کراچی کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔!۔۔۔ تحریر : قادر خان یوسف زئی

شہر قائد میں امن و سکون ایک ایسا خواب بنتا جارہا ہے جس کی کوئی تعبیر نظر آرہی۔گو کہ قیام امن کے لئے سیکورٹی فورسز نے قیمتی جانوں کی قربانیاں دے کر ایک ایسا امن تو قائم کردیا ہے ۔ جہاں اب روزانہ 20/30ٹارگٹ کلنگ کی واقعات نہیں ہوتے،بوری بند لاشیں ، بھتہ خوری ، ہڑتالوں اور ہنگاموں کا ایسا سلسلہ نہیں رہا جہاں عام شخص کی جان مال محفوظ نہ تھی۔تاہم امن دشمن عناصر ایسے واقعات کرتے رہتے ہیں جس سے اہل کراچی تشویش کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ویسے تو اڑھائی کروڑ کی آبادی میں جرم کو مکمل طور پر تو ختم نہیں کیا جاسکتا ، لیکن مخصوص شخصیات کو نشانہ بنانے اور پھر خاص مقاصد کے لئے دہشت گردی کے واقعات کرم خوردہ اہل کراچی کو ہراساں کردیتے ہیں۔ایم کیو ایم ( پاکستان) کے رہنما و سابق صوبائی اسمبلی کے رکن علی رضا عابدی کی ٹارگٹ کلنگ نے ملک دشمن عناصر کے عزائم کو دوبارہ عیاں کردیا کہ شہر قائد اب بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔پولیس تفتیش جاری ہے ۔ اس وقت تفتیشی ادارے کئی زاویوں سے تحقیق کررہے ہیں۔ ان ہی کڑیوں میں بانی ایم کیو ایم کی ایسی تقریر کے پس منظر کو بھی دیکھا جارہا ہے جس میں انہوں نے نام لے کر اپنے کارکنوں کو پارٹی چھوڑنے والوں و مخالفین کو نشانہ عبرت بنانے کی اشتعال انگیز تقریر کی ۔بانی ایم کیو ایم کی جانب سے سخت تقریر سے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے کہ اس قسم کی تقاریر سے کراچی میں انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے ۔ ماضی میں دھڑے بندیوں کی وجہ سے لسانی تنظیم میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بام عروج پر تھا ۔ تاہم اس وقت اچھی بات یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم ( پاکستان) ، حقیقی اور پی ایس پی نے عدم تشدد کی راہ اپنائی ہے ۔ خاص طور ایم کیو ایم ( پاکستان) نے سیاسی طور پر دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی ہے۔ ایم کیو ایم (پاکستان) کے دودھڑے بننے اور باہمی اختلافات نے انہیں نقصان پہنچایا اور انہیں اپنی کئی مضبوط سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ تاہم ضمنی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی نے انہیں حوصلہ دیا ہے ۔ گوکہ اب بھی ایم کیو ایم ( پاکستان) کے رہنماؤں میں اختلافات موجود ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار گروپ اور بہادر آباد گروپ کے درمیان اختلافات سے ان کا اپنا مینڈیٹ تقسیم ہوا ۔ایم کیو ایم (لندن) کے اشتعال انگیز تقاریر و سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے سیاسی ماحول پرگنداہ ہورہاہے۔ پا ک سر زمین پارٹی میں شامل ہونے والے کارکنان بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ان کے ٹاؤن آفس پر بھی حملہ ہوا ۔ تاہم سید مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کریں گے۔ ان کی جماعت کی جانب سے کارکنان و ذمے دارن کی ذہنی تربیت کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری ہے ۔ پی ایس پی کے رہنما 45منٹ کی تربیتی نشست میں جس طریقے سے اپنے کارکنوں و ذمے داروں کی سیاسی تربیت کررہے ہیں وہ ایک انتہائی مثبت عمل ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت کے لئے سنجیدہ سیاسی نشستوں کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے منشور اور مقصد کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ سیاسی اختلافات ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن سیاسی اختلافات میں اگر تشدد و جبر شامل ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات بڑے منفی مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پرتشدد سیاست نے اہل کراچی کی زندگیوں اجیرن بنا دیا تھا ۔ اب کئی عشروں بعد کراچی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا دوبارہ مرکز بن رہا ہے تو اس میں برداشت کی سیاست کا ہونا ناگزیر ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کراچی کی سیاست سے جیسے گم ہوچکی تھی۔ اے این پی کے صوبائی رہنماؤں نے انتخابات میں ووٹ کے لئے عوامی رابطوں کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ انتخابات میں ناکامی کے بعد اے این پی کی سیاست پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا تھا ۔ تاہم ضمنی بلدیاتی انتخابات میں اے این پی نے جنرل کونسلر کی نشست پر کامیابی حاصل کرکے کئی سیاسی حلقوں کو حیران کردیا کہ اے این پی اب بھی کراچی میں ایک سیاسی حقیقت کے طور پر موجود ہے ۔اے این پی نے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے کارکنان میں نئے جوش بھی پیدا کردیا ہے ۔ اے این پی ، عدم تشدد کی سیاست میں اپنا اہم کردار کراچی میں دوبارہ ادا کرسکتی ہے اگر وہ عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ سنجیدگی سے شروع کرے اور اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت کو یقینی بنائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت احتساب کی زد میں ہے ، پی پی پی کی اعلیٰ قیادت ، خاص کر سندھ کے اہم رہنماؤں کے نام اے سی ایل سی میں ڈالے جانے کے بعد ایک نئی سیاسی سرگرمیوں کا بھی آغاز شروع ہونے والا ہے۔ 24دسمبر کو بینکنگ کورٹ میں جس طرح پی پی پی کے رہنما اور کارکنان آئے تھے ، بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی کے اہم رہنماؤں کے گرد جے آئی ٹی کے بعد نیب کا شکنجہ سخت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سیاسی افراتفری کے لئے کراچی جیسا حساس شہر پورے ملک کو دوبارہ متاثر کرسکتا ہے۔ سیاسی مخالفین کے درمیان باہمی چپقلش کی وجہ سے کراچی پرتشدد سیاست کا گڑھ بن سکتا ہے ۔ دوبارہ کراچی میں پرتشدد سیاست کو پروان چڑھانے کی بھی سازش کی جاسکتی ہے۔ اس صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر رینجرز نے جس طرح شہر قائد کو دہشت گردی سے نجات دلائی ، ان پر مزید ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ کراچی میں سیاسی و سماجی صحت مندانہ رجحان کی حوصلہ افزائی کریں اور عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لئے ایسے اقدامات کریں جس سے اہل کراچی دوبارہ مایوسی اور خوف میں مبتلا نہ ہوسکیں ۔اہل کراچی کو اس وقت سہارے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے مثبت کردار سے اہل کراچی کو خوف کے ماحول سے باہر نکال سکتی ہیں۔
پی ٹی آئی کو کراچی میں ایک بھر پور مینڈیٹ ملا ہے ، انہیں کوشش تیز کرنی چاہیے کہ اہل کراچی میں احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے کراچی پیکچ پر جلد از جلد عمل درآمد کروانے کی کوشش کریں ۔ ممکنہ بلدیاتی انتخابات اگر اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہونے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کو بڑھائیں ۔ یہ طرز عمل مایوس کن ہوتا ہے کہ جب انتخابات نزدیک آتے ہیں تو سیاسی جماعتوں کے رہنما سرگرم ہوجاتے ہیں اور انتخابات کے بعد غائب ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی غیر سنجیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کی سیاست ملک کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف ہے ۔ اس کی ترجیحات و معاملات کی نوعیت بھی ملک کے دیگر حصوں سے جداگانہ ہے۔ کراچی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ اہل کراچی کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کراچی کی بدحالی و عدم ترقی کی بنیادی وجوہات میں اہل کراچی کا چپ رہنا بھی سب سے اہم وجہ ہے۔ خاموش اکثریت کو اپنے آنے والی نئی نسل کی بقا کے لئے میدان عمل میں باہر نکلنا ہوگا ۔ نوجوانواں میں منفی رجحانات کو سب سے پہلے اپنے گھروں سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مثبت سماجی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ صحت مندانہ رجحان کو پروان چڑھانے کے لئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو منفی رجحانات میں استعمال کروانے کی روش کو روکا جاسکے۔کراچی میں مستقل امن کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی ایسا سمجھوتہ نہ کیا جائے جس سے ملک کی معاشی شہ رگ کو دوبارہ نقصان پہنچے ۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *