اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

سانحہ کربلا ایک واقعہ یا حادثہ ہی نہیں ہے بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک حد فاصل ہے۔امام عالی مقام نے باطل کے ہاتھ پر بیعت نہ کر کے کہ یہ ثابت کر دیا کہ جان جا سکتی ہے سر کٹ سکتا ہے مگر نواسہ رسول کا ہاتھ کسی ایسے ہاتھ کی بیعت میں نہیں جائیگا جس کی غرض و غایت دنیا ،اقتدار اور سیاسی طاقت کا حصول ہو۔ شہادت امام حسین ؑ سے ہمیں حق و صداقت کا علم سرفراز کرنے،باطل حکمرانوں کے سامنے ڈٹ کر کلمہ حق کی صدا بلند کرنے،اور صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔نواسہ رسولﷺ کی شہادت تاریخ اسلام میں وہ قربانی ہے کہ جس نے حریت فکر کو زندہ کیا اور اسلام کے آفاقی اصولوں کی آبیاری اپنے خون سے کی۔ان کی تعلیمات ہمارے لئے بلا شبہ مشعل راہ ہیں ،جن پر چل کر ہم اپنی دنیا و دین کی حفاظت کر سکتے ہیں۔عہد حاضر میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم امام حسین ؑ کا پیغام قریہ قریہ پہنچاکر نہ صرف امام اہل بیت سے بلکہ نبی آخرالزمانﷺ سے وفا اور محبت کاعملی ثبوت پیش کریں۔کیونکہ امام ؑ نام ہے حق کا،سرافرازی کا،صبر و استقامت کا،تحمل و برداشت کا اورباطل کے سامنے ڈٹ جانے کا۔بے شک اپنی قربانی پیش کر کے امام عالی مرتبت نے اپنے نانا کے دین میں نئی روح پھونک کر امے محمدیہ پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔
شاہِ است حسینؑ بادشاہ است حسینؑ
دینِ است حسینؑ دینِ پناہ استِ حسینؑ
سر داد نداد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنا لا الہٰ استِ حسینؑ

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *