اتحاد اُمت کا داعی ۔۔۔ تحریر : حافظ امیر حمزہ ۔ سانگلہ ہل

ایک اورعالم اسلام کے عظیم مجاہد،قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں لگانے والے، ہر دلعزیز شخصیت، محب عوام ،محب وطن عزیز پاکستان اور شیخ الحدیث۔۔۔ مولانا سمیع الحق شہید رحمتہ اللہ کو امن و امان کے دشمنوں نے گزشتہ روز ان کی رہائش گاہ میں داخل ہو کران کو گھر میں اکیلے پا کر خنجروں کے وار کر کے بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔ جس کی وجہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو کراللہ تعالیٰ کی جنتوں کے مہمان بن گئے۔ آپ رحمتہ اللہ دین اسلام سے محبت رکھنے والوں سے انتہائی محبت و الفت رکھنے والے انسان تھے ، آپ خوش مزاج، مہمان نواز ،ملنسار ،خوش اخلاق اور یک نظریاتی انسان تھے اور اسی کو فوقیت دیتے رہے ۔ ہمیشہ اتحاد امت کے داعی بنے رہے اوراس کے لیے ہر دم کوشاں رہتے اس’’ اتحاد بین المسلمین‘‘ میں انہوں نے کبھی بھی بڑھاپے کو یا کسی بھی مجبوری کو آڑے نہ آنے دیا اور اپنی اس کوشش میں اتنے کامیاب ہوئے کہ مذہبی جماعتوں کے تقریباً تمام قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔
تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں آپ کادل سے عزت واحترام کرتے اور ہر طبقہ آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ آپ ایک نڈر اور مثبت سوچ رکھنے والے انسان تھے ۔ عالم اسلام کو جب بھی کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،چاہے وہ تحفظ حرمین شریفین کا ہو ، حرمت رسول اللہﷺ کاہو، یا دفاع وطن عزیز پاکستان ۔۔۔وغیرہ کا ہو،ہر محاذ پر اس درپیش مسئلہ کے بارے میں آپ بڑے جرأت مندانہ اندازمیں اپنے موقف کا اظہار فرماتے۔
آپ اکوڑہ خٹک میں جامعہ’’ دارالعلوم حقانیہ‘‘ کے مدیر اور اسی جامعہ میں شیخ الحدیث کی مسند پر بھی فائز تھے۔ آپ کی سیاسی اعتبار سے جمعیت علمائے اسلام(س) سے وابستگی تھی اور آپ خود ہی اس کے بانی تھے ،اسی طرح آپ ’’دفاع پاکستان کونسل‘‘ کے چیئرمین بھی تھے۔ مولانا سمیع الحق شہید نے سیاست میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیا جس کے موقف کو حق سمجھا اور پھر اسی کے ساتھ چلتے ہوئے زندگی کے ایام گزارے ، ان سے دینی علوم کا فیض پانے والے شاگرد ہزاروں کی تعداد میں ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں جو کہ اپنے اپنے انداز میں دین حنیف کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ رتبے پر فائز کرے ، لواحقین عزیز و اقارب اور شاگردوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے آمین۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *