کاتک کی دلہن ۔۔۔ تحریر : محمد نواز کمالیہ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ، تاہم پھر بھی ان کے بھونکنے کی آوازیں کبھی کبھار سنائی دینے لگتی تھی۔ اگرکوئی ان راہ بیٹھے کتوں کو وہاں سے بھگانے کی کوشش کرتا تو اپنی جگہ سے دور بھانگنے کے ساتھ ساتھ وہ بھونکنے بھی لگتے ۔
’’ جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ایک راہ گیر نے اپنے ساتھ جاتے دوسرے راہ گیر کو اس وقت کہا جب اس نے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا کر کتوں کو مارا اور وہ دور جا کر بھونکنے لگے تھے ۔ راہ گیر باتیں کرتے آگے نکل گئے توآوارہ کتوں نے دوبارہ اپنی پوزیشن سنبھال لی اور تھکے ہوئے مزدور کی طرح پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے ۔ کاتک کا مہینہ شروع ہو چکا تھا ،گاؤں کے ارد گرد دھان کے کھیتوں میں سبز قالین تا حد نگاہ بچھا ہوا تھا ۔کہیں کہیں دھان کے جوان ہوتے پودوں پر سفید سٹے بھی نکل آئے تھے ۔کاتک کا مہینہ ہر دو چند خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے دن کو تیز دھوپ اور رات کو میٹھی ٹھنڈک ،شائد اسی وجہ سے یہ کتوں کا پسندیدہ موسم بھی ہے ۔
نمبر دار کا ڈیرہ گاؤں کے عین درمیان میں تھا ۔ڈیرے کے سامنے چوراہا تھا جہاں سے گاؤں کی چاروں سمت راستے نکلتے تھے ۔ چوراہے کے بیچوں بیچ بوہڑ کا درخت اپنی داستان خود بتا رہا تھا ۔ برآمدہ نما نمبر دار کا ڈیرہ جس پر گاجنی رنگ کیا گیا تھا ۔ برآمدہ کے عقب میں کمرے تھے جو مہمانوں کے قیام و طعام کیلئے استعمال ہوتے تھے ۔کمروں کے اوپر ایک چوبارہ تھا۔ جس پر جانے کیلئے سیڑھیاں برآمدہ میں ہو کر اوپر جاتی تھیں ۔ چوبارہ کے متعلق مشہور تھا کہ اس میں ایک انگریز افسر نے جاتے ہوئے رات کے وقت قیام کیا تھا ۔چونکہ اس وقت پورے گاؤں میں یہی ایک مکان پختہ تھا ۔ انگریز افسر نے گاؤں کی نمبر داری کا فرمان جاتے ہوئے صاحب خانہ کے نام لکھ دیا ۔ تب سے اب تک ہر چھوٹے بڑے کو لوگ نمبر دار ہی کہہ کر پکارتے تھے۔
دن کے وقت برآمدے میں موہڑے اور چارپائیاں بچھا کر پنجائت لگائی جاتی اور شام ڈھلتے ہی برآمدہ کے سامنے کھلی فضا میں نیفا پانی کا تروکا لگا کر چار پائیاں اور موہڑے بچھادیتا ۔جہاں رات کو نمبر دار پنجائت لگاتا ۔ اس وقت بھی نیفا پانی کا تروکا لگا رہا تھا ۔ نیفا گاؤں کا کامہ تھا ،جدی پشتی کامہ ،اس کا باپ، دا دا اور پردادا بھی نمبر داروں کے ہاں کام کرتے تھے اور نمبر داروں کے ہاں سے ہی ان کی روٹی روزی کا سامان ہوتا تھا ۔ نمبر دار نیفے کو دانے ،چاول مونجی کے علاوہ کپڑا لتا بھی لے دیتے تھے اسے لیئے اسے کوئی اور کام کرنے کی ضرورت ہی کبھی محسوس نہ ہوئی تھی ۔ سارا دن ڈیرے میں رہنا اور ہر آنے والے کی آؤ بھگت کرنا نیفے کی خاص ذمہ داری تھی ۔ نمبر دار ڈیرے میں نہ ہوتا نیفا تب بھی وہاں موجود رہتا۔ نیفا اگرچہ ڈیرے کا کامہ تھا مگر ہر وقت ڈیرے پر موجود رہنے کی وجہ سے لوگ اسے بھی نیفا نمبر دار کہنے لگے تھے ۔ جس کا اس نے کبھی برا نہ منایا تھا ۔
موہڑے پر بیٹھا نمبر دار سامنے رکھے حقے کے سوٹے لگا رہا تھا اور نیفا نمبر دار کے پیچھے کھڑا کندھے دبا رہا تھا ۔ سامنے بیٹھے نمبر دار کے چند منظور نظر اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے ۔ نمبر دار کتوں کا رسیا تھا اس نے اپنی تسکین کیلئے ڈیرے میں ہی اعلیٰ نسل کے کتے پال رکھے تھے ۔ جنہیں وہ ارد گرد کے چکوک میں ہونے والے میلوں ٹھیلوں کے دوران ہونے والے مقابلہ جات میں لڑایا کرتا تھا ۔ ان کتوں کی دیکھ بھال بھی نیفا ہی کیا کرتا تھا ۔ کچی سڑک پر بیٹھے کتوں کی بھونکنے کی آوازیں ڈیرے میں آ رہی تھیں ۔ رد عمل میں ڈیرے کے کونے میں بندھے کتے بھی بھونکنے لگے تھے ۔ جب تک ڈیرے میں کتے بھونکتے رہے گفتگو کا محور بھی کتے ہی رہے ۔ کسی نے ان کی نسل کی بات کی تو کسی نے ان کی پرورش کے گر بتائے ۔ وہاں موجود کسی نے نمبر دار کی توجہ آوارہ کتوں کی طرف دلائی تو نمبر دار نے حقے کا سوٹا لگاتے ہوئے کہا ’’ جب کاتک ختم ہو جائے گا تو یہ کتے بھی چلے جائیں گے ‘‘گاؤں کے باہر آوارہ کتے بھونک رہے تھے ۔فرنگی نمبر دار کی محبوب کتیا کا نام تھا ۔وہ اس کا ہر طرح سے خیال رکھتا ۔ اس کا کہنا تھا فرنگی نے ہر میدان جیتا ہے اس لیئے اسے وہ اسے پیاری ہے۔وہ کھونٹے پر بندھی زور لگا رہی تھی ۔پنجوں سے مٹی کھرچتے ہوئے اس نے زمین میں گڑھا سا بنا دیا تھا ۔ایک ایک کر کے ڈیرے میں بیٹھے لوگ جانے لگے ۔ نمبر دار موہڑے سے اٹھا اور فرنگی کو گود میں لے کر اسے سہلانے لگا۔ گاؤں کے باہر گاہے بگاہے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔’’ نیفے ۔۔۔۔۔۔ فرنگی کو ڈیرے کے پچھواڑے ،کمرے میں باندھ دے ۔۔۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے فرنگی کت پر ہے اور گاؤں کے باہر آوارہ کتے آن بیٹھے ہیں، میں اس کیلئے اعلیٰ نسل کے کتے کا بندو بست کرتا ہوں ‘‘
رات آلانی منجی پر لیٹے نیفے کا دماغ کت اور کاتک میں الجھا تھا ۔ اس نے آج ہی کئی کتوں کو ایک کتیا کے پیچھے بھاگتے دیکھا تھا ۔ جب نمبر دار نے اسے کسی کام سے دوسرے گاؤں بھیجا تھا ۔ کچی سڑک سے گزرتے اس کے دل میں کئی طرح کے خیال آئے تھے ۔ ایک دن نمبردار کے ڈیرے پر پنجائت تھی وہ حسب عادت نمبر دار کے کندھے دبا رہا تھا ،سامنے زمین پر نیلو پتھلا مارے بیٹھی تھی ،بھرا اور باپ اس کی جان کے در پر تھے ۔نیلو جھاڑیوں میں منہ کالا کرتے پکڑی گئی تھی ،بھرا نے کلہاڑی کے وار سے جان لینا چاہی مگر بچ نکلی باپ اسے نمبر دار کے پاس لے آیا، تاکہ کالک دھل جائے ۔
کھہ کھانے کے بعد کوئی بھی غیرت مند مرد نیلو سے نکاح کرنے کو تیار نہ تھا اگرچہ وہ اچھی خاصی منہ متھے لگنے والی عورت تھی ’’ نیفے ۔۔۔۔۔ آج شام تیرا نیلو سے نکاح ہے ‘‘ نیفے میں بھلا کہاں جرات تھی جو نمبر دار کے سامنے انکار کرتا ۔ انکار کرتا بھی کیسے ؟ ا س کی تو جیسے قسمت پڑیا نکل آئی تھی ایک روپے کی خرید یں اور سو روپیہ انعام نکل آئے ۔ گوری چٹی نیلو ،کوجھے کوہڑے نیفے کے سوتے بھاگ جگانے والی تھی ۔یہ بات اس نے کئی بار سوچی تھی کہ بھاگ اس کے جاگے ہیں یا کھہ کھاتی نیلو کے ،جس کی پورے گاؤں میں جگ ہنسائی بھی ہوئی تھی اور لوگ اس پر تھو تھو بھی کر رہے تھے ۔ موہڑے پر سے اٹھتے ہوئے نمبر دار نے بولی ماری ’’ نیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کاتک کی دلہن ہے ‘‘نیفے کی اس سے شادی تو ہو گئی مگر اس نے کوجھے نیفے پر کبھی بھی اپنا رنگ چڑھنے کی کوشش نہ کی ۔ اس نے نیفے سے صاف صاف کہہ دیا تھا ’’ تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ میرے دل کو بھی کوڑھا لگتا ہے ‘‘ نیفے نے تیش میں آکر نمبر دار سے نیلو کی کوکلی چڑھائی تو نمبر دار نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا ’’ جب کت پر آئے گی تو بھاگی بھاگی تیرے پاس آئے گی ‘‘ تب سے نیفے کو کاتک کا انتظار تھا ۔
رات کافی بیت چکی تھی ۔آسمان پر تارے اپنی جگہ بدل رہے تھے اور آلانی منجی پر نیفا پاسے مار رہا تھا ۔ وہ اپنے جُسے میں ایک عجم تبدیلی محسوس کر رہا تھا ۔ فرنگی کی طرح اس کا دل بھی مٹی کھرچنے کوکر رہا تھا ۔وہ نیلو کے پاس بھاگ جانا چاہتا تھا ۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ نیلو سے اس بابت جا کر پوچھے ۔مگر اسے نمبر دار کی بات یاد آگئی ’’ جب کت پر آئے گی تو بھاگی بھاگی تیرے پاس آئے گی ‘‘ ہاں نیفا بھی تو یہی چاہتا تھا کہ نیلو اس کے پاس آئے اور اسے آکر خود کہے ’’ نیفے آنکھوں کے ساتھ ساتھ تو مجھے دل سے بھی اچھا لگتا ہے ‘‘ آخر مرد کی بھی کوئی انا ہوتی ہے ۔ وہ کوجھا ہے تو کیا ہوا، ہے تو مرد ہی نا ۔مفت میں قاضی کو شراب مل جائے تو وہ بھی اس پر حلال ہو جاتی ہے ۔ مگرنیلو تو ساری کی ساری نیفے پر حرام ہو چکی تھی ۔ آسمان سے گرتی تریل نے جیسے کتوں کے ساتھ ساتھ نیفے کے جُسے کو ٹھار دیا تھا۔ کتے کچی سڑک کی ٹھنڈی مٹی میں سر پچھلے پاؤں میں چھپائے اونگنے لگے تھے اور نیفے نے پاؤں کی طرف رکھا کھیس اوپر اوڑھ لیا تھا۔
’’ نیفے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھ تو سو رہا ہے ۔آدھا کاتک گزر چکا ہے اور تو نے گھر پھیرا ہی نہیں ڈالا ‘‘نیلو نے نیفے کے منہ سے کھیس ہٹاتے ہوئے بوسہ لے لیا ۔ ٹھنڈے ہونٹوں کا لمس نیفے نے پہلی بار محسوس کیا تھا ۔ وہ اپنے سامنے نیلو کو دیکھ کر کانپنے لگا ۔ نیلو نے آگے بڑھ کر اسے بانہوں میں بھینچ لیا ۔اس کے سینے کے نرم گوشت نے جیسے اس کے اندر رہی سہی سکت بھی ختم کر دی ۔ نمبر دار نے ٹھیک کہا تھا نیلو کت پر آئے گی تو بھاگی بھاگی تیرے پاس آئے گی ‘‘ نیفے نے دل میں سوچا ۔ نیلو چھوٹی سی منجھی پر نیفے کے پہلو میں لیٹ گئی تو جیسے نیفے کے سُتے بھاگ جاگ اٹھے ۔ اس نے جُسے میں اک تناؤ سا محسوس کیا ،جُسے کے پور پور میں پھیلی بکھری بے چینی اس کی ٹانگوں میں سمٹ آئی ۔ اس نے ٹانگیں پھیلا دیں ،اک جھرجھری ایسے ہی سر کے بالوں سے شروع ہو کر پاؤں کے انگوٹھوں سے نکل گئی جیسے قریب المرگ شخص کی جان نکل جائے ۔ آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آواز نے نیفے کو خواب سے باہر نکالا تو کتے چوراہے میں لگے بوہڑ کے نیچے بھونک رہے تھے ۔ چاند کی روشنی میں ڈیرہ نہایا ہوا تھا ۔ آوارہ کتوں کی بھونک سے ڈیرے میں دوسرے کتے بھی غرا رہے تھے ۔ اس نے چاندنی میں نظر دوڑائی تو وہاں اس کے اور کوئی موجود نہ تھا ۔ نیلو حقیقت میں اس کے پہلو میں سو رہی تھی یا یہ سفنا تھا،وہ ابھی تک فیصلہ نہ کر پایا تھا ۔ اس نے چارپائی کے ساتھ ساتھ ادھر ادھر بھی نظر دوڑائی مگر نیلو کی موجودگی محظ خواب لگی تو وہ دوڑ کر ڈیرے کے عقب میں بندھی فرنگی کے پاس آیا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ جس جگہ اس نے فرنگی کو باندھا تھا وہ کھونٹا خالی تھا ۔ وہ ڈیرے کے صدر دروازے کی طرف لپکا ۔دروازہ کھولا تو بوہڑ کے سائے میں فرنگی آوارہ کتوں کے ساتھ کچی سڑک کی طرف دوڑے جا رہی تھی ۔ چوبارے کی بتی روشن تھی ۔نمبر دار کبھی کبھار چوبارے پر ہی آ کر سو جایا کرتا تھا ۔ نیفے کا خیال تھا نمبر دار چوبارے پر سو رہاہے اسے بتا دینا مناسب ہے ۔ سیڑھیا ں چڑھ کراوپر پہنچا تو دوروازہ کھلا تھا ۔ نیفا چوبارے میں نمبر دار کے ساتھ نیلو کو دیکھ کر دھک سے رہ گیا ’’ سرکار ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرنگی آوارہ کتوں کے ساتھ کچی سڑک کی طرف بھاگ گئی ہے ‘‘اس نے بندھے ہاتھ اوپر اٹھائے جوٹھنڈے جُسے کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔

(Visited 40 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *