کمالیہ کی خبریں ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ سے

کمالیہ  ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) کمالیہ لوگوں نے محکمہ جنگلات کے ملازمین اور افسران کو جنگل کی تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ محکمہ جنگلات کے افسران اور ملازمین کی ملی بھگت کے بغیر جنگل سے لکڑی چوری نہیں ہو سکتی۔ عوامی نمائندے اور اعلیٰ افسران توجہ دیں تو جنگل کو مزید تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔خصوصی سروے رپورٹ ،تفصیلات کے مطابق جنگلات اور درخت چونکہ جنگلی حیات اور انسانی صحت پر مفید اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لئے 21مارچ کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں جنگلات کا عالمی دن منایا جا تا ہے۔ کمالیہ میں چونکہ چک نمبر724اور725گ ب سے آگے ایک بڑا گھنا جنگل موجود تھا جوکہ آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ اس لیے عالمی دن کے موقع پر سیاسی ایڈیشن کمالیہ کی ٹیم اورڈاکٹر غلام مرتضیٰ کی جانب سے خصوصی سروے کا اہتمام کیا گیااور تجزیاتی رپورٹ تیار کی گئی۔ سروے میں لوگوں کی اکثریت نے محکمہ جنگلات کے افسران اور ملازمین کو جنگل کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا، لوگوں کی اکثریت کا یہ کہناتھاکہ جنگل کے ملازمین اور افسران کی ملی بھگت کے بغیر جنگل سے لکڑی چوری نہیں ہوسکتی۔ جنگل کے ارد گرد آبا د دیہات اور آبادیوں کے لوگ اگرچہ اپنی چھوٹی موٹی ضروریات پوری کرنے کیلئے جنگل سے لکڑی چوری کرتے ہیں لیکن اگرمحکمہ جنگلات کے ملازمین کا صحیح احتساب کیا جائے ۔عوامی نمائندے اوراعلیٰ افسران خصوصی توجہ دیں اور جنگل کی صحیح نگرانی کی جائے تو کمالیہ کے جنگل پر ان اقدامات کے اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور جنگل کو مزید تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر لوگوں نے مقامی MNAمیاں اسد الرحمٗن کی جانب سے گزشتہ سال بڑے پیمانے پر جنگل میں کی گئی شجر کاری کو بھی سراہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمالیہ ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ڈالر کی قیمت میں آئے روز اضافہ ہورہاہے۔ ۔۔پی ٹی ائی ۔۔ٹکٹ کا دعویٰ کرنے والون کے چہروں پر مایوسی کے آثار نمایا ں ہو نا شروع ہو گئے ہیں۔ اِن خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اُمیدوار قومی اسمبلی حلقہ 113حید خاں کھرل نے پریس کلب کمالیہ کے جنرل سیکرٹری ملک عابد علی اسلم کی رہائشگاہ پر صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انکا مزیدکہناتھا کہ عمران خان قوم کی آخری امید ہیں۔ حکمرانوں کی کرپشن اور پالیسیوں کی وجہ سے تمام ادارے پریشان ہیں۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب چلا گیاہے۔ روپے کی قیمت میں روز بروز کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہاہے۔ جس سے غیر ملکی قرضوں کے حجم میں بے پناہ اضافہ ہو رہاہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہمیں اپنے قومی اثاثے بیچنے پڑیں گے۔ کمالیہ میں پی ٹی ائیکے ٹکٹ کے حوالے سے انکا کہناتھا کہ گذشتہ روز چوہدری سرور رحمانی کے گھرپی ٹی ائی کے تمام امیدواران اور عہدیداران کی میٹنگ ہوئی ہے۔ جس میں ہمارے درمیان اتفاق رائے ہوگیاہے کہ ہم میں سے جس امیدوار کو بھی ٹکٹ ملے گا ہم اکٹھے ہونگے اور ملکر الیکشن لڑیں گے۔ جو لوگ  پی ٹی ائی میں شامل نہیں اور  پی ٹی ائی کے ٹکٹ کے دعوے کر رہے تھے انکے چہرے سے مایوسی نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں چوہدری سرور ،جہانگیر ترین یا شاہ محمود قریشی میں سے کوئی بڑی شخصیت کمالیہ آکر امیدوارکا اعلان کر ے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمالیہ ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) متحدہ مجلس عمل کی بحالی او ر مولانا فضل الرحمان کو صدر منتخب ہونے پر مبارکبادپیش کرتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار بحال ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کمالیہ کے مقامی رہنما مولانا حسن معاویہ نے ہمارے نمائندہ قاری محمد سعید سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انکا مزید کہناتھا کہ متحدہ مجلس عمل نے ماضی میں ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ دینی جماعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں متحدہ مجلس عمل کا خصوصی کردارتھا۔ تاہم مجلس عمل کو بحال کرکے مولانا فضل الرحمان کو صدر اور لیاقت بلوچ کو جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل ماضی کی طرح ملکی سیاست میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے۔ ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی بحالی کیلئے جدوجہد کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمالیہ ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) ڈاکٹر عبدالقدیر غیر متنازعہ شخصیت ہیں۔ انہیں ملک کا نگران وزیر اعظم بنایا جائے۔ یہ مطالبہ مرکزی انجمن تاجران کمالیہ کے چیف ایگزیکٹو ایم شفیق شاہد ملک نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا ہے انکا کہناہے کہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک انڈیا اپنے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالکلام کو اپنے ملک صدر نامز دکر سکتا ہے تو ہم ڈاکٹر عبدالقدیر کو ملک کا نگران وزیر اعظم کیوں نہیں بنا سکتے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر غیر متنازعہ شخصیت ہیں تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے قابل قبول ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمالیہ ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے ایم ڈی، ایم افضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری اور کلچر پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثقافت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب جمہوریت آتی ہے تو فن اور فنکار اور کمیونٹی کے اظہار رائے کا حق محدود ہو جاتا ہے۔ تاہم حکومت کی فلم اور ثقافت پالیسی کے اعلان کردہ پیکج کے اگر ثمرات حاصل کرنا ہے تو فلم انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہی پڑے گا۔ لیکن اس کے لئے ہمیں بہت سی فرسودہ روایات سے عمل پیرا ہونے سے اجتناب کرنا ہو گا۔ کیونکہ فارمولا فلمز کا زمانہ گزر گیا۔ا ب دنیا میں نت نئے موضوعات پر فلمیں بن رہی ہیں کیونکہ کسی بھی فلم میں لوکیشنز اور موضوع ایسی دو منفرد چیزیں ہیں جو کہ فلم کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ یاد رہے کہ ہالی وڈ سے فلم امپورٹ کرنے کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ ملک میں نئے جدید طرز کے سنیما ہالز بنے ہیں انڈسٹری کے سائنٹیفک انداز کی بدولت گزشتہ سال شوبز انڈسٹری نے کم و بیش 100کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے اور اب وقت کا تقاضہ ہے کہ فلم ساز نئے موضوعات اور تقاضوں کے مطابق فلمز تحقیق کریں۔ سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو انجنئیر ظہیر عباس چوہدری نے کہا کہ فلم و ثقافت پالیسی کے شوبز انڈسٹری پر خاطر خواہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جن میں چین کے شنگھائی فیسٹیول میں پاکستانی فلمیں چین کے سنیما گھروں میں نمائش کے علاوہ فلم اکیڈمی سنیما گھروں کے آلات کی برآمد فلم فنانسز فنڈ، ٹیکسیز میں چھوٹ، آرٹسٹوں کے ڈیٹا بیسیز کی تیاری ، خدمت کارڈ ، شوبز فلم اور کلچر ثقافت کے وابستہ اداروں کے افراد کے لئے لا متناہی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

(Visited 23 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *