لہو کے پیاسے مودی اور داخلی دشمنوں کی گوشمالی ضروری ہے ۔۔۔ تحریر : مقصود احمد سندھو ۔ چیچہ وطنی

انسانی خون کی پیاسی،مسلم دشمن اور اقلیتوں پر ظلم وبربریت برپاء کرنے کی شوقین ہندوستانی حکومت نے اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل اور اپنی خون آشام فطرت کی تسکین کے لئے کشمیر میں ایک بار پھر نہتے،مجبوربے بس اورلاچار لوگوں پر جبر کا عفریت بن کر انسانی خون سے ہولی کھیلنے کا کھیل شروع کر نے جا رہی ہے ظالم سفاکی اوربے حسی کی حامل درندہ صفت انسانیت سے عاری مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے اس میں بسنے والے انسانوں کا شکار کھیلنے کیلئے وادی میں ایک لاکھ سے زائد فوج داخل کر دی ہے جس سے اس کے ارادے اور اس کا مشن بہت واضح نظر آ رہا ہے کہ اب کی بار شائد وہ معصوم انسانوں پر ظلم ڈھانے کے اپنے ہی شرمناک سابقہ ریکارڈ توڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں خطے میں امن کی دشمن کوتاہ بین چانکیائی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا کالا قانون پاس کرکے اپنے منہ پر کالک پوت لی ہے شق 370 کا خاتمہ کرکے اس نے اقوام متحدہ کی قراداد وں،شملہ معاہدہ اور عالمی رائے کو روندتے ہوئے گاندھی،نہرو،واجپائی کے ساتھ ساتھ امن پسند ہندوستانیوں کے ہندوستان کا مذاق اڑایا ہے جارحیت پسند ہندو قیادت کے اس فیصلہ سے علاقائی امن کی صورتحال انتہائی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے کشمیریوں کو یو این او کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دینے کی بجائے عوام کے بنیادی حقوق غصب کر لئے گئے ہیں ان پر کلسٹر بموں کی برسات کی جارہی ہے جانوروں کا شکار کرنے والی بیلٹ گنوں سے انسانوں کے چہرے چھلنی کئے جا رہے ہیں کنٹرول لائن پر معصوم شہریوں پر بارود کی بارش کرکے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی جا رہی ہے مقبوضہ کشمیر پہ طاری ظلم کی اس سیاہ رات کا خاتمہ بہت ضروری ہے کشمیر کی موجودہ صورتحال خطے کے امن کی خرابی اور سلامتی کے بحران کا سبب بن سکتی ہے خطہ پہلے سے ہی امریکہ،ایران کشیدگی اور افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے پروگرام کی بدولت مشکلات کا شکار ہے ایسے میں ہندستان کی کشمیر میں مہم جوئی بارود کو آگ دکھانے کے مترادف ہے اس لئے سلامتی کونسل کوہندوستانی قیادت کی طرف سے مسلسل بولے جانے والے جھوٹ سے پیدا ہونے والے امن و سلامتی کے اس خطرہ کا نوٹس لینا چاہئے کیونکہ آگ میں جلتاہوا کشمیر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا مقبوضہ کشمیر اس وقت جیل کی شکل اختیار کرچکا ہے جس میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے کشمیری بھوک اور بیماری سے بلبلا رہے ہیں اوپر سے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں انسانی ہمدردی کے تحت فوری طورپر وادی سے بھارتی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ساتھ کشمیر میں نافذ غیر اعلانیہ کرفیو ختم کروانے اور گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی کے لئے ہندوستانی سرکار پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ عالمی قوانین کی پاسداری کرے ہندوستان کا مکروہ اور فریب زدہ چہرہ دنیا کئی بار دیکھ چکی ہے مسلمانوں اور سکھوں کا قتل عام ہو یا ہندو جنونیوں کے ہاتھوں آسٹریلین این جی او کے نمائندوں کا زندہ جلایا جانا،گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی ہو یا بابری مسجد کاانہدام، آسام،برما،نیپال،سری لنکا،بنگلہ دیش،افغانستان،بلوچستان اور ایران ہر جگہ ہنومان اور کالی کے پجاریوں کے مکرو فریب کا پردہ چاک ہو چکا ہے اس لئے اقوام متحدہ،امریکہ،اسلامی دنیا،یورپی یونین،روس،چین،سمیت تمام عالمی برادری کو زبانی جمع خرچ کی بجائے انڈیا کے خلاف ٹھوس اقدام اٹھاکر کشمیر کی پرانی پوزیشن کو بحال رکھتے ہوئے اس کے باسیوں کی مرضی کے مطابق انہیں اپنی زندگی گزارنے کا ان کا مطالبہ پورا کرنے کا بندو بست کریں اور انہیں آزادانہ حق رائے دہی کا موقع فراہم کیا جائے انہیں اکثریت سے اقلیت میں بدلنے سے بچایا جائے حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ سمری سمری کھیلنے کی بجائے اس کے ساتھ ہر قسم کا لین دین بند کرتے ہوئے اس پہ تجارتی پابندی عائد کی جائے اور اس کا ہوائی راستہ تک مسدود کر دیا جائے گو حکومت کی خارجہ پالیسی ماضی کی نسبت بہت فعال ہے مگر کشمیر ڈپلومیسی میں مزید تیزی کی ضرورت ہے وزیر اعظم کی طرف سے انڈیا کو دبنگ انداز میں تنبیہ قابل ستائش ہے۔انڈین سفیرکی واپسی،سمجھوتہ ایکسپریس کی بندش،پاکستانی سفیرکوبھارت نہ بھیجنے کافیصلہ اپنی جگہ درست مگر ان کو آزاد کشمیر،کی بجائے پورے کشمیر کے لئے یہی دبنگ لہجہ اختیار کرنا چا ہئے مفاد اور موقع پرست سیاسی طالع آزماؤں کو خاطر میں نہ لائیں ایک طرف دشمن کنٹرول لائن پر بارود برسا رہا ہے دوسری طرف ہماری پارلیمان میں نا اہل سیاستدان ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری میں مصروف نظر آرہے ہیں ملک سے زیادہ انہیں پارٹی مفاد زیادہ مقدم نظر آرہا ہے دنیا بھر میں ہندوستانی جارحیت کے خلاف آوازیں آرہی ہیں اور ہمارے بعض نا عاقبت اندیش اپنی ہی دھول اڑا رہے ہیں اس کے علاوہ جن لوگوں نے اسلام آباد میں ملک دشمن عناصر کے آلہ کار بن کر بینر لگائے ان کو سر عام سزائیں دی جائیں اور لوگوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہیں وہ دانستہ یا نا دانستہ دشمن کی آلہ کاری تو نہیں کر رہے خاص طور پر سوشل میڈیا پر ففتھ کالم حملہ ہو چکا ہے ہمیں اس کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننا بلکہ اس محاذ پہ اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے ہندوستان اس وقت ہیجانی کیفیت میں مبتلاء ہے افغان مصالحتی عمل اس کے لئے سوہان روح بن چکا ہے اُسے سالہاسال سے افغانستان اوربلوجستان سمیت پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک پرکی گئی انویسٹمنٹ ضائع ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے اس لئے وہ تمام حدیں پھیلانگتے ہوئے جائز،ناجائزاورعالمی قوانین کی پرواہ کیے بغیراپنے مقاصدکے حصول کیلئے ہرحربہ استعمال کررہاہے مگر اسے شائد اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ پاکستان اب 1948ء یا1971ء والا پاکستان نہیں ہے اب کی بار پاکستان کی اہمیت ہندوستان سے کہیں زیادہ ہے اورمستقبل میں پاکستان دنیامیں ایک اہم مقام حاصل کرسکتاہے اس لئے اب دنیا میں ہندوستان کوسفارتی اورتجارتی میدان میں کھلی چھٹی نہیں ملے گی۔اس کی ہرزہ سرائی اور بوکھلاہٹ حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ایسے میں اسے نہ صرف ذلیل ورسوا کرنا ہے بلکہ اپنی برتری کا لوہا بھی منوانا ہے اس کے لئے لہو کے پیاسے نریندر مودی کے ساتھ ساتھ ملک میں چھپے ہوئے داخلی دشمنوں کی گوشمالی بھی ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *