جعلی عامل اور ٹونے ٹوٹکے ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب

ہمارے معاشرے کی جاہلانہ اور بدعت پسند رسم وروایات میں سے ایک مصیبت اور دکھ کی گھڑی میں جاہل قسم کے جعلی عاملوں کے پاس جانا اور ان سے ٹونے ٹوٹکے اور تعویزات وغیرہ کروانہ ہو۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ دنیا خوشی و غمی کا آمیزہ ہے ۔ہر خوشی کے بعد غم اور ہر غم کے بعد خوشی کا آنا لازم ہے اور یہ سب اللہ ربّ العزت کی طرف سے ہے لیکن انسان ذرہ سی مشکل پر اس حد تک گھبرا جاتا ہے کہ اللہ سے لو لگانے کی بجائے دوسرے شرکیہ طریقوں سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مثال کے طور پریہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے! انسان امتحان گاہ میں آتا ہے ،امتحان دیتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے ۔ اب کیا اس کاامتحان اللہ عزوجل کی عبادت ہے یا جعلی عاملوں کے پاس جا کر ٹونے ٹوٹکے کروا کر دنیاوی معاملات حل کرنا ہے ؟جوں جوں مسلمان عہد نبوی ﷺ سے دور ہوتے جا رہے ہیں بدعت اور شرک کے قریب ہوتے جا رہے ہیں ۔ہمارا مذہب قبر پرستی نہیں ہے ،بت نہیں ہے ،دنیاوی شخصیت پرستی نہیں ہے دین اسلام تو محض ایک اللہ ربّ ذولجلال کی عبادت کا نام ،نبی کی سنت پر عمل اور صحابہ کا طرزِ عمل ہے۔ اسے ہم جعلی عاملوں تک کہاں گھسیٹ لائیں ہیں؟ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ مشکلات تو انسان نے اپنے لئے خود پیدا کی ہیں ، خود اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رکھا ہے ۔جب ہمارا عقیدہ ہی یہ ہے کہ دینے والے ذات ہی اللہ تعالیٰ کی ہے تو فرض عبادات کے ذریعے اسی سے کیوں نہیں مانگتے ؟ساری مخلوق کو اللہ ربّ العزت نے پیدا کیا ہے اور ساری مخلوق اسی کے تابع ہے،تو ہم کیوں اللہ بزرگ و برتر کی ذات کو چھوڑ کر اس کی تابع دار مخلوق سے مانگنا شروع کر دیتے ہیں ؟۔
یہ کوئی کہانی یا خود سے بنایا ہوا کوئی واقع نہیں ہے بلکہ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کی تصویر ہمارے آجکل کے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ انسان کا انسان سے مانگنا اور اس میں جہالت کی انتہا کر دینا کہ انسان انسانیت کے درجے سے گر جائے۔ روزِ قیامت انسان اللہ بزرگ و برتر کو کیا منہ دکھائے گاکہ جس ربّ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا ،جس ربّ ذولجلال کی عبادت کرنا مقصود تھی جس رب تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا تھا اسی ربّ العزت کو چھوڑ کر،اس کی مخلوق کی ہی پرستش کرنا شروع کر دی ۔جی ہاں ایسے بدعت پسند اور جاہل کمیونٹی مسلمانوں میں موجود ہے اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے خاصی بڑی تعداد میں موجود ہے جو انسان کو خدا کے درجے تک پہنچا دیتی ہے ایسے لاعلم لوگوں کو مسلمان نہیں بلکہ ایک کمیونٹی سے مشابہت دی جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ جس چیز کا اسلام درس ہی نہیں دیتا اس کی پیروی کرنے والے مسلمان ہو ہی کیسے سکتے ہیں ؟یہ بات ایک ایسی کمیونٹی کی ہو رہی ہے جو تھوڑے سے دکھ، مصیبت و تکلیف میں جاہل نما جالی عاملوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں ،نیز معصومیت کی انتہا ہے کہ اپنے تمام مسائل اللہ ربّ العزت کے سامنے رکھنے کی بجائے ان عاملوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ بات زمین جائیداد کی ہو،پسند کی شادی کی ہو ،طلاق کی ہو ، اولاد کا حصول ہو ، جھگڑے و فساد کروانے ہوں ،نرینہ اولاد کے طلبگار ہوں غرض کوئی بھی مسئلہ ہو صرف ان عاملوں کو ان مسائل سے باخبر کر دیں ہر چیز کا حل ان کے ٹونے ٹوٹکوں میں موجود ہوتا ہے ۔
حال ہی میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں انسانیت شرمسار ہو کر رہ گئی ہے ان میں سے ایک واقعہ کا تذکرہ طنزئیہ انداز میں کئے دیتے ہیں کہ ایک عورت کسی جعلی عامل کے پاس دس سال سے اولاد نہ ہونے کا مسئلہ لے کر آتی ہے اور حیرانگی کی بات اسی سال اولاد کی نعمت سے فیض یاب ہو جاتی ہے۔بعدِاذاں ! جب وہ جوڑا دوسرے بچےّ کا خواہشمند ہوتا ہے تو اس کیلئے ڈاکٹر سے رجوع کیا جا تا ہے جس سے سارا خلاصہ سامنے آجاتا ہے کہ عمر کی زیادتی اور کسی پرانے مرض کے لاحق ہونے کی وجہ سے شوہر صاحب نہ پہلے اولاد پیدا کر سکتے تھے ،نہ کر سکتے ہیں اور نہ کر سکیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ دس سالہ مرض لاحق ہونے کی وجہ سے جو بچہّ پیدا نہ ہو سکا وہ ایک سال میں بابا جی کے ٹونے ٹوٹکوں سے کیسے ہو گیا ؟ جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ عورت جہالت کی آڑ میں اپنی عزت اس بابا جی کے ہاتھوں نیلام کر چکی تھی اور وہ بچہّ بھی بابا جی کا ہی تھا ۔اس عورت کی یہ حماقت اسے طلاق تک لے آئی اور اسی طرح نہ وہ دین بچا سکی اور نہ دنیا ۔
صرف یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے یہاں کئی ایسے واقعات ہو رہے ہیں جن میں غیر تعلیم یافتہ لوگ تو ایک طرف تعلیم یافتہ لوگ بھی ملوث ہیں جو اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے اس عاملوں اور بابا نما لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور اپنی عزتیں بھی گنوا کر آجاتے ہیں اور پیسہ بھی۔اس لئے بہترین حل ہی یہ ہے کہ عقیدہ توحید کو مضبوط کیا جائے کیونکہ جب ہم ایک اللہ سے مانگیں گے جو کوئی دعا و فریاد رد نہیں کرتا تو ممکن ہی نہیں کہ ہمیں ان عاملوں ،بابا جی اور ان کے ٹوٹکوں کی ضرورت پڑے۔ اللہ ربّ العزت ایسے لوگوں کو حق پہ چلنے کی تو فیق عطاء فرمائے کہ وہ اپنے ایمان کو ان جعلی عاملوں کے پاس جا کر ضائع نہ کریں ۔۔۔ آمین
نوٹ : جہاں تک میرے علم میں ہے حق بات کو فرقہ پرستی کا روپ دینا غلط ہے۔چاہے کسی مسلمان کا جو بھی مسلک ہو اس بات کو نہیں جھٹلا سکتا کہ عقیدہ توحید ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے اور آجکل کے دور میں جس کا عقیدہ توحید مضبوط ہے وہی ایک سچا مسلمان اور مومن ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرک سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائیں ۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *