خدا حافظ ملائشیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

لنکاوی سے واپس آنے کے بعد ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ یہ دو دن ہمیں وہیں گزارنے تھے۔ ایک تو ہمارے پاس رقم کم تھی اور دوسرے صحت بھی زیادہ سفر کی متحمل نہیں تھی۔ہم نے وہ دن کانگر میں ہی گزارے۔ ان دو دنوں میں ہم اپنا سامان سمیٹتے رہے کہ کچھ رہ نہ جائے۔ اس کچھ میں نقدی کم ہی تھی اور اسے یہیں رہ جانا  تھا کہ ابھی دو دن باقی تھے اور ہمیں کوالالمپور بھی جانا تھا۔ اصل اثاثہ ہماری تعلیمی دستاویزات کے علاوہ ہمارے نئے لباس تھے جو کہ پاکستان سے ہم نے بنوائے تھے اور اب ایک طویل عرصے تک استعمال کرنے کے متمنی  تھے(اگر ہم لباس کے حدوداربعے سے باہر نہ نکل گئے تو)۔ اس کی امید گو اتنی ہی ہے جتنی کہ کشمیر میں استصواب رائے کی مگر مسلمان چونکہ کبھی مایوس نہیں ہوتا تو ہم ان کے متعلق ازحد حساس تھے۔لنکاوی سے واپس آنے کے بعد ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ یہ دو دن ہمیں وہیں گزارنے تھے۔ ایک تو ہمارے پاس رقم کم تھی اور دوسرے صحت بھی زیادہ سفر کی متحمل نہیں تھی۔ہم نے وہ دن کانگر میں ہی گزارے۔ ان دو دنوں میں ہم اپنا سامان سمیٹتے رہے کہ کچھ رہ نہ جائے۔ اس کچھ میں نقدی کم ہی تھی اور اسے یہیں رہ جانا  تھا کہ ابھی دو دن باقی تھے اور ہمیں کوالالمپور بھی جانا تھا۔ اصل اثاثہ ہماری تعلیمی دستاویزات کے علاوہ ہمارے نئے لباس تھے جو کہ پاکستان سے ہم نے بنوائے تھے اور اب ایک طویل عرصے تک استعمال کرنے کے متمنی  تھے(اگر ہم لباس کے حدوداربعے سے باہر نہ نکل گئے تو)۔ اس کی امید گو اتنی ہی ہے جتنی کہ کشمیر میں استصواب رائے کی مگر مسلمان چونکہ کبھی مایوس نہیں ہوتا تو ہم ان کے متعلق ازحد حساس تھے۔ایک رات پہلے تک سب تیار تھا۔ صبح بس منہ ہاتھ دھو کے ٹوتھ پیسٹ سمیٹا اور ناشتہ کر کے چلے بس اڈے پر۔ہم جس ہوٹل میں تھے اس کا مالک جو کہ چینی نژاد تھا ہمارا بہت اچھا دوست بن گیا تھا۔جب ہمارا گلا خراب تھا تو ہمیں اس نے کافی بھی دی علاوہ  دوا کے۔ اس کے علاوہ بارش میں استعمال کے لئے چھاتا بھی اسی نے فراہم کیا۔ اسے معلوم ہوا کہ ہم واپس جا رہے ہیں تو اس نے کہا کہ آئندہ بھی یہیں آنا۔ ہم نے کہا کہ ضرور۔ اس کے بعد وہ ہمیں بس اڈے تک لے گیا۔ ہمیں کانگر سے کوالالمپور جانا تھا کہ ہماری فلائٹ وہیں سے تھی۔ بس سے اس لئے جانا پسند کیا کہ فلائٹ رات 9 بجے کی تھی اور ہم بآسانی تب تک پہنچ سکتے تھے اور پھر وہاں پر انتطار کی زحمت بھی نہ کرنا پڑتی اور سیدھا سیدھا اڑن چھو ہو جاتے سعودی عرب کو۔اڈے پر قریب نصف گھنٹہ انتظار کیا۔ بعد ازاں پھر وہی نظارے تھے وہی ہم۔سات گھنٹے کا سفر تھا۔ جہاں بس رکی ہم نے کھا لیا اور کچھ رستے کے لئے بھی خرید لیا۔ ہم جب کوالمپور پہنچے تو شام کے سات بج چکے تھے۔ یہ ڈرائیور حضرات بھی مقررہ وقت پر پہنچا دیں تو ڈرائیور کون کہے گا انھیں۔ چھ سات گھنٹے کا سفر ساڑھے آٹھ گھنٹے میں بآسانی ہو گیا۔قریب دو گھنٹے باقی تھے ہمارے پاس۔ ہم نے وہیں سے ٹیکسی لی اور سیدھے ایئرپورٹ روانہ ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ ہوائی اڈہ ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ادھر ہم اڈے سے باہر نکلے ادھر ٹریفک جام۔ دس پندرہ منٹ تو گاڑی وہیں کھڑی رہی پھر آہستہ آہستہ رینگنا شروع ہو گئی۔ ہم نے دل ہی دل میں دعائیں شروع کر دیں کہ وقت پر پہنچ جائیں کہیں ہماری فلائٹ ہی نہ رہ جائے۔کچھ دیر بعد ٹیکسی ٹریفک کے اژدھام سے نکلی تو ہم نے سکون کا سانس لیا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے۔کہ ڈرائیور نے پوچھا کہ کونسے ہوائی اڈے پر جانا ہے؟ ہم نے کہا کہ جو بین الاقوامی پروازوں کے لئے ہے۔کہنے لگا کہ یہاں تو دو اڈے ہیں اور دونوں ہی سے بین الاقوامی پروازیں جاتی ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہمیں تو وہیں جانا جہاں سے ہم آئے تھے۔ اپنے ٹکٹ پر اسے ہوائی اڈے کا نام دکھایا۔ اس نے کہا کہ نام تو یہی ہے بس ایک کو ایک نمبر اور دوسرا دونمبر کہلاتا ہے۔ ہم نے کہا کمال ہے آپ کے ملک میں ہوائی اڈے بھی دو نمبر ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر چیز دو نمبر ہے ماسوائے ہوائی اڈوں کے اور ملائشیا میں سب ایک نمبر مگر ہوائی اڈے دو نمبر۔کہنے لگا کہ ہیں دونوں ساتھ ساتھ ہی۔ بس پندرہ بیس منٹ ہی لگیں گے ایک سے دوسرے میں جانے کے لئے۔ ہم نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہی تو نہیں ضائع کرنے کے لئے۔ ہم دعا کرتے رہے کہ کاش جس پر یہ لے جائے وہی ہمارا مطلوبہ اڈا ہو۔جب ہم ہوائی آڈے میں داخل ہوئے۔ پہلی ایل سی ڈی پر لگے ہم قطر کی فلائٹ ڈھونڈنے۔ معمولی سی تلاش کے بعد ہمیں مل گئی اور ہم نے مطلوبہ کائونٹر سے اپنا بورڈنگ پاس بنوایا اور چلے ہم سوئے جہاز۔ چونکہ وقت تقریبًا ہو چکا تھا تو ہم فورًا ہی ضابطوں کی تکمیل کے بعد سوار کر دیئے گئے۔ کچھ ہی دیر میں ہم ملائشیا کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ رب راکھا۔ پھر ملیں گے۔ہمارے ساتھ والی سیٹ پر ایک اطالوی شہری تھا۔وہ لندن جا رہا تھا۔ اس کی بیگم ملایشین بدھ تھی۔ وہ بیگم کو میکے چھوڑ کے واپس کام پر جا رہا تھا۔ ہم اس سے گفتگو کرنے لگے۔ وہ اطالوی تھا مگر اب برطانیہ میں مقیم تھا اور وہاں ٹیکسی چلاتا تھا۔ اس کو ہم نے مختلف معاملات جن میں کشمیر، عراق، شام، دہشت گردی، انسانی سمگلنگ  شامل تھے کے بارے میں پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور ان کا حل بھی تجویز کیا کہ اگر عنان حکومت ہمیں مل جائے تو یہ تمام مسئلے جڑ سے ختم کر دیں گے۔ ان صاحب نے بھی وعدہ کیا کہ وہاں وہ ہمارے لئے رائے ہموار کریں گے۔ دوحہ اتر کر ہم نے ایک دوسرے کو اللہ بیلی کیا اور اپنے اپنے کائونٹر کی جانب  چل دیئے۔   یہاں دو گھنٹے گزارنے کے بعد ہم پھر جہاز میں تھے اور ایک گھنٹے بعد ہم بریدہ القصیم۔ جب ہم بریدہ اترے تو فجر کا وقت تھا۔ ایک دوست کی معرفت ہم گھر پہنچے تو تالا بدل چکا تھا۔ دراصل ہم پاکستان جاتے ہوئے اپنے گھر کا بجلی کا مین سوئچ بند کر گئے تھے اور اس سوئچ کے ساتھ بجلی کی موٹر بھی منسلک تھی جس کا ہمیں علم نہ تھا۔ پاکستان میں دو تین روز بعد ہمیں ہمارے عقاری(پراپرٹی ڈیلر) کا فون آیا کہ جناب آپ کہاں ہیں؟ ہم نے کہا کہ پاکستان۔ تو کہنے لگا کہ آپ نے سوئچ بند کر دیا ہے جس سے پانی کی موٹر نہیں چل رہی۔تمام عمارت میں پانی کی قلت ہے۔ آپ نے تو انھیں کربلا یاد کروا دیا ہے۔ ہمیں یہ مثال کچھ اچھی نہیں لگی۔ ہم نے کہا کہ تالا بدل کر چابی ہمارے پاکستانی ہمسائے کو دے دو۔  تالا تو انھوں نے توذکر نیا لگا دیا مگر چابی نہ دی۔ ہم اپنے ہمسائے کے گھر ہی سامان رکھ کر سو گئے۔۔ دوپہر کو نیا تالا لگایا اور اپنا سامان اندر رکھا۔یہ ہمارا پہلا سفرنامہ ہے۔ سفر البتہ دوسرا تھا۔ پاکستان سے  سعودی عرب پہلا سفر تھا۔ اپنے قارئین کے ہم شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے اصرار کر کے ہم سے یہ مکمل کروایا۔ سفر  تو دو ہفتے کا تھا مگر سفرنامہ تین ماہ لے گیا۔ اس کا سہرا ہماری سستی کے سر ہے۔ ہمارے لئے خوشی کی بات یہ کہ ہمیں سفرنامہ لکھنا آ گیا۔ اب ہم سفر کریں یا نہ کریں جب بھی قارئین نے پرزور فرمائش کی، ہم سفرنامہ لکھ دیں گے۔ سفرنامے لکھنا کونسا مشکل کام ہے۔ اسی میں تواریخ ملکوں اور جگہوں کے نام تبدیل کر دیں گے۔ تھوڑی بہت مدد انٹرنیٹ اور گوگل کے نقشے اور گوگل ارتھ کر دے گا۔ باقی کام  دماغ سے لیں گے۔ اس میں کلام نہیں کہ سفر کے لئے ٹانگیں اور زاد راہ ضروری مگر متبادل کے طور پر عقل بھی تو موجود ہے۔ اس کی اہمیت درج بالا چیزوں سے کم سہی، کچھ نہ کچھ تو ہے ہی۔

(Visited 31 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *