کچھ شگوفہ سحر کے بارے میں ۔۔۔ تحریر : ام حذیفہ

۔”شگوفہ سحر ”ابن ریاض صاحب کے مزاحیہ کالموں کا مجموعہ ہے جس میں ان کے 75کالم شامل ہیں۔اپنی کتاب کے پیش لفظ میں ابن ریاض لکھتے ہیں کہ وہ اپنی مزاحیہ تحریروں کے ذریعے دکھی انسانیت کے لیے مسکراہٹ کا ذریعہ بن کر اپنے حصے کی شمع جلا رہے ہیں ۔کتاب پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی انہوں نے ایسی شمع جلائی ہیجو شب کے اختتام پر اپنی حیثیت کھو دینے کی بجائے شب وروز روشنی کا استعارہ بنی رہے گی…
کتاب میں موجود تمام کالم گہرے سچ کے عکاس نظرآتے ہیں ۔چونکہ سچ اپنی ہر حالت میں کڑوا ہی ہوتا ہے اس لیے مزاحیہ اور ہلکے پھلکے انداز میں لکھے گئے بعض جملوں کی کاٹ بھی کہیں کہیں بہت سخت ہے۔لیکن مرض کی نشاندہی کرنا طبیب کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے چاہے مریض پر اس کے الفاظ کتنے ہی بھاری کیوں نہ ہوں اور ابن ریاض نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی ہے۔
ہم سیاست سے ہمیشہ دور بھاگتے ہیں اور کرکٹ سے ہماری دلچسپی صرف پاک بھارت میچ میں پاکستان کی جیت کے لیے رو رو کر دعائیں مانگنے تک ہی محدود ہے مگر پھر بھی اس کتاب میں شامل کرکٹ اور سیاست سے متعلق کالموں کو ہم نے کئی بار پڑھا ہے اور یہ تحریر کا حسن ہے کہ ہمیں بالکل اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔
سعودی عرب میں رمضان, ہم نے گاڑی چلانا سیکھی, ہم نے گاڑی چلائی اور ہمیں تو ایسی شادی نہیں کرنی یہ ایسے کالم ہیں جن میں بہت عمدہ اور لطیف پیرائے میں سعودی معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں پر رائے زنی کی گئی ہے۔چونکہ سعودی عرب سے ہمیں بے پناہ محبت اور عقیدت ہے اس لیے ہم نے اس قسم کے تمام کالم مذہبی عقیدت سے پڑھے اور کتاب کو چوم کر گھر کے سب سے اونچے طاق میں رکھ دیا مگر پھر مطالعے کی عادت نے اکسایا تو دوبارہ بیٹھ گئے۔
اپنے کالم ”بخدا ہم خاتون نہیں ہیں ”میں موصوف شکوہ کناں ہیں کہ لوگ نہ جانے کیوں انہیں خاتون سمجھتے ہیں۔اس پر ہم اس لییبھی مسکرا اٹھے کہ ہم بھی کچھ دن اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ۔جس کی وجہ کچھ ہماری سمجھ میں بھی نہیں آئی۔،
عمران اعوان سے ابن ریاض تک ”اس کالم میں موصوف نے شروع میں اپنی تحریروں کے شائع نہ ہونے کی وجہ ادبی نام نہ ہونے کو قرار دیا ہے۔، جبکہ بعد میں ملنے والی شہرت کی وجہ ا دبی نام کو سمجھا ہے۔ہم اس سے قطعی متفق نہیں ہیں۔ تحریر میں جان ہو تو خود کو منوا لیتی ہے۔ابتدا میں قلم پر گرفت کمزور رہی ہوگی جوں جوں تحریر میں نکھار آتا گیا پذیرائی ملتی گئی ۔
آخری کالم ”بھائی بہت”کے پہلے صفحے نیتو رلا ہی دیا ۔بلاشبہ بھائی ہی بہنوں کا اصل مان ہوا کرتے ہیں ۔ہمیں بھی ہمارا چھوٹا بھائی بڑا بن کر کافی عرصے سے اسکول کے لیے پک اینڈ ڈراپ دے رہا ہے۔اس کالم میں ابن ریاض صاحب کے ماموں کا وہ جملہ ہمیں بہت کھٹکا جس میں انہوں نے بہنوں کی رخصتی پر بھائی کے رونے کی یہ وجہ بتائی کہ ”وہ گھر کا سارا سامان جو لے جاتی ہیں”۔اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ان ماموں جان کی طرف فوراًغصے بھری سمائیلی بھیج دیتے۔
مختصر یہ کہ ابن ریاض صاحب کی یہ کتاب اس بات کی گواہ ہے کہ موصوف اگرچہ وطن سے دور ہیں مگر ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ہلکے پھلکے انداز میں ان پر اپنی رائے بھی پیش کرتے رہتے ہیں ۔اپنے بہترین انداز تحریر سے قاری کو تحریر کے سحر میں ایسے جکڑ لیتے ہیں کہ اسے پوری کتاب پڑھے بغیر چین ہی نہیں آتا۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *