کمالیہ کی سیاسی ڈائری ۔۔۔ تحریر: سردار عبدالرحمٰن ڈوگر ایڈووکیٹ چیف ایڈیٹر سیاسی ایڈیشن کمالیہ

۔25۔ جولائی 2018 کوملک میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں امیدواروں کی سیاسی سرگرمیاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کمالیہ میں بھی سیاسی درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج پرپہنچ گیا ہے۔ کمالیہ حلقہ NA۔113 دو صوبائی حلقوں PP۔122کمالیہ اور PP۔123 پیر محل پر مشتمل ہے۔ قومی اسمبلی حلقہ NA۔113کمالیہ پیرمحل میں اسوقت کل چار امیدوار میدان میں ہیں۔ جن میں مسلم لیگ ن کے میاں اسد الرحمان،تحریک انصاف کے ریاض فتیانہ،پیپلز پارٹی کے نسیم اقبال کودا اور ملی مسلم لیگ کے سردار عثمان گجر شامل ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق NA۔113میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن کے میاں اسد الرحمن اور PTIکے ریاض فتیانہ کے درمیان ہی ہوگا۔ باقی دونوں امیدوار پارٹی پالیسیوں کے پیش نظر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ میاں اسد الرحمٰن مسلم لیگ ن کے سابق وفاقی وزیر اور MNAرہے ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں بننے والی مجلس شوریٰ کی رکنیت سے انکے سیاسی کیریئر کا آغازہوا۔ طبعاً گرم طبیعت کے مالک ہیں مگرشروع دن سے ہی مسلم لیگ ن کے ساتھ وفادار ہیں۔متعدد بار انہیں سیاسی،وفاداریاں تبدیل کرنے کے عوض اعلیٰ حکومتی عہدوں کی آفر ہوئی مگر انہوں نے ٹھکرا دی۔ اس لیے بنیادی طور پر Party Politics/جماعتی سیاست کے قائل ہیں۔ گذشہ ہر الیکشن انہوں نے اپنے صوبائی ونگز/صوبائی امیدواروں کے بھروسے سے لڑا۔ اس لیے اکثر انکی مدد سے انکے صوبائی امیدوار الیکشن جیت جاتے اور وہ الیکشن ہار جاتے اس لئے اکثر الیکشن ہار نے کے بعد اپنے صوبائی امیدواروں سے نالاں نظر آئے۔ مگر اب کی بار انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔ دونوں صوبائی حلقوں میں اپنے گروپ قائم کرلیے اور اپنے سابقہ5سالہ دور حکومت میں کمالیہ اور پیر محل میں قابل ذکر ترقیاتی کام بھی کروائے ہیں۔ جس کا صلہ انہیں یہ ملا کہ اس وقت دونوں صوبائی حلقوں میں انکااچھا خاصا اثرورسوخ بن گیا ہے اور وہ اپنا ذاتی گروپ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اسلیئے اس الیکشن میں انکی پوزیشن اُنکے دونوں صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی نسبت کافی بہتر ہے۔ انکے مد مقابل تحریک انصاف کے امیدوار ریاض فتیانہ انتھک محنتی اور خدا داد صلاحیتوں کے مالک ہیں متعدد بار قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے۔وزیر تعلیم اور چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن کے طور پر انہوں نے بیش بہا خدمات سرانجام دی ہیں انکی جڑیں عوام میں مضبوط ہیں یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے قبل ازیں PTIکا ٹکٹ اُنکے روایتی حریف خالد کھرل کے صاحبزادے حیدر کھرل اور ن لیگ کی ممبر صوبائی اسمبلی نازیہ راحیل کو دے دیا تو میاں اسد الرحمان کی پوزیشن کافی بہتر نظر آرہی تھی۔اس لینے نازیہ راحیل نے حیدر کھرل کی بجائے سخت اختلافات کے باوجود میاں اسدالرحمن کے ساتھ الیکشن لڑنے کو ترجیح دی اور فوری طور پر اسدالدحمن سے صلح کے ڈرامائی انداز میں PTI ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا.نازیہ راحیل کےPTI ٹکٹ لینے سے انکارکے بعد ں لیگ کی مضبوط پوزیشن دیکھ کر تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی دونوں ٹکٹ تبدیل کرکے ریاض فتیانہ اور انکی اہلیہ آشفہ ریاض کو دے دیئے۔ یہ اُن کی شخصیت کا سحر ہے کہ PTIکاٹکٹ ملنے کے بعد حلقے کے سیاسی دھڑے اور گروپ جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ریاض فتیانہ وننگ پوزیشن پر آگئے ہیں۔ حید ر کھرل انکے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔ ریاض فتیانہ کو اسوقت دربار قادر بخش شریف، دھولر شریف کمالیہ کی متعدد سیاسی و سماجی شخصیات سمیت شہر سے گجر برادری کے سرکردہ افراد کی حمایت بھی حاصل ہے۔جس وجہ سے انکی پوزیشن کافی بہتر نظر آتی ہے۔
صوبائی حلقہ PP۔122میں آشفہ ریاض، نازیہ راحیل،پیر احمد شہزاد قریشی، عرفان اسلم، سردار یاسر الطاف،ظہور الحق اور رانا نوید سمیت 7امیدوار میدان میں ہیں۔ تحریک لبیک کے پیر احمد شہزاد قریشی اور یاسر الطاف اگرچہ صوبائی حلقہ میں جگہ بنانے کیلئے اچھی خاصی محنت کر رہے ہیں مگر ان دونوں کی محنت سے کس کو فائد ہ یاکس کو نقصان ہوگا؟ یہ بات سیاسی حلقوں میں زیر بحث بنی ہوئی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق PP۔122میں حقیقی مقابلہ روایتی حریف آشفہ ریاض اور مسلم لیگ ن کی نازیہ راحیل کے درمیان ہوگا۔ نازیہ راحیل کی نسبت آشفہ ریاض فتیانہ کی پوزیشن اس الیکشن میں نازیہ راحیل سے کافی بہتر نظر آرہی ہے اس کی بنیادی وجہ نازیہ راحیل کا مسلسل 10سال اقتدار میں رہنا،سابقہ 5 سالہ دور میں حلقہ سے غیر حاضری اور اپنے ایم این اے میاں اسد الرحمن کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں کمی اور عوام کے مسائل سے بے رخی کی وجہ سے لوگ ان سے شدید نالاں نظر آتے ہیں موجودہ صورتحال میں اگرچہ دربار قادربخش کا آشفہ ریاض کے حق میں ہونے والے اعلان کے اثر کو زائل کرنے کیلئے پیر علی بابا راوی بلٹ اور کمالیہ کیصوبائی حلقہ سے منسلک کئیے جانے پیر محل کے حلقہ میں نازیہ راحیل کیلئے قابل ذکر کوشش کر رہے ہیں مگر ان کی یہ کوشش کہاں تک کامیاب ہوتی ہے اس کا اندازہ ان حلقوں کے نتائج سے ہی سامنے آئے گا۔جبکہ دوسری جانب پیر محل حلقہ PP۔123میں پاکستان تحریک انصاف کی سونیا علی رضا کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے پیر قطب علی شاہ المعروف علی باباکیساتھ ہے۔علی بابامخدومہ سونیا علی رضا کے والد کی وفات پرضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔مگر انہوں نے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے پر اپنی شاہانہ طرز زندگی،وی آئی پی پروٹوکول اور درباری ماحول کو تبدیل نہ کیا جس وجہ سے پیر محل کے عوام ان سے بیزار نظر آتے ہیں ایسی صورتحال میں سونیا علی رضا کے خاندان کے درمیان ہونے والی صلح پیر محل صوبائی حلقہ PP۔123 سے ایک بڑا بریک تھرو دے سکتی ہے۔علاوہ ازیں موجودہ انتخابات میں چونکہ گذشتہ انتخابات کی نسبت پارٹی پالیٹکس زیادہ کردار ادا کر رہی ہے اس لیے ختم نبوتؐ کے قانون میں تبدیلی،ایک دوسرے پرکرپشن اور اداروں کی مددیا مخالفت کے الزامات بھی اہم کردار کر رہے ہیں تاہم کمالیہ پیر محل کے تینوں حلقوں سے کن کن امیدواروں کی جیت ہو گی یہ فیصلہ 25 جولائی کو ہوگا۔

(Visited 43 times, 1 visits today)

One Response to کمالیہ کی سیاسی ڈائری ۔۔۔ تحریر: سردار عبدالرحمٰن ڈوگر ایڈووکیٹ چیف ایڈیٹر سیاسی ایڈیشن کمالیہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *