کتاب : کربِ نارسائی (شعری مجموعہ) شاعرہ : شہناز شازی

تبصرہ : رفعت خان (خانپور)۔۔

اک اور کلی چٹکی ،اک اور کھِلا غنچہ
واہ ! کربِ نارسائی ، شہناز شازی کی بہترین تخلیقی کاوش پر نگاہ پڑتے ہی لبوں سے ادا ہوئی پہلی خوبصورت سطر
اے کربِ نارسائی کی شدت تجھے سلام
اس بے ہنر کو صاحب دیوان کردیا
بہت ہی عمدہ شعر کے ساتھ مطالعہ کاآغاز کیا۔اس خوبصورت شاعری کی کتاب کربِ نارسائی کے پہلے صفحہ پر محترمہ شاعرہ شہناز شازی کے مبارک ہاتھوں سے لکھا اپنا نام اور اس کتاب کو ہمارے نام تحفتاً پیش کرنے کا عندیہ ہمارے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں تھااور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس کتاب کا ممبئی سے پاکستان ہمارے پاس مخصوص وقت میں پہنچ جانا بلا شبہ شہناز شازی کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا یہ خلوص سر آنکھوں پر ۔شہناز شازی کی محبت شاعری مجموعہ کی صورت پاکر ہماری خوشی کو بیان کرنا ہمارے بس کی بات نہیں بس یوں سمجھئے بہت عرصے سے ریت کے صحرا میں پیاسے بیٹھے تھے اورشہناز شازی کاکلام ہماری تشنگی بجھانے کے لیے کافی رہا۔
میرے درد کو جو زباں ملے !۔
اس کتاب کے توسط ایک ایسی لڑکی سے ملنے کا اتفاق ہوا جو !۔
سرحد پار شوخ و چنچل مسکراتی ،شیشے سا دل اور اس میں اس سے بھی زیادہ نازک احساسات ،کائنات کا سارا حسن اپنے آنچل میں سمیٹ لینے کی خواہش مند لڑکی کا بچپن اپنے بہن بھائیوں کی سنگت میں گزر رہا تھا، اسے گمان تک نہ تھا وقت کا ایک سفاک چہرہ اس کے تعاقب میں ہے ، چھ سال کی عمر میں والد کے سائے سے محروم ہوگئی ۔والد کے بٹوارے کے بعد پاکستان آبسے ۔بہن بھائیوں اور ماں کو محنت کرتے دیکھا تو اپنے بچپن کو بھلا کرجس طرح تمام تر ذمہ داری اس بچی نے اپنے کندھوں پر اُٹھانے کا عزم کیا ،قابل تعریف ہے ۔
بچپن سے ہی معروف شعراء کے اشعار کان میں پڑتے رہتے والدہ باذوق خاتون تھیں کئی اشعار انہیں ازبر تھے۔ ادبی سفر بچپن سے ہی شروع ہوا ذوق کا یہ عالم تھا کہ موم بتی کی لائیٹ میں معروف ادباء کے شاعری مجموعے اپنی ڈائری پر نقل کیے جاتے ۔یہی وجہ تھی کہ بی۔اے میں ایڈوانس اردو بطور اختیاری مضمون کے منتخب کیا اور اس مضمون میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے ادبی ذوق کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کی سعی کرتی وقت اور حالات اس کے بالمقابل آن کھڑے ہوئے ۔ بیاہ کر کراچی سے ممبئی آنا ہوا تو اجنبی لوگ نامانوس ماحول متضاد تہذیبیں اپنوں سے دوری وطن سے جدائی کے باعث نئے ماحول میں ڈھلنا کافی دشوار ہوا تو خود کوحالات کے حوالے کر دیا ۔گھر اور بچوّں کی ذمہ داری میں ایسی الجھی کہ اس کے اندر کی شاعرہ مر سی گئی۔آخر کار خود سے لڑتے لڑتے وہ لڑکی ہار گئی اور شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئی ۔علاج ہوتے رہے مگر نتیجہ بے سود۔ایسا نہیں تھا کہ چارہ گراں میں مسیحاں کی کمی تھی لیکن روح کا علاج کسی کے پاس نہ تھا ۔بلا آخر قسمت اسے اصلاحی دوا خانہ لے آئی۔یہاں ایک حاذق طبیب ، حکیم محمد طارق اصلاحی کے اعجاز مسیحائی نے اپنا کمال کردیکھایا۔انھوں نے اپنی معالجانہ صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اسے ڈپریشن سے باہر نکالا بلکہ اسے اپنے دوستانہ رویہ سے سالوں پہلے مضبوطی سے بند کی گئی کھڑکی کو کھلوانے میں بھی کامیاب ہوئے ۔ مزید صحت یابی کے لیے انہوں نے اسے اپنے دواخانہ کے زیرِاہتمام ایک طبی رسالہ ترجمان اصلاحی کی ادارت کرنے کی پیشکش کی تو اس کا کھویا ہوااعتماد بحال ہوا ۔اس نے اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتوں کو بروے کار لا کر اس رسالے کو نئی پہچان دی ۔اس دن ایک ایک معجزہ ہوا اس کے اندر کی شاعرہ جو مرچکی تھی اپنی پوری توانائیوں سے برسوں بعد کومے سے باہر آگئی اور نظم ’’وہ آنکھیں ‘‘وجود میں آئی ۔اس کے بعد اس کے قلم نے جو رفتار پکڑی تو آج تک نہ رکا ۔
واہ!!!۔۔
کیا خوبصورت انداز بیاں ہے شہناز شازی صاحبہ کا!۔۔
لفظ لفظ کرب میں ڈوبا ہوا ۔
مدت ہوئی کسی سے شکایت کئے ہوئے
مجبوریوں کے تار سے ہیں لب سئے ہوئے
آپ کی شاعری میں ایک مشرقی فرمانبردار بیٹی کا عکس نمایاں ہے ایک بہادر پاکستانی بیٹی محب وطن کی محبت ہے ۔ ان جدائیوں کا وہ کرب اس کے لفظ لفظ میں عیاں ہے جو اس نے اپنی ذات میں سہا ۔اس کرب کوشاعری میں ڈھال کر اس لڑکی نے جذبات ، احساسات ،اور دکھ کمالِ مہارت سے لفظوں میں سموئے ہیں ۔
جو شاعری کے مجموعہ کربِ نارسائی کی صورت آج میرے سامنے ہے ۔
پیاری حمد ، خوبصورت نعت،مناجات پڑھ کر بہت سکون ملا،
ہونے لگے گماں سے یقیں تک سفر نئے
رفتہ رفتہ فاصلہ ہونے لگا
اندھیری راہ گز ہے اور میں ہوں
دل چھو لینے والی غزلیں۔۔۔
’’محبت ہے میری انمول لو گے؟‘‘ اچھوتا کلام
’’ماں ترے جانے کے بعد ‘‘ اس نظم نے آنکھیں بھگو دیں۔ایک ماں کے جذبات اپنے بیٹے کے لیے ۔۔
’’کرب ذات‘‘
’’وہ کون تھا؟‘‘
’’دشت ویراں‘‘
’’سنو جاناں ‘‘
کیا کہنے ۔۔۔
کرب نارسائی شاعری کا بے حد خوبصورت گلدستہ ہے شہناز شازی سچے جذبوں کی شاعرہ ہیں اس میں کوئی شک نہیں ،انھوں نے نسائی جذبات کے اظہار کے لیے کسی ملمع سازی کا سہارا نہیں لیا بلکہ نظم ،غزل دونوں میں اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں دورِ حاضر کی شاعرہ شہنازشازی کے کلام سے مستفید ہونا ہماری خوش نصیبی ہے ۔
ان سے مل کر نکھر گئی شازی
کیا حسیں انقلاب آئے ہیں
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

(Visited 33 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *