غیر مسلم اور اقلیتوں کو اِن کا حق دیا جائے ۔ محسن پولوس مسیح

مکرمی :۔ ہمارے ملک کی 3.6 فیصد آبادی غیر مسلم اور اقلیت ہے ۔لیکن پورے ملک میں 3.6 فیصد کا کوئی فرد گریڈ 22 کا افسر فوج ،نیوی،ائیر فورس ،پولیس ،عدلیہ ،ڈی ایم جی اور فارن سروس کی پہلی قطار میں کوئی غیر مسلم (اقلیت)نہیں ملے گا۔میں آج اس نومولود حکومت (تحریک انصاف) کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایک کروڑ نوکریا ں دینے کا وعدہ وعید کیا ہے میں اِن کی توجہ پاکستان میں موجود اقلیتوں پر دِلوانا چاہتا ہوں کہ اقلیتوں سے امتیازی سلوک بند کرکے اِن کا حق دینے کا وعدہ کریں ۔ اقلیتوں کے اس حق کو بالائے طاق میں رکھنے کی بجائے اس پر نظر ثانی کی جائے ۔
میں آپکے کے اخبار/ ویب کے ذریعے وزیراعظم پاکستان اور چاروں صوبوں کے وزیراعلیٰ اور تمام انتظامیہ کی توجہ کو ایک اہم مسئلے کی طرف کروانا چاہتا ہوں ۔پاکستان میں اکثریت طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے ۔لیکن اقلیتں خاص کر مسیحی اقلیت بہت سارے مسائل کا شکار ہے ۔پاکستان میں مسیحی جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں بے مثال خدمات انجام دے رہے ہیں ، و ہی ملک کی صفائی اور خوبصورتی کے لئے بھی بے شمار خدمات انجام دے رہے ہیں ۔گزشتہ چند سالوں میں یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ تمام سرکاری اداروں میں جو سیٹیں صفائی کے حوالے سے مسیحوں کے لئے مخصوص تھیں۔ اب ان نشستوں پر اکثریت کے لوگوں کو تعنیات کرلیا جاتا ہے ۔اور یہ نشستیں مستقل ہوتی ہیں۔ اِن نشستوں پر تعنیات ہونے والوں سے صفائی نہیں کروائی جاتی بلکہ آفیسران اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ جبکہ مسیحی ورکروں کو کنٹریکٹ پر یا ڈیلی وجیز پر لگا کر صفائی کا کام کروایا جاتا ہے ۔جس سے مسیحی ملازمین کی نوکریاں ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے ۔ اور وہ خوف کے باعث عمدہ کارکردگی دیکھا نہیں پاتے ۔ مستقل سرکاری ملازم نہ ہونے کی وجہ سے یہ بہت ساری سہولتوں سے محروم رہتے ہیں ۔جبکہ اِن کی سیٹوں پر کا م کرنے والے اکثریت کے لوگ تمام سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ہمیں یہ خدشہ ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح چُپ چاپ جاری رہا تو مسیحوں کے لئے تمام سرکاری سیٹیں ختم ہوجائے گی ۔مسیحوں کی اکثریت غریب اور اَن پڑھ ہیں اِن کے لئے بڑی بڑی ملازمتیں حاصل کرنا اور ذاتی کاروبار کرنا ناممکن ہے ۔اگر قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات کو پیش نظر رکھا جائے ،اور پاکستان کے آئین کو دیکھا جائے تو پاکستان کے تمام شہری برابر ہیں ۔اور ریاست کے تمام وسائل میں برابر کے شریک ہیں ۔ پاکستان کے مسیحو ں نے تعلیم ،صحت اور دفاع میں تاریخ ساز کام کئے ہیں ۔جہا ں پڑھے لکھے مسیحوں کے لئے سرکاری ملازمتوں کے مواقعے فراہم کئے جاتے ہیں ۔وہیں غریب اور اَن پڑھ مسیحوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کا بھی ازالہ کیا جائے ہم سب پاکستان کے وفادار ہیں اور ہمیشہ اس کے دُکھ سُکھ میں قربانیاں دیتے رہے ہیں اور قربانیاں دیتے رہیں گے ۔ یہ غریب اور اَن پڑھ مسیحوں کا حق ہے ان کے مخصوص نشستوں پر انہیں ہی تعنیات کیا جائے ، تا کہ وہ اپنی خدمات کے ذریعے وطن عزیز کی ترقی میں حصہّ ڈال سکے ۔ اللہ تعالیٰ آپکا کاحامی وناصر ہو ۔
آپکا خیراندیش ۔ محسن پولوس مسیح

(Visited 16 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *