خواب، خواہش، زندگی !! ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

۔’’ شہروز صاحب!! آپ نے کبھی کنول کا پھول دیکھا ہے۔؟‘‘ میں ، جو اس حسینہ کے جلوں اور اداؤں میں کھویا ہوا، حال سے بے حال ہوا جا رہا تھا، اس کے لرزتے ، کانپتے، ٹوٹے کانچ جیسے لہجے میں کیئے گئے سوال پر چونک کر اس طرف دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔ ۔ ’’ کنول کا پھول؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔؟میں کچھ سمجھا نہیں۔ تم کھل کر کہو جو کہنا چاہ رہی ہو۔‘‘ ۔ ’’ ہاں شہروز صاحب!! کنول کا پھول۔ اپنی تمام تر خوبصورتی اور پاکیزگی کے باوجود اسکا نصیب کیچڑ کی دلدل میں کھلنا ہی لکھا ہوتا ہے۔؟کیچڑ کی دلدل، گندے پانیوں کے جوہڑ ہی کنول کا نصیب کیوں ہوتے ہیں شہروز صاحب۔؟ پھول تو پھول ہی ہوتا ہے شہروز صاحب، کنول کا ہو یا گلاب کا۔ سب کو ایک جیسا ماحول کیوں میسر نہیں آ سکتا شہروز صاحب۔؟ ‘‘ اس کی بڑی بڑی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں اس قدر اداسی اور یاسیت بھری تھی کہ میری روح کانپ کر رہ گئی۔میرے حواسوں پر چھایا نشہ یکلخت ہی ہرن ہو گیا اور میں بس ایک ٹک اسے دیکھتا ہی چلا گیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ میرا نام شہروز حیدر آفندی ہے۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں اور اس لیئے بہت لاڈلا بھی ہوں۔میرے والد جج کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور امی ویمنز کالج کی وائس پرنسپل اور اسٹنٹ لیکچرار۔ اسی لیئے ہمارے گھر کا ماحول ہمیشہ ہی بڑا نستعلیق رہا تھا۔امی اور ڈیڈی میں بلا کی انڈر اسٹینڈنگ تھی۔ وہ ایک دوسرے کے دل کی بات بنا کہے ہی سمجھ جایا کرتے تھے، اور ان کی اسی ذہنی ہم آہنگی نے میری تربیت کو اس قد ر متوازن اور اعلیٰ پائے کا بنا دیا تھا کہ ہمارے سارے سرکل میں مجھے ایک آئیڈیل شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔شائد یہ اکلوتا ہونے کی وجہ تھی یا پھر واقعی میرے اندر قائیدانہ صلاحیتیں موجود تھیں کہ میں جوں جوں بڑا ہوتا جا رہا تھا، ہر محفل کی جان بنتا جا رہا تھا۔خاندان کے علاوہ اسکول اور کالج کے بعد یونیورسٹی تک آتے آتے میری مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا گراف بڑھتا ہی چلا گیا۔ بلکہ یونیورسٹی تک آتے آتے تومیری شخصیت کا سحر اس قدربڑھ چکا تھا کہ میری رائے اور شمولیت کے بغیر کوئی ایونٹ، کوئی فکنشن کامیاب ہو ہی نہیں سکتا تھا۔پوری یونی میں میرے ہی نام کا طوطی بول رہا تھا۔میں اپنی مقبولیت کو خوب انجوائے کر رہا تھا کہ ، اچانک ایک دن ’’وہ‘‘ میری زندگی میں آگئی۔اور پھر اس نے آتے ہی ایک ایک کر کے مجھ سے میرے سارے عہدے، ساری نشتیں کچھ اس طریقے سے چھین لیں کہ میں بس کھڑا اس کا منہ ہی دیکھتا رہ گیا۔ ۔ میں ان دنوں ایم بی اے کے فائینل ائیر میں تھا۔ ہمارے اکنامکس ڈپارٹمنٹ کی ڈین سر اکرام اللہ بخاری کا ٹرانسفر سندھ یونیورسٹی میں ہو گیا۔ہم نے ان کے اعزاز میں ایک پارٹی رکھی۔ میرے ساتھ ساتھ سب کو پورا پورا یقین تھا کہ میرے زیر نگرانی انجام پانے والی یہ فیر ویل پارٹی بھی اپنے انتظامات کی وجہ سے سپر ہٹ جائے گی۔پارٹی والے دن میں صبح ہی صبح یونی پہنچ گیا۔ اور میرے ساتھ ساتھ میرے تمام دوست بھی موجود تھے۔ہم نے یہ پارٹی آڈیٹوریم ہال میں رکھنے کی بجائے اکنامکس ڈپارٹمنٹ کے ہرے بھرے لان میں رکھی تھی۔وہ سردیوں کے خوبصورت دن تھے۔ پورے لان پر سردیوں کی نرم گرم دھوپ نے اپنے سنہری پنکھ پھیلا رکھے تھے۔ سر اکرام اللہ بخاری ہماری یونی کے ہر دلعزیز اساتذہ میں سے ایک تھے۔ان کے آفس کے دروازے ہر اسٹوڈنٹ کے لیئے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ وہ اس قدر مشفق انسان تھے ان کے پاس اپنا بڑے سے بڑا مسلہٰ بھی لے جاتے ہوئے کبھی کسی کو کوئی جھجک محسوس نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر وہ بھی اپنی ازلی محبت اور خلوص کے ساتھ وہ سارے مسائل حل کرتے سبھی دل سے انکی عزت کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔اور یہی وجہ تھی کہ میں اس فیئر ویل پارٹی کو ان کے شایانِ شان دیکھنا چاہتا تھا۔میرے زرخیز دماغ میں اس فنکشن کی کامیابی کے حوالے سے جو جو بھی آئیڈیاز آئے میں نے اپنے ساتھیوں سے ڈسکس کیئے تھے۔ اور ہمیشہ کی طرح ہی میرے وہ تمام آئیڈیاز ہی انہیں اس قدر پسند آئے کہ بغیر کسی تامل کے سب نے نہ صرف مان لیئے بلکہ ان پر عمل بھی کر ڈالا تھا۔سر اکرام اللہ کے اعزاز میں ہمارے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ظہرانہ دیا جا رہا تھا۔ان کی طویل علمی خدمات کے اعتراف میں ہمارے ڈپارٹمنٹ کے علاوہ، تقریباً پورے یونی اسٹاف کی طرف سے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔لان کے مرکزی حصے میں ہم نے اسٹیج بنایا تھا، جس پر پرنسپل صاحب کے ساتھ سر اکرام اللہ جلوہ افروز تھے۔اسٹیج کے ایک طرف رکھے گیئے روسٹرم پر ان کے رفقاء کے علاوہ ہم جیسے ان کے مداح ، انکے طلبہ بھی باری باری آتے اور سر کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین کے ڈونگرے برساتے چلے جارہے تھے۔کافی دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔پھر اس کے بعد سر اکرام اللہ نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، سر کو سبکی طرف سے تحائف دئے گیئے۔پھر اس کے بعد کھانے کا دور چلا۔میں اس تقریب کا منتظم اعلیٰ اور روح رواں تھا، اس لیئے ہمیشہ کی طرح اس پروگرام کی ممکنہ کامیابی کی خوشی کو دل سے محسوس کر رہا تھا۔اور پھر میرے اندازوں کے عین مطابق جلد ہی مجھے رزلٹ بھی مل گیا۔ سر اکرام اور پرنسپل صاحب نے بطورِ خاص مجھے اپنے پاس بلا کر شاباش دی تھی۔میرے ساتھیوں اور دوسرے کلاس فیلوز نے بھی میری انتھک محنت کو سراہا تو میرا سیروں خون بڑھ گیا۔ اس پر میرے بچپن کے دوست اسجد نے حسب معمول تعریفیں کر کر کے میرا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ۔ میں اس وقت خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا کہ اچانک اس پھولے ہوئے غبارے سے ہوا نکل گئی اور میں دھڑام سے زمین پر آن گرا۔ ۔ میں اور اسجد ہر طرف کا راؤنڈ لگا چکے تھے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا رھا، اسی لیئے ہم بے فکر ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گیئے ہمارے بلکل پیچھے سرو کے اچھے خاصے گھنے درخت تھے، اور ان درختوں کے پیچھے سے ہی ایک جھنجھلائی نسوانی آواز ابھری تھی جس نے مجھے چاروں خانے چت کر دیا تھا۔ ۔ ’’ اف !! توبہ ہے سبرینہ۔ اب بس بھی کر دو اور نکلو یہاں سے۔ میرے رو سر میں درد ہونے لگا ہے اس بے ہنگم شور سے ۔اُونہہ تم تو کہہ رہی تھیں کہ بہت اچھا پروگرام ہو گا اور بہت مزہ آئے گا، مجھے توخاک بھی مزہ نہیں آیا۔ الٹا میرا تو سارا دن ہی ضائع ہو گیا تمہارے اس ’’ شو‘‘ کے چکر میں۔‘‘ ۔ ’’ اوہو۔کیا ہو گیا ہے یار۔تم اتنی بیزار کیوں ہو رہی ہو۔؟بس ، تھوڑی دیر اور ناں ، پھر چلتے ہیں۔میں سر بخاری سے آٹوگراف تو لے لوں۔۔۔۔۔!‘‘ ابھی ہم پہلی آواز کے جھٹکے سے ہی نہیں سنبھلے تھے کہ دوسری قدرے جانی پہچانی آواز نے ہمیں چونکا دیا۔ ۔ ’’ کیا۔؟ ابھی تھوڑی دیر اور۔؟ نہیں، با لکل بھی نہیں۔اب مجھ میں ذرا بھی ہمت نہیں بچی اس سیاسی جلسے ، جلوس والی بیہودہ ارینجمنٹ میں بیٹھ کر ہونقں کی طرح سب کے مُنہہ دیکھنے کی۔بس، تم چلو یہاں سے۔ اور رہی سر سے آٹوگراف لینے کی بات تو تم اپنی آٹوگراف بک اپنے ڈپارٹمنٹ کے اس ’’ سپر ہیرو‘‘ کو دے دو ناں، جسکی شان میں قصیدے پڑھتے تم سمیت تمہارے پورے ڈپارٹمنٹ کی زبان نہیں سوکھتی۔ ہونہہ!! جسے دیکھو، ’’ شہروز یہ، شہروز وہ‘‘ ۔ اور شہروز صاحب نکلے کیا۔؟ حس جمال سے عاری اور بالکل کورے بندے۔ اونہہ !! تم بس چلو یہاں سے ۔ میرا اب دم گھٹنے لگا ہے یہاں۔‘‘ اس انجان لڑکی کے مُنہ سے نکلنے والے الفاظ نے میرا وجود ایک دھماکے سے اڑا کر رکھ دیا تھا۔میں بے اختیار اس کی طرف بڑھا تھا، مگر اسجد نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روک لیا۔ اور اشارے سے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا۔ میں شدید بے بسی کے عالم میں اپنی جگہ کلس کر رہ گیا۔وہ دونوں لڑکیاں تو جانے کب کی وہاں سے جا چکی تھیں، مگر جاتے جاتے میرا سکون اور اطمینان بھی اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ ۔ اسجد میرا پکا اور سچا دوست تھا۔ وہ میری دلی کیفیت اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا، اسی لیئے اس نے مجھے چھیڑا نہیں اور خود ہی ایک تنہا گوشہ دیکھ کر مجھے وہاں بٹھا، خود باقی کے امور نپٹانے چلا گیا۔پھر مین بھی زیادہ دیر وہاں رک نہ سکا ، اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ واپس گھر چلا آیا۔اس وقت شام ہو رہی تھی اور امی ڈیدی حسب معمول لان میں بیٹھے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔مجھے اس وقت اور اس طرح اچانک اپنے سامنے دیکھ کر وہ دونوں ہی حیران رہ گیئے۔ کیونکہ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ میں اپنا کوئی پروگرام، کوئی فنکشن اس طرح ادھورا چھوڑ کر آگیا تھا۔اور وہ بھی اس قدر اجڑی پجڑی حالت میں۔امی تو مجھے دیکھ کر دہل ہی گئیں ۔ پریشان تو ڈیڈی بھی بہت ہو گیئے تھے، مگر انہوں نے خود پر ضبط کا پہرہ بٹھا لیا اور خاموش نگاہوں سے میرا جائیزہ لینے لگے۔ میں دور سے ہی انہیں سلام کرتا ، ان سے نگاہیں چراتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اور وہ دونوں بس مجھے دیکھتے ہی رہ گیئے۔ ۔ ’’ جگر!! اٹھ، چل تیار ہوجاجلدی سے۔پتا چل گیا ہے اس مغرور حسینہ کا ، جس نے ہمارے شہزادے کا دل دکھانے کا جرم کیا ہے۔ چل اٹھ، چل کر ذرا اس سے اپنا حساب تو چکتا کریں۔!! ‘‘ میں تکیوں میں مُنہ دیئے پڑا تھا کہ میرے کمرے کا دروازہ ایک دھماکے سے کھولتے ہوئے اسجد نے دبنگ انداز میں اینٹری دیتے ہوئے پر جوش انداز سے کہتے ہوئے اس نے میرے اوپر سے کمبل کھینچ کر دور پھینک دیا۔ میں ظاہر ہے کہ اس افتاد کے لیئے بالکل بھی تیار نہیں تھا اس لیئے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ ۔ ’’ او یار۔!! ذرا چھری تلے دم تو لو۔اور تم کیا کہہ رہے ہو، ذرا سمجھ تو آنے دو مجھے پہلے۔!! ‘‘ ۔ ’’ اب چھری تلے دم نہیں لینا۔ اب ان کے جگر پر چھریاں چلانے کی باری ہماری ہے۔تم اٹھو۔ ابھی اٹھو اور چلو میرے ساتھ ۔ ‘‘ اور پھر میرے لاکھ نہ نہ کے باوجود وہ مجھے تیار کروا کے یونی لے ہی گیا۔اور اس دن میری سمجھ میں آیا کہ اس پری وش کو میرا کام اگر پسند نہیں آیا تھا تو بالکل ٹھیک ہی تھا۔ وہ اسم با مسمیٰ تھی۔سبرینہ، جو ہمارے ہی ڈپارٹمنٹ کی تھی، پریشے گل اس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔اور فائن آرٹ ڈپارٹمنٹ کی ذہین ترین اسٹوڈنٹس تھی۔ وہ سبرینہ کے اصرار پر ہی اس روز سر اکرام کی الوداعی پارٹی میں شریک ہوئی تھی۔میں بڑے خراب موڈ میں اسجد کے ہمراہ ان دونوں سے ’’ پوچھ گچھ‘‘ کرنے گیا تھا۔ مگر جیسے ہی اس نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا، میں سب کچھ بھول گیا۔وہ تھی ہی اس قدر حسین کہ اس پر نگاہ ٹہر ہی نہیں سکتی تھی۔اور اس پر اس کا سنجیدہ اور پر وقار انداز کہ دل خود بخود ہی اس کی تکریم میں جھک جھک جائے۔وہ ہلکے گلابی اور آسمانی کنٹراس کے لباس میں ملبوس تھی۔اسکا گلابی اور آسمانی دوپٹہ بڑے قرینے سے اسکے صبیح چہرے کے گرد ہالے کی صورت لپٹا اسکے تقدس میں اضافہ کر رہا تھا۔اب یہ اسکا رعبِ حسن تھا یا سادگی کہ میں اسے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکا بس چپ چاپ خاموشی سے اسے دیکھے چلا گیا۔ ۔ ’’ سبرینہ۔!! مجھے افسوس ہے کہ آپکو اور آپکی دوست کو اس دن پارٹی میں مزہ نہیں آیا۔ہماری وجہ سے آپکا ٹائم بھی ویسٹ ہوا اور آپ دونوں کو بوریت بھی اٹھانا پڑی۔ میں اس کے لیئے بہت شرمندہ ہوں اورآپ سے دلی معذرت چاہتا ہوں۔‘‘ میرے مُنہ سے نکلنے والے ان الفاظ نے جہاں ان دونوں کو چونکایا تھا، وہیں اسجد بھی حیرت سے مجھے گھورنے لگا تھا۔ مگر میں جانے کیوں شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔ اور اپنی اس حالت کی تو خود مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی تھی تو دوسروں کو بھلا کیا سمجھاتا۔ ۔ ’’ ارے نہیں شہروز۔!! یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔؟آپ جیسا سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔وہ تو اس دن پری کی واقعی طبیعت بہت خراب تھی، اسی لیئے یہ جانے کیا اناپ شناپ بول گئی ورنہ سچ کہہ رہی ہوں، فنکشن اتنا بھی برا نہیں تھا جس قدر یہ واویلا مچا رہی تھی۔‘‘ اب میری ظاہری حالت ایسی ہو رہی تھی یا واقعی میری شرمندگی سبرینہ کو بھی اس قدر شرمندہ کر گئی تھی کہ وہ بے ساختہ مجھے تسلی دینے والے انداز میں بولتی چلی گئی یہ سوچے بنا کہ وہ بول کیا رہی ہے۔سبرینہ کی بات سن کر ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میری اور پری کی نگاہیں ملیں، اور پھر ہم دونوں کی ایکساتھ ہی ہنسی چھوٹ گئی۔وہ پہلے تو حیرت سے ہمیں ہنستا دیکھتی رہی، پھر ناسمجھی سے شانے اچکاتے ہوئے اسجد کو دیکھنے لگی، مگر اسے بھی ہماری طرح ہنستا دیکھ کر پہلے تو حیران ہوئی اور پھر خود بھی ہمارے ساتھ ہنسنے لگی۔اور پھر اس دن کے بعد سے ہم چاروں کے درمیان دوستی کا ایک رشتہ سا بن گیا جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتا چلا گیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ میرا اور اسجد کا جیسے ہی ایم بی اے مکمل ہوا، ہم دونوں عملی زندگی میں کود پڑے۔میں نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی جوائن کر لی اور اسجد نے اپنے ابو اور بھائی کے ساتھ فیملی بزنس جوائن کر لیا۔پڑی اور سبرینہ کا لاسٹ سمسٹر چل رہا تھا، اس لیئے ہم دونوں ان سے ملنے کبھی کبھار یونی چلے جاتے۔مگر میں چاہ کر بھی اپنے دل کی بات کبھی اسے بتا نہیں پایا تھا۔یہ اسکا گریز تھا یا اس کے وجود پر چھایا وقار کہ میرے دل کی بات کبھی زبان پر آ ہی نہیں پائی تھی۔مگر اسجد اور سبرینہ کی گاڑی پوری رفتار سے پیار کی پٹری پر دوڑ رہی تھی۔اور پھر انکی گاڑی کو منزل مل ہی گئی۔اسجد اور سبرینہ کے گھر والوں نے ان کے رشتے کو منطقی انجام تک پہنچا ہی دیا۔ ان کے ساتھ چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا تھا۔ان دونوں کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے اور ظاہر ہے کہ ہم بھی ان کی خوشی میں دل سے خوش تھے۔ ۔ ’’ ہاں بھئی برخوردار۔!! تمہارا دوست تو ٹھکانے لگا۔ اب تم بتاؤ، تمہارے کیا ارادے ہیں۔؟ ہے کوئی حسینہ نظر میں یا پھر یہ کارنامہ بھی ہمیں ہی انجام دینا پڑے گا۔؟ ‘‘ اسجد اور سرینہ کی شادی کا کارڈ دیکھتے ہوئے ڈیڈی نے اپنے نرم گرم انداز میں میری کھنچائی کی تو میں جھینپ کر رہ گیا۔پہلے تو میرا دل چاہا کہ جھٹ سے پری کا نام ان کے سامنے رکھ دوں، مگر پھر مجھے اسکا گریز اور اس گریز کی وجہ یاد آ گئی۔ ۔ ’’ سوری شہروز۔!! جو آپ چاہتے ہیں وہ ہو نہیں سکتا۔میں اپنے علاقے، اپنے قبیلے کی پہلی لڑکی تو نہیں جو اس یونیورسٹی تک پہنچی ہوں، مگر ہاں، میں وہ پہلی لڑکی بھی نہیں بننا چاہتی جو اپنے والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر انکا اونچا شملہ جھکا دے۔اپنے علاقے کے رسم ورواج کے خلاف جانے کی مجھ میں واقعی ہمت نہیں ہے شہروز۔اس لیئے پلیز، اپنے بڑھتے قدموں کو یہیں روک لیں۔میں اس سفر میں آپکا ساتھ نہیں دے سکتی۔!! ‘‘ یہ پری کے وہ الفاظ تھے جنہوں نے میرے سارے مُنہ زور جذبوں پر جیسے بندھ باندھ دیئے تھے۔ظاہر ہے، وہ میری محبت تھی، اور میں اپنی محبت کی رسوائی کیسے برداشت کر سکتا تھا۔اس لیئے میں خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔ ۔ ’’ ارے نہیں ڈیڈی۔!! ایسی کوئی بات نہیں۔ مجھے کوئی لڑکی پسند نہیں، بلکہ میں نے کبھی کسی کو اس نظر سے دیکھا ہی نہیں۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو میں امی سے ضرور شئیر کرتا کہ اگلے مراحل تو بہر حال آپ دونوں کو ہی انجام دینے تھے۔‘‘ میں نے خود پر بمشکل کنٹرول کرتے ہوئے بظاہر مسکراتے ہوئے کہا تو امی میری ’’ فرمانبرداری‘‘ پر نہال ہی ہو گئیں۔ ۔ ’’ دیکھا۔!! میں نہیں کہتی تھی کہ ہمارا بیٹا ایسا نہیں ہے۔وہ ضرور ہمارا مان رکھے گا اور اپنی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے کا اختیار ہمیں ہی دے گا۔ آپ تو ایسے ہی اس کی طرف سے شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے تھے۔‘‘ امی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ۔ ’’ ارے بیگم صاحبہ!! آپ حالات بھی تو دیکھیں ناں۔ آجکل تو ہر طرف بس ایک ہی ہوا چل رہی ہے۔ آجکل کے نوجوانوں کو بس اپنی پسند پر ہی بھروسہ ہے۔ وہ کسی اور کی پسند پر اعتبار کرنے کے لیئے تیار ہی نہیں تو پھر ایسے میں ہم جیسے بزرگوں کا مشکوک ہونا تو بنتا ہی ہے ناں۔!! ‘‘ ڈیڈی نے اپنی انوکھی منطق کا اظہار کچھ اس انداز سے کیا کہ امی انہیں گھور کر رہ گئیں اور میری بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی۔ڈیڈی بھی میرے ساتھ قہقہے لگانے لگے۔ امی کچھ دیر تو خمشگیں سے جارحانہ انداز سے ہمیں گھورتی رہیں، اور پھر خود بھی ہمارے ساتھ ہماری ہنسی میں شامل ہو گئیں۔اسجد اور سبرینہ کی شادی بہت دھوم دھام سے ہو رہی تھی۔وہ اپنے والدین کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا تھا تو سبرینہ بھی دو بھائیوں کی اکلوتی لاڈلی بہن اور اپنے والدین کی اکیلی بیٹی تھی۔یہی وجہ تھی کہ دونوں گھرانے اپنے پورے ارمان نکالنے کے چکر میں تھے۔میری اور پری کی تو ساری ہی فیملی انوائیٹیڈ تھی، اور اسکے ساتھ ساتھ یونی کے کافی دوست بھی انوائیٹیڈ تھے۔اسجد اور سبرینہ کی شادی میں پری اور میں سب سے آگے آگے تھے اور یہ ہمارے حق میں بہت اچھا ہوا، کیونکہ پری امی کے دل کو بھا گئی تھی۔امی جان نے باتوں باتوں میں پری کی امو جان سے انکا پورا شجرہ اگلوا لیا۔اسجد کے شادی کے فکنکشنز جیسے ہی ختم ہوئے امی اور ڈیڈی ایک خاص مشن پر روانہ ہو گئیے۔ مجھے انہوں نے ہر معاملے سے انجان رکھا تھا۔شائد انکا ارادہ مجھے سرپرائیز دینے کا تھا۔ بہر حال ان کی کاروائیوں کا مجھے اس وقت علم ہوا، جب پری کے باباجان اور اموجان اپنی پوری فیملی سمیت ہمارے گھر ڈنر پر آئے تھے۔میں ان سب سے اسجد کی شادی میں مل چکا تھا، اور کچھ وہ پری کے والدین اور بھائی بھابھی تھے اس لیئے بھی مجھے ایک خاص قسم کی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ ۔ ’’ ہاں تو شہروز میاں۔!! اب آگے کا کیا ارادہ ہے۔؟ اپنا بزنس اسٹارٹ کرو گے یا پھر کہیں جاب وغیرہ کا پروگرام ہے۔؟ ‘‘ اسفند بھائی نے گرین ٹی کا سپ لیتے ہوئے اچانک مجھ سے سوال کیا تو میں ایکدم گڑبڑا سا گیا کیونکہ اس سے پہلے بات سیاست کی ہو رہی تھی اور میری دلچسپی سیاست میں نہ ہونے کے برابر تھی۔میں تو اس گتھی کو سلجھانے میں ہلکان ہواجا رہا تھا کہ پری ان سب کے ساتھ کیوں نہیں آئی۔کہبھیا نے اچانک اپنی توپوں کا رخ میری طرف موڑ دیا جس کی وجہ سے میں ہونق بن کر رہ گیا۔میری حالت دیکھ کر سب ہی ہنسنے لگے اور میں خواہ مخواہ ہی شرمندہ ہو کر رہ گیا۔ ۔ ’’ جی وہ۔!! اپنا بزنس تو ابھی اسٹارٹ نہیں کرونگی۔ ابھی تو اچھی جاب چل رہی ہے، ویسے بھی میں نے کچھ اور اچھی ملٹی نیشنل کمپنیز میں اپلائی کر رکھا ہے۔ امید ہے جلد ہی کہیں اچھی سی جاب مل جائے گی۔!! ‘‘ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے قدرے انکساری سے کہاتو بابا جان تائیدی انداز میں سر ہلاتے مجھے سراہنے لگے۔ ۔ ’’ بھئی اسفند بیٹا۔!! آپ ہمارے بیٹے کو انڈر اسٹیمیٹ مت کریں۔یہ جو بھی سوچتے ہیں، کر گذرتے ہیں۔اور جو بھی ٹھان لیں، پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے، کر کے دکھاتے ہیں۔بہت فوکسڈ اور کمپوزڈ پرسنالٹی ہے ہمارے بیٹے کی۔ماشااللہ۔‘‘ امی نے محبتوں سے چور اندازمیں میری تعریف کی تو میں کھل کر مسکرا دیا اور قریب بیٹھی امی کے شانوں پر بازو پھیلا کر انہیں ساتھ لگا لیا۔یہ شائد ہم ماں بیٹے کی محبت کا اثر تھا،یا پھر قسمت مجھ پر مہربان تھی کہ بابا جان نے اسی وقت مجھے سند قبولیت بخش دی۔ بس، پھرسب کچھ ود بخود ہی طے ہوتا چلا گیا۔اور پھر صرف دو ماہ کے اندر اندر پری میری زندگی میں محبتوں اور خوشیوں کے رنگ بھرنے ہمیشہ کے لیئے چلی آئی۔ ۔ پری نے ہمارے گھر کو واقعی جنت نظیربنا ڈالا تھا۔ ڈیڈی کو گارڈننگ کا بے حد شوق تھا اور ان کے اس شوق کو پری نے مہمیز کیا تھا۔وہ تو خود بھی پھولوں کی دیوانی تھی، اب ڈیڈی کے ساتھ ملکراس نے گھر کے لان کو جنت کے ٹکڑے میں بدل دیا تھا۔امی کو کوکنگ اور نٹنگ کا شوق تھا، اور پری یہاں بھی ایک ایکسپرٹ کی طرح ان کے ساتھ ساتھ تھی۔سو، لان کی طرح ہماری ڈائینگ ٹیبل پر بھی خوب رونق اور بہار نظر آتی تھی۔میں کہہ سکتا ہوں کہ پری کا ساتھ ملنے کے بعد مجھے دنیا میں ہی جنت کے نظارے آنے لگے تھے۔راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا ، مگر ہر وقت کا سکھ چین بھی بندے کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے شائد۔ اور اسی لیئے اللہ پاک نے اس دنیا میں جنت کا تصور ہی رکھا ہے۔جن جن لوگوں نے دنیا میں اپنی جنت کی تعمیر کی، وہ اسی دھوکے میں الجھ کر رہ گیئے، اور ویسے بھی کہتے ہیں کہ کشش کسی بھی چیز کی صرف اس وقت تک ہی رہتی ہے، جب تک وہ ہماری دسترس میں نہیں آ جاتی۔دسترس میں آجانے کے بعد تو شائد کوہ نور بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔اور یہ سب کچھ تو میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ۔ ہماری شادی کو دس سال بیت چکے تھے۔ڈیڈی اور امی اب اپنی ریٹائیرڈ لائف گذار رہے تھے۔پری کی کشش اب بھی ویسے کی ویسی ہی تھی۔حالانکہ ہمارے دو بچے ہو چکے تھے۔آٹھ سالہ بہروز اور پانچ سالہ مہروز۔ان دونوں میں دادا دادی کی جان تھی۔پری کے ساتھ ساتھ وہ دونوں بھی اسکی تربیت میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اطھی جاب پر تھا اور اب تو ترقی کرتے کرتے ’’ جی ایم‘‘ کء عہدے پر فائز ہو چکا تھا۔میری جاب اور امی ڈیڈی کا سوشل ستکل ایسا نہیں تھا کہ ہم گمنامی کی زندگی گذارتے۔ ہماری پرسنل لائف بہت سوشل اور ایکٹیو تھی۔ ہر ہفتے ہی ہم کہیں نہ کہیں مدعو ہوتے تھے۔اور ہم بھی مہینے میں ایک دو پارٹیز تو ضرور ارینج کرتے تھے۔اور ظاہر ہے کہ ان پارٹیز کو پری ہی مینج کرتی تھی۔اور اسکی ارینج کی گئیں پارٹیز کو دیکھ کر مجھے اپنی ارینج کی گئیں پارٹیز یاد آجاتیں تو میں بے ساختہ حجالت سے مسکرا دیتا کہ ان پارٹیز پر واقعی کسی جلسے کا ہی گمان ہوتا تھا۔وہ ہر بار ایک نیا اور اچھوتا آئیڈیا لاتی اور ہماری ہر پارٹی پہلی سے زیادہ کامیاب اور شاندار ٹہرائی جاتی۔لیکن ایک بات تھی کہ اس سارے ہنگامے اور اس قدر شدید مصروفیات کے باوجود بھی ہم لوگ ایک پل کے لیئے بھی ایک دوسرے سے غافل نہیں رہتے تھے۔یہ ہمارا آپس کا پیار تھا یا پھر شائد ہماری کیمسٹری ہی ایک دوسرے سے کچھ اس طرح مل چکی تھی کہ ہم بنا کہے ہی ایکدوسرے کے دل کی بات جان جایا کرتے۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ میں نے کہا ناں کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔اور میرا وقت بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگا تھا۔ہماری برانچ میں کچھ نئے ایمپلائز ٹرانسفر ہو کر آئے۔ وہ سب اچھے عہدوں پر تھے اور ملک کے گوشے گوشے سے پرموٹ ہو کر آئے تھے۔ میں ان سب کی کیس ہسٹری دیکھ رہا تھا۔ میرے لیئے یہ جاننا بہت ضروری تھا کہ نیئے آنے والوں میں ، کون کس کیٹگری کا ہے۔یہ سب میرے آفس کے ماحول اور میرے کام کے لیئے بہت ضروری تھا۔ان نیئے آنے والوں میں سب ہی پرموشن پا کر آئے تھے سوائے ایک بندے کے۔ اور اس ایک بندے کے کوائف نے مجھے بری طرح چونکا دیا تھا۔جنید کا تعلق پشاور برانچ سے تھا۔وہ وہاں جس پوسٹ کر تھا، اسے یہاں بھی اسی پوسٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔ کیوں۔؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے کم از کم میرے آفس میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔مسٹر انور( میرے پی اے) نے سب نیئے آنے والوں سے تعارف کے لیئے فوری طور پر ایک میٹینگ ارینج کر دی تھی۔میٹینگ میں سب نیئے آنے والوں سے مل کر ہمیشہ کی طرح اچھا ہی لگا تھا۔ہمارا نیا سٹاف بھی پہلے اسٹاف کی طرح بہت قابل اور ذہین افراد پر مشتمل تھا۔مجھے پوری امید تھی کہ ہم سب مل کر اپنی برانچ کو پہلے سے بھی زیادہ ترقی کی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ ۔ میں اپنے نئے ساتھیوں سے مطمین تھا، مگر جنید سے مل کر مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا تھا۔کچھ تھا اس بندے کی آنکھوں میں جو بار بار مجھے چونکا رہا تھا۔ کیا۔؟ میں خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔جلد ہی سب نئے لاگ آفس کے ماحول سے ایڈجسٹ ہو گئے۔اور ہم نے بھی انہیں اپنے آفس کا حصہ تصور کر لیا۔جنید کا روئیہ میرے ساتھ بہت نیاز مندانہ سا تھا۔اس کے اس قدر عقیدت اور عاجزی بھرے خوشامدی انداز سے بعض اوقات مجھے سخت کوفت ہونے لگتی۔لیکن پھر میں خواہ مخواہ ہی شرمندہ بھی ہو جاتا۔یہ تو اس کی عادت تھی ۔ وہ میرے علاوہ اپنے دوسرے سینئرز کے ساتھ بھی یہی روئیہ اپنائے رکھتا تھا۔بلکہ وہ سب کے آگے پیچھے پھرتا رہتا تھا۔ اسکا یہ خوشامدی بھرا، جی حضوری والا انداز، اس کی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ بالکل بھی میل نہیں کھاتا تھا۔وہ بلا وجیہہ و جمیل تھا۔جانے اسے اپنی وجاہت کا احساس ہی نہیں تھا یا پھر وہ یہ احساس کرنا ہی نہیں چاپتا تھا۔بہرحال، اس کی یہی عادتیں اسے سب کے مذاق کا نشانہ بناتی تھیں۔لیکن حیرت اس بات پر تھی کہ وہ اسپنے ساتھیوں کے کسی بھی مذاق کا برا نہیں مانتا تھا۔میں اکثر اس کی شخصیت کے اس پہلو پر غور و فکر کرتا، مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا تھا۔ ۔ ’’ شہروز۔!! آج تمہارے آفس سے کوئی مسٹر جنید اپنی مسز کے ساتھ آئے تھے۔‘‘ میں ڈنر کے بعد بہت ریلکس ہو کر لاونج کے صوفے پرنیم دراز، ٹی وی پر اپنا فیورٹ ٹاک شو دیکھ رہا تھاکی پری نے میرے سامنے گرین ٹی کا کپ رکھتے ہوئے سرسری سے انداز میں اطلاع دی تھی۔ ۔ ’’ کیا۔؟ جنید، اور یہاں۔؟ ہمارے گھر۔؟ ارے، وہ آیا کیوں تھا، اور اسے اجازت کس نے دی یہاں آنے کی۔؟ ‘‘ میں جنید کا نام سنتے ہی جھنجھلا گیا اور تیزی سے اندازِ نشست بدلتے ہوئے بہت تیز لہجے سے بولا تو پری کے ساتھ ساتھ امی اور ڈیڈی بھی میرا مُنہ دیکھنے لگے۔جو دوسرے صوفے پر بیٹھے گرین ٹی اور ٹاک شو سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ۔ ’’ شہروز۔!! کیا ہوا ہے بیٹا۔؟ اور یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا۔؟ ‘‘ امی نے اپنا کپ سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے سنجیدہ اور ٹھنڈے لہجے میں مجھ سے کہا تو میں فوراً سنبھل گیا۔ ۔ ’’ سوری امی۔!! بس، وہ جنید کا نام سنتے ہی جانے کیوں مجھے غصہ آ گیا اور میں ایکدم ہائیپر ہو گیا۔ حالانکہ آپ جانتی ہیں کہ میرا ٹیمپرامنٹ ایسا نہیں ہے۔‘‘ میں نے سب کے سنجیدہ اور خفگی بھرے تاثرات دیکھتے ہوئے خفت زدہ انداز سے کہا تو پری سنجیدگی اور غور سے میرا چہرہ دیکھنے لگی۔ ۔ ’’ ایسا کیا ہے شہروز، کہ جنید صاحب کا نام سنتے ہی آپکو غصہ آگیا۔؟ حالانکہ آپ کے کولیگز اور اسٹاف ممبرز تو اکثر آتے ہی رہتے ہیں ہمارے ہاں۔even کہ ہماری پارٹیز میں بھی آپ کے کولیگز کی شرکت معمول کی بات ہے، تو پھر اب ایسا کیا ہو گیا کہ آپ اپنے ایک ایمپلائی کی آمد کا سنتے ہی اس قدر بھڑک اٹھے کہ خود پر قابو ہی کھو بیٹھے۔؟ ‘‘ پری کی سنجیدہ اور اندر تک اترتی نگاہوں نے تو مجھے پہلے ہی گڑبڑا کر رکھ دیا تھا، اب اس کے سنجیدگی سے پوچھے گئے سوال نے مجھے شرمندہ بھی کر دیا تھا۔اور اس پر امی ڈیڈی کی سوالئیہ نگاہیں۔ ۔ ’’ ارے، نہیں پری۔!! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں تو بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ !! ‘‘ ۔ ’’ ہاں، تو وہی تو میں پوچھ رہی ہوں کہ’’ ایسے ہی کیا۔؟‘‘ ارے، آپ تو ان کی آمد کا ہی سن کر اس قدر ہائیپر ہو گئے اور جب آپکو یہ پتہ چلے گا کہ وہ ہمیں ڈنر پر انوائٹ کر گئے ہیں تو۔۔۔۔!! ‘‘ ۔ ’’ کیا۔؟؟ ڈنر۔؟؟اور وہ بھی ہم دونوں کو۔؟ارے، پری۔ کہیں تم نے انکا انویٹیشن قبول تو نہیں کر لیا۔؟ میں بتا رہا ہوں تمہیں کہ میں نہیں جا رہا کہیں۔۔۔۔!! ‘‘ ۔ ’’ شہروز۔!! enough is enough۔بس، بہت ہو گئیں یہ تمہاری بیوقوفوں والی باتیں۔اب اگر تم نے کوئی فضول بکواس کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ سمجھے تم۔‘‘ ڈیڈی سے شائڈ میرا یہ بیوقوفوں والا بچگانہ روئیہ برداشت نہیں ہورہا تھا، اسی لیئے انہوں نے ایکدم میری بات سختی سے کاٹتے ہوئے اپنے مخصوص’’ کھردرے اور ججانہ‘‘ انداز سے مجھے لتاڑا تو میں ایکدم جیسے ہوش میں آ گیا۔ ۔ ’’ اوہ، ڈیڈی۔!! سوری، مجھے لگتا ہے کہ آج واقعی میری طبیعت کچھ خراب ہے اسی لیئے۔۔۔!! ‘‘ ۔ ’’ اور ہمیں لگتا ہے کہ آج تمہارا دماغ ہی خاب ہو گیا ہے، اسی لیئے ایسی الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو۔کیوں پری بیٹا، میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں۔‘‘ امی نی بھی اپنے نرم شفیق انداز میں مسکراتے ہوئے میری بات کاٹی تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اور ظاہر ہے کہ اس میں میری جھینپی جھینپی سی مسکراہٹ بھی شامل تھی۔ ۔ ’’ شہروز۔!! میں نے مسٹر اور مسز جنید کا انویٹیشن ایکسپٹ کر لیا ہے۔ اس ہفتے کو ہم انکی طرف جا رہے ہیں۔ آپ یاد رکھئے گا، اور پلیز اس روز کوئی مصروفیت مت نکال لیجئے گا۔ مجھے آپکی نیت پر ابھی سے شک ہونے لگا ہے۔‘‘ پری سے خالی کپ سمیٹتے ہوئے کچھ اس انداز سے کہا کہ میں صرف گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ہفتے کی شام ہم دونوں جنید کے دئیے گئے ایڈریس پر جا پہنچے۔جنید کا گھر ہمارے گھر کی مخالف سمت میں تھا، ایک تو لمبی ڈرائیو اور اس پر ایڈریس شائد درست نہیں تھا، سو ہمیں گھر ڈھونڈنے میں ہی بہت وقت لگ گیا۔راستے کی خواری اور دل نہ ماننے کی اوازاری نے میرا موڈ بہت خراب کر دیا تھا مگر میں پری کا جوش دیکھ کر خود پر جبر کر گیا تھا۔وہ ایسی ہی تھی، نرم دل، پر خلوص اور کسی کا دل نہ توڑنے والی۔ جیسے ہی ہم مطلوبہ جگہ پر پہنچے، جنید اور اسکی مسز کو اپنا منتظر پایا۔ وہ دونوں گھر سے باہر نکل کر سڑک پر بے چینی سے ٹہلتے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔جیسے ہی ہماری گاڑی ان کے قریب رکی، انکے چہروں پر جیسے بہار آ گئی۔ جنید لپک کر آگے بڑھا اور پری کی سائیڈ والا دروازہ کھول کر کچھ اس عاجزانہ انداز سے اسے ویلکم کرنے لگا کہ ایک لمحہ کو تو پری بھی گڑبڑا گئی۔پری کے باہر قدم رکھتے ہی میں نے بھی برے موڈ کے ساتھ اپنا دروازہ کھولا اور جیسے ہی باہر قدم نکلا اپنے سامنے کھڑی اپسرا کو دیکھ کر بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ ۔ ’’ آئے ناں سر۔!! آپکے انتظار میں تو ہماری آنکھیں بھی پتھرا گئی تھیں۔ سچ، بہت انتظار کروایا آپ نے۔!! ‘‘ اس حسین ترین لڑکی کے بولنے کا انداز بھی بے حد حسین تھا۔اس کی آواز، اس کا انداز اس قدر دلنشیں تھا کہ ایک لمحے کو تو میرا سانس ہی بند ہو گیا۔میں بس آنکھیں کھولے، مُنہ پھاڑے ہونقوں کی طرح اس مہ جبیں کو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ ۔ ’’ شہروز۔!! چلیں ناں۔ کیا ہوا آپکو۔؟ آپ رک کیوں گئے۔؟ ‘‘ پری ، جنید کے قریب کھڑی میرے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی تھی، اور جب اس نے مجھے اس طرح آدھا گاڑی کے اندر اور آدھا باہر ، بت کی طرح ایستادہ دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ ۔ ’’ جی سر۔!! آئیے ناں پلیز۔!! ‘‘ اس حسینہ نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس ادا سے کہا کہ میں ایکبار پھر گڑبڑا سا گیا اور فوراً گاڑی سے باہر نکل آیا۔پری کچھ فاصلے پر کھڑی ہمیں سرسری سے انداز سے دیکھ رہی تھی۔اب وہ حسینہ پری سے مل رہی تھی۔اس کے انداز میں بہت گرم جوشی اور محبت بھری تھی ۔پری بھی اس سے مل کر بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔اگلے چند لمحوں میں ہم ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔جنید نے اس حسینہ کا تعارف ’’ خوشبو‘‘ کے نام سے کروایا۔وہ واقعی مہکتی ہوئی خوشبو ہی تھی۔ میں جتنے برے دل اور خراب موڈ کے ساتھ وہاں آیا تھا، اب اسی قدر خوش اور شاد دکھائی دے رہا تھا۔خوشبو کسی پروانے کی طرح میرے ہی ارد گرد منڈلا رہی تھی۔ جنید اگر پری کو فل پروٹوکول دے رہا تھا تو خوشبو بھی مجھے ہاتھوں ہاتھ لے رہی تھی۔ہم نے وہاں بہت اچھا وقت گذارا۔ اس روز جنید کی چند اور خوبیاں مجھ پر کھلیں تھیں۔ وہ بہت خوش مزاج اور ملنسار انسان تھا۔ بہت ذہین بھی تھا اور شائد محنتی بھی۔ مگر اس کے باوجود اسے ابھی تک پرموشن کیوں نہیں مل سکا تھا۔؟ اس کی وجہ ابھی بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ہم رات گئے تک وہاں بیٹھے رہے۔ کھانے اور گرین ٹی کے بعد خوشبو ، جنید کے کہنے پر اپنا ستار اٹھا لائی۔اس کی آواز بھی اسکی طرح بے پناہ دلکش تھی۔پری بھی اسکی آواز کے سحر میں جیسے کھو سی گئی تھی۔ اب ان دونوں میں بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی اور مجھے بھی اپنے گزشتہ روئیے پر دل ہی دل میں پشیمانی ہونے لگی تھی۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ جنید کا اور میرا رشتہ اب باس اور امپلائی سے بڑھ کر دوستی تک جا پہنچا تھا۔اب وہ اکثر ہی لنچ ٹائم مین میرے کیبن میں آ جاتا۔ اس کے ساتھ خوشبو کے ہاتھوں سے بنے مزیدار اور خوشبودار کھانے بھی ہوتے ، جو بقول جنید کے خوشبو خاص طور سے میرے لیئے بنا کر بھیجتی تھی۔پہلے پہل تو جنید کی اس طرح کی باتیں مجھے عجیب سے احساس میں مبتلا کر جاتیں، مگر پھر آہستہ آہستہ میں ان کا عادی ہوتا چلا گیا۔بھئی ، ظاہر ہے، میں کوئی ’’ زاہدِ خشک‘‘ قسم کا انسان تو نہیں تھا ،کہ اتنی حسین و جمیل ہستی میرے آگے پیچھے پھرے، میرے لیئے اپنے حسین ہاتھوں سے کھانے بنا بنا کر بھیجے اور میں پھر بھی اسے اگنور کرتا چلا جاؤں۔سو، میں نے بھی اس ’’ خصوصی پروٹوکول ‘‘ کو خوب انجوائے کرنا شروع کر دیا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے میں ان دونوں کے اس قدر نزدیک آ گیا کہ اب اگر چند دن بھی انکے گھر کا چکر نہ لگا پاتا توخود کو ادھورا محسوس کرتا۔میرے من کے اندر دور دور تک ایک انجانی سی پیاس پھیلتی چلی جاتی۔ ۔ ’’ شہروز جی۔!! کیا آپ آج لنچ میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔؟پلیز۔‘‘ میں اپنے آفس میں بیٹھا بہت ضروری فائلز کے ساتھ الجھ رہا تھا کہ خوشبو کی کال آگئی۔ایک لمحے کو تو میرا دل کیا کہ اسے منع کر دوں، کیونکہ کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔آفس میں ان دنوں کلوزنگ سیزن چل رہا تھا اور ایسے وقت میں اس قسم کی عیاشی کے بارے میں تو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔مگر کیا کریں۔ اس کی انداز میں اس قدر مان، اتنی محبت اور ایسی التجا تھی کہ میں چاہتے ہوئے بھی اسے انکار نہ کر سکا۔ ۔ ’’ ہوں۔!! ٹھیک ہے خوشبو۔ میں تمہاری خوشی کے لیئے آ جاؤں گا۔مگر یاد رکھنا، میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اس لیئے میں تمہارے پاس زیادہ دیر رک نہیں پاؤں گا۔‘‘ میں نے اس سے وعدہ کرتے ہوئے اپنی مجبوریوں کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری سمجھا تھا۔ ۔ ’’ جی جی شہروز۔!! آپ چاہیں تو تھوڑی دیر بعد ہی واپس لے جائے گا۔ مجھے تو بس آپ سے ملنا، آپکو دیکھنا ہی ہے۔آپ کتنے دنوں سے آئے ہی نہیں مجھ سے ملنے۔میرا بہت دل چاہ رہا ہے آپکو دیکھنے، آپکے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے کو۔آپ بس تھوڑا سا وقت میرے ساتھ گذار لیں تو میں مطمعین ہو جاؤں گی۔!! ‘‘ اسکی باتیں میرے دل کی کلی کھلا رہی تھیں۔ میرا اب آفس میں بیٹھنا بھی محال ہو رہا تھا، سو میں وقت سے پہلے ہی وہاں سے اٹھ آیا۔ ۔ ’’ خوشبو۔!! جنید کہاں ہے۔؟ وہ آج آفس بھی نہیں آیا اور اس وقت بھی وہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔؟اس کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔؟ ‘‘ مجھے اس کے پاس بیٹھے آدھا گھنٹہ گذر چکا تھا، اور اس دوران وہ ایکبار بھی دکھائی نہیں دیا تھا۔ویسے بھی جب سے میرا خوشبو کے ساتھ ربط زیادہ بڑھا تھا، جنید کے روئیے میں ایک خاص قسم کا استحقاق آتا جا رہا تھا۔ اب وہ جب دل چاہتا آفس سے چھٹی مار لیتا۔اور جب دل چاہتا اپنا کام آدھا ادھورا چھوڑ کر غائب ہو جاتا۔ اس کے آفس ٹیبل پر اکثر فائلوں کا انبار لگا رہتا، مگر اسے اس کی کوئی پرواہ ہی نہ ہوتی۔ایسے وقتوں میں اس کے پاس سب سے آسان حل یہ ہی رہ جاتا کہ وہ خوشبو کے ذریعے اپنا اُّلو سیدھا کرنے کی کوشش کرتا۔ خوشبو کا ایک فون آتے ہی میں جنید کو اس گرداب سے نکالنے کے لیئے فوراً آگے بڑھتا اور اسکے حصے کا کام سارے اسٹاف میں اس طرح بانٹ دیتا کہ کسی کو شک بھی نہ ہو اور اس کام بھی ہو جائے۔میں سمجھتا تھا کہ میرے اس عمل کی شائد کسی کو بھی خبرنہیں ہو پائے گی، مگر میں غلط تھا۔میں جس پوسٹ پر بیٹھا تھا، وہاں اس قسم کی ہیرا پھیریوں کی نہ تو گنجائیش تھی اور نہ ہی ضرورت۔ مگر میں اپنے دل کا کیا کرتا کہ خوشبو کی ایک ملتجیانہ کال پر میں شاید اپنا منصب بھی بھول جاتا تھا۔مگر میرا اسٹاف سب سمجھتا تھا۔سب جانتا تھا۔انہیں جب اپنے کام کے ساتھ ساتھ جنید کے حصے کا بھی کام کرنا پڑتا تو وہ خوب ناک بھوں چڑھاتے۔مگر میرے رعب کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں پاتے تھے۔اور اب توویسے بھی ہمارے آفس کا ماحول بہت بدل چکا تھا۔ جنید کی دیکھا دیکھی سب کو آپو دھاپ پڑ چکی تھی۔اور اس پر آج کل ہیڈ آفس سے بھی نت نیے احکامات جاری ہو رہے تھے، اور اس لیئے بھی دفتر میں ایک سراسیمگی کا عالم پھیلا ہوا تھا۔لیکن جنید صاحب کا وہی حال تھا۔دل کیا تو کام کر لیا، ورنہ’’ خوشبو‘‘ یا ’’ پری بھابھی‘‘ سے ایک فون کروایا اور اللہ اللہ خیر صلی ۔ اور یہی وجہ تھی کہ مجھے اچانک ہی اس کی غیر موجودگی کا احساس ہوا تو میں اس کے بارے میں پوچھ بیٹھا۔ ۔ ’’ وہ تو پشاور گئے ہوئے ہیں۔ ان کی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیئے انہیں جانا پڑ گیا۔ بس، ایک دو دن تک آ جائیں گے واپس۔!! ‘‘ میرے سامنے سلاد کی پلیٹ رکھتے ہوئے اس نے بڑی ادا سے کہا تو میں بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ اس وقت سیاہ شیفون کی باریک اورنفیس سی ساڑھی باندھے ہوئے تھی۔جس پر ننھے منے سلور اسٹونز ہیروں کی طرح جگمگا رہے تھے۔اس کے لمبے سیاہ لہراتے بال اس کی پشت پر آبشار کی طرح پھیلے تھے۔بے حد خوبصورتی سے کیا گیا نفیس سا میک اپ اس کے حسن کو دوآتشہ کر رہا تھا۔میری نگاہیں بار بار اس کے مر مریں جسم پر پھسل رہی تھیں۔وہ لہراتی بل کھاتی جس طرف بھی جاتی، میری نگاہیں بے تابی سے اسکا تعاقب میں اسکے پیچھے پیچھے جا رہی تھیں۔اور شاید یہی وجہ تھی کہ اپنے بھٹکتے دل اور الجھتے دماغ کو قابو میں کرنے کے لیئے ہی میں نے اس سے جنید کا پوچھا تھا، مگر اس کے جواب نے ایک لمحے کے لیئے تو مجھے حیران ہی کر دیا تھا۔ َ َ َ ’’ کیا مطلب۔؟ جنید پشاور گیا ہے۔؟ اور وہ بھی آفس میں بتائے بغیر۔؟ اور تم، تم یہاں اکیلی۔؟ وہ کس کے سہارے چھوڑ کر گیا ہے تمہیں۔؟عجیب لاپرواہ بندہ ہے۔ آلے ذرا، اس کی تو اچھی خاصی کلاس لینی پڑے گی مجھے۔!! ‘‘ میں ایک دم غصے میں آیا تھا۔ بھئی، ظاہر ہے، میں اپنے آفس کا باس تھا اور جنید میرا جونیئر ترین ایمپلائی۔ اور اس پر اس کے انداز۔غصہ تو مجھے آنا ہی تھا۔ ۔ ’’ آپ۔ آپ ہیں ناں، میرا خیال رکھنے کے لیئے۔وہ مجھے آپ کے سہارے ہی تو چھوڑ گیا ہے شہروز جی۔!! ‘‘ وہ اک ادا سے لہراتی، بل کھاتی آئی اور میرے بالکل قریب بیٹھتے ہوئے، اس نے میری آنکھوں میں اپنی نشیلی آنکھیں ڈالتے ہوئے کچھ اس ادا سے کہا کہ میری بولتی ہی بند ہو گئی۔ ۔ ’’ وہ تو ٹھیک ہے خوشبو۔ مگر تم خود سوچو کہ تمہیں اس طرح اجنبی شہر اور اجنبی جگہ پر اکیلا دیکھ کر اگرکوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو۔۔۔!! ‘‘ ۔ ’’ نہیں شہروز جی۔!! آپکے ہوتے ہوئے میرے لیئے نہ تو یہ شہر اجنبی ہے اور نہ ہی یہ جگہ۔اور پھر مجھے کوئی مقصان کیسے پہنچ سکتا ہے، جب میں اپنے گھر اور دل کے دروازے صرف آپ کے لیئے ہی کھولتی ہوں۔!! ‘‘ اور ایکبار پھر اس کے جواب نے مجھے لاجواب کر دیا تھا۔میں اس کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ ناز بھرے انداز سے اٹھی اور کچن کی سمت چلی گئی۔پھر تھوڑی ہی دیر میں اس نے ٹیبل پر کھانا لگا دیا، پھر وہ مجھے ہاتھ پکڑ کر ٹیبل تک لے آئی اور بڑے محبت بھرے انداز سے مجھے سرو کرنے لگی۔میں بھی اسے خوش کرنے کے لیئے بڑھ چڑھ کر اسکی تعریفیں کرتا چلا گیا اور اسکے ہاتھوں سے نوالے کھاتا چلا گیا۔آج شاید کوئی خاص دن تھا یا پھرشاید میرے دماغ میں شیطان نے یہ خیال ڈال دیا تھا کہ اس وقت ہم دونوں کے سوا یہاں کوئی بھی نہیں ، اور میں جو چاہوں اس حسینہ کے ساتھ کر سکتا ہوں۔مجھ پر تو یوں بھی کوئی الزام نہیں آئے گا کہ مجھے خود فون کر کے بلانے والی یہ ’’ قیامت‘‘ بھی خود ہی تھی۔مگر میں شاید یہ بھول گیا تھا کہ ایک ایسی ہستی ہر وقت میرے ساتھ موجود رہتی ہے جو میری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔اور وہ میرے دل کا حال تو جانتی ہی ہے، وہ میرے خیالوں اور ارادوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔اور اسی ہستی نے میری نگاہوں پر پڑے غفلت کے پردے کو چاک کرنا تھا جو یہ سارا کھیل رچایا گیا۔کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ میری فرمائیش پر پشاوری قہوہ بنا لائی۔میں اس کے ہاتھ سے پیالی ٹھیک طرح سے پکڑ بھی نہیں پایا تھا کہ اس کا ہاتھ کانپا اور گرم گرم قہوہ میرے ہاتھ اور ٹانگ پر گرتا چلا گیا۔اس افتاد کے لیئے میں تو بالکل بھی تیار نہیں تھا ، سو ایک دم گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔ خود شائد وہ بھی تیار نہیں تھی اس لیئے میرے سے زیادہ وہ بوکھلا گئی۔ ۔ ’’ اوہ۔!! اوہو، شہروز جی۔ یہ کیا ہو گیا۔؟ آپ۔۔ آپ پلیز میرے ساتھ آئیں ۔ میں کچھ کرتی ہوں۔!! ‘‘ میرے سے زیادہ گھبرائی ہوئی وہ لگ رہی تھی، اس لیئے صرف اس کی تسلی کے لیئے میں اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا ، ورنہ نہ تو قہوہ اتنا گرم تھا کہ مجھے جلا پاتا اور نہ ہی میں اتنا نازک مزاج تھا کہ ذرا سی جلن نہ برداشت کر پاتا۔وہ مجھے لیئے ہوئے سیدھا اپنے بیڈ روم میں چلی آئی۔ہمارے آپس کے روابط کو ڈھائی ، تین سال ہونے کو آئے تھے،مگر آج پہلی بار میں اس کے بیڈ روم میں آیا تھا۔اور اب عجیب قسم کے احساسات کا شکار ہو رہا تھا۔ ۔ ’’ شہروز۔!! آپ یہاں لیٹ جائیں۔ میں آپکے ہاتھ اور ٹانگ پر برنال لگا دیتی ہوں۔!! ‘‘ اس نے بیڈ پر ترتیب اور نفاست سے رکھے تکیئے اور کشن ٹھیک کرتے ہوئے کہا او ر پھر میرا جواب سنے بغیر ہی مجھے زبردستی لٹانے کی کوشش کرنے لگی۔اس کے ہاتھوں میں ہلکی ہلکی سی لرزش تھی اور کانپتی لرزتی پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔مجھے لٹاتے ہوئے اس کی ساڑھی کا پلو اسکے شانے سے ڈھلکتا ہوا میرے سینے پر گرتا چلا گیا۔ایک لمحہ لگا تھا۔۔ بس ایک لمحہ۔ اور شیطان میرے حواسوں پر پوری طرح قابض ہوتا چلا گیا۔خوشبو کے مہکتے وجود سے اٹھنے والی دلنواز مہک مجھے دیوانہ کیئے دے رہی تھی۔میں نے بے اختیار اسے شانوں سے تھام لیا، اور پھر ایک ہلکا سا جھٹکا دینے کی دیر تھی کہ وہ کٹی شاخ کی طرح میرے اوپر ڈھیر ہو چکی تھی۔میرے ہاتھ سرسراتے ہوئے اس کے بالوں کے ریشم سے الجھ رہے تھے تو سانسیں اس کی قربت کی وجہ سے دھونکنی کی طرح چلنے لگی تھیں۔وہ ذرا سا کسمسائی، اور اپنا آپ مجھ سے چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میرے اور بھی زیادہ نزدیک آگئی۔اس کی اس درجہ قربت سے میرے حواسوں پر ایک عجیب سا نشہ چھا رہا تھا۔ ۔ ’’ شہروزصاحب۔!! آپ نے کبھی کنول کا پھول دیکھا ہے۔؟ ‘‘ ایکدم اس کی سرسراتی ، کانپتی لرزتی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تو میں ایک دم چونک سا گیا۔ ۔ ’’ کنول کا پھول۔؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو خوشبو۔ کھل کر کہو ناں جو بھی تمہارے دل میں ہے۔‘‘ میرے حواسوں پر چھایا نشہ تو اس کی کانپتی لرزتی آواز سن کر ہی اترنے لگا تھا۔پھر جیسے ہی میری نظر اسکے بجھے بجھے افسردہ سے چہرے پر پڑی تو میرے حواس بھی اپنے ٹھکانے پر آ گئے۔ ۔ ’’ ٹھیک کہہ رہی ہوں شہروز صاحب۔!! کنول کے نصیب میں ہمیشہ کیچڑ ہی کیوں ہوتی ہے۔دلدلی کیچڑ، گندے پانیوں کے جوہڑ اور غلاضت کے انبار ہی کیوں ہمیشہ کنول کا مقدر بنتے ہیں۔حالانکہ پھول تو پھول ہی ہوتا ہے، چاہے گلاب کا ہو یا کنول ۔ پھر ایک کے نصیب میں حسین باغ،باغیچے اور کیاریاں تو دوسرے کے نصیب میں کیچڑ، دلدل اور گندے جوہڑ ہی کیوں ہوتے ہیں۔؟آپ اس کی وجہ بتا سکتے ہیں شہروز صاحب۔!! ‘‘ یہ چہرہ اس خوشبو کا تو نہیں تھا، جس کے ساتھ کچھ دیر پہلے میں شیطان کے دکھائے راستے پر چلنے کی تیاری کر رہا تھا۔یہ چہرہ تو ایک بے بس، بے بس اور مظلوم لڑکی کا تھا۔میرے ضمیر نے میرے مُنہ پر اس زور کا تھپڑ مارا کہ میرا مُنہ ہی دوسری طرف جا لگا۔میں اسے ایک جھٹکے سے پیچھے پھینکتا اس تیزی کے ساتھ بیڈ سے اٹھا جیسے میرے نیچے نرم مخملیں بستر نہیں، بلکہ کانٹوں سے بھرا ایسا بستر تھا جس کے زہریلے ، نوکیلے کانٹے میری روح تک کو چھید گیئے تھے۔ ۔ ’’ تم۔۔ تم کہنا کیا چاہتی ہو خوشبو۔؟اور ، تمہارا مقصد کیا تھا مجھے اس طرح تنہائی میں بلانے کا۔؟‘‘ میرے دماغ کی رگیں جیسے پھٹ رہی تھیں۔میں جھنجلا کر اس پر ہی الٹ پڑا تھا۔ مگر وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی اور اس کا اس طرح رونا میرے لیئے مزید پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ ۔ ’’ خوشبو۔!! بولو، کچھ تو بتاؤ مجھے۔ آخر تمہاری اس بے تکلفی اور جنید کی اس لاپرواہی کے پیچھے اصل راز کیا ہے۔؟ تم مجھے کچھ تو بتاؤ۔ دیکھو، اس طرح رونے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا تمہیں۔ اس لیئے بہتر یہی ہے کہ مجھے کھل بتاؤ کہ تم لوگوں کا پرابلم کیا ہے۔؟ ‘‘ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر بیڈ سے نیچے کھینچ لیا، اور اسکے دونوں بازؤں کو مضبوطی سے جکڑتے ہوئے اسے جیسے جھنجھوڑ ڈالاتھا۔ وہ نازک سی لڑکی، میری اس وحشیانہ حرکت سے اور زیادہ پریشان ہو گئی اور پہلے سے زیادہ زور شور سے رونے لگی۔ ۔ ’’ وہ۔وہ۔۔سر جنید کو پرموشن۔۔ بس کسی بھی طرح، کسی بھی قیمت پر۔۔ کیسے بھی کر کے ، صرف ایکبار پرموشن۔۔!! ‘‘ اور اس کی ان ٹوٹی پھوٹی باتوں نے ایکبار تو میرا دماغ بھک سے اڑا کر رکھ دیا۔ ۔ ’’ کیا۔؟ پرموشن۔؟ صرف ایک پرموشن کے لیئے۔؟ اُف۔۔ توبہ۔!! ‘‘ اور پھر میرا اس چھت کے نیچے جیسے دم گھٹنے لگا۔میں تیزی سے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے بھاگتے قدموں سے باہر نکلا، اور پیچھے مُڑ کر دیکھے بغیر بس بھاگتا ہی چلا گیا۔واپسی کے راستے میں میرے دماغ کی بند گرہیں کھلتی چلیں گئیں۔جنید کا سارا منصوبہ میری سمجھ میں آ رہا تھا۔اس کا پرموشن پانے کا جنون۔ اسکی خواہشیں۔اس کے خواب اس حد تک بڑھ گیئے تھے اس نے ان کے حصول کو ہی اپنی زندی کا مقصد بنا لیا تھا اور اس راستے پر چلتے ہوئے اس نے اپنی غیرت کو بھی داؤ پر لگانے میں کوئی عار نہیں سمجھی تھی۔اب مجھے رہ رہ کر پری کی باتیں بھی یاد آ رہی تھیں۔ میرے بدلتے روئیوں نے ظاہر ہے اسے بھی بہت پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔وہ پہلے تو کھٹکی تھی، پھر میرے دل کے چور سے خود بخود ہی واقف ہوتی چلی گئی تھی۔ ویسے بھی کہنے والے کہتے ہیں کہ بیوی کی نظر سے شوہر کی کوی چوری چھپی نہیں رہ سکتی۔ شوہر کے دل کے دروازے جیسے ہی کسی دوسری عورت کے لیئے کھلنے لگتے ہیں، بیوی کے اندر موجود خطرے کی گھنٹی پورے زور وشور سے بجنے لگتی ہے۔ شاید اسی لیئے پری بھی میری اس بدلتی کیفیت سے الرٹ ہو گئی تھی اور پھر اس پر جیند کا اس پر بڑھتا ہوا پریشر۔ وہ اپنی پرموشن کے لیئے اسے بھی مہرہ بنانے کے چکروں میں تھا۔ اٹھتے بیٹھتے اسے میرے سامنے اپنی سفارش کرنے کو کہتا رہتا تھا اور اس چیز نے پری کو بری طرح سے اریٹیٹ کر دیا تھا۔ اس لیئے اب پچھلے کچھ عرصے سے وہ بھی مجھ پر اس حوالے سے دباؤ ڈال رہی تھی کہ میں جنید کو پرموشن دے کر اش قصے کو ہمیشہ کے لیئے ختم کر دوں اور اس پر اور اپنے بچوں اور گھر پر پہلے کی طرح بھرپور توجہ دینے لگوں۔میں جتنا سوچتا جا رہا تھا، میرے دماغ کی رگیں اتنی ہی پھٹتی جا رہی تھیں۔ پہلے تو مجھے شدید قسم کا غصہ آیا تھا، مگر پھر آہستہ آہستہ میرا غصہ ملال میں ڈھلنے لگا۔میں دل ہی دل میں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہا تھا کہ جس نے عین وقت پر مجھے گناہ کی دلدل میں گرنے سے بچا لیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ’’ انور صاحب۔!! آپکا کیا خیال ہے۔؟ مسٹر جنید کی فائل بھی تو بہت عرصے سے پرموشن کے انتظار میں پڑی ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔is he diserve this prmostion? ‘‘ میں نے انور صاحب سے جنید کا مسلہٰ ڈسکس کرتے ہوئے ان کی رائے طلب کی تو وہ مدبرانہ انداز سے سر ہلاتے مسکرانے لگے۔ ۔ ’’ جی سر !۱ جنید کے جنون سے تو اب سب ہی اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں اور اس کی یہ خواہش، اس کے یہ خواب ہی تو اسے در در بھٹکاتے چلے جا رہے ہیں۔اسی لیئے تو اس نے آج تک کسی ایک جگہ بھی ٹک کر کام نہیں کیا۔ میں تو کہتا ہوں کہ اس کا پیشن صرف اور صرف پرموشن ہی رہ گیا ہے۔ اور اب بھی میرا یہ ہی خیال ہے اگر اب بھی اس کی یہ خواہش، یہ خواب پورا نہ ہوا تو شاید وہ سچ مچ پاگل ہی ہو جائے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی نقصان ہی پہنچا بیٹھے۔کیونکہ یہ برانچ ہی اب اس کی لاسٹ ہوپ ہے۔اور اسی لیئے اس نے اپنی ساری کشتیاں یہیں جلا ڈالی ہیں۔اور میرے خیال میں اب بھی اگر اسے اس کی منزل نہ ملی تو شاید پھر جنید ہمیں کہیں نہ ملے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اسے ہمیشہ کے لیئے کھو دیں۔!! ‘‘ انور صاحب کی باتیں میرے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیئے کافی تھیں۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر فائل اپنے سامنے کی اور اس پر ’’پرموٹڈ‘‘ کی مہر لگا کر سائن کیئے اور فائل انور صاحب کی طرف بڑھا دی۔ ۔ ’’ شہروز۔!! آپ نے پھر کیا فیصلہ کیا جنید کی پرموشن کے بارے میں۔؟ اس کا آج بھی فون آیا تھا۔ بہت پریشان تھا بے چارہ۔ آپ پلیز، اس کی فائل پر سائن کر دیں اور۔۔۔!!‘‘ ۔ ’’ ہاں ، ہاں کر دئیے ہیں سائن اس ’’ بیچارے‘‘ کی فائل پر۔اور بھیج دی ہے اس کی فائل ہیڈ آفس۔ تم اب اسکی فکر چھوڑ کر میری کچھ فکر کر لو۔!! ‘‘ میں ، جو بڑے عرصے کے بعد خود کو ذہنی طور پر اپنے کمرے میں موجود محسوس کر رہا تھا، اور ایک عجیب طرح کی خوشی اور سرشاری محسوس کر رہا تھا کہ اچانک پری کے مُنہ سے ایکبار پھر جنید اور اس کی ترقی کا قصہ سن کر بری طرح سے بیزار ہو گیا اور اسکی بات تیزی سے کاٹتے ہوئے اندازِ نشست بدلتے ہوئے اسکی گود میں سر رکھ دیا۔مجھے شروع سے ہی اس طرح پری کی گود میں سر رکھ کر لیٹنا بہت پسند تھا۔پری کی نرم ملائم انگلیاں جیسے ہی میرے بالوں میں سرسراتیں، میں دنیا مافیہا سے جیسے بے خبر ہو جاتا۔لیکن جب سے ہماری زندگی میں ’’ جنید اور خوشبو‘‘ آئے تھے، یہ سکون بھرے لمحات جیسے خواب و خیال ہی ہو گیئے تھے۔اور اب جو ایک عرصے کے بعد میں نے اپنی محبت کا پرانا انداز اپنایا تو پری بھی کھل کر مسکرا دی۔ اس کی نرم ملائم انگلیاں بڑی نرمی سے میرے بالوں میں گردش کرنے لگیں۔ اور میں آنکھیں موندتے ہوئے اس کے پیار کے ساغر میں ڈبکیاں لگانے لگا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی میں نے جنید کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔؟اسے اور خوشبو کو ایسے ہی کیوں چھوڑ دیا۔؟ انہیں اپنی زندگی سے کھیل کر اتنی آسانی سے کیوں چلا جانے دیا۔؟ لیکن نہیں۔ آپ غلط سوچ رہے ہیں۔ بالکل غلط۔میں نے جنید کو ایسے ہی پرموشن نہیں دے دی تھی۔انور صاحب نے ٹھیک ہی کہا تھا۔جنید کی یہ خواہش، اس کا جنون بن چکی تھی۔اور وہ اپنے جنون میں کوئی بھی حد پار کر سکتا تھا۔میں نے اسے علیحدگی میں بلایا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھایا تھا۔ٹھیک ہے، اس کا انداز بہت غلط تھا، مگر اس کی خواہش جائز تھی۔ اور میں کیا ، میری جگہ کوئی بھی ذی روح انسان ہوتاتوشاید وہی کرتا جو میں نے کیا۔ویسے بھی ڈیڈی ہمیشہ کہتے ہیں کہ اپنے پیروں پر چلنے والوں کے ساتھ تو ہر کوئی چل لیتا ہے، مزہ تو جب ہے کہ کسی گرنے والے کو اپنے شانوں پر سوار کروا کے چلا جائے۔اور یہی اصل مردانگی ہے کہ گرتے ہوؤں کو سہارہ دیا جائے، نہ کہ آخری دھکا دے کر زمین بوس کر دیا جائے۔بس، اسی لیئے میں نے جنید کو ایک بھائی کی طرح پاس بلا کر بڑے پیار سے سمجھایا اور شکر خدا کا کہ اس کی سمجھ میں یہ بات آ بھی گئی۔اس نے مجھ سے تو معافی مانگی ہی، خوشبو کے پندارِ نسوانیت کو ٹھیس پہنچانے کے جرم کی اس سے بھی معافی مانگی تھی۔کہ جنید کی خوہش کی تکمیل کے لیئے سب سے زیادہ چوٹ کھائی بھی تو اس نے ہی تھی۔ ۔ جنید اور خوشبو کا آج بھی ہمارے ساتھ ملنا جلنا ہے۔وہ آج بھی ہم سے اسی طرح ملتے ہیں۔ مگر اب اس میل ملاپ میں واضح قسم کی تبدیلی آ چکی ہے۔میں خوشبو کا بھابھی کہاتا ہوں اور وہ مجھے بڑے بھائی کی طرح سمجھتی ہے۔اور ہم لوگ یہ صرف زبانی کلامی نہیں کہتے، بلکہ دل سے ان رشتوں کو مانتے بھی ہیں۔ کہ اگر کسی رشتے میں حرمت نہ ہو تو ، پھر کسی بھی رشتے کی کوئی اساس باقی نہیں رہتی۔ اب آپ ہی بتائے کہ میں نے غلط کیا یا درست۔ میں آپکی رائے کا شدت سے منتظر ہوں۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

4 Responses to خواب، خواہش، زندگی !! ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

  1. Hey there I am so thrilled I found your blog page, I really found you by error, while I was researching on Askjeeve for something else, Anyhow
    I am here now and would just like to say thanks for a fantastic post and
    a all round interesting blog (I also love the theme/design), I don’t have time to go through it all at the moment but I have bookmarked
    it and also added your RSS feeds, so when I have time I will be
    back to read much more, Please do keep up the awesome
    work.

  2. Thanks for finally talking about >خواب، خواہش، زندگی !!
    ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ – Hamari Baat Pakistan <Liked it!

  3. As the admin of this website is working, no uncertainty very soon it will
    be renowned, due to its quality contents.

  4. I leave a leave a response when I especially enjoy a article on a site or I have something to valuable to contribute to the discussion. Usually it’s triggered by the passion communicated in the article I read.

    And on this post خواب، خواہش، زندگی !!
    ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ – Hamari Baat Pakistan. I was excited enough to drop a thought 🙂 I actually do
    have 2 questions for you if you do not mind. Could it be simply me or does it look like some of these responses appear like they are left by brain dead individuals?
    😛 And, if you are posting at other online sites, I would like to follow anything new you have to post.
    Would you make a list the complete urls of all your public sites like your linkedin profile, Facebook page or twitter feed?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *