کرتار پورراہداری کا آخری نشان ۔۔۔۔۔ امن ۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

سکھ مذہب کے پیروکاروں کے لئے کرتار پور کی مذہبی اہمیت کے لئے اس جگہ کی جغرافیائی حیثیت کا جاننا ضروری ہے۔کرتار پور ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔پاکستان میں موجود دیگر عبادت گاہوں یا مقدس مقامات(ڈیرہ صاحب لاہور،پنجہ صاحب حسن ابدال،جنم استھان ننکانہ صاحب،موڑ ایمن آباد)میں کرتار پور کی اہمیت اس لئے معتبر ہے کہ ایک تو سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو نے اپنی زندگی کے اٹھارہ سال اپنے مذہب کے پرچار اور تعلیمات کے لئے وہاں گزارے اور دوسرا نانک لنگر اور نانک نام لیوا کا آ غاز بھی اسی کرتار پور سے ہی ہوا تھا۔یہی وجہ ہے کہ پنجاب و دیگر ممالک میں مقیم پندرہ کروڑ سکھ اس مقام کو انتہائی اہم ،مقدس اور اہمیت کا حامل خیال کرتے ہیں۔1947 کی تقسیم میں یہ علاقہ پاکستان کے حصے میں آگیا جو تقسیم سے قبل ضلع گورداسپور کا ایک گاؤں ہوتا تھا۔سکھ یاتریوں کا کرتار پور بارڈر کھولنے کا دیرینہ مطالبہ تھاجو گذشتہ ایک عرصے سے زور پکڑ رہا تھا کیونکہ کرتار پور سے پنجاب سرحدی علاقہ صرف چار کلو میٹر کی دوری پر ہے۔سکھ یاتریوں کے لئے اس بارڈر کا کھلنا اس لئے بھی خوش آئند ہے کہ سکھ یاتری راہداری کھلنے سے قبل اپنی حدود میں نصب شدہ ایک دوربین کی مدد سے اپنے اس مقدس مقام کی زیارت کرتے تھے۔اور وہ لوگ جو ویزہ سہولت کے ساتھ واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں اپنے مقدس مقامات کی زیارات کے لئے داخل ہوتے تو انہیں بھی باوجود سفری سہولیات کے لاہور سے کم و بیش 130 کلو میٹر کا چار گھنٹے پر مشتمل سفر طے کر کے کرتار پور دربار کی زیارت کے لئے آنا پڑتا تھا،جو کہ راہداری کھلنے پر صرف چند کلو میٹر رہ جائے گا۔ اس طرح سکھ یاتری کرتار پور راہداری کے راستے سے سب سے پہلے اپنے پہلے گرو نانک دیو کی نسبت سے تعمیر کردہ اس گوردوارہ کے درشن کر پائیں گے۔کرتار پور راہداری کے کھلنے کا سہرا وزیر اعظم عمران خان اور بھارتی پنجاب کے صوبائی وزیر سیاحت اور معروف کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے سر جاتا ہے۔اگرچہ نوجوت سدھو کی پاکستان آمد پر پورے ہندوستان میں اور خصوصا پنجاب کے کچھ سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ چند مذہبی حلقوں میں بھی اس بات پر شورو غوغا کیا جارہا ہے کہ سدھو نے پاکستان جا کر ان شہیدوں کی بیواؤں کی تذلیل کی ہے جن کے سرتاج بارڈر پار سے برسنے والی گولیوں کا نشانہ بنے۔مگر یہ لوگ آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں ہیں زیادہ تر سکھ برادری اس راہدار ی کے کھلنے پر مسرت و انبساط کا ہی اظہار کر رہی ہے۔میں ان نام نہاد مذہبی پیشواؤں اور سیاسی راہنماؤں کے پاکستان خلاف بیانات پر حیرت زدہ ہوں ،کہ سدھو نے شہیدوں کا اتمان کیا،پاکستان انڈیا میں دہشت گردی کروا رہا ہے،ہم اس راہداری کو تسلیم نہیں کریں گے اور ہم پہلے شہیدوں کا بدلہ لیں گے وغیرہ وغیرہ۔اب میرا ان سے بطور ایک سیاسی طالب علم کے سوال ہے کہ کیا ان نام نہاد مذہبی و سیاسی ٹھیکیداروں نے مودی حکومت کی کابینہ کی راہداری کھولنے کی تجویز کی منظوری کو نہیں پڑھا،پھر دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ اجلاسوں کی کارروائیاں ان کی نظروں سے نہیں گزریں،مودی سرکار نے پاکستان سرحد تک سکھ یاتریوں کے لئے پختہ سڑک کی تعمیر کی منظوری اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی میڈیا سے بات چیت نہیں سنی کہ راہداری منصوبہ مکمل ہونے سے سکھ یاتری سال بھر بآسانی مقدس مقامات کی زیارت کو جا سکیں گے۔بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا بیان کہ بھارتی حکومت بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی سرحد تک راہداری تعمیر کرے گی۔انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ گرو نانک سے ٹرین چلائی جائے گی جو مقدس مقامات سے گزرے گی اور اس کا مقصد پاکستان جانے والے سکھ یاتریوں کو سہولیات میسر کرنا ہے۔بحثیت سیاسی طالب علم میرا اپنا خیال ہے کہ کرتار پور راہداری کھلنے سے دونوں ملکوں خاص کر سکھ کمیونٹی کے ساتھ ہمارا محبت ، بھائی چارہ اور امن و آشتی کا وہ رشتہ پھر سے استوار ہو جائے گاجو سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی تعلیمات کا خلاصہ اور امن و سلامتی کے پیامبر مذہب،اسلام کی تعلیمات کی روح ہے اور اقلیتوں کو انہی حقوق کی عملی شکل کو دیکھنے کا موقع ملے گا جو فتح مکہ کے موقع پر آقائے نامدار حبیب کبریا نے اعلان فرمائیں تھی۔کیونکہ اس خطہ کی سلامتی کا دارومدار امن و آشتی میں مضمر ہے نا کہ قتل و غارت اور دہشت گردی میں۔کرتار پور راہداری کی آخری منزل انشا اللہ خطہ میں امن کی صورت میں ہو گی۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *