کتابِ محسن بزبانِ محسن ۔۔۔ تعارف و تبصرہ : مدثر علی محسنی

کتابِ محسن بزبانِ محسن

عرف محسن اعظم فی مناقب غوث اعظم

ازقلم : محی السنۃ الشیخ محمد محسن منور یوسفی  مدظلہ

تعارف مصنف : پیر طریقت محی السنۃ الشیخ محمد محسن منور یوسفی دامت برکاتہم العالیہ ١٦نومبر ١٩٦٦ کوبہاولپور میں پیدا ہوئے ۔ہیلے کالج آف کامرس پنجاب یونیورسٹی(Hailey College Punjab University) میں دورانِ تعلیم پیر طریقت حاجی محمد یوسف علی نگینہکے دستِ اقدس پر بیعتِ طریقت ہوئے۔ علوم دینیہ آپ نے مفتی محمد رمضان صاحب سے حاصل فرمائے۔چاروں سلاسل کی نیابت حاصل ہونے پرآپ نے پیر ِکامل کے مزار پر یہ عہد کیا:۔ “مرشد کامل نے میرے دل میں معرفت کی جو شمع روشن کی ہے، اس کے اجالے کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کروں گا، اور اس چند روزہ زندگی کو انسانیت کی بھلائی اور تعلیماتِ اسلام کے لیے وقف رکھوں گا” بحمدہٖ تعالیٰ مرشدِ برحق کے مزار پر کئے گئے اس عہد کو آپ  بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں۔

مصنف معروف  روحانی سلسلۂ  طریقت نقشبندیہ کے سلوکوں کی تعلیم فرماتے ہیں،آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نےعلوم معرفت، طریقت وتصوف  میں ید طولیٰ  عطا  فرمایا ہے۔آپ کی درگاہ  محسنیہ500 بی  جوہر ٹاؤن لاہور پر گذشتہ کم و بیش بیس برس سے  ماہانہ  نشست کا اہتمام ہوتا ہے جس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف موضوعات ،اولیاء اللہ کے فضائل و مناقب ، روحانیت و طریقت کے دقیق مسائل پر گفتگو ہوتی ذکر اِسم ذات،مراقبہ کی نشست، صلاۃو سلام،ختم شریف اور دعا کے بعد سنت طریقہ پر  ہاتھ دھلا کر دسترخوان بچھا کر لنگر شریف کھلایا جاتا۔سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ محسنیہ کے وابستگان ملکِ پاکستان کے طول عرض کے علاوہ دنیا کے کثیر ممالک  میں موجود ہیں۔

مصنف شب و روز خدمتِ دین میں منہمک ہیں،روحانیت  و طریقت کے موضوعات پر  مختلف کتب بھی تحریر فرمائی ہیں  ؛سیرت نگینۂ رسول، مجرباتِ محسن، محسنِ اعظم فی مناقب غوث الاعظم، پرنٹ ہو چکی ہیں ان کے علاوہ بہت سی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔مریدین کے لیے آپ کی تعلیمات قرآن  و سنت کی روشنی میں  ’’ادب، محبت،خدمت‘‘ کے اصول پر بنیاد ہیں۔مختلف اسلامی ،اصلاحی،سماجی موضوعات پرآپ کی  سینکڑوں صحبتیں  (لیکچرز)  بھی موجود ہیں۔ جنہیں ’’مواعظ محسنیہ ‘‘کے عنوان سے کتابی صورت میں پرنٹ بھی کیا جاتا ہے ۔

تبصرہ :

کتاب کا نام ’’ کتابِ محسن بزبانِ محسن عرف محسن اعظم فی مناقب غوث الاعظم‘‘اپنے اندر موجود مواد کا اجمال اور مصنف کے کمال کا مظہر ہے۔ انتہائی دیدہ زیب سرورق پر غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی  کے روضہ مبارک  کا عکس دید مے خانہ عرفاں کے مے کشوں کی تسکین روحانی کا باعث ہے ۔پس ورق پر مصنف  محی السنہ پیر طریقت الشیخ محمدمحسن منور یوسفی مد ظلہ کا مختصر تعارف ہے ۔

کتاب کی تحریر ایسی کہ عامۃ المسلمین کیلئے ترغیب رب کی چابی اورخاص کاملین کیلئے تائید رب کی کنجی ہے۔اس تحریر کے ذریعے شان قادری کی تشہیر و چرچوں کا کام لیا گیا وہ کسی عام شخص کی تو ہو نہیں سکتی تھی ۔چنانچہ دربار غوثیہ سے  اس کا راقم بننے کی سعادت بھی وقت کے ولی کامل اور رب کی خاص قربت کے حامل ہستی کو ہونا تھی سو اس کیلئے مشیتِ ایزدی نے انتخاب کیا محی السنہ حضرت پیر محسن منور یوسفی دامت برکاتہم کا۔آپ آسمان تصوف کے ان جھلملاتے ستاروں میں سے ہیں جو آج کے جدید تمدنی دور میں جن و انس کو راہ فنا و بقا کی طرف ہدایت و رہنمائی کی اہم ذمہ داری کے مرتبے پر فائز ہیں ۔آپ کی ولادت معنوی و اساس طریقت سلسلہ نقشبندیہ سے ہے ،افکاروآثار سلسلہ سہر وردیہ کے، جذب و ایقان سلسلہ چشتیہ سے اور مراتب و شان سلسلہ قادریہ کا مظہر ہے ۔آپ مدظلہ نے اس سلسلے میں خود بھی اپنے اوپرسلاسل اربعہ کے بزرگوں کی خصوصی نوازش و انعامات بالخصوص دربار قادریہ سے خصوصی خلعت فا خرہ اور اجازت و خلافت سے نوازے جانے کاذکر فرمایا ہے ۔ہمارا یقین ہے کہ آپ کو اس سعادت و انعام کیلئے پہلے سے چن لیا گیا تھا ۔کیونکہ ایں سعادت بزور بازو نیست ۔دربار قادری ،یا سلطان الہند کی طرف سے خلافت و اجازت سے نوازنے کے واقعات اور بھی ہیں مثلاًسیدنا ابوالعلاء رحمۃ اللہ علیہ کو خواجہ خواجگان سید معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک پرحاضری کے بعدبحالت مراقبہ اجازت و خلافت سے نوازہ گیا۔اور اس کی تصدیق متعدد جگہوں سے ہو ئی ۔

یہ دراصل محترم مصنف کی  خودنوشت  اور حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کی نادرونایاب کرامات کاایسا  مجموعہ  ہے جو طالبوں اورعقیدتمندوں سمیت ہر مسلمان کیلئے ایک نادر تحفہ ہے۔

کتاب کا انتساب اُن خوش نصیب علما و صوفیا کے نام پر کیا  گیا ہے جن سے  اللہ تعالیٰ نے شان قادری کے چرچے کروانے کیلئے شہنشاہ ولایت غوث اعظم  رضی اللہ عنہ کی سیرت کردار پر کتب و تحاریر لکھنے کا شرف بخشا۔

قارئین کے ہاں اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فروری 2013ء سے اب تک اس کے پانچ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور کم و بیش 29000 کی تعداد میں پرنٹ ہو چکی ہے۔

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو رواں ، شگفتہ انداز اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیاہے۔ جو حضرات تزکیۂ نفس اور اصلاح و تربیت کے لیے کسی بلند پایہ تالیف کے خواہاں ہوں، ان کے لیے یہ کتاب ایک گراں مایہ خزینہ علم اور علمی و عملی پیاس کی تسکین کے لیے بڑی حد تک مفید و معاون ہے۔”مشک آن است کہ خود بگوید” کی مصداق یہ کتاب قاری کو خود بتلائے گی کہ وہ کس مرتبے کی ہے۔

آغاز کتاب میں ہی حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کی بارگاہ میں بطور گلدستہء عقیدت قصیدہ بالفاظ “ہیں میرے محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی” کتاب کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا ہے گویا یہ کتاب آغاز میں ہی اپنے قاری کو مکمل طور مسحور کر لیتی ہے۔ اور اس کی آتش شوق کو بڑھا دیتی ہے۔ وہ کسی پیاسے کی مانند ایک نشت میں ہی پوری کتاب کو گھونٹ گھونٹ پی لیتا ہے۔کتاب محسن اعظم فی مناقب غوث اعظم تاجدارِ اولیا محبوب سبحانی میراں محی الدین عبد القادر جیلانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے قربت ،آپ کی محبت آپ کی اطاعت ،اور آپ کی طرف سے خصوصی مہربانیوں اور عنایات کی شان کے نورانی ذکر سے اہل ایمان کے دلوں کو منور کرنے کیلئے احسانِ محسن ہے ۔

یہ کتاب عالم ناسوت کے راہیوں کیلئے یہ سرزمین عراق کاایک دلچسپ سفر نامہ ، اسلامی بالخصوص تصوف کی معلومات کا ذریعہ ہے اولیاء اللہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اسلام کی دعوت کا پیغام ہے ۔اسی طرح عالم ملکوت اور جبروت کے مسافر وں کے سوز کیلئے مرھم سبحانی جبکہ جذبہ شوق وواقفیت اسرار کیلئے مژدہ لامکانی ہے۔ایسے ہی عا لم ہاہوت اور عالم لاہوت کے مقام پر فائزمقام فنا کے واصلوں اور مقام بقا کے حاملوں کیلئے نذرانہ و ہدیہ نورانی۔

ارشاد نبوی ہے ۔’’پانی کی تہوں میں موجود مخلوق سمیت تمام خلائق رب کا ذکر کرنے والوں کیلئے دعا گو رہتی ہے ۔اہل علم و حکمت رب کے اس نظام سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اللہ والوں کا ذکر کرنے والوں ہی کو اللہ کا ذکر کرنے کی توفیق عنایت کی جاتی ہے۔اللہ والوں کا ذکر اللہ والوں کا قرب حاصل کرکے کیا جاتا ہے ۔تاکہ ان کے نقشِ قدم پر قدم بہ قدم چلا جا سکے ۔یہی حکم ربی ہے ۔انعام یافتگان کا راستہ اپناؤ۔اپنی رفتار،اپنی جستجو ،اپنا شوق،ذوق،ہے۔کون کس طرح اللہ کے کیسے ذکر سے کہاں تک جا پہنچے، اللہ کے ذکر میں کتنی  تگ و دو اور کوشش کرتا ہے ۔اور جزائے عشق و وفا میں کس قدر روحانی رزق و نفع سمیٹتا ہے۔

کتاب کا پہلا باب  اجازت نامہ روحانیت کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر ہے تمام مستند ترین کتب کی طرح یہ قرآنی آیات، احادیث طیبہ اور اقوال سلف صالحین پر مشتمل یہ ایک علمی فیضان ہے جو قلوب و اذہان کی بنجر زمین کو سیراب کر رہا ہے۔ گفتگو پُر اسرار و بامغز ہے۔ بالکل اچھوتا اور سادہ اسلوب کہ قاری پڑھتا ہی چلا جائے۔ ایمانی حلاوت سے بھری ہوئی یہ تحریر بے شمار موضوعات کو اپنے دا من میں سموئے ہوئے ہے اور ہر موضوع ایک مکمل مقالہ کی وسعت رکھتا ہے۔ فقط ’’احیاء موتی‘‘ کی تفہیم کے ضمن میں دس کے قریب قرآنی واقعات (حضرت عزیرعلیہ السلام ،حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت حزقیل (ذوالکفل) موسیٰ علیہ السلام اور سامری اسی طرح بنی اسرائیل اور گائے کا واقعہ و غیرہ) کو اس قدر فنی مہارت سے بیان کیا گیا کہ پڑھنے والے پر ازخود اثرات مرتب ہوتے چلے جائیں۔

مسئلہ ’’اولیاء خدائی صفات کا مظہر ہیں‘‘ کی ایسی فصیح و بلیغ تمثیلات  کے ذریعے منظر کشی کی گئی ہے کہ قلب و ذہن کے بند دریچے کھلتے چلے جائیں۔ اس کے علاوہ ’’اولیاء کی حضوری، عند اللہ مقبولیت و استجابت، نیابت و خلافت استمداد اولیاء، تصرف و مرتبہ، مشکل کشائی، وغیرہم ایسے تمام عقائد کا اثبات انتہائی مضبوط مصادر و مراجع پر مبنی ہے۔ اہل دانش کے لیے اس کتاب کے ہر جملے میں سامان تفکر و تدبر مخفی ہے۔ یہ کتاب فقط اقوال و احوال ہی نہیں بلکہ ایک تجربہ گاہ نسخہ کیمیا ہے۔ 

صاحب کتاب محی السنۃ پیر طریقت حاجی محمد محسن منور یوسفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا حضور شہنشاہ اولیاء سے عشق مستانہ وار دیوانگی اور آپ کو شہباز لامکانی قندیل نورانی، قلب ربانی، غوث صمدانی رضی اللہ عنہ کی نگاہِ محبت میں مقبولیت و نیابت محوبیت اور جو مقام ومرتبہ حاصل ہے احقرالعباد کے پاس وہ الفاظ نہیں کہ اسے احاطہ تحریر میں لاسکے۔

مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں:’’جب کوئی سیاح اپنے مشاہداتی و تجزیاتی رویوں کو لباس تحریر میں ملبوس کرتا ہے تو اس کے تناظر میں قاری، سیاح کے ساتھ اَن دیکھی زمینوں اور ان کی آب و ہوا اور فکری وتہذیبی ماحول سے آشنا ہوتا ہے۔‘‘چنانچہ مصنف موصوف سیاح کے روپ میں قاری کے ذہن ودل پر قابض ہوتے ہیں اور ہر اس مقدس زیارت گاہ میں جہاں وہ تشریف لے جاتے ہیں، قاری کو بھی ساتھ لیے چلتے ہیں۔ جیسے وہ طے شدہ پروگرام کےمطابق سرزمین بغداد شریف پر قدم رنجہ فرماتے ہیں تو اول ہوٹل(باب الشیخ کے نزدیک) میں تشریف لاتے ہیں۔ باب الشیخ کی زیارت کے بعد شیخ معروف کرخی کے مزار پرُ انوار پر حاضری پھر سید ابو الفضل سید محمود آلوسی کی آرام گاہ پر، وہاں سے شیخ منصور حلاج کی بارگاہ میں حاضری کا شرف پھر خواجہ جنید بغدادی کے مزار پر اس سے ملحقہ قبرستان میں یوشع بن نون کے مرقد پر وہاں سے بہلول دانا، ابراہیم خواص اور خواجہ ذوالنون مصری کے مزارات پر فاتحہ خوانی کے بعد کاظمین شریفین میں آئمہ اہل بیت عظام میں سے حضور سرور عالم ﷺ کے شہزادوں امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی الجواد کےمزارات پرحاضری دیتے ہیں۔کاظمیہ سے فراغت کے بعد اعظمیہ شریف میں تشریف لاتے ہیں یہاں امام اعظم ابوحنیفہ کے روضہ پر حاضری دیتے ہیں وہاں سے خواجہ ابوالحسن نوری کی بارگاہ میں وہاں سے سید الطائفہ جنید بغدادی کے بھانجے اور خلیفہ اجل ابوبکر شبلی کےمزار پر حاضری دیتے ہیں۔ پھر حضرت بشر حافی کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں۔ اور بالاآخر امام احمد بن حنبل کی بارگاہ  پر شرف حاضری حاصل کرتے ہیں۔بروز اتوار بغداد شریف سے سو کلو میٹر دور کربلا معلی کی طرف روانہ ہوتے ہیں یہاں امام حسین کی بارگاہ میں جانے سے قبل حضرت عباس علمدار کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں۔ پھر حضرت حرُ شہید اور فرزندان مسلم بن عقیلکے مزارات پر حاضری دی۔ امام غزالی کے مزار سے حضرت سلیمان فارسی کے روضہ پر حاضری، وہاں صحابی رسول حضرت حذیفہ الیمانی، حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری، اور حضرت امام طاہربن محمد باقر آرام فرما ہیں۔ پھر جی ایم سی (GMC) میں نجف اشرف، کوفہ، ذوالکفل اور بابل کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ نجف میں منبع ولایت حضرت علی کے مزار پر انوار پر حاضری پھر حضرت ہود اور حضرت صالح ، کے مزارات پر حاضری ، حضرت حضرت خدیجہ بنت علی  کے مقبرے پر ، وہاں سے حضرت ایوب  کے مزار پر حاضر ی دیتے ہیں پھر حضرت شیخ شہاب کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور آخر میں خلیفہ مستنصرباللہ کی قبر پر حاضری دیتے ہیں۔ یہاں تک تو زیارتوں کا حال مکمل ہوتا ہے۔ یعنی 30 دسمبر 2010 سے 6 جنوری 2011 کے دورانیے میں موصوف اس قدر مزارات کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں گویا ذات الہٰی ان کے لیے فاصلے بھی سمیٹتی چلی جاتی ہے۔مصنف کے سفر کے دوران تجربات، مشاہدات اور مختلف شہروں کی تہذیب و تاریخ کو لباس تحریر میں ملبوس کرنے کے احوال کو بھی مختصرا بیان کیا جاتا ہے۔ اعظمین اور کاظمین کی وجۂ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’شہر بغداد کے عین وسط سے اپنی عجیب وغریب تاریخ اور داستان لیے دریائے دجلہ گزر رہا ہے جو شہر کو دو حصوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ لہذا شہر کے ایک حصے کو اعظمین اور دوسرے کو کاظمین کہا جاتا ہے۔ اعظمین اس لیے کہ اس میں دو اعظم اور کاظمین اس لیے کہ اس میں دو کاظم بزرگ تشریف فرما ہیں یعنی اعظمیہ میں حضور غوث اعظم اورامام اعظم اور کاظمیہ میں امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی الجواد کے مزارات ہیں‘‘۔

ذوالکفل کی تاریخ کا حال بڑے خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں جیسے لکھتے ہیں:’’نجف اور کوفہ سے ہوتے ہوئے ہم لوگ ذوالکفل پہنچے جو شہر بابل جاتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر حضور ذوالکفل آرام فرما ہیں۔ عجیب کھنڈرات اور خاموشی کے ماحول میں کئی سو سالہ پرانی عمارت میں کچھ قبریں موجود ہیں جہاں پہنچ کر انسان خود کو ہزاروں سال پرانے زمانے میں تصور کرتا ہے۔‘‘

مصنف کے ہاں مزاح کے عناصر  کچھ اس انداز سے ہیں کہ قاری پورے سفر میں زیر لب مسکراتا ہے تو کہیں اس کی پیشانی عرق ریز ہوتی ہے۔ تو کہیں آنکھیں بھیگتی ہیں بسااوقات عقیدت سے سرجھک جھک جاتا ہے۔ وہ اپنے ظریفانہ طرز، گہرے مشاہدے، حسنِ مزاج، اور بے باک اظہار کی وجہ سے قاری کی دل چسپی کو برقرار رکھتے ہیں مثلاً  ایک جگہ لکھتے ہیں؛’’ہم مطعم الجنۃ نامی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے چلے گئے، کوئلوں پر بھنے گوشت کی خوشبو سے سارا بازار مہک رہا تھا سوائے باربی کیو کے بازاروں میں کچھ نظر نہ آیا، خیر ہم آرڈر لکھوا کر انتظار کر ہی رہے تھے کہ ویٹر نے پانچ عجیب و غریب سوپ کے پیالے اور انواع و اقسام کے سلاد سے سجے پانچ تھال ہم پانچوں کے سامنے لا کر رکھ دیئے۔ ہم نے اس سے کہا بھیاء، ہم نے سوپ اور سلاد کا آرڈر ہی نہیں دیا تو وہ بولا یہ تو اعزازی(complimentary) ہے ،عامر صاحب بے چین ہو کر بار بار کوئلوں کی انگیٹھی پر سیخوں پر لپٹی اور بھنی ہوئی بوٹیوں کو دیکھنے کے بہانے، بنانے والے کو ہدایات دینے چلے جاتے ہیں کہ کہیں وہ ان بوٹیوں کو زیادہ ہی نہ سینک دے اور حاجی صاحب کی طبیعت قابو سے باہر چہرہ خوشی سے لال، مچلتے دل کے ساتھ کبھی دہکتی انگیٹھی کے پاس جاتے ہیں تو کبھی واپس ٹیبل پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور لنگر آیا تو خوشی سے صبر کا دامن چھوڑتے ہوئے اپنے حصے کے ساتھ بندہ ناچیز اور بندہ کی اہلیہ کا بھی سارا حصہ صاف کر گئے۔پھر بغدادی قہوہ پیتے ہیں تو بڑے دلچسپ و خوبصورت انداز میں کیفیات کو بیان کرتے ہیں کہ قاری کھلکھلا اٹھتا ہے مثلاً ایک مقام پر بغدادی  قہوے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ؛’’اس قہوہ میں چینی نہیں بلکہ چینی میں قہوہ ملایا گیا تھا۔ یوں سمجھیں جیسے آدھا گلاس چینی میں آدھا گلاس قہوہ ڈال دیا گیا ہو‘‘۔

اپنے ٹیکسی ڈرائیور کو بڑا دلچسپ نام دیتے ہیں لکھتے ہیں:’’بغداد شریف کی دیگر زیارات کے لیے روانہ ہوئے تو ہمارا ٹیکسی ڈرائیورصبحا عرف صدام حسین ہمیں سیدھا شیخ معروف کرخی کے مزار پرُانوار پر لے گیا۔ نام تو اس ٹیکسی ڈرائیور کا صبحا تھا مگر اس کی مونچھوں اور چہرے کی مشابہت سابق عراقی صدر صدام حسین سے اس قدر تھی کہ ہم اسے پیار سے صدام حسین کہہ دیتے تھے‘‘

مصنف نے سلوک و معرفت کی اس کتاب میں حالاتِ حاضرہ کی جزئیات کو لازم و ملزوم رکھا ہے مثلالکھتے ہیں کہ ؛’’چنانچہ بغداد شریف کی پرنور اور سحر انگیز فضاؤں میں ائیر پورٹ سے مختلف سڑکوں اور علاقوں سے گزرتے ہوئے ہم اعظمیہ روانہ ہوئے۔کم و بیش بہتر لاکھ آبادی والا عرب دنیا کادوسرا بڑا شہر اپنی ہزاروں سالہ پرانی تہذیب لیے ہمارے سامنے موجود تھا۔ امریکہ کے ناجائز قبضے اور ظلم کی وجہ سے وہاں جو حالات پیدا ہوئے ان کا اندازہ ائیرپورٹ لینڈ کرتے ساتھ ہمیں ہوچکا تھا کیونکہ کہ ہر طرف جنگ کی تباہی کے آثار اپنی جگہ بذات خود منہ بولتا ثبوت تھے۔ نظام زندگی بالکل درہم برہم نظر آیا، بجلی کا نظام نہ ہونے کے برابر، ائیرپورٹ کی حالت خستہ، ریلولے کا نظام مفلوج، اور وہاں کے لوگوں سے یہ پتا چلا کہ امریکیوں کی بربریت سے وہاں کے ٹیکنیکل ہینڈ لوگ مثلا پروفیسرز، سائنسدان، انجینئر وغیرہ چن چن کر قتل کیے جا چکے تھے ۔ نظام تعلیم بالکل تباہ ہوچکا تھا ہر چند قدم پر جدید اسلحہ اور ماڈرن ٹیکنالوجی سے لیس امریکی چیک پوسٹ نظر آتی تھی۔ مسلم تشخص عبرت بن چکا تھا۔ ہمارے سات روزہ قیام بغداد میں ہزاروں کے اجتماع میں کلی شاذو نادر ہی کو داڑھی والا دکھائی دیتا یا پھر مسجدوں اور مزارات پر وہ بھی باریک اور چھوٹی سی داڑھی والا کوئی نظر آگیا تو آگیاورنہ ہم تینوں کی بڑی بڑی ڈاڑھیاں دیکھ کر وہاں کے مقامی لوگ خوف سے ہمارے قریب بھی نہ پھٹکتے تھے، کوئی ہوٹل والا ہمیں اپنے ہوٹل میں جگہ دینے کے لیے تیار نہ تھا یہاں تک کہ ایک دن کسی پوش ایریا کے فیملی ریسٹورنٹ میں شوارما لینے کے لیے رکے تو اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب ریسٹورنٹ کی تمام میزیں کرسیاں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے خالی ہو چکی تھیں والدین اپنے بچوں کو ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے طالبان اور القاعدہ کی باتیں کرتے سنے گئے بلکہ بعض جگہوں پر تو حاجی عابد حسین صاحب پر اسامہ بن لادن کا شک بھی کیا گیا۔ جس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اسامہ بن لادن اتنے کم عرصے میں اتنا صحت مند اور موٹا تازہ کیسے ہوگیا‘‘؟

بغداد شریف کی موجودہ صورت حال پر مصنف موصوف کا بھر پور تجزیہ جہاں لمحہ بھر کے لیے چہروں کو شگفتہ و تروتازہ کرتا ہے وہاں لمحہ فکریہ بھی ہے کہ کہاں خلیفہ ہارون الرشید کا سنہری اور روشن دور، علم و ادب کا گہوراہ، فکر و فن کا مرکز بغداد اور کہاں آج کا دہشت گردی کی تصویر اور مفلوک الحال بغداد ۔۔۔۔ پھر سنت رسول ﷺ  سے اس قدر دور۔۔۔ پیشانی عرق ریز ہو جاتی ہے۔

مصنف موصوف واقعات نگاری میں بھی یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ مختلف مقامات پر ضرورت کے پیش نظر کوئی خوبصورت واقعہ بیان کر دیتے ہیں کہ قاری پر مفید اثر پڑتا ہے وہ جہاں مختلف تاریخی معلومات سے مستفید ہوتا ہے وہاں اسلاف کی زندگیوں کے خوبصورت واقعات اس کی ذہنی و طبعی اصلاح کرتے چلے جاتے ہیں۔

مصنف اپنے گہر ےمشاہدے، قوتِ تخلیق اور جرات اظہار کی بدولت اپنے سفر کے دوران راہ میں آنے والے واقعات کی منظر نگاری کر کے اپنی تحریر کو دلکش بنا دیتے ہیں اور لکھتے ہیں:’’ضریح کی سنہری جالی پر نگاہ پڑتے ہی دل و دماغ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی، روضہ مبارک کی تعمیر بھی قابل دید ہے۔ خوبصورت فانوس، قندیلیں، قالین، دیواروں پر نہایت نفیس کاشی کاری، یہ سب قمقموں کی روشنی میں ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔‘‘ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں۔’’اگلے دن صبح بغداد شریف سے ہماری روانگی تھی اور شام ڈھل رہی تھی، ہم نے دریائے دجلہ کے کنارے کوئلوں پر مچھلی سمک، مزغوف، غطان سے لطف اندوز ہونے کے بعد شاہراہ القردہ سے کچھ شاپنگ کی”۔

آخیر پر یہی کہنا چاہوں گا کہ یہ کتاب  مصنف کی خود نوشت ہے جسے وہ عاجزی کے پردوں میں لپیٹ لپیٹ کر بیان کرتے ہیں اور ہر کرامت  اور طاہر ہونے والی ہر بزرگی کو ایک مرید صادق کی طرح اپنے شیخ  یا مربی کی طرف ہی  منسوب کرتے ہیں اور خود اپنی ذات کا  کہیں تذکرہ نہیں کرتے بلکہ شدت سے نفی کرتے نظر آتے ہیں  مگر خوشبو کا یہی تو وصف ہے کہ وہ اپنا تعارف خودبنتی ہے۔ چنانچہ سب تک پھیل جاتی ہے، حرف آخر یہ کہ مقام تڑپ سے ہی ملا کرتا ہے؛کہ جس طرح  معراج کے موقع پر آپ ﷺ نے بہشت میں چالیس ہزار براق چرتے دیکھے، لیکن آپ ﷺ کی سواری کا شرف کسے ملا جو چالیس سال آنسو بہاتا رہا آپ ﷺ کے عشق میں اور کھانے پینے سے بے نیاز رہا۔۔۔ تو یہ تڑپ ہے جو مقام بخشتی ہے۔۔۔اللہ ہم سب کے دلوں میں اپنی اوراپنے نبی ﷺ کی محبت آپ ﷺ کے عاشقوں کا عشق پیدا فرمائے۔ آمین!

 

(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *