چلی ہے رسم کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھا کر چلو ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

موجودہ دور میں ابن سلطان ایک ناپسندیدہ محاورہ ہے۔ ناپسندیدہ اس لئے کہ شاہی طرز حکومت میں بادشاہ کا بیٹا ہی بادشاہ بنتا تھا۔ حکمرانی کے اس پیدائشی حق کو جمہوریت نے چیلنج کیا۔ جمہوریت کی اصل کتاب میں حکمرانی کسی کا پیدائشی حق نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جمہوریت کی الف لیلوی داستانیں ہی ہیں کیونکہ یہاں جمہوریت کی کتاب کے ٹائٹل پر تو جمہوریت لکھا گیا ہے لیکن اندر کے تمام اسباق ابن سلطان کے جدید فارمولوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں سیاسی رہنماؤں کی طرف سے جمہوریت کی اصل کتاب پر عمل کرنے کو اپنی خاندانی شان میں گستاخی تصور کیا جاتا ہے۔ مطلب بہت سادہ ہے کہ اب تک کی تقریباً تمام حکمران سیاسی جماعتیں ابن سلطان کے فارمولے پر من و عن عمل کرتے ہوئے خاندانی قبضے کا شاندار منظر پیش کرتی ہیں۔ تاہم یہ سیاسی جماعتیں عوام کو اپنے پیچھے لگانے اور انٹرنیشنل خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر وقت جمہوریت کا بینڈ بجاتی رہتی ہیں۔ ایک عشرے پہلے تک یہی سیاسی جماعتیں اپنے گریبان پھاڑ کر اونچی اونچی دوہائی کرتی سنائی دیتی تھیں کہ پاکستان کے عوام اس لئے خوشحال نہیں ہوسکے کہ یہاں کبھی جمہوری حکومت کو اپنی مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی۔ سیاسی جماعتیں ساٹھ برس تک مظلومیت کی یہ داستان سنا سنا کر جمہوریت پسندوں کو رلاتی رہیں اور اپنے وجود کی خوراک کے لئے کمائی کرتی رہیں۔ خوش قسمتی سے گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان میں دو جمہوری حکومتوں نے مسلسل اپنا وقت گزارا۔ اس مبینہ جمہوری تسلسل پر یہاں کے جمہوری ابن سلطان اب مبارک بادیں وصول کر رہے ہیں۔ ہمارے عوام کسی بھی خوبصورت نعرے کے پیچھے آسانی سے چل پڑتے ہیں۔ اسی لئے سیاسی جماعتوں کے جمہوری تسلسل کے اس نعرے کو بھی عوام ایک نعمت سمجھ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام اُن ہی پرانے عذابوں کا ویسے ہی اب بھی شکار ہیں جیسے جمہوریت کا موجودہ تسلسل برقرار رہنے سے پہلے شکار تھے۔ نامکمل جمہوری ادوار پر سیاسی جماعتوں کی سابقہ آہ و فغاں کی تشریح کے مطابق موجودہ جمہوری تسلسل کے بعد عوام کو ہرشعبے میں کچھ نہ کچھ ریلیف ملنا چاہئے تھا۔ مثلاً دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم ہوجانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم ہوئی؟ پاکستان کے زیادہ تر بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے نظر آنے چاہئے تھے۔ کیا پاکستان میں زیادہ تر بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں سٹریٹ کرائم، بھتہ، چوری اور ڈاکے کی شرح میں بہت کمی آجانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں سٹریٹ کرائم، بھتہ، چوری اور ڈاکے میں کمی واقع ہوئی؟ پاکستان میں پولیس غیرسیاسی ہو جانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں پولیس غیرسیاسی ہوئی؟ پاکستان کے گلی محلوں کو صاف ستھرا ہو جانا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں گلی محلے صاف ستھرے ہوئے؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں ہسپتالوں کا معیار کافی بہتر ہو جانا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں ہسپتالوں کا معیار بہتر ہوا؟ پاکستان میں جعلی دوائیاں بننے اور فروخت ہونے پر سخت پابندی لگنی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں جعلی دوائیاں بننے اور فروخت ہونے پر سخت پابندی لگ گئی؟ پاکستان میں مریضوں کی شرح بہت کم ہوجانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں مریضوں کی شرح کم ہوئی؟ زیادہ تر پاکستانی صحت مند نظر آنے چاہئے تھے۔ کیا زیادہ تر پاکستانی صحت مند نظر آرہے ہیں؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں بجلی، پانی اور دیگر شہری سہولتوں میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں بجلی، پانی اور دیگر شہری سہولتوں میں اضافہ ہوا؟ پاکستان میں پانی کی خطرناک حد تک کمی پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں پانی کی خطرناک حد تک کمی پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کی گئی؟ کالا باغ ڈیم یا دوسرے چھوٹے بڑے ڈیموں پر عملی کام شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں کالا باغ ڈیم یا دوسرے چھوٹے بڑے ڈیموں پر عملی کام شروع ہوا؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو روٹی کپڑا مکان ملنا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو روٹی کپڑا مکان مل گیا؟ بیرونی دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ کیا بیرونی دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا؟ پاکستان کی بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کو نمایاں فروغ ملنا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان کی بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کو نمایاں فروغ ملا؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستان کے ہنرمند افراد کی مانگ میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ کیا انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستان کے ہنرمند افراد کی مانگ میں اضافہ ہوا؟ پاکستان کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور بیرونی قرضوں سے بہت حد تک نجات مل جانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور بیرونی قرضوں سے بہت حد تک نجات ملی؟ پاکستان میں خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کم ہو جانے چاہئے تھے۔ کیا پاکستان میں خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کم ہوئے؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں روزمرہ کے پریشان کن واقعات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہنی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں روزمرہ کے پریشان کن واقعات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہی؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اتنی میچورٹی آجانی چاہئے تھی کہ کوئی بھی غیرجمہوری طاقت انہیں آپس میں لڑوا نہ سکتی۔ کیا پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں اتنی میچورٹی آگئی ہے؟ سیاست دانوں کو ایک دوسرے پر گالی گلوچ و الزام تراشیاں کرنے اور لوٹا بننے سے باز آکر مہذب ہو جانا چاہیے تھا۔ کیا پاکستان میں سیاست دان مہذب ہوگئے ہیں؟ ایسی بیشمار چھوٹی چھوٹی دلیلیں ہیں جن پر غور کریں تو یہی منطق سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا پودا عوام کے لئے کیکر اور سیاست دانوں کے لئے میٹھے آموں کا درخت ہے۔ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد کیا یہ کہنا کسی حد تک درست نہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا نعرہ صرف عوام کو اپنے ماتحت رکھنے کے لئے لگایا جاتا ہے؟ بادشاہت میں عوام کو تلوار کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں عوام کو جمہوریت کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ عوام کو تسلی میں رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ غیرجمہوری دور سے لولی لنگڑی جمہوریت ہی بہتر ہے۔ کیا عقاب کی چونچ اور پنجے کاٹ دےئے جائیں تو وہ کوے سے بھی کمتر نہیں ہوجاتا؟ بادشاہت میں بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں جمہوریت میں سیاسی پارٹی کے رہنماؤں کی اولادیں ہی رہنما ہوتی ہیں۔ دیکھا جائے تو جمہوریت کی اصل کتاب کا کوئی مخالف نہیں ہے لیکن ہماری سیاسی درسگاہ میں جمہوریت کی جعلی کتاب پڑھائی جارہی ہے جو عوام کی بجائے سیاست دانوں کے فائدے میں لکھی گئی ہے۔ لہٰذا دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد جمہوری ابن سلطانوں کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’چلی ہے رسم کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھا کر چلو‘‘۔ موجودہ دور میں ابن سلطان ایک ناپسندیدہ محاورہ ہے۔ ناپسندیدہ اس لئے کہ شاہی طرز حکومت میں بادشاہ کا بیٹا ہی بادشاہ بنتا تھا۔ حکمرانی کے اس پیدائشی حق کو جمہوریت نے چیلنج کیا۔ جمہوریت کی اصل کتاب میں حکمرانی کسی کا پیدائشی حق نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جمہوریت کی الف لیلوی داستانیں ہی ہیں کیونکہ یہاں جمہوریت کی کتاب کے ٹائٹل پر تو جمہوریت لکھا گیا ہے لیکن اندر کے تمام اسباق ابن سلطان کے جدید فارمولوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہاں سیاسی رہنماؤں کی طرف سے جمہوریت کی اصل کتاب پر عمل کرنے کو اپنی خاندانی شان میں گستاخی تصور کیا جاتا ہے۔ مطلب بہت سادہ ہے کہ اب تک کی تقریباً تمام حکمران سیاسی جماعتیں ابن سلطان کے فارمولے پر من و عن عمل کرتے ہوئے خاندانی قبضے کا شاندار منظر پیش کرتی ہیں۔ تاہم یہ سیاسی جماعتیں عوام کو اپنے پیچھے لگانے اور انٹرنیشنل خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر وقت جمہوریت کا بینڈ بجاتی رہتی ہیں۔ ایک عشرے پہلے تک یہی سیاسی جماعتیں اپنے گریبان پھاڑ کر اونچی اونچی دوہائی کرتی سنائی دیتی تھیں کہ پاکستان کے عوام اس لئے خوشحال نہیں ہوسکے کہ یہاں کبھی جمہوری حکومت کو اپنی مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی۔ سیاسی جماعتیں ساٹھ برس تک مظلومیت کی یہ داستان سنا سنا کر جمہوریت پسندوں کو رلاتی رہیں اور اپنے وجود کی خوراک کے لئے کمائی کرتی رہیں۔ خوش قسمتی سے گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان میں دو جمہوری حکومتوں نے مسلسل اپنا وقت گزارا۔ اس مبینہ جمہوری تسلسل پر یہاں کے جمہوری ابن سلطان اب مبارک بادیں وصول کر رہے ہیں۔ ہمارے عوام کسی بھی خوبصورت نعرے کے پیچھے آسانی سے چل پڑتے ہیں۔ اسی لئے سیاسی جماعتوں کے جمہوری تسلسل کے اس نعرے کو بھی عوام ایک نعمت سمجھ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام اُن ہی پرانے عذابوں کا ویسے ہی اب بھی شکار ہیں جیسے جمہوریت کا موجودہ تسلسل برقرار رہنے سے پہلے شکار تھے۔ نامکمل جمہوری ادوار پر سیاسی جماعتوں کی سابقہ آہ و فغاں کی تشریح کے مطابق موجودہ جمہوری تسلسل کے بعد عوام کو ہرشعبے میں کچھ نہ کچھ ریلیف ملنا چاہئے تھا۔ مثلاً دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم ہوجانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم ہوئی؟ پاکستان کے زیادہ تر بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے نظر آنے چاہئے تھے۔ کیا پاکستان میں زیادہ تر بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں سٹریٹ کرائم، بھتہ، چوری اور ڈاکے کی شرح میں بہت کمی آجانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں سٹریٹ کرائم، بھتہ، چوری اور ڈاکے میں کمی واقع ہوئی؟ پاکستان میں پولیس غیرسیاسی ہو جانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں پولیس غیرسیاسی ہوئی؟ پاکستان کے گلی محلوں کو صاف ستھرا ہو جانا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں گلی محلے صاف ستھرے ہوئے؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں ہسپتالوں کا معیار کافی بہتر ہو جانا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں ہسپتالوں کا معیار بہتر ہوا؟ پاکستان میں جعلی دوائیاں بننے اور فروخت ہونے پر سخت پابندی لگنی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں جعلی دوائیاں بننے اور فروخت ہونے پر سخت پابندی لگ گئی؟ پاکستان میں مریضوں کی شرح بہت کم ہوجانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں مریضوں کی شرح کم ہوئی؟ زیادہ تر پاکستانی صحت مند نظر آنے چاہئے تھے۔ کیا زیادہ تر پاکستانی صحت مند نظر آرہے ہیں؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں بجلی، پانی اور دیگر شہری سہولتوں میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں بجلی، پانی اور دیگر شہری سہولتوں میں اضافہ ہوا؟ پاکستان میں پانی کی خطرناک حد تک کمی پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں پانی کی خطرناک حد تک کمی پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کی گئی؟ کالا باغ ڈیم یا دوسرے چھوٹے بڑے ڈیموں پر عملی کام شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں کالا باغ ڈیم یا دوسرے چھوٹے بڑے ڈیموں پر عملی کام شروع ہوا؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو روٹی کپڑا مکان ملنا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو روٹی کپڑا مکان مل گیا؟ بیرونی دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ کیا بیرونی دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا؟ پاکستان کی بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کو نمایاں فروغ ملنا چاہئے تھا۔ کیا پاکستان کی بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کو نمایاں فروغ ملا؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستان کے ہنرمند افراد کی مانگ میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ کیا انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستان کے ہنرمند افراد کی مانگ میں اضافہ ہوا؟ پاکستان کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور بیرونی قرضوں سے بہت حد تک نجات مل جانی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور بیرونی قرضوں سے بہت حد تک نجات ملی؟ پاکستان میں خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کم ہو جانے چاہئے تھے۔ کیا پاکستان میں خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کم ہوئے؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان میں روزمرہ کے پریشان کن واقعات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہنی چاہئے تھی۔ کیا پاکستان میں روزمرہ کے پریشان کن واقعات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہی؟ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اتنی میچورٹی آجانی چاہئے تھی کہ کوئی بھی غیرجمہوری طاقت انہیں آپس میں لڑوا نہ سکتی۔ کیا پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں اتنی میچورٹی آگئی ہے؟ سیاست دانوں کو ایک دوسرے پر گالی گلوچ و الزام تراشیاں کرنے اور لوٹا بننے سے باز آکر مہذب ہو جانا چاہیے تھا۔ کیا پاکستان میں سیاست دان مہذب ہوگئے ہیں؟ ایسی بیشمار چھوٹی چھوٹی دلیلیں ہیں جن پر غور کریں تو یہی منطق سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا پودا عوام کے لئے کیکر اور سیاست دانوں کے لئے میٹھے آموں کا درخت ہے۔ دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد کیا یہ کہنا کسی حد تک درست نہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا نعرہ صرف عوام کو اپنے ماتحت رکھنے کے لئے لگایا جاتا ہے؟ بادشاہت میں عوام کو تلوار کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں عوام کو جمہوریت کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ عوام کو تسلی میں رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ غیرجمہوری دور سے لولی لنگڑی جمہوریت ہی بہتر ہے۔ کیا عقاب کی چونچ اور پنجے کاٹ دےئے جائیں تو وہ کوے سے بھی کمتر نہیں ہوجاتا؟ بادشاہت میں بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں جمہوریت میں سیاسی پارٹی کے رہنماؤں کی اولادیں ہی رہنما ہوتی ہیں۔ دیکھا جائے تو جمہوریت کی اصل کتاب کا کوئی مخالف نہیں ہے لیکن ہماری سیاسی درسگاہ میں جمہوریت کی جعلی کتاب پڑھائی جارہی ہے جو عوام کی بجائے سیاست دانوں کے فائدے میں لکھی گئی ہے۔ لہٰذا دو جمہوری ادوار میں تسلسل کے بعد جمہوری ابن سلطانوں کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’چلی ہے رسم کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھا کر چلو‘‘۔

(Visited 26 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *