جہالت اور شعور کی جنگ میں جیتے گا کون ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

آجکل جس کو دیکھو وہ مائیک پکڑے جگہ جگہ لوگوں سے ایک ہی سوال کرتا نظر آتا ہے ووٹ کس کو دے رہے ہو ؟۔ جواب میں کوئی پی ٹی آئی کی محبت میں مبتلا نظر آتا ہے تو کوئی شیر کے نعرے لگا دیتا ہے کسی کسی کو بھولی بسری پیپلز پارٹی بھی یاد آ جاتی ہے لیکن جتنا گدھا عوام کو شیر نے بنایا ہے پیپلز پارٹی اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی کیونکہ وہ بحرحال کسی زمانے ایک سیاسی پارٹی تھی اب وہ نون لیگ کے نقش قدم پر چل نکلی ہے پاکستان کا جو حال نون لیگ کر کے گئی ہے وہ سب جانتے ہیں لیکن جہالت زندہ باد ،ایک سڑک پر ایک بس کھڑی ہے جس کی بس ہو چکی ہے مطلب اس میں نہ انجن ہے نہ سیٹیں نہ کھڑکیاں دروازے فقط ایک کھوکھا اور نیچے لکھا ہوا تھا پاکستانیو عمران خان کو پاکستان اس حالت میں ملا ہے ۔ہمارے لوگ بہت جلد پراپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی آنکھیں دیکھتی ہیں کان سنتے ہیں بس ۔۔۔۔دماغ تک بات کم ہی جاتی ہے اس پر سونے پر سہاگہ ہمارا میڈیا اور اب پیش خدمت ہے سوشل میڈیا جس کا پیٹ بھرنے کے لیے اربوں روپے نہ عمران خان کے پاس ہیں نہ آرمی کے پاس نہ عدلیہ کے پاس ،اس ہتھیار سے فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جنہوں نے ملک کو لوٹ کر اپنی جیبیں اور جھولیاں بھر لی ہیں مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں نواز شریف کی صاحبزادی مریم صفدر نے پاک فوج اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف وزیر اعظم ہاؤس میں ایک سیل قائم کیا تھا اس سوشل میڈیا سیل کو پرائیویٹ کمپنی ظاہر کر کے حکومتی سیکرٹ فنڈ سے کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ اس مقصد کے لیے مریم نواز نے یونیورسٹی لیول کے آئی ٹی ایکسپرٹ 60رکنی ٹیم کو خفیہ طور پر بھرتی کیا جنھیں ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ کی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ دیگر مرعات بھی فراہم کی گئیں اس سوشل میڈیا سیل کو نواز شریف کے دور حکومت کے پہلے تین سال وزیر اعظم ہاؤس کے اندر رکھا گیا جہاں نوجوانوں پر مشتمل سوشل میڈیا ٹیم خفیہ طور پر کام کرتی رہی تاہم اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مریم نواز کی مذکورہ ٹیم کو بے نقاب کیے جانے کے بعد نون لیگ کے آخری سال اسے وزارت اطلاعات کے ذیلی ادارے (پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ) پی آئی ڈی میں شفٹ کر دیا گیا تاہم اس سیل کو حکومت کے خفیہ فنڈ سے ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہا نگران حکومت کے قیام کے دوران اس سوشل میڈیا سیل کو اسلام آباد سے لاہور منتقل کر دیا گیا تاہم ساٹھ رکنی ٹیم میں سے پچاس کو فارغ کر کے دس لوگوں کی خدمات جاری رکھی گئیں کیونکہ اب اس سوشل میڈیا ٹیم کو تنخواہیں اور مراعات نون لیگ کی جانب سے جاتی تھیں اس سوشل میڈیا سیل کو گرافکس کی خدمات بھی حاصل تھیں جو نہ صرف فوج اور اپوزیشن کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرتے بلکہ اہم شخصیات خاص طور پر عمران خان کے مضحکہ خیز کارٹون سوشل میڈیاپر اپلوڈ کیے جاتے تھے ۔اب حالیہ اینٹی آرمی مہم بیرون ملک سے چلائی جا رہی ہے جس میں ملک میں موجود کچھ سیاسی گروپس بھی ملوث ہیں پانچ اکتوبر کو ایک جعلی لیٹر وائرل کیا گیا اس طرح کی کئی پاکستان مخالف تھیمز جو پورے ایک سکرپٹ کے تحت لانچ کی جا تی ہیں ان کی تشہیر کو تیز کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں بحرحال اب ایسے سوشل ایکٹیوسٹ انڈر ابزرویشن ہیں اور سائیبر کرائم ایکٹ کے تحت ان کے خلاف کاروائی ہو گی شروع میں میں نے ایک پراپیگنڈے کا ذکر کیا ہے کہ پاکستانیوں کی دکھتی رگ ہے بجلی ،سو اس بجلی کے لیئے لوگوں کو کس طرح بے وقوف بنایا گیا کہا گیا نواز شریف نے تو بجلی پوری کر دی تھی لیکن کیسے؟نہ کوئی ھائیڈل پاور منصوبہ مکمل کیا، نہ کول پاور کا ،نہ ونڈ پاور کا ،نہ کسی ایٹمی نجلی گھر کا ،نہ شمسی توانائی کا ،پھر یہ سوئچ کہاں لگایا تھا جہاں سے بجلی آ رہی تھی ؟جناب وہ تیل سے بجلی بنا رہا تھا دنیا کی سب سے مہنگی بجلی جس کو تھرمل بجلی بھی کہتے ہیں یوں سمجھ لیں وہ جنریٹر چلا رہا تھا یہ وہ بجلی ہوتی ہے جس کا خرچہ امریکہ،انڈیا اور چین جیسے بڑے اقتصادی ممالک بھی نہیں اٹھا سکتے وہ بھی اپنی آدھی بجلی کوئلے اور بقایا پانی سے بناتے ہیں اب ذرا توجہ سے پڑھیں پاکستان میں تھرمل پاور پراجیکٹس یا سادہ لفظوں میں جنریٹرز نوے کی دہائی میں بے نظیر صاحبہ نے متعارف کرائے اور پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھی
ان جنریٹرز کی کل پیداواری صلاحیت 21000 میگاواٹ ہے اور یہ سارے نجی کمپنیوں کی ملکیت ہیں انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے دیگر حکومتوں نے ان سے کم ہی بجلی بنائی لیکن اس کے باوجود 2013 تک پاکستان تھرمل بجلی کے ضمن میں 480 ارب کا مقروض ہو چکا تھا 2013میں نواز شریف آیا اور آتے ہی ان نجی کمپنیوں کو یکمشت 480 ارب کی ادائیگی کر کے قومی خزانہ خطرناک حد تک خالی کر دیا دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جنریٹرز (آئی پی پیز) زیادہ تر میاں منشا کی ملکیت ہیں جس کو نواز شریف کا فرنٹ مین بھی کہا جاتا ہے لہذا بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ یہ درحقیقت تیل سے بجلی بنانے والی کمپنیاں نواز شریف کی ہی ہیں اور خزانہ خالی کروا کے نواز شریف نے اپنے پیسے وصول کیے ان پاکستانی آئی پی پیز کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی تھرمل بجلی بنائی جاتی ہے یہان سب سے مہنگی تقریبا دگنی قیمت پر بجلی بناتے ہیں آپنے بزنس مین وزیر اعظم بنایا تو بزنس مین تو کبھی اپنا گھاٹا نہیں کرتا اب آگے چلیں جو چار سو اسی ارب نواز شریف نے آئی پی پیز کو ادا کیے ان سے کوئی بھی بڑا ڈیم بنایا جا سکتا تھا جو پاکستان کو ہمیشہ کے لیے محتاجی سے نجات دلا دیتا اور سب سے بڑھ کر پانی کی ضروریات بھی پوری کرتا چار سو اسی ارب کی ادائیگی کے بعد نواز شریف نے پچھلی حکومتوں کے بجلی کے لیے شروع کروائے گئے تمام منصوبے ایک ایک کر کے ناکام کرنا شروع کیئے۔۔۔۔
نندی پور پاور پراجیکٹ ناکام
تھرکول پاور پراجیکٹ ناکام
قائداعظم سولرپارک ناکام
اور نیلم جہلم پاور پراجیکٹ پر کام اتنا سست کروا دیا کہ تقریبا روک دیا جس دوران انڈیا نے کشن گنگا ڈیم بنوا کر نیلم جہلم کی استعداد پر کاری ضرب لگائی اس پر کی گئی تمام محنت اور بے پناہ سرمایہ کاری ضائع ہو گئی جبکہ تربیلا ،منگلا اور دیگر فوجی ڈیموں کی صفائی کا عمل روک دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی چلی گئی جب بجلی کے متبادل منصوبے نہ رہے تو پاکستان نے تھرمل سے ہی بجلی بنانی تھی نا ؟تب نواز شریف نے دبا کر ان کمپنیوں کو بجلی بنانے کا سگنل دیا اور صرف پانچ سالوں میں ان کمپنیوں کی بدولت پاکستان 1100ارب کا مقروض ہو گیا جو رقوم ان کو ادا کی گئی ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں اگر یہ کمپنیاں آج بجلی کی سپلائی معطل کر دیں تو پورا پاکستان یکلخت اندھروں میں ڈوب جائے گا کیونکہ بجلی کا کوئی متبادل انتظام نہیں ہے نواز شریف نے اس سے دو بڑے فائدے حاصل کیے پہلا ،آئی پی پیز کی مدد سے سینکڑوں ارب روپے اس کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں پہنچ گئے اور دوسرا عوام خوش ہو گئی کہ ’’بجلی آئی ہے ‘‘ ان کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے پیروں تلے سے زمین نکالی جا چکی ہے (ان کے نام ای سی ایل پر اس لیے بھی ڈالے گئے ہیں )کیونکہ یہ ہے اصل حقیقت جس کو یہ خوب جانتے ہیں اس بھولی عوام سے نواز شریف نے کیا قیمت وصول کی ہے چند گھنٹے لوڈ شیڈنگ کم کرنے کی چونکہ تاروں میں کچھ بجلی آرہی تھیا س لیے عوام مطمعن تھی اور ڈیم بنانے کا مطالبہ نہیں کیا ہم نے ڈیم نہیں بنائے انڈیا نے بنا لیے اب پاکستان خشک ہونے جا رہا ہے ستم بالائے ستم مہنگی ترین بجلی بنانے کے لیے ریکارڈ ساز قرضے لیے گئے جس کے لیے پاکستان کی موٹر ویز ،ائر پورتس اور دیگر اثاثے تک گروی رکھوا دیے گئے پاکستانیو اپنے ایمان سے بتاؤ کیا یہ سب عمران خان نے گروی رکھوائے ہیں کیا یہ ریکارڈ قرضے ان چالیس دنوں میں اس حکومت نے لیے ہیں ؟ مہنگی بجلی نے کارخانوں کی پیداواری لاگت اس حد تک بڑھا دی کہ پاکستان کی اکثر صنعتیں بند ہو گئیں جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ ریکارڈ سطع پر پہنچ گیا برامد کم ترین ہو گئی مہنگائی اور بیروزگاری تباہ کن سطع پر پہنچ گئیں اس عارضی بجلی کی وجہ سے ایک ملک دشمن اور کرپٹ ترین شخص جاہل عوام سے ووٹ لے کر دوبارہ پاکستان کی مزید تباہی کرے یہ کس کو منظور ہے؟ ایوب خان نے بجلی کے جو نبصوبے دیے وہ اس کے جانے کے پچاس سال بعد بھی بجلی پیدا کر رہے ہیں نواز شریف آخر کہاں سوئچ لگا کر آپ کو بجلی دے رہا تھا جو اس کے جانے کے بعد ختم ہو گئی کبھی اس بارے میں سوچا ہے؟ نہیں سوچا تو اب سوچ لو !۔

(Visited 10 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *