شاعری

کوئی تو خواب ایسا ہو
جو پورا ہو کبھی آخر
کبھی جو مسکراؤں میں
رلائے نہ کوئی مجھ کو
الجھائے نہ کوئی مجھ کو
مجھے بھی ہنس کہ جینا ہے
کنارہ اور سہارا ڈھونڈتی ہیں
بوجھل سی یہ پلکیں
یہ تو خاموش رہتی ہیں
کسی سے کچھ نہیں کہتی
یہ بس چپ چاپ بہتی ہیں
دلاسہ دل کو دیتی ہیں
کہ اب کی بار رو لو پھر
ہمیشہ مسکرانا تم
مگر یہ بھول جاتی ہیں
کہ جو حساس ہوتے ہیں
وہ اکثر ہار جاتے ہیں
وہی قربان ہوتے ہیں
وہ جانیں دیں بھی ڈالیں تو
کسی کو کیا غرض ہے یہاں
سب اپنی بات کرتے ہیں
سب اپنی بات سنتے ہیں
کسی کے درد کیسے ہیں
یا کتنے غم ہیں پنہاں
عجب سے لوگ بستے ہیں
سنو
اب جو احساس کرنا تو
نہ خود کو بھول جانا تم
ذرا سا یاد رکھنا یہ
کہ
یہاں حساس لوگوں کے
بڑے نقصان ہوتے ہیں
یہ سب کو شاد رکھتے ہیں
مگر خود اداس رہتے ہیں

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال راولپنڈی

(Visited 18 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *