے قابو کر لیا۔ اب انزلہ اس کی نگاہوں سے دیکھتی اور اسکی ہی زبان بولتی تھی۔ وہ زعیم کے عشق میں اتنی اندھی ہوتی چلی گئی کہ اس نے اپنے سارے حقوق بھی فراموش کر دئے جو اسے اسلام نے عطا کیئے تھے۔ ان کی شادی کو دس سال بیت چکے تھے اور ان گذرے دس سالوں میں تقدیر نے انکی جھولی میں پانچ پھول جیسے بچے ڈال دیئے تھے۔چار بیٹیاں اور ایک بیٹا۔
کہتے ہیں کہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی بڑے سے بڑے طرم خان کے بھی شانے جھک جاتے ہیں، مگر زعیم شاید سب سے ہی نرالا باپ تھا کہ بیٹیوں کی کھیپ ہونے کے باوجود بھی خود کو رتی برابر بھی تبدیل نہ کر پایا تھا اور اس کی یہی حرکتیں باقر صاحب کو ہولاتی رہتیں تھی۔ ایک باپ ہونے کے ناطے انہوں نے جب بھی اپنی بیٹی کے حق میں آواز اٹھانی چاہی، انہیں ہر طرف سے شدید مخالفت اٹھانی پڑی اور اس میں ناصرف انکی بہن اور بھانجا بھانجی شامل ہوتے، خود انکی بیگم بھی پیش پیش ہوتیں تھی۔ باقر صاحب ان مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی شاید حوصلہ نہ ہارتے ، اگر انزلہ ایک فیصد بھی ان کا ساتھ دے پاتی تو۔ ان کی ہزار کوششوں کے باوجود بھی زعیم کا ساتھ چھوڑنا تو دور کی بات، اس کے خلاف کچھ سننے کو بھی تیار نہ ہوتی تھی۔اور یہی بات باقر صاحب کو سب سے زیادہ پریشان کرتی تھی۔ حسینہ ان کی چھوٹی بہن تھی اور وہ شروع دن سے ہی انکی ہمنوا تھی۔ مگر جہاں باقر صاحب کی ایک نہ چل سکی تو حسینہ بیچاری کو کوئی کیا سنتا ۔ ’’ انزلہ۔!! بیٹی، کیوں اپنی زندگی برباد کر رہی ہو۔؟ کیا تم جانتی نہیں کہ وہ زعیم کا بچہ کیا کیا کرتا پھر رہا ہے اور تم ہو کہ۔۔۔!! ’’
’’ بس پھپھو۔!! میں نے کہہ دیا ناں۔ میں ان کے خلاف کوئی بات نہیں سنوں گی۔ مجھے اپنے رب پر اور اپنی محبت پر پورا پوار یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ زعیم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر میری طرف واپس آ جائیں گے اور پھر کبھی کہیں نہیں جائیں گے۔ دیکھ لیجئے گا آپ۔ ایک دن ایسا ضرور ہوگا انشااللہ۔‘‘ اس نے حسینہ پھپھو کی بات کاٹتے ہوئے کچھ اس طرح سے کہا کہ وہ سوائے اسے دیکھنے کے اور کچھ بھی نہ کر سکیں۔
’’ ٹھیک ہے بیٹا۔!! میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ تمہارے من کی مراد پوری کرے۔‘‘ حسینہ نے دل کی گہرائیوں سے اسے دعا دیتے ہوئے کہا ۔ لیکن کچھ دعائیں شاید قبول ہونے کے لیئے ہوتی ہی نہیں۔ اسی لیئے نہ تو حسینہ کی دعا پوری ہوئی اور نہ ہی انزلہ کا یقین پایا تکمیل کو پہنچا، اور وہ زعیم کے ہاتھوں بری طرح پٹ کر جان کنی کے عالم میں ہسپتال جا پہنچی ۔اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ساس کی فرمائیش پر دوسرا بیٹا پیدا کرنا چاہا، مگر الٹرا ساؤنڈ رپورٹ میں پانچویں بیٹی کی آمد کی نوید مل گئی۔ زعیم کو تو شاید کوئی فرق نہ پڑتا کہ اسے پہلے چار بیٹیوں سے کونسی انسیت یا نفرت تھی کہ پانچویں کے آنے پر خوشی یا ڈکھ کا احساس ہوتا، مگر بھلا ہو پھپھو اور حمرہ کا ، جنہوں نے یہ پانچواں ’’ پتھر ‘‘ زعیم کی طرف آنے سے پہلے ہی واپس انزلہ کی طرف لڑکھا دیا۔ زعیم نے اسے ابارشن کا حکم دیا اور یہ واحد بات ایسی تھی کہ وہ مر کے بھی نہیں مان سکتی تھی۔ بس، پھر اسکی پاداش میں اسے جیتے جی مرنا پڑا تھا۔ پھپھو نے اسے جانے کھلایا کہ اس کی حالت ہی بگڑ گئی۔ بیہوش ہونے کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ اسے کسی اچھے ہسپتال پہنچایا جاتا، مگر پھپھو نے اپنا گناہ چھپانے کے لیئے محلے کی دائی کو گھر ہی بلا لیا۔ اور پھر یہ دائی کا کرشمہ تھا یا پھپھو کہ کارستانی کے انزلہ کی حالت ایسی بگڑی کہ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی ماں کو مطلع کرنا پڑا۔ سوئے اتفاق حسینہ پھپھو بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہیں جب صورتِ حال کا پتا چلا تو وہ اڑتی ہوئی وہاں پہنچی اور پھر بھتیجی کی حالت نے انہیں آگ بگولہ کر دیا۔
’’ انزلہ۔!! یہ تمہارے پاس آخری موقع ہے۔ اگر تم نے اسے بھی گنوا دیا تو، یاد رکھنا ساری زندگی اسکی جوتیوں میں ہی پڑی رہو گی۔ نہ تمہاری کوئی عزت ہوگی اور نہ ہی تمہاری اولاد کی۔ اس لیئے جو بھی فیصلہ کرنا سوچ سمجھ کے کرنا۔‘‘ حسینہ نے اسے ایکبار پھر سمجھایا ۔
’’ پھپھو۔!! میں نے زعیم سے عشق کیا ہے۔ شدید قسم کا عشق۔ وہ مجھے جس حالت میں رکھے میں رہ لونگی۔ لیکن ، اگر اس نے مجھے چھوڑ دیا تو شاید میں دوسرا سانس بھی نہ لے پاؤں۔ اب ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے، مجھے خود سمجھ نہیں آرہا تو میں آپکو کیا بتاؤں۔‘‘ اس کی آنکھوں سے ایک تواتر سے آنسو گر رہے تھے اور حسینہ دم سادھے اس دیوانی کو دیکھ رہی تھیں جس کے عشق کی آتش نے اسکا تن من جلا کر بھسم کر ڈالا تھا، مگر وہ ابھی بھی اپنے محبوب شوہرکے نام کی ہی مالا جپے جا رہی تھی۔
’’ رانجھا رانجھا آکھدی میں آپے رانجھا ہوئی
سدو مینوں رانجھن ماہی، ہیر نہ آکھو کوئی ‘‘
انزلہ نے روتے ہوئے آنکھیں موند لیں اور حسینہ بمشکل خود کو سنبھالتی وہاں سے ہٹ گئیں کہ اب اسکی پھپھو ا ور زعیم کی خالہ ہونے کے ناطے جو بھی کرنا تھا انہوں نے ہی کرنا تھا، اور وہ اچھی طرح سے جانتی تھیں کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ اب ایک پنچایت بٹھانے کا فیصلہ انہوں نے کیا تھا ، جو انہیں اور انکے بھائی کو پوری طرح یقین دلاتی کہ انکی بچی کو بھی ویسا ہی تحفظ عطا کیا جائے گا جیسا کہ حسام کے گھر میں حمرہ کو حاصل تھا۔ اور اس بات کا تو انہیں بھی پورا یقین ہو چکا تھا کہ پنچائت اب جو چاہے فیصلہ کرے، مگر انزلہ کا دیوانہ عشق کم ہونے والا نہیں تھا۔ جلد یا بدیر زعیم نے اسے پھر اپنی لچھے دار باتوں میں الجھا لینا تھا اور ایکبار پھر وہی کہانی دہرائی جانی تھی۔لیکن ان کے دل کے کسی گوشے میں ایک ننھا سا امید کا دیا بھی جل رہا تھا کہ شاید زعیم کو انزلہ کی محبت راس آ ہی جائے۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *