کردار ۔۔۔ تحریر : نبیلہ خان

تمہاری کہی ہر بات میرے دل پہ ایمان کی صورت اترتی ہے۔ہر نقط ہر لفظ پر یقینِ کامل ہے مجھے۔میرا دل تمہاری محبت کے کلمے پہ دل وجان سے یقین لایا ۔۔۔
پاکیزہ نے جمال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس پر اپنے یقین کا اظہار کیا۔جمال کی آنکھوں نے اسکے چہرے کا طواف کیا،.پھر خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔کیونکہ میرہرلفظ سچائی پر مبنی ہے۔اور سچ ہمیشہ پُر اثر ہوتا ہے دلوں کو جوڑتا ہے تمہیں مجھ سے پہلے مجھ جیسا کوئی ملا ہی نہیں جو تم سے سچا پیار کرتا۔جمال نے مخمور لہجے میں پاکیزہ کو مخاطب کیا۔ پاکیزہ کے اندر باہر جلترنگ بج اٹھے اور جمال کی باتوں نے اس کے راسخ یقین کو مزید استحکام بخشااور وہ اندر باہر سے مطمئن ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکیزہ کے ہاتھ تیزی سے میسج ٹائپ کر رہے تھے.وہ ایک ایک میسج کئی کئی بار بھیج رہی تھی مگر جمال کی طرف سے مکمل خاموشی اور لا تعلقی پاکیزہ کے دل میں عجیب وسوسوں اورپریشانیوں کو جنم دے رہی تھی۔مگر پھر بھی اسکی طرف سے اپنے دل میں کوئی بد گمانی نہیں لانا چاہتی تھی۔
جمال نہ تو کال اٹینڈ کر رہاتھا نہ ہی میسج کا جواب دے رہاتھا۔اور یہ بات پاکیزہ کی سمجھ سے باہر تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔جبکہ کوئی ناراضگی بھی نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج آٹھ دن ہونے کو آئے تھے کہ جمال کی طرف سے مکمل لاتعلقی کی فضاء قائم تھی۔
پاکیزہ کو ان آٹھ دنوں میں اسکا بولا ہر لفظ ہر جملہ یاد آتا رہا تھا جو جمال نے بہت باوثوق انداز میں اس سے بولا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس یار میں اسکو چھوڑ رہا ہوں۔۔۔سوال جواب کر کر کے اس نے میرا دماغ پلپلا کر دیا ہے۔عجیب خبطی سی ہے.دوستی کی بات کیا کی وہ تو پکا ہوا پھل ثا بت ہوئی۔
کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر گود میں آگری۔ جیسے کہ اسی انتظار میں تھی۔
جمال کی آواز بہت واضح طور پر اس تک پہنچ رہی تھی۔
جو پاکیزہ کی موجودگی سے بے خبر اپنے دوستوں کے سامنے اسکی عزت اور محبت کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔
جس نے کبھی کہا تھا کہ تم بے فکر رہو تمہاری عزت میری عزت ہے۔
مگر آج وہ اپنے اصل روپ اور اصل کردار میں سامنے آیا تو پا کیزہ کے یقین، دل اور روح تک کو پاش پاش کر گیا۔

(Visited 16 times, 1 visits today)

One Response to کردار ۔۔۔ تحریر : نبیلہ خان

  1. Very good write-up. I certainly love this website. Stick
    with it!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *