جیالے اور یوتھیے حد سے تجاوز کرنے لگے۔ ایسی حرکتیں لے ڈوبیں گی ، خدارا ہوش کے ناخن لیں۔

الیکشن 2018 کی گہما گہمی عروج پر ہے اور تمام پارٹیز کے امیدواران اپنی جیت کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ اس موقعہ پر پارٹی کارکنان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ وہ اپنے لیڈر حضرات سے بھرپور محبتوں کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ الیکشن کی بھاگ دوڑ اور اپنے لیڈرحضرات کو خوش کرنے کے لیے کارکنان ہر حربہ استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اس حوالے سے کچھ لوگ انتہائی گھٹیا حرکتوں پر لگے ہوئے ہیں اور اپنے غلیظ ذہن کی غلاظت سوشل میڈیا ویب سائٹس (فیس بک ، ٹوئٹر وغیرہ) پر پھیلا کر نہ جانے کون سا بڑا کام کررہے ہیں۔
یوتھیے اور جیالے، متوالے ایک دوسرے کے خلاف اخلاقیات کی حدود کراس کرکے بکواس بازی پر لگے ہوئے ہیں جبکہ پارٹی رہنما اوچھے ہتھکنڈے اور غلیظ زبان استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک طرف پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی طرف سے نواز شریف کے استقبال کے لیے جانے والوں کو گدھا کہا گیا تو دوسری طرف لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے نواز شریف کی محبت میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے نواز شریف کے استقبال کو حج سے بڑا کام قرار دیا ہے۔ یہ اعمال انتہائی افسوسناک ہیں ۔ لیڈر سے محبت اپنی جگہ مگر اسلام مخالف بیان دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اسلام مخالف بیان بازی کرنے والا چاہے رانا ثناء اللہ ہو یا کوئی اور ہو یہ عمل سراسر غلط ہے اور انہیں میڈیا پر آکر سب کے سامنے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ کے حضور معافی مانگنی چاہیے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا کے بے لگام دانشوروں اور لیڈران کی محبت میں دیوانہ وار کلا بازیاں لگانے والے جاہل ترین افراد کی حرکتیں بھی انتہائی نامناسب ہیں۔
اپنے لیڈر سے محبت میں دوسری پارٹی کے لیڈر کی عجیب و غریب تصویریں بنا کر ، گالی گلوچ اور بے ہودہ زبان کے استعمال سے اپنی تربیت کا پتا دے رہے ہیں۔
یوتھیے مریم نواز کے متعلق بے ہودہ زبان استعمال کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ لیگی جیالے و متوالے عمران خان کی عجیب و غریب تصویریں بنا کر وائرل کررہے ہیں جیسا کہ ایک تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوچکی ہے جس میں عمران خان کے منہ میں بچہ پیشاب کرتا دکھایا گیا ہے۔ اور نواز شریف اور مریم کے متعلق بھی بے ہودہ زبان استعمال کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جس میں مریم نواز کی تصویر پر عمران خان کے بارے میں پیغام لکھ کر دکھایا گیا ہے کہ نواز شریف کو چھوڑ دیں بدلے میں نکاح کرلیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سی پوسٹیں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور یوتھیے ، جیالے و متوالے اپنے غلیظ ذہن کی عکاسی کرتے ہوئے غلاظت بھری پوسٹیں شیئر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایسی حرکتیں انسانیت سے کوسوں دور ہیں۔ اس طرح کے جاہلانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے سے نہ ہی کسی پارٹی کی جیت ممکن ہے اور نہ ہی کسی لیڈر کی جانب سے کسی کارکن کو کوئی تمغہ ملنے والا ہے۔ ایسی گھٹیا حرکتیں کوئی لیگی کارکن کرے یا یوتھیا، کسی بھی طرح درست نہیں ہیں ، لہذا ایسی حرکتوں سے باز رہیں ورنہ یہ آپ کو لے ڈوبیں گی کیونکہ قبر میں لیڈر آپ کا ساتھ نہیں دیں گے اس لیے لیڈران کی محبت میں کسی بھی پارٹی کے کارکنان حد سے تجاوز نہ کریں۔

(Visited 48 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *